Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عالم بیگ؛ انقلاب 1857 کا ایک تحقیقی و تاریخی بیانیہ (قسط: اول)|کم اے. ویگنر

عالم بیگ؛ انقلاب 1857 کا ایک تحقیقی و تاریخی بیانیہ (قسط: اول)
عنوان: عالم بیگ؛ انقلاب 1857 کا ایک تحقیقی و تاریخی بیانیہ (قسط: اول)
تحریر: کم اے. ویگنر (Kim A. Wagner)
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

کم اے ویگنر (Kim A. Wagner) کی تصنیف “دی اسکل آف عالم بیگ” صرف ایک انسانی کھوپڑی کی برآمدگی کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ برطانوی استعمار کے اس سیاہ باب کی نقاب کشائی ہے جسے “جنگِ آزادی 1857ء” کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب ایک ایسے سپاہی کی کہانی بیان کرتی ہے جس کے باقیات 110 سال بعد لندن کے ایک مے خانے (Pub) سے ملے، اور پھر وہاں سے اس کی شناخت اور اس کے پیچھے چھپی تاریخ کا ایک طویل سفر شروع ہوا۔

تاریخ کے طلبہ کے لیے یہ کتاب ایک “کیس اسٹڈی” کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب واضح کرتی ہے کہ کس طرح برطانوی سامراج نے ہندوستانی باغیوں کو عبرت کا نشان بنانے کے لیے انسانیت سوز مظالم ڈھائے۔ عالم بیگ کی کھوپڑی کا بطور “یادگار” (Trophy) لندن لے جایا جانا، اس وقت کی فاتحانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ مصنف نے جس طرح ایک نامعلوم کھوپڑی سے اس کے مالک کے نام، رجمنٹ (46 ویں نیٹو انفنٹری) اور اس کے انجام تک رسائی حاصل کی، وہ تاریخ کے طلبہ کو سکھاتا ہے کہ آرکائیوز اور جزوی شواہد سے تاریخ کیسے مرتب کی جاتی ہے۔ برطانوی مورخین نے 1857ء کو صرف ایک “غدر” یا فوجی بغاوت قرار دیا تھا۔ یہ کتاب اس بیانیے کے برعکس ان انفرادی کہانیوں کو سامنے لاتی ہے جو حب الوطنی اور مزاحمت سے عبارت ہیں۔

اس کتاب کی علمی اور سماجی افادیت کثیر الجہتی ہے مصنف نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ تشدد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ سفید فاموں کے اعصاب پر سوار اس خوف کا نتیجہ تھا جو انھیں ہندوستانیوں سے محسوس ہوتا تھا۔ یہ کتاب ہماری جنگِ آزادی کے ان گمنام سپاہیوں کو شناخت عطا کرتی ہے جن کا نام تاریخ کے صفحات میں کہیں گم ہو گیا۔ عالم بیگ صرف ایک علامت ہے ان ہزاروں سپاہیوں کی جنھیں توپوں کے دہانے پر رکھ کر اڑا دیا گیا تھا۔

جہاں تک ہماری معلومات اور موجودہ ریکارڈز کا تعلق ہے، 2017 میں شائع ہونے والی اس اہم کتاب کا ابھی تک کوئی باقاعدہ اردو ترجمہ شائع نہیں ہوا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کتاب کا اردو زبان میں ترجمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اردو میں 1857ء پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن جدید مغربی تحقیق اور آرکائیوز تک عام قاری کی رسائی کم ہے، یہ کتاب عام قاری کو ان تک پہنچنے میں مددگار ہوگی، 1857ء کی جنگ کا مرکز شمالی ہندوستان اور پنجاب کے علاقے تھے، جہاں اردو سمجھنے اور پڑھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اردو داں طبقے تک اس تحقیق کا پہنچنا اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنی تاریخ کو ایک نئے زاویے سے دیکھ سکیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ترجمہ اس خلا کو پُر کرے گا اور ہمارے قومی بیانیے کو مزید مستحکم کرے گا۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ عالم بیگ جیسے کرداروں کی داستانیں جب جب اردو میں منتقل ہوں گی، تو یہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنیں گی اور انھیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی اصل نوعیت معلوم ہوسکے گی۔ (مہتاب پیامی)

باب (1) - مئی کی گرم ہوا

13 مئی 1857 کی ڈھلتی دوپہر کا وقت تھا جب ایک گھڑ سوار پنجاب کے میدانوں میں خاک اڑاتا ہوا تیزی سے گزر رہا تھا۔ اگرچہ دن کی تپش کچھ کم ہوچکی تھی، لیکن خشک گرمی اب بھی کسی تندور کی تپتی ہوا کی طرح برقرار تھی۔ مئی کے وسط تک گرمیوں کی آمد کا اب نہ تو انکار ممکن تھا اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جاسکتا تھا: گیہوں اور جو کے کھیت کٹ چکے تھے اور بنجر زمین سورج کی سیدھی پڑنے والی شعاعوں کے سامنے کھلی پڑی تھی، میدانوں میں گرم ہوا لرز رہی تھی اور سارا ماحول تپ رہا تھا۔ [1]

اپنے گھوڑے کو تیزی سے دوڑاتے ہوئے وہ سوار راستے میں آنے والے مٹیالے رنگ کے چھوٹے دیہاتوں کے پاس سے گزرتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ ڈاک چوکیوں اور مسافر خانوں پر بھی نہ رکا جو تھوڑے تھوڑے فاصلے پر واقع تھے۔ اس سوار کے پاس ایک انتہائی اہم پیغام تھا جو اسے ہمالیہ کے دامن میں واقع فوجی چھاؤنی “سیالکوٹ” پہنچانا تھا۔

سیالکوٹ کی طرف بڑھنے والے مسافروں کے سامنے ہمالیہ کا وہ عظیم الشان اور شاندار سلسلہ ہوتا تھا جس پر یوں لگتا تھا جیسے آسمان سہارا لیے کھڑا ہو۔ [2] پہاڑ اگرچہ دور تھے، مگر ان کے طرف دیکھنے والی آنکھ کے درمیان ایک وسیع و عریض ہموار میدان تھا۔ پہاڑوں کے اس پورے سلسلے کو دیکھنے میں کوئی چیز حائل نہ تھی، سوائے افق پر کہیں کہیں نظر آنے والے بادلوں کے، اور پہاڑوں کی چوٹیاں ان بادلوں کو بھی چیرتی ہوئی نکل رہی تھیں جو اس دلکش منظر کو مزید رنگین بنا رہے تھے۔ [3]

جب وہ سوار سیالکوٹ پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔ ہوا کے لمس میں ٹھنڈک آچکی تھی، پورے منظر پر نیلگوں دھند کی ایک باریک چادر سی تنی تھی، اور لکڑی کے دھوئیں، مویشیوں اور راکھ پر پکتی ہوئی گندم کی روٹیوں کی بھینی بھینی خوشبو فضا میں واضح طور پر محسوس ہو رہی تھی۔ [4]

اگرچہ سیالکوٹ پنجاب میں برطانوی نوآبادیاتی نظم و ضبط کے مرکز، لاہور سے محض ستر میل کے فاصلے پر تھا، لیکن پھر بھی یہ ایک الگ تھلگ مقام سمجھا جاتا تھا۔ لاہور کو پشاور اور شمال مغربی سرحد سے ملانے والے “جی ٹی روڈ” سے پچیس میل ہٹ کر واقع یہ شہر ایک طرح سے آخری حد تھی، کیونکہ اس کے شمال مشرق میں چند ہی میل کے فاصلے پر جموں وکشمیر کی آزاد ریاستوں کی سرحد شروع ہوجاتی تھی۔ 1857ء تک یہ اسٹیشن ابھی ٹیلی گراف (تار) سے منسلک نہیں ہوا تھا، جسے اس وقت برطانوی سلطنت اپنی ترقی کی بڑی علامت سمجھتی تھی۔ لاہور سے آنے والے ٹیلی گرام پہلے ساٹھ میل شمال میں واقع جہلم بھیجے جاتے، وہاں انھیں کاغذ پر نقل کیا جاتا اور پھر ایک پیغام رساں انھیں لے کر گجرات اور وزیر آباد جاتا، جہاں سے وہ آخر کار سیالکوٹ پہنچتے تھے۔ [5]

1848-49 کی دوسری اینگلو سکھ جنگ کے بعد انگریزوں نے اپنے ہندوستانی مقبوضات کی اس شمالی چوکی پر ایک فوجی چھاؤنی قائم کی تھی۔ 1857ء تک سیالکوٹ کی شکل و صورت ایسٹ انڈیا کمپنی کے علاقوں میں موجود دیگر بے شمار نوآبادیاتی اسٹیشنوں جیسی ہوچکی تھی: ایک طرف برطانوی چھاؤنی تھی جس میں فوجی بیرکیں اور کشادہ بنگلے تھے جو فٹ رولر کی طرح بالکل سیدھی اور چوڑی سڑکوں پر بنے تھے، اور دوسری طرف ان سے بالکل الگ تھلگ قدیمی “مقامی” شہر تھا جو اپنے قرونِ وسطیٰ کے نقشے اور ٹیڑھی میڑھی تنگ گلیوں پر مشتمل تھا۔ اگر فضا سے دیکھا جاتا تو اس کا نقشہ کچھ ایسا لگتا تھا جیسے ایک بڑا مستطیل (ریکٹینگل) کسی انڈے کے اوپر توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں ٹکا ہوا ہو۔

“مقامی” شہر اپنے بازاروں، مندروں اور درگاہوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے قلعے کے گرد آباد تھا، جو اہم شاہراہوں کے سنگم پر واقع تھا۔ یہ قلعہ، جسے سردار تیجا سنگھ کا قلعہ کہا جاتا تھا، ایک قدیم بستی کے ملبے سے بنے ٹیلے پر واقع تھا اور پورے علاقے کا بلند ترین مقام تھا۔ اس کے گول برجوں سے کھڑے ہوکر پورے قصبے اور ارد گرد کے دیہی علاقوں کا نظارہ کیا جاسکتا تھا۔ [6]

قلعے کے جنوب میں سڑکیں تقسیم ہو کر گوجرانوالہ، لاہور، امرتسر اور گورداسپور کی طرف جاتی تھیں۔ مغرب کی طرف جانے والی سڑک وزیر آباد تک لے جاتی، جہاں سے آپ یا تو جنوب میں لاہور جاسکتے تھے یا شمال میں جہلم اور پھر پشاور کی طرف۔ قلعے کے عین شمال میں چار سڑکیں پنکھے کی شکل میں پھیلی تھیں جو شہر کو “پلکھو نالہ” کے دوسری طرف واقع چھاؤنی اور سوِل لائنز سے ملاتی تھیں۔

مغربی جانب دو سڑکیں شمال کی طرف جاتی تھیں جو کچہری، خزانے اور جیل سے گزر کر سول لائنز کے بکھرے ہوئے بنگلوں اور پولیس بیرکوں تک پہنچتی تھیں۔ بالکل شمال کی سمت دو سڑکیں سیدھی چھاؤنی کی طرف جاتی تھیں؛ ان میں سے مشرقی سڑک ایک بڑے “صدر بازار” سے گزرتی تھی جو فوجیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تھا، اور پھر وہاں سے فوجی اسٹیشن کی منظم حدود شروع ہوجاتی تھیں۔

اس اسٹیشن کا مرکزی مقام “ہولی ٹرنٹی کیتھڈرل چرچ” تھا، جو وکٹوریائی طرز تعمیر کی ایک پروقار عمارت تھی (جیسے چرچ اس وقت پورے ہندوستان میں عام تھے)۔ یہ چرچ ابھی حال ہی میں جنوری 1857 میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سینٹ جیمز کا کیتھولک چرچ کھڑا تھا۔ چھاؤنی کے بالکل باہر “آرڈر آف جیسس اینڈ میری” کا ایک چھوٹا سا فرانسیسی کانوینٹ بھی تھا، جب کہ پرانے شہر کے جنوب میں گوجرانوالہ جانے والی سڑک کے قریب امریکی پریسبیٹیرین مشن کی عمارت واقع تھی۔ [7]

تقریباً 4,000 برطانوی اور ہندوستانی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے 1857ء میں سیالکوٹ ایک مصروف فوجی مرکز تھا۔ یہاں پیادہ فوج (انفنٹری) کی تین مکمل رجمنٹیں موجود تھیں - “کوئینز 52 آکسفورڈ شائر رجمنٹ” صرف برطانوی فوجیوں پر مشتمل تھی، جب کہ “35 ویں” اور “46 ویں” بنگال نیٹیو انفنٹری (BNI) میں ہندوستانی سپاہی شامل تھے جن کی کمان برطانوی افسران کے ہاتھ میں تھی۔ مزید برآں، یہاں ہندوستانی سواروں کی ایک رجمنٹ “9 ویں بنگال لائٹ کیولری” (BLC) اور آرٹلری (توپ خانے) کی دو بیٹریاں بھی تھیں، جن میں سے ایک برطانوی اور دوسری ہندوستانی تھی۔ [8]

اگر سول انتظامیہ کے حکام، پادریوں، ڈاکٹروں اور ان کی بیویوں اور بچوں کو بھی شامل کیا جائے تو سیالکوٹ میں مستقل رہائش پذیر یورپی باشندوں کی تعداد کئی سو تھی۔ اس کے باوجود، ان “صاحبوں” اور “میم صاحبوں” کی تعداد مقامی آبادی کے مقابلے میں بہت کم تھی، کیوں کہ صرف پرانے شہر اور اس کے گردونواح میں مقامی لوگوں کی تعداد 20,000 کے قریب تھی۔ [9] اس میں چھاؤنی کے بازاروں میں رہنے والے ہزاروں افراد، فوج کے ساتھ آنے والے خدمت گاروں اور برطانوی نظم و نسق سے وابستہ ان گنت کلرکوں اور ملازموں کا اضافہ بھی کرلیں جو کسی نہ کسی حیثیت میں وہاں کام کر رہے تھے۔

پرانے شہر کی ہندوستانی آبادی تو پنجاب کی مقامی تھی جس میں زیادہ تر مسلمان اور سکھ شامل تھے، لیکن برطانوی ملازمت میں موجود اکثر ہندوستانیوں کا تعلق “میدان گنگا” (یو پی، بہار وغیرہ) سے تھا اور وہ ہندو تھے۔ یہ لوگ 1849ء میں رنجیت سنگھ کی سکھ سلطنت کی شکست کے بعد برطانوی افواج اور انتظامیہ کے ساتھ یہاں پہنچے تھے۔

آدھی رات گزر چکی تھی جب اس سوار نے، جو کہ ایک برطانوی افسر تھا، بالآخر اپنا پیغام ڈپٹی کمشنر ہنری مونکٹن کے حوالے کیا۔ مونکٹن سیالکوٹ کے سب سے بڑے سول عہدیدار اور ضلع کے چیف مجسٹریٹ تھے۔ [10] مونکٹن، جو طویل عرصے سے علیل تھے، ابھی اپنی بیماری کی چھٹی کی درخواست تیار ہی کر رہے تھے کہ اس پیغام نے انھیں اپنی صحت کی پروا کیے بغیر عہدے پر برقرار رہنے پر مجبور کر دیا۔ اس وقت انگریزوں اور ہندوستانیوں سمیت زیادہ تر آبادی گہری نیند سورہی تھی، مگر پھر بھی خبر کو باہر نکلنے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ 52 ویں رجمنٹ کے ایک برطانوی افسر نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے اسے جگانے والے بگل (Rouse) کی آواز نے نیند سے بیدار کر دیا، اور وہ 14 مئی کی صبح سویرے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا:

“چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ میں نے اپنی گھڑی دیکھی تو ٹھیک تین بج رہے تھے، یعنی معمول کے وقت سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے۔ بیدار ہونے کے فوراً بعد بگل نے احکامات کے لیے صدا دی۔ میں حیران ہوا کہ اتنی صبح کیا ضرورت پڑگئی، لیکن چند ہی منٹوں میں میرا ایک کارپورل آیا اور میرے بارے میں پوچھنے لگا۔ میں نے اسے آواز دی اور پوچھا کہ کیا بات ہے، جس پر اس نے جواب دیا کہ رجمنٹ کو دس منٹ میں گولہ بارود (Ball Ammunition) کے ساتھ پریڈ کے لیے پہنچنا ہے۔ میں بستر سے اچھل کر اٹھا، جلدی سے لباس بدلا اور گھوڑا دوڑاتا ہوا پریڈ گراؤنڈ پہنچا جہاں سپاہی قطاروں میں کھڑے ہورہے تھے۔” [11]

اُس وقت نیم خوابیدہ برطانوی سپاہیوں کو معمول کے 20 کارتوسوں کے علاوہ مزید 40 راؤنڈ جاری کیے گئے، اور انھیں انتظار کے لیے چھوڑ دیا گیا جب کہ ایک افسر ہندوستانی فوجیوں کی بیرکوں کی طرف روانہ ہوا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے واپس آکر بتایا کہ اب ان کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انھیں الرٹ رہنا ہوگا اور بگل بجتے ہی کسی بھی لمحے نکلنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اس کے بعد انھیں رخصت کر دیا گیا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ “35 ویں نیٹیو انفنٹری” کے سپاہی اچانک بغیر کسی حکم کے رات ڈھائی بجے مکمل مسلح ہو کر باہر نکل آئے تھے۔ تاہم، ان کے افسران انھیں واپس اپنی لائنوں میں بھیجنے میں کامیاب رہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ احتیاطی تدبیر کے طور پر، برطانوی افسران نے مقامی بیٹری کی توپیں برطانوی فوجیوں کی بیرکوں میں منتقل کر دیں، اور 52 ویں رجمنٹ کی ایک کمپنی کو آرٹلری بیرکوں میں توپوں کی حفاظت کے لیے بھیج دیا گیا۔ اسٹیشن پر موجود انگریزوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان توپوں پر کنٹرول رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ [12]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!