Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط: چہارم)|علامہ محمد احمد مصباحی

علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط:چہارم)
عنوان: علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط:چہارم)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

تلامذہ و شاگرد

مفتی صاحب نے 1344ھ تا 1391ھ تقریباً نصف صدی کارِ تدریس انجام دیا۔ اس طویل مدت میں نہ جانے کتنے ہزاروں تشنگانِ علم نے آپ سے تحصیلِ علم کی ہوگی۔ یہاں چند ممتاز تلامذہ کے اسما “حیاتِ سالک” کے حوالے سے پیش کیے جا رہے ہیں:

مولانا سید مختار اشرف کچھوچھوی عرف محمد میاں مدظلہ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی (لاہور)، مولانا آلِ حسن اشرفی نعیمی سنبھلی (بھارت)، مولانا عبدالکریم صاحب (ملفت گنج، بنگلہ دیش)، مولانا عبدالقدیر صاحب (چٹاگانگ)، صاحبزادہ مفتی مختار احمد خاں نعیمی، صاحبزادہ مفتی اقتدار احمد خاں نعیمی، قاضی عبدالنبی کوکب، مولانا لیاقت حسین صاحب (بنگلہ دیش)، مولانا مسعود الحسن صاحب (چورہ شریف)، مولانا سید جلال الدین شاہ صاحب (بھکھی، گجرات)، مولانا ریاض الحسن صاحب (سنبھل، بھارت)، مولانا نذر محمد صاحب (خطیب سلانوالہ)، مولانا محمد ادریس صاحب (ماریشس، افریقہ)، مولانا غلام علی صاحب اوکاڑوی، مولانا سید غنی شاہ صاحب (گجرات)، مولانا حامد علی شاہ صاحب (چورہ شریف)، مولانا سید محمود شاہ صاحب (گجرات)، مولانا حکیم غلام سرور صاحب (سرگودھا)، مولانا سید فضل شاہ صاحب (گجرات)، مولانا نذیر حسن صاحب (خطیب شاہدولہ، گجرات)، مولانا عبداللطیف صاحب (خطیب سائیں کانواں والا)، سید محمد قاسم صاحب (خطیب ہری امام، راولپنڈی)، مولانا محمد بشیر ضیائی (خطیب اوقاف، گجرات)، مولانا حافظ غلام محی الدین سائل فاروقی، مولانا زاہد صدیقی (لاہور)۔

تصنیفات و تالیفات

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ کے بعد تصنیف و تالیف کے ذریعہ آپ نے دینِ متین کی جو زریں خدمات انجام دی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اب تک جن کتابوں کی اطلاع ہو سکی ہے ان کی فہرست مع مختصر تعارف درج ذیل ہے:

1۔ علم المیراث: یہ علمِ فرائض اور قانونِ وراثت کے موضوع پر ہے۔ یہ مفتی صاحب کی پہلی تصنیف ہے جو 1352ھ میں دھوراجی کے زمانہٴ قیام میں ظہور پذیر ہوئی۔ پہلے اس کا گجراتی ایڈیشن شائع ہوا اور پھر اردو زبان میں منظرِ عام پر آئی۔

2۔ شانِ حبیب الرحمن بآیات القرآن: اس کتاب میں ان آیاتِ قرآنیہ پر مختصر اور مدلل بحث کی گئی ہے جن سے صراحت کے ساتھ سرورِ کائنات علیہ الصلوات والتسلیمات کی شان ثابت ہوتی ہے۔ چھوٹے سائز میں اس کی ضخامت قریباً 250 صفحات ہے۔ یہ کتاب 18 جمادی الاولیٰ تا 3 شعبان 1391ھ صرف ڈھائی ماہ کے مختصر عرصے میں تصنیف ہوئی۔ بعد میں محرم 1365ھ میں اس کے ساتھ ایک ضمیمہ “شانِ اولیا و شہدا” کے عنوان سے لکھا گیا جو درحقیقت شانِ مصطفیٰ ﷺ ہی کا تسلسل ہے۔

3۔ جاء الحق (جلد اول): یہ اہل سنت اور وہابیہ کے درمیان مختلف فیہ عقائد و معمولات پر ایک بے نظیر اور فیصلہ کن کتاب ہے۔ اس کے ہر مبحث میں دو باب قائم کیے گئے ہیں۔ بابِ اول میں مسلکِ اہل سنت کا قرآن و حدیث، اجماع و قیاس اور اقوالِ علما وغیرہ سے اثبات کیا گیا ہے، جبکہ بابِ دوم میں مخالفین کے اعتراضات اور ان کے نہایت دندان شکن اور شافی جوابات تحریر کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کی تکمیل 6 ذی قعدہ 1361ھ کو ہوئی۔ تصنیف کے آغاز کا سال معلوم نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں اس کتاب میں “قہر کبريا برِ منکرینِ عصمتِ انبیا”، “تلاقی الأدلۃ فی حکم الطلاق الثلثۃ” اور “لمعات المصابیح علی رکعات التراویح” جیسے تین مستقل علمی رسائل اور بہت سے دلائل مختلف مقامات پر شامل کیے گئے، جس سے اب یہ پوری کتاب قریباً پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔

4۔ سلطنتِ مصطفیٰ: اس کتاب کا موضوع اس کے نام ہی سے ظاہر ہے۔ یہ ذی قعدہ 1362ھ میں لکھی گئی اور اس کا طرزِ تحریر بھی “جاء الحق” کی طرح مناظرانہ اور تحقیقی ہے۔

5۔ رحمتِ خدا بوسیلہ اولیا: یہ کتاب بھی طرزِ “جاء الحق” پر لکھی گئی ہے جس میں مسئلہ استمداد اور وسیلہ و توسل پر نہایت مفصل اور سیر حاصل

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!