| عنوان: | حضرت یوسف بن خالد علیہ رحمۃ اللہ القوی کو نصیحتیں |
|---|---|
| تحریر: | امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ علیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
حضرت یوسف بن خالد علیہ رحمۃ اللہ القوی کو نصیحتیں
حضرت سیّد نا یوسف بن خالد سمتی بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے تکمیلِ علم کے بعد جب حضرت سیّد نا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ سے اپنے شہر بصرہ جانے کی اجازت طلب کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کچھ دن ٹھہرو تا کہ میں تمہیں ان ضروری امور کے متعلق وصیت کروں کہ لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے، اہلِ علم کے مراتب پہچاننے، نَفس کی اصلاح اور لوگوں کی نگہبانی کرنے، عوام و خواص کو دوست رکھنے اور عام لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے جن کی ضرورت پڑتی ہے یہاں تک کہ جب تم علم حاصل کر کے جاؤ تو وہ وصیت تمہارے ساتھ ایسے آلہ کی طرح ہو جس کی علم کو ضرورت ہوتی ہے اور وہ علم کو مزین کرے اور اسے عیب دار ہونے سے بچائے۔“
-
یاد رکھو! اگر تم لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش نہ آئے تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اگرچہ تمہارے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔
-
جب تم لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو گے تو وہ تمہارے ماں باپ کی طرح ہو جائیں گے اگرچہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی رشتہ ناطہ نہ ہو۔
(حضرت سیّد نا یوسف بن خالد بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:) ”پھر حضرت سیّد نا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”کچھ دن صبر کرو یہاں تک کہ میں تمہارے لئے اپنی مصروفیات سے وقت نکالوں اور اپنی توجہ کو تمہاری طرف مبذول کر لوں اور تمہیں ایسے عمدہ کاموں کی پہچان کرا دوں جس کی وجہ سے تم دلی طور پر میرے شکر گزار رہو اور نیکی کرنے کی توفیق اللہ عزوجل ہی کی طرف سے ہے۔“ جب وعدے کی مدت پوری ہو گئی تو حضرت سیّد نا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنی مصروفیات سے وقت نکالا اور ارشاد فرمایا:
-
آج میں تمہارے سامنے ان حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا جنہیں بیان کرنے کا میں نے قصد کیا تھا گویا میں دیکھ رہا ہوں جب تم بصرہ میں داخل ہو کر ہمارے مخالفین کا رُخ کرو گے، ان پر اپنی برتری جتاؤ گے، اپنے علم کے سبب ان کے سامنے غرور و تکبر کرو گے، اُن سے ملنا جلنا، اٹھنا بیٹھنا ترک کر دو گے۔ تم ان کی مخالفت کرو گے اور وہ تمہاری مخالفت کریں گے، تم انہیں چھوڑ دو گے اور وہ تمہیں چھوڑ دیں گے، تم انہیں برا بھلا کہو گے اور وہ تمہیں کہیں گے، تم انہیں گمراہ کہو گے اور وہ تمہیں کہیں گے اور اس سے میری اور تمہاری رُسوائی ہو گی۔ پس تم اُن سے دوری اختیار کرنے اور بھاگنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔ مگر یہ درست رائے نہیں کیونکہ وہ عقل مند نہیں جو ان لوگوں سے تعلقات قائم نہ کر سکے جن کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ضروری ہو یہاں تک کہ اللہ عزوجل اس کے لئے کوئی راہ نکال دے۔
-
جب تم بصرہ میں داخل ہو گے تو لوگ تمہارے استقبال اور تمہاری زیارت کو آئیں گے، تمہارا حق پہچانیں گے تو تم ہر شخص کو اس کے مرتبے کے لحاظ سے عزت دینا، شُرفاء کی عزت اور اہلِ علم کی تعظیم و توقیر کرنا، بڑوں کا ادب و احترام اور چھوٹوں سے پیار و محبت کرنا، عام لوگوں سے تعلق قائم کرنا، فاسق وفاجر کو ذلیل ورسوا نہ کرنا، اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، سلطان کی اہانت کرنے سے بچنا، کسی کو بھی حقیر نہ سمجھنا، اپنے اخلاق و عادات میں کوتاہی نہ کرنا، کسی پر اپنا راز ظاہر نہ کرنا، بغیر آزمائے کسی کی محبت پر بھروسہ نہ کرنا، کسی ذلیل و گھٹیا شخص کی تعریف نہ کرنا اور کسی ایسی چیز سے محبت نہ کرنا جو تمہارے ظاہری حال کے خلاف ہو۔
