Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ضیاءِ تفسیر (قسط: دوم) | علامہ عبد المصطفیٰ ازہری

ضیائے تفسیر (قسط: دوم)
عنوان: ضیائے تفسیر (قسط: دوم)
تحریر: علامہ عبد المصطفیٰ ازہری
پیش کش: رئیس الدین عطاری ناگوری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان رضا کچامن راجستھان

(۱۵) عجیب بات ہے کہ اناجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس بچپن کے کلام اور اظہارِ براءت مریم سے خاموش ہیں۔ [کبیر: 77] کہولت، زمانہ جوانی اور بڑھاپے کے درمیان کا وقت ہے، اس کا استعمال ۳۰ سال سے اوپر کے لیے ہوتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس شخص کے بالوں میں سفیدی ظاہر ہو اس کو کہل کہتے ہیں، حضرت عیسیٰ کے بچپن اور درمیانی عمر میں ذکر کرنے میں نصاریٰ کا رد ہے کہ وہ خدا نہ تھے اور اس میں حضرت مریم کی بھی تسلی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عمر طویل عطا فرمائے گا۔ [خازن: 225، کبیر: 77] بعض حضرات نے اس لفظ سے حضرت عیسیٰ کے آسمان سے نازل ہونے پر بھی استدلال کیا ہے، خصوصاً یہ استدلال اس وقت قوی تر ہو جاتا ہے جب کہل کے معنی بعض بالوں کے سفید ہونے کے، لیے جائیں کہ حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے وقت ۳۳ سال اور چند ماہ کے تھے۔ [کبیر: 77، روح المعانی: 164]

(۱۶) اس کے متعلق تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔

(۱۷) یہ سوال تعجب اور استبعاد کے لیے تھا، شک و شبہ کے لیے نہ تھا، یعنی اب تک تو مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور آئندہ شادی کرنے کا میرا خیال نہیں، پھر میرے کیسے لڑکا پیدا ہوگا، ظاہر ہے کہ بشارت سے حضرت مریم کو یہی سمجھ میں آیا تھا کہ بغیر باپ کے یہ بچہ پیدا ہوگا اور اسی لیے انہوں نے اپنی حیرانی ظاہر فرمائی اور اپنی پاکیزگی کا بیان کیا۔

(۱۸) ایسے ہی یعنی بغیر انسان کے چھوئے ہماری قدرتِ کاملہ سے ہو گا۔ “يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ” کی نص اور تصریح اس لیے کی ہے کہ جو چاہے پیدا فرمائے، کوئی چیز جسے وہ پیدا فرمانے کا ارادہ کرے ضرور پیدا ہوگی، خواہ اسباب کے ذریعہ یا بغیر اسباب کے اور اس مخلوق کو اپنا نشانِ قدرت بنا دیا۔ [خازن: 236، ابن کثیر: 362]

(۱۹) یعنی اس کے حکم کی دیر ہے، وہ جو حکم فرماتا ہے وہ چیز عدم سے منصۂ شہود پر نمایاں ہو جاتی ہے، اس آیت نیز سورۂ مریم کی آیتوں نے یہ بات بالکل واضح فرمادی کہ مریم بتول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بغیر توسطِ کسی مرد کے محض قدرتِ الہیہ سے ہوئی ہے، بعض لوگ ان آیتوں کو توڑ مروڑ کر خواہ مخواہ حضرت عیسیٰ کا باپ حضرت یوسف نجار کو بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے قرآن کے اندازِ بیان کو نظر انداز کر کے اپنی پیچ پہنچ لگاتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ قرآن اس چیز کا ہرگز متحمل نہیں، اگر حضرت عیسیٰ کا کوئی باپ تھا تو اس کو قرآن پاک نے گول کیوں کر دیا اور صاف صاف کیوں نہ فرما دیا کہ فلاں شخص باپ ہے اور قصہ ختم ہو جاتا، یہ لمبی لمبی آیتیں اس قصہ کی نازل ہو رہی ہیں اور ایک معمولی بات کو قرآن کھول نہیں سکتا؟ لہذا معلوم ہوا کہ اصل مقصد ہی ہے کہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے، بہت سی جگہ قرآن پاک میں ابنِ مریم آیا اور کہیں بھی باپ کا نام اشارۃً بھی ذکر نہ ہوا، اس مسئلہ میں یہود حضرت مریم پر تہمت لگاتے ہیں اور عیسیٰ اس بات کے قائل تھے کہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور یہی لوگ اس آیت کے اصل مخاطب ہیں، قرآن پاک ان کے سامنے اصل حقیقت بے کم و کاست بیان کر سکتا تھا کہ فلاں باپ کے بیٹے ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی بات بھی معاذ اللہ ان کے عقیدہ میں بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔

تَعَالَى اللّٰهُ عَمَّا يَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا

یوسف نجار سے منگنی کا قصہ قرآن پاک یا حدیثوں میں کہیں موجود نہیں، اس لیے یہ بھی یہود و نصاریٰ کی گڑھنت معلوم ہوتی ہے، ہاں روایتوں سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف بھی بیت المقدس کے خدام میں سے ایک خادم تھے، یہود نے ان کو متہم کیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی زبانی تہمتیں دفع فرما دیں۔

(۲۰) کتاب سے مراد یا تو لکھنا ہے یا کتاب الہیہ ہیں، دوسرے معنی انسب ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو کتب سابقہ صحف ابراہیم وغیرہ اور تورات انجیل کی تعلیم عطا فرمائے گا، کتابت کا کمال کوئی اتنا بڑا کمال نہیں کہ اس مقام پر ذکر کیا جائے (حضرت مترجم علیہ الرحمہ نے پہلے کو اختیار کیا ہے)۔

(۲۱) یعنی آپ رسول ہوں گے ساحر و شعبدہ باز نہ ہوں گے جیسا کہ یہود نے تہمت لگائی۔ [ملاحظہ ہو سورہ صف، پ: 28] حضرت عیسیٰ کی ہدایت بنی اسرائیل کے لیے تھی چنانچہ انجیل میں باوجود بے شمار تحریف کے ابھی تک یہ مضمون موجود ہے اس نے جواب میں کہا کہ بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس بھیجا نہ گیا۔ [متی: 15:24]

(۲۲) آیت کے معنی نشان کے ہیں معجزہ انبیا کی صداقت کا نشان ہوتا ہے اس لیے اسے بھی آیت کہتے ہیں، معجزہ ایک غیر عادی ممکن واقعہ کا ظہور ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر کو تائید الہی حاصل ہے، دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے لیکن اسباب کے بغیر یا ظاہر اسباب کے ماسوا بھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے جو چاہے پیدا کر سکتا ہے، اہل ایمان اس معاملہ میں شکوک و شبہات سے بالا ہیں، اب قرآن کریم اور اناجیل و تورات سب کی تصدیق سے ہر نشان، جو کسی رنگ میں ظاہر ہو، لائق یقین و واجب تسلیم ہے اس میں صرف وہی لوگ مشتبہ ہیں جن کے ایمان میں تزلزل اور عقیدہ میں نفاق کی آمیزش ہے۔

(۲۳) بعض لوگوں نے کہا کہ یہ معجزہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لوگوں کی طلب پر ظاہر کیا اور بعض نے کہا کہ بغیر طلب خود یہ معجزہ ظاہر کیا، اکثر نے پہلا قول لیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حسب معمول آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا اور تعنت و عناد سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ خفاش (چمگادڑ) پیدا کریں تو آپ نے ان کے سامنے یہ معجزہ دکھا دیا، لیکن پھر بھی یہود نے آپ کو جادوگر کہا، اس حدیث کو ابوالشیخ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے وہ پرندہ ہو جاتا اور جب وہ نکلتا تو اڑ جاتا۔ [روح المعانی: 128، کبیر: 280، خازن: 236 وغیرہ]

(۲۴) یعنی میرا کام صرف صورت بنانا ہے زندگی صرف اللہ تعالیٰ کے بنانے اور کرنے سے ہے کہ اس نے میرے ہاتھ سے یہ معجزہ ظاہر فرما دیا۔ [خازن: 236] اس قید میں شبہ الوہیت کا ازالہ ہے۔ [کبیر: 281] تعجب ہے کہ موجودہ چاروں انجیلیں اس معجزے کے ذکر سے خالی ہیں، لیکن قبطی کلیسا کی انجیل میں ذکر ہے۔

(۲۵) “اکمہ” کے معنی مادر زاد اندھے کے ہیں، ابن عباس، قتادہ سے یہی مروی ہے۔ [طبری: 173] عطا کہتے ہیں کہ جن کی آنکھ کی جگہ بالکل بند اور سپاٹ ہو۔ [روح المعانی: 169] سدی، قتادہ، حسن وغیرہ نے “اکمہ” کی تفسیر اندھے سے کی ہے۔ [طبری: 173] انجیل یوحنا میں مادر زاد اندھے کی تصریح موجود ہے۔ [9-17] لہذا اس معنی کو زیادہ معتبر ماننا چاہیے اور اندھوں کا تو علاج بھی ہو سکتا ہے لیکن مادر زاد اندھوں کا علاج طبیبوں سے ممکن نہیں، محض چھو کر ایسے لوگوں کو بینا کر دینا صریح معجزہ ہے۔

(۲۶) کوڑھی کو تندرست کر دینا بھی طبیبوں کے لیے ناممکن تھا، لیکن حضرت عیسیٰ ان کو بھی تندرست فرما دیتے تھے، برس کے معنی سفید داغ کے آتے ہیں۔ صرف چند دشوار بیماریوں کا ذکر نمونتاً فرمایا گیا ہے، ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہر قسم کے بیماروں کو شفا دیتے تھے، چنانچہ بیک وقت پچاس ہزار بیماروں کی تعداد بھی آئی ہے جیسا کہ وہب سے مروی ہے اور آپ سب کو تندرست کر دیا کرتے تھے۔

(۲۷) آپ نے بہت سے مردے زندہ کیے جن میں سے چند کا ذکر موجودہ اناجیل میں بھی ہے۔ لوقا کی انجیل میں ہے: “تھوڑے عرصہ کے بعد ایسا ہوا کہ وہ نائین نامی ایک شہر کو گیا اور اس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اس کے ہمراہ تھے، جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ایک مردے کو باہر لیے جاتے تھے وہ اپنی ماں کا اکلوتا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اس کے ساتھ ساتھ تھے، اسے دیکھ کر خداوند کو ترس آیا اس سے کہا رو نہیں پھر اس نے پاس آکر جنازے کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہو گئے اور اس نے کہا اے جوان! میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھ، وہ مردہ اٹھ بیٹھا اور بولنے لگا اور اس نے اس کی ماں کو سونپ دیا اور سب پر دہشت چھا گئی۔” [لوقا: 7-11، نیز 7-32، انجیل متی: 9-18، 25] ایک تازہ میت ایک سردار کی لڑکی کے لیے اٹھانے کا ذکر ہے اور انجیل یوحنا میں چار روز کے دفن شدہ مردہ “لعزر” کے احیا کا بڑے زور و شور سے ذکر ہے۔ [یوحنا: 11-23] لہذا ان واقعات کا مطابقِ قرآن ہونا ثابت اور تحقیقی امر ہے۔

(۲۸) یہ فقرہ مزید تاکید و تصریح کے لیے مکرر ذکر فرمایا گیا کہ ان تصرفات کو میری طرف ہرگز منسوب نہ کرو، بلکہ جو کچھ ہوا محض اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور مشیت سے ہوا۔

(۲۹) یعنی ایسی چیزیں جو مخفی اور پوشیدہ ہیں ان پر بھی مجھے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے۔ مسئلہ: انبیاے کرام غیب کی خبریں اللہ تعالیٰ کے بتانے سے بتاتے ہیں، اس پر کسی شخص کو انبیا کے سوا دسترس نہیں۔ یہ دو مثالیں آیت میں مذکور ہیں، ورنہ ہر قسم کے مغیبات سے خبر دیتے تھے۔

(۳۰) یعنی ہر نبی اگلے نبی کی تصدیق اور اس کے پیغام کی تکمیل کے لیے آتا ہے، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے لیے بھی قرآن پاک نے یہی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہی مفہوم مروجہ انجیل میں بھی موجود ہے “یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں”۔

(۳۱) یعنی بعض وہ چیزیں جو تورات میں تم پر حرام تھیں ان کو حلال کرنے آیا ہوں، اس لیے کہ ضرورت زمانہ کے مطابق بعض جزئیات اور فقہی فروع میں کمی بیشی تصدیق کے منافی نہیں، جس طرح قرآن پاک کا تورات کی تصدیق کرنا اور خود قرآن کی بعض آیتوں کا بعض کو منسوخ کر دینا ان کی تصدیق اور حقانیت کے منافی نہیں، اس لیے نسخ کے معنی زمان کی تخصیص یا اجمال کی تفصیل ہے، کسی حکم کا ابطال نہیں۔ [بیضاوی: 20 کا رونی] بعض حضرات کا یہ خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تورات کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کیا، وہ تو صرف مواعظ اور حکمتیں بیان کرتے تھے، البتہ احبار اور فریسیوں نے جو سختیاں خلافِ حکمِ شرع اپنی طرف سے کر دی تھیں ان کی تغلیظ کے لیے یہ تشریف لائے تھے اور اس خلطِ ملط کو تورات سے الگ کرنا ان کا مقصود تھا۔ [روح المعانی: 171]

(۳۲) اللہ سے تقویٰ کرنے والا اس کے رسول کی اطاعت ضرور کرے گا، اس لیے کہ یہ تقویٰ کی دلیل اور تقویٰ کا تابع ہے۔ [خازن: 238]

(۳۳) اس میں نصاریٰ کا رد ہے، جنہوں نے ان کو مرتبۂ الوہیت دے دیا ہے، یہ مقولہ حضرت عیسیٰ کا انجیلِ برنابا میں بہت سی جگہ ہے اور متعدد اناجیل میں باوصفِ تمام تحریفات کے یہ مضمون ملتا ہے “خداوندا اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اس کی عبادت کر”۔ [متی: 10:30] بہرصورت تثلیث کی گندگی سے حضرت مسیح کا دامنِ پاک ہے۔

(۳۴) بنی اسرائیل نے کفر و تعدی، استہزاء اور تعنت کا جو طریقہ اختیار کیا وہ اتنا برا تھا کہ اس کی حقیقت کے اظہار کے لیے “احس” (محسوس کیا) سے بہتر کوئی لفظ نہیں مل سکتا۔ [خازن: 238]

(۳۵) یعنی اللہ کی طرف جانے کے لیے یا اللہ کے دین اور اس کے راستے کی کون امداد کرتا ہے، الیٰ کے معنی مع اور لام کے ہیں اور فی کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے، پہلے معنی کو بیضاوی وغیرہ نے اختیار کیا ہے اور مترجم علیہ الرحمہ نے بھی یہی ترجمہ کیا کہ اصل الفاظ کے یہی مطابق اور عین حقیقت ہے۔

(۳۶) اللہ کے رسول اور اس کے دین کی مدد کرنے سے انسان خود اللہ کے تقرب اور مقبولیت کے اس درجے میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اللہ کا مددگار ہو جاتا ہے، جس طرح بیت اللہ اور ناقہ اللہ فرمایا گیا جس میں نسبت تشریف و کرامت کے لیے ہے، اسی طرح انصار اللہ بھی تشریف کی نسبت ہے، حواری کے اصل معنی کپڑے دھونے والے ہیں۔ “حَوَرْتُ الشَّيْءَ بَيَّضْتُهُ” چوں کہ ابتداء یہ لوگ کپڑے دھوتے تھے اس لیے اس کا یہ لقب ہوا، حواری کے معنی مددگار کے بھی آتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خندق کے وقت حضرت زبیر کے لیے فرمایا “لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ” [متفق علیہ]۔ [خازن: 238]

(۳۷) یعنی قیامت میں جب رسول اپنی امتوں کے گواہ ہوں گے آپ ہمارے اسلام کی گواہی دیں۔ [بیضاوی: 21] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلے انبیا کے متبعین کا دین اسلام ہی تھا، یہودیت یا نصرانیت سے یہ حضرات نا آشنا تھے۔ [خازن: 238]

(۳۸) یعنی ان لوگوں میں ہمارے نام لکھ دے جنہوں نے تیرے انبیا کی تصدیق کی یا امتِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ( سہ ماہی امجدیہ جنوری تا مارچ 2023)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!