Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط: ششم)

امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط: ششم)
عنوان: امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط: ششم)
تحریر: ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

اَلْكَشْفُ الشَّافِيَا لِحُكْمِ فُونُوجْرَافِيَا ۱۳۲۸ھ

فونوگراف (گراموفون) کے حکم کے بارے میں تسلی بخش وضاحت:

یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ جلد 23 میں موجود ہے فونو گراف تازہ تازہ ایجاد ہوا تھا میوزک اسی کے ذریعے سنا جاتا تھا اب مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ آیا فونوگراف میں قرآن کریم ریکارڈ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اور اس معاملہ کو ذریعہ روزگار بنانے کا کیا حکم ہوگا؟ ساتھ ہی ساتھ اس آلہ کے ذریعے گانے باجے سننے کا حکم بھی پوچھا گیا۔

اس سوال کے جواب میں امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے جو رسالہ تصنیف فرمایا وہ حقیقت تک رسائی کی ایک بے نظیر مثال ہے آپ رضی اللہ عنہ اس رسالہ میں فقیہ کم سائنس دان اور متکلم زیادہ نظر آتے ہیں سب سے پہلے صوت یعنی آواز کی حقیقت پر اعلیٰ درجے کا کلام کرتے ہیں دیگر ابحاث کے بعد فونو گراف کی اجزاء، ترکیبی پر گفتگو کرتے ہیں اور اس کی پلیٹوں پر الکحل اور اسپرٹ کی آمیزش پائے جانے کے احتمال پر تفصیلی کلام کرتے ہیں اس کے بعد سب سے آخر میں جو خلاصہ جواب بیان فرمایا وہ مختصر انداز میں کچھ یوں ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ص: 467]

تین چیزیں ہیں: ممنوعات، معظمات، مباحات۔

اول کا سننا مطلقاً حرام و نا جائز اور فونو سے جو کچھ سنا جائے گا وہ بعینہ اسی شئی کی آواز ہوگی جس کی صوت اس میں بھری گئی، مزامیر ہوں خواہ ناچ خواہ عورت کا گانا وغیرہ اصل کا جو حکم تھا بے تفاوتِ سرمو اس کا ہوگا۔ الخ

دوم بھی مطلقاً حرام و ممنوع ہیں اگر گلاسوں پلیٹوں میں کوئی ناپاکی یا جلسہ لہو و لعب کا ہے تو تحریم سخت ہے اور خود سننے والوں کی نیت تماشا ہے تو اور بھی سخت تر خصوصاً قرآنِ عظیم میں اور اگر ان سب سے پاک ہو تو ان کے مقاصدِ فاسدہ کی اعانت ہو کر ممنوع ہے۔ الخ

سوم میں تفصیل ہے اگر پلیٹوں میں نجاست ہے تو حروف و کلمات کا ان میں بھرنا مطلقاً ممنوع ہے کہ حرف خود معظم ہیں۔ اور اگر نجاست نہیں یا وہ کوئی جائز آواز ہے حروف ہے تو جلسہ فساق میں اسے سننا اہلِ اصطلاح کا کام نہیں کہ انہیں اہلِ باطل سے اختلاط نہ چاہیے اور اگر تنہائی یا خاص صلحا کی مجلس ہے تو کوئی وجہ منع نہیں۔

حُقَّةُ الْمَرْجَانِ لِمُهِمِّ حُكْمِ الدُّخَّانِ ۱۳۰۷ھ

حقہ کے ضروری احکام:

فقہ المعاملات میں ایک چیز بڑی اہم ہے وہ یہ کہ جس چیز کا استعمال کرنا جائز نہ ہو اس کی خرید و فروخت بھی جائز نہ ہوگی۔ حقہ پینا اور تمباکو کھانا کیسا حرام ہے یا مکروہ یہ سوال امام اہل سنت رضی اللہ عنہ سے ہوا اس کے جواب میں آپ نے یہ رسالہ تصنیف فرمایا آپ نے جواز کا حکم بیان کرتے ہوئے منہ میں بو کے تعلق سے کچھ ممانعت کے مواقع بھی بیان فرمائے۔ امام نابلسی اور علامہ اجہوری مالکی کی تمباکو پر لکھی گئی جواز پر کتب کو بھی آپ ذکر فرماتے ہیں۔ اس رسالہ کی اہمیت کا ایک سبب یہ ہے کہ آج بھی عرب کے وہابیہ سگریٹ پینے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ بلا شبہ حرام قرار دینے کا موقف غلو پر مبنی ہے۔ اس کے بر خلاف اس موضوع پر امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اس مسئلہ پر جو لکھا وہ تحقیق اور اعتدال پر مبنی ہے۔ [مجموع فتاویٰ و مقالات بن باز، ج: 8، ص: 98، مطبوعہ دار القاسم للنشر ریاض]

اَلْأَحْلٰی مِنَ السُّكَّرِ لِطَلَبَةِ سُكَّرِ رُوسَر ۱۳۰۳ھ

یہ رسالہ شکر روسر کے طالب (حکمِ شرعی) کے لیے شکر سے زیادہ مٹھا ہے۔

عصر حاضر میں دو معاملات بہت شائع و ذائع ہیں پہلی بات یہ ہے کہ یا تو کسی پروڈکٹ یا پھر کسی کمپنی کے بارے میں سوشل میڈیا پر مبہم مہم چل رہی ہوتی ہے کہ اس کمپنی کی چیزوں میں یا کسی خاص پروڈکٹ میں حرام چیز کی آمیزش ہے اور اس طرح کی مبہم مہم کا اکثر اوقات نہ سر ہوتا ہے نہ پاؤں بس سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھانے کا معاملہ ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جن میں یقینی طور پر حرام چیزوں کی آمیزش شامل ہوتی ہے بالخصوص غیر مسلم ممالک میں ایسی چیزیں بکثرت دستیاب ہیں اور خود بنانے والوں کو بھی اس کا اعتراف ہوتا ہے۔ آج کے دور میں خرید و فروخت کرنے والے گاہک ہوں یا کہ مال بیچنے والے تجار “حلال فوڈ” یا “حلال پروڈکٹ” ایک ایسا عمومی موضوع ہے جس کی تفصیل ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔

“حلال پروڈکٹ” کا موضوع آج کے دور میں کتاب الطہارت کا موضوع نہیں رہا بلکہ فقہ المعاملات کا حصہ بن چکا ہے چاکلیٹ سے لے کر گوشت تک ہزاروں مصنوعات سے متعلق یہ موضوع زیرِ بحث آتا ہے۔ اس موضوع پر امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے بہت ہی تفصیل سے گفتگو فرمائی ہے۔

امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک موقع پر سوال پوچھا گیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ روسر کی شکر کو ہڈیوں سے صاف کیا جاتا ہے اور ان ہڈیوں میں گوشت یا چکنائی بھی رہ جاتی ہوگی پھر یہ ہڈیاں حلال جانور کی ہوتی ہوں گی یا حرام جانور کی دونوں ہی احتمالات موجود ہیں سائل نے یہ بھی ذکر کیا کہ سنا ہے کہ اس میں شراب بھی ڈالی جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب ایک صفحہ میں بھی دیا جا سکتا تھا لیکن امامِ اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظرِ فراست معاملہ کی وسعت، سنگینی اور اہمیت کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے جواب میں آپ ایک مستقل تحقیقی رسالہ تصنیف فرماتے ہیں جو کہ اس رسالہ کا 90 فیصد سے زائد حصہ مسئلہ کے جواب کی بنیاد بننے والے مقدمات پر مشتمل ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 473 تا 593]

امامِ اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 10 مستقل مقدمات قائم فرما کر مختلف زاویوں سے اس مسئلہ پر فقہی بحث فرمائی اور مسئلہ سے متعلق اہم ترین اصولوں، ضابطوں, نظائر اور جزئیات کو یکجا کیا۔ معاملہ یہ ہو کہ بازاری افواہ پر حلال و حرام کی بنیاد ہوگی یا نہیں یا پھر یہ معاملہ ہو کہ کافر و مستور کی حلت و حرمت اور طہارت و نجاست اور احکامِ دینیہ کے تعلق سے کافر کی خبر معتبر ہوگی یا نہیں۔ پھر ظن کے مدارج پر دقیق بحث ہو یا کہ اصل اشیاء میں طہارت و پاکی کا اصول ہو۔ سب باتیں اس رسالہ میں زیرِ بحث لاکر امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے بالخصوص مزاجِ شریعت پر بہت تفصیل سے کلام فرمایا مثلاً کسی چیز کو حرام کہنے میں احتیاط نہیں بلکہ بلا تحقیق کسی چیز کو حرام کہنا شریعت پر افتراء ہے۔ یونہیں ورع اور تقویٰ کے نام پر پیچیدگی پیدا کرنے والوں پر بھی سخت کلام موجود ہے۔

امامِ اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ رسالہ دراصل حلال فوڈ اور حلال پروڈکٹ کے علم پر مہارت حاصل کرنے کا ایک نصاب ہے اور اس قسم کا مسئلہ حل کرنے کا یہ رسالہ ایک عمدہ ماڈل ہے۔ امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ خود اس رسالہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:

“فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ نے ان مقدماتِ عشرہ میں جو مسائل و دلائل تقریب کیے جو انھیں اچھی طرح سمجھ لیا ہے اس قسم کے تمام جزئیات مثلاً بسکٹ، نان پاؤ رنگت کی پڑیوں، یورپ کے آئے ہوئے دودھ، مکھن، صابون، مٹھائیوں وغیرہا کا حکم خود جان سکتا ہے۔ غرض ہر جگہ کیفیتِ خبر و حالتِ مخبر و حاصلِ واقعہ و طریقتِ مداخلتِ حرام و نجس و تفرقۂ ظن و یقین و مدارجِ ظنون و ملاحظۂ ضابطہ کلیہ و مسالکِ ورع و مداراتِ خلق و غیرہا امورِ مذکورہ کی تنقیح و مراعات کر لیں پھر ان شاء اللہ تعالیٰ کوئی جزئیہ ایسا نہ نکلے گا جس کا حکم تقاریر سابقہ سے واضح نہ ہو جائے۔”

اس پیراگراف میں دو باتیں بہت اہم ہیں ایک یہ کہ مختلف اقسام کی پروڈکٹ پر حکم لگانا آسان ہے اور دوسری چیز یہ کہ کیا کیا چیزیں سامنے رکھ کر حکم لگایا جائے گا۔ دوسری چیز بہت اہم ہے ورنہ بعض اوقات اچھا خاصا سمجھدار آدمی بھی خطا کر جاتا ہے کچھ عرصہ قبل کیو ٹی وی پر ایک مفتی صاحب کے دیے گئے جواب کا کلپ سننے کو ملا جس میں وہ مشینی ذبیحہ کے پس منظر میں یہ حکم لگا رہے تھے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہوتی ہے اور تحقیق و تفتیش میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا یہ ان کی خطا تھی اس سے ان کو رجوع کرنا چاہیے اشیاء میں اصل اباحت ہی ہوتی ہے لیکن کم از کم دو چیزوں کا فقہا نے استثنا فرمایا ہے ایک فروج اور دوسرا گوشت کہ ان کے اندر اصل حرمت ہے اسبابِ حلت پائے جائیں تو حلال ہونے کا حکم ہوگا ورنہ نہیں۔

خَيْرُ الْآمَالِ فِي حُكْمِ الْكَسْبِ وَالسُّؤَالِ ۱۳۱۸ھ

کمانے اور سوال کرنے کے بیان میں بہترین تحقیقی نتیجہ:

کسب و معاش سے ہر آدمی متعلق ہے اور دیگر شعبہ زندگی کی طرح معاملات میں بھی شریعت نے اخلاق و آداب سکھائے اور مختلف احکام بتائے ہیں ویسے تو کسب و معاش کو محض ایک دنیاوی کام سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں کسب و معاش کبھی فرض اور واجب بھی ہوتے ہیں سنت اور مستحب کے درجہ میں بھی پہنچتے ہیں لیکن ہر کسب عبادت نہیں اور نہ ہر کسب حلال ہے اس کے بھی مختلف درجے ہیں اور مختلف احوال ہیں ویسے تو عمومی طور پر اس کے احکام کتبِ فقہ میں ملتے ہیں اور بعض علماء نے اس عنوان پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔

اس موضوع پر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی قلم اٹھایا اور ایک عمدہ رسالہ تصنیف فرمایا ہے جو کہ فتاویٰ رضویہ جلد 23 میں موجود ہے۔ جب کسی مسئلہ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن بطورِ خاص اہتمام اور رسالہ کی صورت میں تحریر فرماتے ہیں تو اس کے پیچھے ایک خاص مقصد ہوتا ہے کیونکہ یہ محقق اعظم محض مصنف کہلانے کے لیے کتب یا رسائل تحریر نہیں فرماتے اور نہ کتاب بنانے کے لیے یہاں وہاں کی لے کر کتاب لکھ دیتے ہیں۔ بلکہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیش نظر اپنے منصب کے اعتبار سے مختلف اہداف ہوتے ہیں ان میں سے ایک ہدف مسئلہ کی تنقیح اور غیر مربوط صورتوں کو ایک لڑی میں پرو کر پڑھنے والوں کو سینکڑوں کتب میں بکھرے ہزاروں صفحات کے کھنگالنے سے بے نیاز کر دینا ہے جی ہاں اس مسئلہ میں بھی ایسا ہی ہوا سوال تو بڑا ہی سادہ سا ہوا تھا کہ:

“کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ کمانا کس وقت فرض ہے، کس وقت مستحب، کس وقت مکروہ, کس وقت حرام، اور سوال کرنا کب جائز ہے کب ناجائز؟ بینوا توجروا۔”

لیکن اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مربوط اور تحقیقی جواب دیا، وہ کسی اور کتاب میں نہیں ملے گا۔ ذیل میں ہم اس رسالہ کا کچھ پس منظر اور خلاصہ بیان کریں گے لیکن اس سے پہلے یہ بیان کرنا فائدہ سے خالی نہیں کہ جو بات اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اس رسالہ میں بیان کر رہے ہیں وہ کسب و معاش کے معاملے میں ایک اعتدال کی راہ ہے۔ اور معاشی میدان میں مسلمان اگر ان امور اور بیان کردہ اصولوں کو سامنے رکھیں تو انہیں ہر میدان میں کامیابی نصیب ہوگی۔

رسالہ کی ابتداء و انتہا: آپ سے سوال کیا گیا کہ روپیہ کمانا کس وقت فرض ہے، کس وقت مستحب، کس وقت مکروہ، کس وقت حرام، اور سوال کرنا کب جائز ہے کب ناجائز ہے؟ تو اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پہلی سطر یہ لکھی کہ “یہ مسئلہ بہت طویل الذیل ہے جس کی تفصیل کو دفتر درکار، یہاں اس کے بعض صور وضوابط، پر اقتصار۔”

اس رسالہ کے اختتام پر آپ نے درج ذیل کلمات ارشاد فرمائے: “یہ تقریر منیر حفظ رکھنے کی ہے کہ اوّل تا آخر اس تحقیقِ جمیل و ضبطِ جلیل کے ساتھ اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گی،”

اَلشِّرْعَةُ الْبَهِيَّةُ فِي تَحْدِيدِ الْوَصِيَّةِ ۱۳۱۷ھ

کشادہ راستہ وصیت کی جامع و مانع تعریف کے بیان میں

رنگون سے شیخ عبد العزیز نے امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک استفتا ارسال کیا جو فتاویٰ رضویہ کے تقریباً ساڑھے پانچ صفحات پر مشتمل ہے یہ سوال نامہ بہت سارے علمی مسائل پر مشتمل تھا ساتھ ہی ساتھ کچھ عبارات اور جزئیات لکھ کر اشکالات بھی پیش کیے گئے تھے۔ خود نفسِ وصیت کا معاملہ بھی بہت پیچیدہ تھا۔ اور سوال کا اصل مقصود حق غیر میں کوتاہی لازم نہ ہو جائے یہ جاننا تھا۔ یہ استفتا 8 سوالات پر مشتمل تھا۔

پہلا سوال وصیت کے نفاذ کے متعلق تھا کہ وہ واجب ہے یا نہیں؟

دوسرا سوال یہ ہوا کہ کل مال کے منافع کی وصیت کی ہے کسی خاص جزء کی نہیں تو اس سے وصیت پر کوئی فرق پڑے گا یا نہیں؟

تیسرا سوال وصیت کے الفاظوں سے متعلق تھا ۔ سائل کا مدعیٰ اس کے الفاظوں سے استثناء ثابت کرنا تھا اور اس سے وصیت پر کوئی فرق پڑے گا یا نہیں؟ اصل مقصود یہ پوچھنا تھا۔

چوتھا سوال بڑا ہی دلچسپ ہوا کہ وصیت کا تعلق فقہ المعاملات سے ہے یا نہیں؟

پنجواں سوال وصیت کو بیع پر قیاس کرتے ہوئے تیسرے سوال پر ایک تفریع جاری کرنے سے متعلق تھا، جس کا بہت تفصیلی رد آپ نے فرمایا اور سائل کو بیان کیا کہ بیوع میں شروط ضرر و فساد کا سبب بنتی ہیں لیکن وصیت پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

چھٹا سوال کچھ فقہی اشکالات اور حدیثِ پاک کو سامنے رکھ کر صورتِ مسئولہ کی وصیت کو باطل کرنے سے متعلق تھا جس کو امامِ اہل سنت نے باطل نہ ہونا شمار کیا اس جواب میں امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے وصیت کی دو حیثیتوں پر بہت تفصیل سے گفتگو کی یعنی ایک تملیک دوسری قربت۔

ساتواں سوال یہ ہوا کہ وصیت کی بعض صورتوں پر عمل کریں بعض پر نہیں تو کیا کوئی خلل آئے گا امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے خلل نہ آنا بیان کیا۔

آٹھواں سوال وصی سے متعلق ہوا کہ صغیر ورثاء کے سہام کو بعینہ رکھنا ہوگا یا کہ ان کا بیچنا جائز ہے؟ امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں جائدادِ منقولہ کے فروخت پر رخصت و جواز بیان کیا اور غیر منقولہ پر ضروری قیود کے ساتھ جواز اور عدم جواز کی دو صورتیں بیان فرمائیں۔

تبصرہ: وصیت عقود و تبرعات میں سے ایک اہم عقدِ شرعی اور فقہ المعاملات ہی کا ایک حصہ ہے۔ امامِ اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رسالہ جہاں وصیت کی بنیادی ابحاث پر مشتمل ہے وہیں اس باب کی نوازل فقہیہ کو حل کرنے کی بہت عمدہ مثال ہے اور خاص کر جب سوالات مختلف معارضوں کو قائم کرتے ہوئے اور مختلف جزئیات کو بنیاد بناتے ہوئے کیا گیا تھا تو اب درست مؤقف کی دلائل کے ساتھ وضاحت بہت ضروری تھی۔ اس رسالہ کے اندر امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے جو کلام فرمایا نفسِ سوالات کے جواب کے ساتھ ساتھ بہت سارے فقہی افادات پر مشتمل ہے مثلاً اسی پیراگراف کو دیکھ لیں کہ اتنے شاندار انداز میں عقود کی تقسیم بندی جو آپ نے بیان فرمائی ہے وہ آپ کی فقہ المعاملات میں مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے فرماتے ہیں:

“تقسیم عبادات و معاملات میں عبادات سے مطلقاً حقوق اللہ مراد ہوتے ہیں خواہ عباداتِ محضہ ہوں جیسے ارکانِ اربعہ یا قرباتِ محضہ جیسے عتق و وقف حتیٰ کہ نکاح بھی خواہ عبادت یا قربت مع معنی عقوبت جیسے کفارات اور معاملات حقوق العباد ہیں۔ مثل بیع و اجارہ و ہبہ و اعارہ و غیره اور یہاں نظر مقصودِ اصلی کی طرف ہے۔ اصل مقصود تقرب الی اللہ ہے تو عبادت ہے یا مصالحِ عبادت تو معاملہ پھر وصیت دوقسم ہے ایک تملیکِ مثلاً زید یا عمرو یا ابنائے فلاں وغیرہما معین و محصور اشخاص کے لیے یہ صورت اغنیا و فقراء سب کے لئے ہو سکتی ہے صورتِ اولیٰ معاملات سے ہے مثلِ ہبہ اور ثانیاً عبادات سے مثلِ صدقہ دوسری قربتِ بلا تملیک مثلِ وصیت بوقت و عتق و دیگر اعمال، پھر وصیت برائے اربابِ حاجت غیر محصورین بہ وجہ عدم انحصار تملیک نہیں ہو سکتی یہ صرف قربت و از قبیل عبادات ہے۔”

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!