| عنوان: | طلبہ اپنی ذمہ داریاں سمجھیں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد ارقم رضا نوری |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
اس تمام گفتگو کے بعد میں مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات سے مخاطب ہوں۔ اے میرے عزیزو! کیا یہ بات اظہر من الشمس نہیں ہے کہ جو اس وقت حصولِ علم کی منزلیں طے کر رہے ہیں، آنے والے زمانے میں دین کے خادم وہی ہوں گے، کیا یہ امر روزِ روشن کی طرح آشکار نہیں ہے کہ جو اس دور میں طالبانِ علوم و فنون ہیں وہی اشخاص آگے جا کر علماء بنیں گے۔ ہر عاقل بلا سوچے یہی کہے گا کہ لا محالہ اب جو طلبہ ہیں وہی آئندہ علماء ہوں گے تو اے پیارو! بتاؤ کیا جو ذمہ داریاں علماء پر واجب ہیں وہ علماء بننے کے بعد ہم پر واجب نہیں ہوں گی؟ کیا ہم پر دین کی حفاظت کرنا فرض نہیں ہوگا؟ کیا دین کا ہر کام ہماری ذمہ داری نہیں ہوگا؟ ہوگا، ضرور بالضرور ہوگا۔
تو اب سوال یہ ہے کہ ہم نے آئندہ ملنے والی ذمہ داریوں کے لیے خود کو کتنا تیار کیا؟ کیا ہم نے اسلام کی حفاظت کے لیے خود کو ایک مضبوط محافظ بنایا؟ کیا ہم نے تبلیغ و اشاعت کے لیے تیاری کی؟ کیا ہم نے مستقبل میں اسلام کا کام کرنے کا ذہن بنایا؟ کیا واقعی ہم اسلام کی حفاظت کر سکیں گے؟ کیا واقعی ہم اسلاف سے ملی وراثت کو آنے والی نسلوں میں منتقل کر سکیں گے؟ یہ سب ہم کیسے کریں گے؟ حالانکہ ہمیں تو دورانِ طالب علمی محنت نہیں کرنی ہے، ہمیں تو لہو و لعب پر زیادہ اور پڑھائی پر کم توجہ دینی ہے، ہمیں تو پڑھنے کے لیے مختلف بہانے تلاش کرنے ہیں، ہمیں تو دورِ طالب علمی لاپرواہی میں گزارنا ہے، ہمیں تو بس فارملٹی ادا کرنی ہے۔ ہمیں تو بس گھر والوں کو دکھا دینا ہے کہ ہم پڑھ رہے ہیں، ہمیں تو امتحان کے ایام میں چند دن رٹا مار کر اساتذہ کو یہ باور کرانا ہے کہ ہم پاس ہو گئے، خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں محنت سے پڑھنے کے سوا سب کرنا ہے۔ تو بتائیں! ہم تمام کوتاہیوں کے ہوتے ہوئے اچھے عالم کیسے بن سکتے ہیں، ان آرام پرستیوں کے باوجود صلاحیت کیسے پیدا کر سکتے ہیں، ان مستیوں اور لہو و لعب کے میدانوں میں رہ کر علمی دنیا کے شہسوار کیسے بن سکتے ہیں۔ اگر ہمارے یہی احوال رہے تو ہم بلاشک و شبہ جید عالم نہ بن سکیں گے اور دین کی حفاظت کی جو ذمہ داریاں ملی ہیں اسے ادا نہ کر پائیں گے، پھر ہم کتاب و سنت میں مذکورہ وعیدوں کے مستحق اور گرفتارِ عذاب ہوں گے اور آنے والی نسلیں ہمیں ایسے بھلا دیں گی جیسے انسان اپنے ایامِ رضاعت کو بھول جاتا ہے۔
اس لیے ہمیں بیدار ہونا ہوگا، ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور اپنے علماء سے صحیح طور سے علم حاصل کرنا ہوگا تاکہ ہم عالم بن کر دینِ متین کی کماحقہ خدمت کر سکیں اور اس علم کو آنے والی نسلوں میں منتقل کر سکیں۔ اس کے لیے ہمیں خود کو ابھی سے تیار کرنا ہوگا۔ راقم الحروف سمجھتا ہے کہ مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کر کے طلبہ کامیاب ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھا سکتے ہیں:
-
خوب محنت سے پڑھائی کریں۔
-
تعلیم و کتب سے عشق جیسا شوق رکھیں۔
-
بنا کسی بڑی مجبوری کے درسگاہ سے غیر حاضر نہ ہوں۔
-
جو پڑھیں سمجھ کر پڑھیں، جہاں اشکال ہو فوراً اساتذۂ کرام کی جانب رجوع کریں۔
-
درسگاہ میں پڑھنے کے بعد خارجی اوقات میں پڑھانے کی مشق کریں۔
-
اساتذہ کے سامنے مسائل کی تحقیق کریں تاکہ اصلاح حاصل ہو اور مسائل کی تحقیق کرنا سیکھ جائیں۔
-
اپنے ذوق کو پہچانیں اور جس علم سے زیادہ دلچسپی ہو اس میں خوب مہارت حاصل کریں۔
-
اکابر علمائے کرام کے طریقۂ کار کو دیکھیں کہ وہ کیسے دین کی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان طریقوں کو اپنانے کی کوشش کریں۔
-
جو پڑھیں اس پر عمل بھی کریں۔
-
دورِ طالب علمی سے ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عادی بنیں۔
-
خارجی مطالعہ کثرت سے کریں۔
-
موبائل کا بے ضرورت استعمال نہ کریں۔
-
وقت کی حفاظت کریں، اپنا ایک لمحہ بھی لغویات میں ضائع نہ ہونے دیں۔
-
علمائے کرام کی کیا ذمہ داریاں ہیں، ان کو پورا کرنے والوں کے کیا انعامات ہیں، ان سے اعراض کرنے والوں کے لیے کیا کیا وعیدیں ہیں، ان سب پر نظر رکھیں، اور ذمہ داری کا احساس کریں۔
-
خود کو مستقبل کا ایک عالم اور دین کا محافظ جانیں اور دین کی خدمت اپنا فرضِ اولیں جانیں۔
مذکورہ بالا 15 ہدایات پر طلبہ عمل کریں تو بہترین عالم بن سکتے ہیں اور مستقبل میں دینِ متین کی کماحقہ خدمت کر سکتے ہیں۔ اے عزیزو! جب ہمیں عالم بننا ہی ہے، تو ہم کیوں نہ اس کا حق ادا کریں اور اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور دین کے حامی و ناصر بن جائیں۔ اللہ کریم ہم کو ہماری ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور مستقبل میں ہم کو دینِ اسلام و مذہبِ اہل سنت کا سچا سپاہی بنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔ [حوالہ: سہ ماہی الکلم (شمارہ 2)، 12 جمادی الاولیٰ 1444ھ مطابق 7 دسمبر 2022ء]
