Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ضیائے تفسیر (قسط: اول)|علامہ عبد المصطفیٰ ازہری

ضیائے تفسیر (قسط: اول)
عنوان: ضیائے تفسیر (قسط: اول)
تحریر: علامہ عبد المصطفیٰ ازہری
پیش کش: رئیس الدین عطاری ناگوری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان رضا کچامن راجستھان

وَإِذۡ قَالَتِ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَٰمَرۡيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَٱصۡطَفَىٰكِ عَلَىٰ نِسَآءِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ۝ يَٰمَرۡيَمُ ٱقۡنُتِي لِرَبِّكِ وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ ۝ ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۚ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ يُلۡقُونَ أَقۡلَٰمَهُمۡ أَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ ۝ إِذۡ قَالَتِ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَٰمَرۡيَمُ إِنَّ ٱللَّهُ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٖ مِّنۡهُ ٱسۡمُهُ ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ وَجِيهٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ ۝ وَيُکَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِي ٱلۡمَهۡدِ وَكَهۡلٗا وَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ۝ قَالَتۡ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞۖ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ۝ وَيُعَلِّمُهُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ ۝ وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ أَنِّي قَدۡ جِئۡتُكُم بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ أَنِّيٓ أَخۡلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيۡـَٔةِ ٱلطَّيۡرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيۡرَۢا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۖ وَأُبۡرِئُ ٱلۡأَكۡمَهَ وَٱلۡأَبۡرَصَ وَأُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأۡكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ۝ وَمُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعۡضَ ٱلَّذِي حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡۚ وَجِئۡتُكُم بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ فَٱتَّقُوا| ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ۝ إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ ۝ فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنۡهُمُ ٱلۡكُفۡرَ قَالَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشۡهَدۡ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ ۝ رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلۡتَ وَٱتَّبَعۡنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ ۝ وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ ۝ إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ ۝ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَأُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ۝ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝ ذَٰلِكَ نَتۡلُوهُ عَلَيۡكَ مِنَ ٱلۡأٓيَٰتِ وَٱلذِّكۡرِ ٱلۡحَكِيمِ ۝ إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٖ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ۝ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ ۝ فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡاْ نَدۡعُ أَبۡنَآءَنَا وَأَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰذِبِينَ ۝ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡقَصَصُ ٱلۡحَقُّۚ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ۝ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُفۡسِدِينَ ۝ قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡـٔٗا وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ ۝ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوۡرَىٰةُ وَٱلۡإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ۝ هَٰٓأَنتُمۡ هَٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجۡتُمۡ فِيمَا لَکُم بِهِۦ عِلۡمٞ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ۝ مَا كَانَ إِبۡرَٰهِيمُ يَهُودِيّٗا وَلَا نَصۡرَانِيّٗا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفٗا مُّسۡلِمٗا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ۝ إِنَّ أَوۡلَى ٱلنَّاسِ بِإِبۡرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا ٱلنَّبِيُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۗ وَٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ۝ وَدَّت طَّآئِفَةٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يُضِلُّونَكُمۡ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ ۝ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَأَنتُمۡ تَشۡهَدُونَ ۝ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَلۡبِسُونَ ٱلۡحَقَّ بِٱلۡبَٰطِلِ وَتَكۡتُمُونَ ٱلۡحَقَّ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ۝ [سورۃ آلِ عمران: 42 تا 71]

ترجمہ:

اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بے شک اللہ نے تجھے چن لیا (۱) اور خوب ستھرا کیا (۲) اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا (۳) اے مریم! اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہو اور اس کے لیے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر (۴) یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں (۵) اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنے قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے (۶) مریم کس کی پرورش میں رہیں، اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے (۷) اور یاد کرو! جب فرشتوں نے مریم سے کہا (۸) اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی (۹) جس کا نام ہے مسیح (۱۰) عیسیٰ مریم کا بیٹا (۱۱) رو دار ہوگا دنیا اور آخرت میں (۱۲) اور قرب والا (۱۳) اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں (۱۴) اور پکی عمر میں (۱۵) اور خاصوں میں ہوگا (۱۶) بولی: اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا (۱۷) فرمایا: اللہ یوں ہی (۱۸) پیدا کرتا ہے جو چاہے جب کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جاتا ہے (۱۹) اور اللہ سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل (۲۰) اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف (۲۱) یہ فرماتا ہوا کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں (۲۲) تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لیے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہو جاتی ہے (۲۳) اللہ کے حکم سے (۲۴) اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے (۲۵) اور سفید داغ والے کو (۲۶) اور میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے (۲۷) اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھانے اور جو اپنے گھروں میں (۲۸) جمع کر رکھتے ہو، بے شک ان باتوں میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی (۲۹) اور اس لیے کہ حلال کروں تمہارے لیے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں (۳۰) اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو (۳۱) بے شک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو (۳۲) یہ ہے سیدھا راستہ۔ پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر پایا (۳۳) ہم اللہ کے حواریوں نے کہا: ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں (۳۵) ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہو جائیں کہ ہم مسلمان ہیں (۳۶) اے رب ہمارے! ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں حق پر گواہی دینے والوں میں لکھ لے (۳۷) اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی (۳۸) اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے (۳۹) یاد کرو! جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا (۴۰) اور تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا (۴۱) اور تجھے کافروں سے پاک کر دوں گا (۴۲) قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا، پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرما دوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو (۴۳) تو وہ جو کافر ہوئے میں انہیں دنیا و آخرت میں سخت عذاب کروں گا (۴۴) اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اللہ ان کا نیک انہیں بھرپور دے گا اور ظالم اللہ کو نہیں بھاتے، یہ ہم تم پر پڑھتے ہیں کچھ آیتیں اور حکمت والی نصیحت (۴۵) عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے (۴۶) اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہو جا وہ فوراً ہو جاتا ہے، اسے سننے والے یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو شک والوں میں نہ ہونا (۴۷) پھر اے محبوب! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آ چکا تو ان سے فرما دو: آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں (۴۸) یہی بے شک سچا بیان ہے (۴۹) اور بے شک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا (۵۰) پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ فسادیوں کو جانتا ہے (۵۲) تم فرماؤ: اے کتابیو! (۵۳) ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے (۵۳) یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنائے اللہ کے سوا (۵۵) پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو: تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں اے کتاب والو! ابراہیم کے باب میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو اس کے بعد (۵۶) تو کیا تمہیں عقل نہیں سنتے ہو یہ جو تم ہو اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (۵۸) ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے (۵۹) اور مشرکوں سے نہ تھے (۶۰) بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو اُن کے پیرو ہوئے (۶۱) اور یہ نبی (۶۲) اور ایمان والے (۶۳) اور ایمان والوں کا والی اللہ ہے، کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کر دیں (۶۳) اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں (۶۵) اور اُنہیں شعور نہیں اے کتابو! اللہ کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو (۶۶) حالاں کہ تم خود گواہ ہو (۶۷) اے کتابو! حق میں باطل کیوں لاتے ہو (۶۸) اور حق کیوں چھپاتے ہو حالاں کہ تمہیں خبر ہے (۶۹)

تفسیر:

(۱) مریم کی بزرگی: ہو سکتا ہے کہ ملائکہ نے یہ کلام مریم سے آمنے سامنے کیا ہو اور ہو سکتا ہے کہ بذریعہ الہام ہوا ہو، پہلا قول مناسب اور صحیح معلوم ہوتا ہے، جس طرح کہ سورۂ مریم میں ہے کہ فرشتہ حضرت مریم کے سامنے انسانی شکل میں بات کی، فرشتہ انسانوں سے بات کر سکتا ہے، لیکن یہ کلامِ وحی اس وقت ہوتا ہے جب کہ تبلیغ کے سلسلہ میں کسی کو مامور کیا گیا ہو، محض کلامِ فرشتگانِ وحی نہیں۔ [روح المعانی، ص: 153] "اصطفیٰ" سے مراد بچپن میں ان کو خدمتِ بیت المقدس کے لیے چن لیا، یہ کام پہلے مردوں کے ساتھ خاص تھا، آپ کو سب سے پہلے یہ خدمت سپرد کی گئی اور غیب سے رزق بہم پہنچایا گیا۔ [کبیر، ص: 60؛ خازن، ص: 233]

(۲) مراد پاکیزگیِ اخلاقِ حمیدہ ہے، نیز کفر و معصیت سے پاکیزگی بھی ہے، جس طرح ازواجِ مطهرت کے لیے فرمایا گیا: ﴿يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾، اسی طرح مرد کے چھونے سے پاک رکھا گیا۔ [کبیر، ص: 60] اس آیت میں یہود کی افتراء اور بہتان کا رد کرنا مقصود ہے، جنہوں نے ان کے پاک دامن پر دھبہ لگایا تھا اور ان کی عصمت پر بہتان لگایا تھا۔ [بیضاوی، ص: 18]

(۳) "العالمین" یہ اصطفاء جوانی کے وقت ہے اور پہلا بچپن کے وقت تھا لہذا یہ دوسرے معنی میں ہے، یعنی دنیا کی تمام عورتوں سے الگ تم کو یہ فضیلت دی کہ بغیر کسی مرد کے چھونے تم کو عیسیٰ علیہ السلام کی ماں بنا دیا، پھر حضرت سے جو ابھی بچے تھے تمہاری پاکیزگی کی گواہی دلائی اور تم اور تمہارے بیٹے کو عالمین کے لیے آیت (نشان) بنایا۔ [کبیر، ص: 60؛ خازن، ص: 232]

حدیث سے بھی حضرت مریم کی فضیلت ثابت ہے:

  1. بہترین عورت اُن کی (بنی اسرائیل) مریم بنتِ عمران اور بہترین عورت اِن کی (امتِ مسلمہ) خدیجہ بنت خویلد ہیں۔

  2. مرد تو بہت سے مکمل ہوئے مگر عورتوں میں سے مکمل صرف مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی زوجہ ہیں اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر !

  3. تمام عالمین میں سے یہ کافی ہیں: مریم بنتِ عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بی بی۔ [خازن، ص: 232؛ ابن کثیر وغیرہ، ص: 362]

(۴) یعنی فرشتوں نے عبادت اور رکوع و سجود اور نمازوں کا حکم سنایا، مجاہد سے مروی ہے کہ اس بات کے سننے کے بعد حضرت مریم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ ان کے پاؤں پر ورم آگیا۔ [طبری، ص: 165]

اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مریم خدا کی عبادت و طاعت میں مصروف رہتی تھیں وہ خود خدا نہ تھیں اور نہ خدا کی ماں، اس طرح اس میں یہود و نصاریٰ دونوں کا رد ہو گیا کہ ایک نے تنقیص کی اور دوسرے نے غلو کیا۔

(۵) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو علومِ غیبیہ بذریعہ وحی عطا فرمائے۔ [کبیر، ص: 71؛ مدارک، ص: 232]

(۶) قصہ اوپر "کفلھا زکریا" کی تفسیر میں گزر چکا۔

(۷) یعنی نہ آپ خود جسمِ ظاہری سے وہاں موجود تھے نہ آپ نے اخبار و رہبان سے تعلیم حاصل کی اور جو باتیں آپ فرما رہے ہیں یہ ان کی باتوں سے ملتی بھی نہیں بلکہ کتبِ سابقہ میں جو غلطیاں داخل کر دی گئیں ان کی भी آپ اصلاح فرماتے ہیں، لہذا معلوم ہوا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا آپ پر احسان ہے اور اس کی تعلیم سے آپ جانتے ہیں اور یہ آپ کی نبوت و رسالت پر قوی و واضح دلیل ہے۔ [روح المعانی، ص: 158؛ طبری، ص: 128]

مریم کو عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت:

(۸) ملائکہ سے مراد جبرئیل ہیں جیسا کہ سورۂ مریم ﴿فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا﴾ میں ان کی طرف اشارہ ہے، جمیع ملائکہ پر کلام اوپر گزر چکا۔

(۹) چوں کہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے کلمۂ الٰہی ﴿كُن﴾ سے پیدا ہوئے اس لیے ان کو ﴿كَلِمَةٍ مِّنْهُ﴾ فرمایا گیا یہی اکثر مفسرین کا قول ہے، بعض نے کلمہ سے مراد کتاب اللہ بھی لی ہے یہ مِیں ابتدائیہ ہے جیسا کہ حضرت مترجم علیہ الرحمہ نے ترجمہ سے ظاہر فرمایا ہے۔

(۱۰) مسیح کے بہت سے معانی مروی ہیں: (۱) مبارک (۲) گناہوں اور گندگیوں سے پاک (۳) صدیق (۴) زمین پر سفر کرنے والا۔ اس معنیِ اخیر کے اعتبار سے حدیث میں دجال کو بھی مسیح کہا گیا ہے۔ [کبیر، ص: 72; مدارک، ص: 232 وغیرہ]

(۱۱) انجیل میں ان کو یسوع کہا گیا ہے، مریم کا بیٹا کہنے سے یہودیت و نصرانیت کا بیک وقت رد ہو گیا کہ مریم کی ولادت اور ان کی بشریت پہلے ثابت کی جا چکی ہے اور ان کے بطن سے یہ پیدا ہوئے تو یہ اللہ کیسے ہو گئے۔

(۱۲) دنیا میں اسلام کے آنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزت و عظمت کا سکہ رواں ہو گیا مسلمان ان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا ایک برگزیدہ پیغمبر مانتے ہیں اور ان پر صلاۃ و سلام بھیجتے ہیں، عیسائی بھی ان کی عزت و وجاہت کے قائل ہیں گو انہوں نے اس میں مبالغہ کیا، رہے یہودی تو اب ان کی سنتا کون ہے کہ ان کے طعن و تشنیع سے مقامِ حضرت عیسیٰ میں کوئی فرق پیدا ہو سکے، آخرت میں وجاہت اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت ان کی امت کے بارے میں قبول فرمائے گا، نیز جنت میں اعلیٰ مراتب پر فائز کرے گا اور ان کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ [کبیر؛ بیضاوی، ص: 18؛ مدارک، ص: 235]

(۱۳) اس میں اشارہ اس کے بلند درجات اور آسمان کی طرف اٹھائے جانے کی طرف ہے، نیز یہ بھی سمجھا جاتا ہے یہ وصف اور بھی اللہ کے بندوں کو حاصل ہے، حضرت عیسیٰ اس بات میں منفرد نہیں۔ [بیضاوی، ص: 235]

(۱۴) یعنی چھوٹے سے بچے پنگوڑے میں ہوں گے اسی وقت کلام فرمائیں گے جیسا کہ اس کی صراحت سورۂ مریم میں فرما دی گئی کہ آپ نے اپنی نبوت اور حضرت مریم کی برأت پر گواہی دی۔ [خازن، ص: 235]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!