Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عالم بیگ؛ انقلاب 1857 کا ایک تحقیقی و تاریخی بیانیہ (قسط: دوم)|کم اے. ویگنر

عالم بیگ؛ انقلاب 1857 کا ایک تحقیقی و تاریخی بیانیہ (قسط: دوم)
عنوان: عالم بیگ؛ انقلاب 1857 کا ایک تحقیقی و تاریخی بیانیہ (قسط: دوم)
تحریر: کم اے. ویگنر (Kim A. Wagner)
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

اگلی صبح سویرے، یعنی 14 مئی کو، عالم بیگ کی آنکھ بگل (Reveille) کی آواز سے کھلی۔ رات کی بے چینی اور ہلچل کے باوجود، اس کے دن کا آغاز ویسے ہی ہوا جیسے ان دنوں ہوتا تھا جب اس کی رجمنٹ، 46 ویں بنگال نیٹیو انفنٹری (BNI)، کسی جنگی مہم پر نہیں ہوتی تھی۔ ایک حوالدار کی حیثیت سے وہ سپاہیوں کے ایک چھوٹے دستے کا ذمہ دار تھا، اور اس کا سارا دن پہرے داری یا “اسکول آف مسکیٹری” میں نگراں کے فرائض کی انجام دہی میں گزرتا تھا۔

بنگال آرمی کی ایک رجمنٹ کے ایک ہندوستانی کلرک کے بیان کے مطابق، سپاہی کی روزمرہ زندگی کافی مشقت طلب تھی:

“اسے ہر صبح بگل بجتے ہی بہت سویرے جاگنا پڑتا اور ڈھول کی تھاپ کے دوران بہت تیزی سے تیار ہونا پڑتا تھا۔ جیسے ہی دوسری بار بگل بجتا، سپاہی کو مکمل وردی میں ملبوس، ہاتھ میں بندوق لیے پریڈ کے لیے میدان کی طرف بھاگنا پڑتا۔ اگرچہ پریڈ ہر صبح نہیں ہوتی تھی، لیکن اتوار اور جمعرات کے سوا سردیوں کے دنوں میں یہ باقاعدگی سے ہوتی تھی۔ یہ ایک سنگین مرحلہ ہوتا تھا؛ اپنے مکمل سامان (Kit) کے ساتھ سپاہیوں کے لیے یہ ورزش انتہائی سخت اور تھکا دینے والی ہوتی تھی، اور کبھی کبھی تو وہ اس دوران زخمی بھی ہو جاتے تھے۔ سپاہیوں کی ایک اور ذمہ داری دن اور رات کے وقت کیمپ کے مختلف اہم حصوں کی پہرے داری تھی؛ جیسے اسلحہ خانہ، صاحبوں کا میس (کھانے کا کمرہ)، خزانہ، رجمنٹ کا بازار اور کیمپ کی بیرونی حدود وغیرہ۔ ہر سپاہی کو دن میں آٹھ گھنٹے پہرے کی ڈیوٹی دینی پڑتی تھی۔ اس ڈیوٹی میں ہر سپاہی لگاتار دو گھنٹے کھڑا رہتا، جس کے بعد پہرہ تبدیل ہوتا اور پچھلے سپاہی کو چار گھنٹے کا آرام ملتا۔ پہرے داری کا کام نہایت سنجیدہ تھا کیوں کہ ذرا سی سستی بھی بہت سخت سزا کا باعث بنتی تھی۔ اس کے علاوہ، سپاہیوں کو رجمنٹ کے اعلیٰ افسران کے لیے اردلی (خطوط لے جانے والے اور چپراسی) کے طور پر بھی کام کرنا پڑتا تھا۔ اس طرح، روزانہ 200 سے 250 سپاہی پہرے داروں اور اردلیوں کے طور پر کام کرتے تھے، جب کہ باقی سپاہی پریڈ میں حصہ لیتے تھے۔” [13]

عالم بیگ جیسے مسلمانوں کے لیے، جو زیادہ تر ہندو سپاہیوں پر مشتمل ان رجمنٹوں میں تقریباً 20 فیصد تھے، یہ سروس اس لیے بھی زیادہ کٹھن تھی کیوں اس وقت مئی میں رمضان کا مہینہ تھا۔ مسلمان سپاہی دن بھر کچھ نہیں کھاتے پیتے تھے، اس لیے ان کے پاس سورج غروب ہونے کے بعد سے صبح چار بجے کی پریڈ سے پہلے تک کھانے پینے اور سحری کے لیے بہت ہی کم وقت بچتا تھا۔

سپاہیوں کی وردی گہرے سبز رنگ کے کالر اور آستینوں والے بھاری سرخ کوٹ پر مشتمل تھی، جس کا ڈیزائن “واٹرلو کی جنگ” کے زمانے سے اب تک بہت کم بدلا تھا، اور اس کے ساتھ یورپی وضع کی لمبی سفید پتلون تھی۔ چمڑے کی سیاہ پیٹی مگر غیر آرام دہ “چاکو” (chako) ٹوپی، جو برطانوی اسٹائل کی تھی، اب متروک ہوچکی تھی اور اسے صرف خاص موقعوں پر پہنا جاتا تھا۔ اس کے بجائے، عالم بیگ اور دیگر سپاہی “کلمارنوک” (Kilmarnock) ٹوپی پہنتے تھے جس پر سفید غلاف چڑھا ہوتا تھا اور سامنے کی طرف رجمنٹ کا نمبر درج ہوتا؛ پیروں میں وہ سینڈل یا مقامی ساخت کے جوتے پہنتے تھے۔

ان کا ہتھیار “براؤن بیس” (Brown Bess) بندوق کا تھوڑا جدید ورزن تھا جسے “پیٹرن 1842” کہا جاتا تھا، جس میں چقماق (فلنٹ لاک) کے بجائے “پرکشن کیپ” کا نظام استعمال ہوتا تھا۔ ان کے ساز و سامان میں ایک سفید بیلٹ اور کراس پٹی بھی شامل تھی جس میں سنگین (bayonet)، کارتوسوں کا تھیلا اور فائرنگ کیپس کے لیے ایک چھوٹی سی تھیلی لگی ہوتی تھی۔ عالم بیگ کی وردی اپنے ماتحتوں سے ذرا مختلف تھی؛ اس کی کمر پر سرخ پٹکا (sash) بندھا ہوتا، کندھے سے ایک لٹکتی ہوئی لیس (aguilette) ہوتی اور کندھوں پر تین پٹیاں اس کے رینک (حوالدار) کی نشاندہی کرتی تھیں۔ پہرے کی ڈیوٹی کے دوران وہ بندوق کے بجائے “پیس اسٹک” (رفتار ماپنے والی چھڑی) بھی تھام سکتا تھا۔ [14]

1857ء میں 46 ویں رجمنٹ کی کمان بریویٹ کرنل جی فرکوہسن کے پاس تھی، جو گیارہ دیگر برطانوی افسروں کی مدد سے 994 ہندوستانی افسروں اور سپاہیوں کے انچارج تھے۔ [15] یہ فوج دس کمپنیوں میں تقسیم تھی، اور ہر کمپنی ایک صوبیدار (کپتان) اور ایک جمعدار (لیفٹیننٹ) کے علاوہ ہندوستانی نان کمیشنڈ افسران یعنی چھ حوالداروں، چھ نائیکوں، اسی سپاہیوں اور ایک بگلچی و ڈھولچی پر مشتمل ہوتی تھی۔ [16]

46 ویں بنگال نیٹیو انفنٹری، جسے “میڑریو کی بیکن پلٹن” (Marrerroo Ke Becan Paltan) بھی کہا جاتا تھا، کے اعزازات (Battle Honours) میں آسام، پنجاب، جلیانوالہ اور گجرات کی فتوحات شامل تھیں۔ آخری دو نام اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ عالم بیگ اور اس کی رجمنٹ نے ایک دہائی سے بھی کم عرصہ قبل انگریزوں کو یہ علاقہ فتح کرنے میں کلیدی مدد فراہم کی تھی۔ [17]

سیالکوٹ میں عالم بیگ اور دیگر سپاہیوں کو “ہندوستانی” کہا جاتا تھا، یعنی وہ لوگ جو گنگا اور جمنا کے درمیانی علاقے (انڈو گنگٹک پلین) کے رہنے والے تھے۔ تاہم، جنوب کی طرف میرٹھ اور دہلی جیسے مقامات پر انھیں “پوربیہ” (مشرقی) پکارا جاتا تھا، کیوں کہ انگریزوں کی بھرتی کردہ فوج کی اکثریت اودھ اور بہار کے علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔

پیادہ فوج (انفنٹری) کی رجمنٹیں عام طور پر 80 فیصد ہندوؤں اور 20 فیصد سکھوں اور مسلمانوں پر مشتمل ہوتی تھیں، جب کہ ڈھولچی اور بگلچی یا تو عیسائی مذہب اختیار کرنے والے مقامی لوگ ہوتے تھے یا پھر “یوریشین” (مخلوط نسل)۔ اس کے برعکس، رسالہ یا سوار فوج (کیولری) کی رجمنٹیں تقریباً مکمل طور پر مسلمانوں پر مشتمل ہوا کرتی تھیں۔ [18]

مشہور افسر ولیم ایچ سلیمان نے عالم بیگ جیسے سپاہیوں کا اپنے آبائی دیہاتوں اور خاندانوں کے ساتھ تعلق کو کچھ یوں بیان کیا ہے:

“ہماری بنگال نیٹیو انفنٹری کے تین چوتھائی رنگروٹ دریائے گنگا کے بائیں جانب واقع ریاست اودھ کے راجپوت کسانوں میں سے لیے جاتے ہیں، جہاں ان کی محبتیں نسل در نسل اس مٹی سے جڑی ہوئی ہیں۔ جن خاندانوں سے یہ سپاہی آتے ہیں، ان کی نیک تمنائیں پوری ملازمت کے دوران ان کے ساتھ رہتی ہیں اور ایک انسان اور سپاہی کے طور پر ان کے کردار پر خوشگوار اثر ڈالتی ہیں۔ اگرچہ یہ کبھی اپنے خاندانوں کو اپنے ساتھ (ڈیوٹی پر) نہیں لے جاتے، لیکن ہر دو تین سال بعد چھٹی پر ان سے ملنے ضرور جاتے ہیں؛ اور جب بھی سرجن بیماری سے صحت یابی کے لیے آب و ہوا کی تبدیلی کو ضروری قرار دیتا ہے، تو یہ اپنے گھروں کو ہی لوٹتے ہیں۔ ان کے خاندانوں کا تصور ہمیشہ ان کے ذہنوں میں تازہ رہتا ہے...” [19]

بطور حوالدار، عالم بیگ کی ماہانہ تنخواہ 14 روپے تھی، جو کہ عام سپاہیوں سے دگنی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تنخواہ کی یہ شرح گزشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے برقرار تھی، حالاں کہ اس دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تھا۔ [20] 16 اور 20 سال کی ملازمت کے بعد، سپاہیوں کو ایک یا دو روپے ماہانہ اضافی بونس ملتا تھا، جو ایک ہندوستانی افسر کے بقول ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی لاتا تھا:

“ایک کفایت شعار سپاہی عام حالات میں دو یا زیادہ سے زیادہ تین روپے ماہانہ پر گزارا کر لیتا ہے اور باقی تمام رقم اپنے خاندان کو بھیج دیتا ہے۔ ہماری رجمنٹ کے بہت سے سپاہی تو صرف اوپر کے بڑھے ہوئے دو روپوں پر گزارا کرتے ہیں اور اپنی سابقہ پوری سات روپے کی تنخواہ اپنے گھر والوں کو بھیج دیتے ہیں۔” [21]

سلیمان کی وضاحت کے مطابق، ان کی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ واقعی ان کے آبائی دیہاتوں کو بھیجا جاتا تھا:

“وہ اپنی بیویوں یا بچوں کو کبھی اپنی رجمنٹ یا تعیناتی کے مقامات پر ساتھ نہیں رکھتے۔ وہ انھیں اپنے والد یا بڑے بھائیوں کے پاس چھوڑ دیتے ہیں اور صرف چھٹیوں پر گھر واپسی کے دوران ہی ان کے ساتھ وقت گزار پاتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا تین چوتھائی حصہ گھر بھیجا جاتا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کی آسائش اور گزر بسر کا انتظام ہو سکے، اور وہ اس گھر کو اس امید پر سنوار سکیں جہاں وہ اپنی زندگی کی آخری بہاریں (بڑھاپا) گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔” [22]

کسی خاص علاقے سے گہرا تعلق اور سپاہیوں کا اپنے دیہاتوں کے ساتھ یہ رشتہ بنگال آرمی کے بھرتی کے ان منفرد طریقوں کا نتیجہ تھا جو گزشتہ ایک صدی کے دوران پروان چڑھے تھے۔ اٹھارہویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی سیاست میں زیادہ فعال ہوئی، تو ہندوستان میں برطانوی راج کی نوعیت آہستہ آہستہ ایک خود مختار طاقت جیسی ہو گئی۔ [23] کمپنی محض ایک تجارتی ادارے سے بدل کر ایک ایسی نوآبادیاتی ریاست بن گئی جس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ 1818ء تک تجارت کے بجائے لگان (ٹیکس) بن چکا تھا۔ اپنے علاقوں کی حفاظت اور توسیع کے لیے کمپنی مقامی ہندوستانی فوجیوں پر منحصر تھی، جنھیں برطانوی افسران یورپی فوجی اصولوں کے مطابق تربیت دیتے تھے۔

تاہم، اس وقت برطانوی طاقت ابھی ابھر رہی تھی اور اسے ہندوستانی اور یورپی حریفوں کا سامنا تھا جو مقامی فوجیوں کو ویسی ہی ملازمتیں فراہم کر رہے تھے۔ “تہذیب یافتہ بنانے” کے جذبے کے عروج سے پہلے، ریاست کے طور پر کمپنی کے جواز کا ایک بڑا حصہ دراصل نوآبادیاتی دور سے پہلے کی روایات کو جاری رکھنے سے حاصل ہوا تھا، جس میں اونچی ذات کے ہندو سپاہیوں پر مشتمل فوج کا قیام بھی شامل تھا۔ محض ضرورت کے تحت، بنگال میں کمپنی نے شمالی ہندوستان کی فوجی افرادی قوت کی منڈی سے فائدہ اٹھایا اور اودھ اور بہار کے زمینداروں کے ذریعے براہ راست کسان رجمنٹیں بھرتی کرنے کے لیے ذات پات اور سماجی تعلقات کے موجودہ نیٹ ورک پر بھروسا کیا۔ [24]

اپنی رجمنٹوں میں اونچی ذات کے رسوم و رواج کی گنجائش پیدا کرنا ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ایک مؤثر طریقہ تھا جس کے ذریعے وہ اس دور میں ہندوستان میں ایک پرکشش اور جائز فوجی آجر (employer) بن سکتی تھی۔ کمپنی نے باقاعدہ تنخواہ اور پنشن کے وعدے کے ساتھ ساتھ اونچی ذات کے مرتبے کی اصطلاح استعمال کر کے بھرتی کے لیے ایک وفادار بنیاد قائم کر لی۔ انگریز براہ راست اودھ اور بہار کے دیہاتوں سے بھرتی کرتے تھے، اور جب سپاہی چھٹیوں سے واپس آتے تو وہ اپنے خاندان کے نوجوانوں کو بھی بطور ممکنہ رنگروٹ ساتھ لاتے۔ اس عمل نے رجمنٹ اور گاؤں کے تعلق کو مزید مضبوط کیا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ بنگال آرمی کے کچھ حصے ایک وسیع خاندانی نیٹ ورک کی طرح کام کرتے تھے۔ اس کا حتمی نتیجہ بنگال آرمی کے سپاہیوں کی ایک ایسی منفرد اور ہم آہنگ جماعت تھی جو زیادہ تر اونچی ذات کے برہمنوں، بھومی ہاروں اور راجپوتوں پر مشتمل تھی۔ [25]

تاہم، عالم بیگ اور اس کے ساتھی سپاہیوں کی مذہبی شناخت اور سماجی حیثیت محض نوآبادیاتی دور سے پہلے کی پیداوار نہیں تھی اور نہ ہی یہ صرف وہ ہندوستانی روایات تھیں جنھیں بنگال آرمی میں اپنا لیا گیا تھا؛ بلکہ سپاہیوں کی سماجی حیثیت خود اس فوج میں ملازمت کا نتیجہ تھی۔ فوجی خدمات سے وابستہ بہت سی مذہبی اور سماجی شناختیں، جن کا درجہ 1857ء تک طے شدہ سمجھا جانے لگا تھا، دراصل پچھلی صدی کے دوران ہی ابھری تھیں اور یہ قدیم ذاتوں کے بجائے “ایجاد کردہ” روایات تھیں۔ [26] مغل سلطنت کے زوال نے جہاں سیاسی اور سماجی انتشار پیدا کیا، وہیں اس نے مشرقی اتر پردیش اور بہار کے راجپوتوں اور بھومی ہاروں (جنھیں زرعی برہمن کہا جاتا تھا) کو فوجی خدمات کے ذریعے اپنی اونچی ذات کا مقام بنانے کا موقع بھی دیا۔

اس میں جنگجوئی کے نظریے کو برہمنوں کی مذہبی پاکیزگی اور سماجی مراعات کے ساتھ ساتھ پنڈتوں والے ہندو مت سے وابستہ کھانے پینے کے سخت اصولوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔ [27] اسی دوران، مقامی فوجی منڈی مسلسل سکڑتی اور محدود ہوتی جا رہی تھی کیوں کہ انگریز سپاہیوں کی مدد سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے۔ 1818ء تک کمپنی برصغیر میں طاقت کی مکمل اجارہ داری قائم کر چکی تھی اور اس نے اپنے تمام حریفوں کو شکست دے دی تھی جو ہزاروں ہندوستانی فوجیوں کو ملازمت فراہم کر سکتے تھے۔ بنگال آرمی، جو شمالی ہندوستان کے نئے مفتوحہ علاقوں میں ایک بڑی فوجی قوت تھی، نے بھومی ہاروں اور راجپوتوں کی ان از سر نو ایجاد شدہ اونچی ذات کی فوجی روایات کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے بہترین فریم ورک فراہم کیا۔ اس نے سپاہیوں کو اپنی نئی حاصل شدہ حیثیت کو بہتر اور محفوظ بنانے کا موقع دیا، اور سپاہیوں کی اونچی ذات کے مرتبے کی توثیق و حوصلہ افزائی کر کے، انگریز اپنی فوج پر بہتر کنٹرول پانے اور ان علاقوں کے مقامی زمینداروں کی مسلسل حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جہاں سے رنگروٹ بھرتی کیے جاتے تھے۔

اپنی فوج کے اعلیٰ سماجی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے، برطانوی حکام نے ہندوؤں کی خوراک اور مذہبی رسومات کی پابندیوں کی اجازت دی، اور ان کے مذہبی تہواروں کی حوصلہ افزائی کی۔ بعض اوقات تو رجمنٹ کے جھنڈوں (Regimental Colours) کو سپاہیوں کی مذہبی تقریبات میں شامل کیا جاتا اور بتوں کی طرح ان کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس طرح برطانوی ہندوستان کی فوجی چھاؤنیوں کے اندر “عسکری ہندو مت” اور “بیرکوں والے اسلام” جیسے مخصوص سماجی و مذہبی اطوار اور رسومات نے جنم لیا۔ [28]

اگرچہ عالم بیگ مسلمان تھا (اور غالباً سنی تھا)، لیکن اس کے مذہبی عقائد عوامی سطح پر رائج مختلف عقائد کا مجموعہ رہے ہوں گے۔ مسلمان سپاہی مقامی صوفی پیروں کے مزارات پر جایا کرتے تھے، اور سیالکوٹ میں ایسے کئی مزارات موجود تھے جو ہندوستانی فوجیوں کے درمیان سماجی میل جول کے مراکز بن گئے تھے۔ سپاہی ان مزارات پر اہم معاملات پر گفتگو کرنے، گپ شپ لگانے اور حقہ پینے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندو بھی ان مزارات پر کثرت سے جاتے تھے، جب کہ دوسری طرف مقامی مسلمان بظاہر ہندو تہواروں میں شرکت کرتے تھے۔

عوامی مذہبی عقائد کی اس مشترکہ نوعیت اور بنگال آرمی کے اندر پروان چڑھنے والی منفرد ثقافت کا مطلب یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان سپاہیوں کے درمیان تقسیم کرنے والی چیزوں سے زیادہ جوڑنے والی چیزیں موجود تھیں۔ آخر کار، کمپنی کی فوج میں ملازمت نے سپاہیوں کو ایک اعلیٰ مقام عطا کر دیا تھا، اور اگرچہ عالم بیگ ہندو اکثریت کے درمیان ایک مسلمان تھا، لیکن بنگال آرمی کی رجمنٹوں کے تمام سپاہیوں کو عقیدے سے قطع نظر ایک الگ “ذات” یا برادری تصور کیا جاسکتا تھا۔ بنگال آرمی وہ جگہ بن گئی جہاں ایک منفرد فوجی شناخت کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی گئی بلکہ اسے مستقل طور پر پروان چڑھایا گیا، اور کمپنی کی فوج میں ملازمت سپاہیوں کے لیے اپنی اعلیٰ حیثیت منوانے کا ایک اہم ذریعہ بن گئی۔ عالم بیگ اور اس کے ساتھی صرف “وردی پوش کسان” نہیں تھے۔ اگرچہ وہ چھٹیوں اور بھرتی کے غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے خاندانوں اور دیہاتوں سے مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے، لیکن ان کے مخصوص فوجی اطوار، رتبہ اور مذہبی شناخت وہ چیزیں تھیں جو صرف بنگال آرمی کے اندر ہی قائم رہ سکتی تھیں۔ [29]

چھاؤنی کے اندر رہنے سہنے کے انتظامات بھی سپاہیوں کو ایک کمیونٹی کے طور پر الگ کرتے تھے۔ [30] اس وقت کے برطانوی فوجیوں کے برعکس، ہندوستانی سپاہی مشترکہ بیرکوں میں نہیں رہتے تھے اور نہ ہی میس میں کھانا کھاتے تھے، بلکہ وہ اپنے ذاتی کمروں (کوارٹرز) میں رہتے تھے جہاں وہ اپنا کھانا خود تیار کرتے تھے۔ جب عالم بیگ ڈیوٹی سے فارغ ہوتا، تو وہ سیالکوٹ چھاؤنی کے شمال میں واقع اپنی جھونپڑی میں چلا جاتا، جہاں وہ گرم اور غیر آرام دہ وردی اتار کر ڈھیلی ڈھالی دھوتی اور سوتی قمیض پہن لیتا۔ اپنی تنخواہ سے خود بنائی گئی ان جھونپڑیوں میں سپاہی انگریزوں کی مداخلت کے بغیر اپنا فارغ وقت آپس میں باتوں اور حقہ نوشی میں گزار سکتے تھے۔

اگرچہ بہت سے برطانوی افسران اپنے سپاہیوں کے ساتھ گہرے تعلقات پر فخر کرتے تھے، لیکن حقیقت میں وہ اپنے جوانوں کی ڈیوٹی کے بعد کی زندگی سے بالکل بے خبر تھے۔ امبالہ کے مسکیٹری اسکول میں تعینات لیفٹیننٹ ایڈورڈ مارٹینو نے اعتراف کیا تھا:

“ہم یہ سمجھ کر بہت بڑی غلطی کرتے ہیں کہ چونکہ ہم ہندوستانی فوجیوں کو یورپیوں جیسا لباس پہناتے ہیں، مسلح کرتے ہیں اور ڈرل کرواتے ہیں، اس لیے وہ اپنے احساسات اور خیالات میں ذرہ برابر بھی یورپی بن گئے ہیں۔ میں انھیں روزانہ دو گھنٹے پریڈ گراؤنڈ میں دیکھتا ہوں، لیکن باقی 22 گھنٹوں کے بارے میں میں ان کے بارے میں کیا جانتا ہوں؟ وہ اپنی لائنوں (کمروں) میں بیٹھ کر کیا باتیں کرتے ہیں...؟” [31]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!