| عنوان: | کشنی کا ایک روح پرور سفر |
|---|---|
| تحریر: | عبد المغنی قادری کاملی مصباحی |
بزرگان دین کے مزارات پر اکتساب فیض کی خاطر حاضری دینا خود بزرگان دین کا طریقہ بھی رہا ہے اور وصیت بھی۔ اسی پر عمل کرتے ہوئے 16 محرم الحرام 1448ھ مطابق 2 جولائی 2026ء بروز جمعرات ہم لوگ الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی سے بذریعہ کار سلسلۂ نقشبندیہ کے ایک عظیم بزرگ حضرت گلزار شاہ کشنوی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ اقدس میں حاضری کے لیے سہ پہر ساڑھے تین بجے روانہ ہوئے۔ اور حضرت کے آستانے پر حاضری دی، بچپن ہی سے حضرت کے جذب قوی کے بارے میں سنتے آئے ہیں، دراصل حضرت کا تعارف ہمارے یہاں حضور غوث الوقت چراغ ربانی مولانا شاہ محمد کامل نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کے توسل سے ہوا، قیام جونپور کے دوران جہاں سرکار “چراغ ربانی” کو بہت سارے بزرگوں سے فیض خاص ملا وہیں آپ سے بھی بصورت خلافت فیض پہنچا، اس واقعہ کو سرکار چراغ ربانی اپنی مثنوی “منیر اعظم” میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
بہ شہر جون پور کردم قیام
بہ شہرے مرا شہرہا شد تمام
(شہر جونپور میں کئی مہینوں تک میرا قیام رہا)
کلاں مسجد جامع جون پور
شد از مقدمِ شاہ گل زار نور
(اسی دوران حضرت گلزار شاہ، جونپور کی بڑی جامع مسجد میں رونق افروز ہوئے)
و رفتم دراں مسجد بے نظیر
کہ بود اندراں شاہ و مردم کثیر
(جب میں اس مسجد بے مثل میں گیا تو حضرت کے ساتھ لوگوں کا بڑا مجمع تھا)
مؤدب نشستم دراں بزم گاہ
نظر سوے من کرد و فرمود شاہ
(میں (نسبت جامعہ علیمیہ ہمراہ لے کر) آپ کے روبرو ادب سے بیٹھ گیا، حضرت نے میری طرف نظر کی اور فرمایا)
ہمی بینم از روے دیدِ درست
کہ پیر کبیر تو ہم راہ تُست
(میں نگاہ باطن سے دیکھتا ہوں کہ آپ کے ساتھ آپ کا بڑا پیر بھی ہے)
ہمی خواہم از حب تو ہم چناں
کہ من نیز باتو بمانم بجاں
(آپ کی محبت کی وجہ سے چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ رہوں)
بہ گفت و بہ استاد و آمد بہ پیش
کشید از سر پاک دستار خویش
(یہ کہہ کر اٹھے اور پاس آکر سر پاک سے دستار شریف اتاری)
بدست کرم بر سر من بہ بست
مرا خرقۂ خویش داد و نشست
(کرم کے ہاتھ سے میرے سر پر باندھ دی اور خرقہ و تبرکات سے خاکسار کو آراستہ کیا اور بیٹھ گئے)
بمن گفت از روے لطف و کرم
کز امروز من نیز باتو شدم
(پھر لطف و کرم سے فرمایا کہ آج سے میں بھی آپ کے ساتھ ہوا)
اور پھر جو فیضان جاری فرمایا اس کا کیا کہنا۔ سرکار چراغ ربانی فرماتے ہیں: “زبان بیان کرنے سے اور قلم لکھنے سے عاجز ہے۔” مختصر اور جامع کلمات میں آپ نے یہ فرمایا کہ “نام تو گلزار ہے مگر سینے میں دہکتی ہوئی آگ کی بھٹی رکھتے ہیں مگر وہ آگ (دنیا کی ظاہری آگ نہیں بلکہ) اس نور ربانی کی تجلی کا پرتو ہے جو (کبھی) کوہ طور پر جلوہ فگن ہوا تھا۔”
پھر آگے چل کر فرماتے ہیں:
شود در دل تو تمناے آں
کہ گیری زگرمی گل زار خاں
بہ ملک اودھ نزد جگدیش پور
بود قریۂ روشن و پر سرور
بس آں قریۂ پاک نامی بود
کہ مشہور از نام کِشنی بود
(اگر تیرے دل میں خواہش ہو کہ گل زار شاہ کی (روحانیت کی) گرمی حاصل کرے، تو جا اس بستی میں جو قریب ہے جگدیش پور کے اور مشہور ہے کِشنی کے نام سے) [مثنوی منیر اعظم فارسی، ص: 64، 65، 66، ملتقطاً، اشاعت چہارم: 1437ھ/ 2016ء]
اس کے علاوہ مکتوبات چراغ ربانی کے مکتوب ششم میں بھی آپ کا ذکر خیر فرمایا ہے، اور مزید اپنی مشہور کتاب پنجۂ نور میں کچھ اس طرح یاد فرماتے ہیں: مناجات بدرگاہ قاضی الحاجات
اے خداے کار ساز مصطفی
کار ساز انبیا و اولیا
اپنے تو جذب قوی کے واسطے
قوت جذب نبی کے واسطے
واسطےجذب دل غوث عظیم
بہر جذب سید عبد العليم
بہر جذب قوتِ گلزار شاہ
سلب کر کے سب مرے جرم و گناہ
کر کے پھر توحید میں کامل مجھے
کر دے اپنی ذات میں واصل مجھے
[پنجۂ نور ص: 58 سنہ اشاعت 2015]
جگدیش پور سے کِشنی کی دوری تقریباً 17 یا 18 کلومیٹر ہے، یہ وہاں سے اتر جانب واقع ہے، پہلے یہ بستی ضلع سلطان پور، یوپی میں آتی تھی اور اب نئی ضلعی حد بندی میں یہ قصبہ ضلع امیٹھی میں آتا ہے، اس سے 10 کلومیٹر کے فاصلہ پر جانب مغرب شُکُل بازار (Shukul Bazar) واقع ہے، شُکُل بازار سے ایک سڑک پورب کی طرف رانی گنج جاتی ہے، اس کے درمیان میں زینب گنج نام کا ایک بازار ہے، زینب گنج بازار سے قصبہ کِشنی جانب شمال ساڑھے تین کلومیٹر کی دوری پر دریائے گومتی کے کنارے آباد ہے۔ اسی قصبے میں حضرت گل زار شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا آستانہ مرجع خلائق ہے، جو اس بستی کے بالکل آخر میں لب دریائے گومتی مسجد سے متصل واقع ہے۔
مختصر حالات
حضرت گل زار شاہ رحمۃ اللہ علیہ گروہ اولیاء میں ایک عظیم ہستی کا نام ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب قیصر روم یوسف خان سے ملتا ہے۔ حضرت 12 سال کی ننھی سی عمر ہی میں دنیوی لہو لعب سے دور ہوکر یاد الٰہی میں مصروف ہوکر اپنی بلندی درجات کا چراغ روشن و منور کر لیا تھا اور تربیت سلوک اور کسب فیض کے لیے اس دور کے مشہور صاحبِ کشف و کرامت بزرگ حضرت مولانا ابو الحسن نصیر آبادی کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو گئے جو نصیر آباد (ضلع رائے بریلی) اور اس کے گردو نواح میں تبلیغ و ارشاد کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ حضرت گل زار شاہ نے آپ کی غلامی اور خدمت میں رہنے کا ارادہ ظاہر کیا، اور مسلسل بارہ برس تک آپ کی غلامی میں رہ کر سلوک و تصوف کی منزلیں طے کیں۔ پھر حضرت ابو الحسن نصیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو بیعت کیا اور اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔
اس کے بعد حضرت نے اپنے آبائی وطن کِشنی کا رخ فرمایا، جس جگہ آج حضرت گل زار شاہ کی مسجد ہے وہاں پہلے حضرت کی کٹیا تھی جس میں آپ عبادت خداوندی اور ذکر و فکر میں مشغول رہا کرتے تھے۔
مسجد کی تعمیر کے بارے میں روایت ہے کہ حاکم اودھ نواب واجد علی شاہ کا لڑکا شدید بیمار تھا، ہزار علاج و معالجہ کے باوجود شفا حاصل نہ ہوئی تو نواب نے حضرت کی بارگاہ میں دعا کی درخواست لے کر قاصد بھیجا جب وہ قاصد آیا تو حضرت اپنے چھپر کے مکان میں عبادت میں مصروف تھے، قاصد کو دیکھتے ہی فرمایا: “شہزادہ تو ٹھیک ہے، واپس جاؤ۔” قاصد فوراً واپس ہوگیا اور وہاں جا کر دیکھا تو شہزادہ بالکل ٹھیک تھا۔ اس بات سے نواب واجد علی شاہ نے خوش ہوکر دوبارہ قاصد کو مع نذر و نیاز آپ کی خدمت میں بھیجا۔ حضرت نے لینے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا: “فقیر کو اس کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے، فقیر تارک الدنیا ہے البتہ اس کی ضرورت تو تمہیں اور نواب کو ہے۔” بڑے اصرار کے بعد قاصد نے کہا: “حضور کوئی حکم ہی صادر فرما دیں تو آپ نے فرمایا: “جاؤ اللہ کے گھر کی تعمیر کرو اور ایک مسجد بناؤ۔” حضرت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دو مسجدوں کی تعمیر شروع کی گئی۔ ایک تو جہاں چھپر کے مکان میں حضرت کا قیام تھا ٹھیک اسی جگہ مسجد بنائی گئی جو حضرت گلزار شاہ کی مسجد کے نام سے مشہور ہے اور دوسری مسجد قصبہ حیدر گڑھ ضلع بارہ بنکی میں بنوائی جو ظاہراً حضرت گل زار شاہ کی مسجد سے ملتی جلتی ہے۔
حضرت گل زار شاہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے ایسے پیشوا تھے کہ علمائے ذوی الاحترام و صوفیائے کرام آپ کی خدمت بابرکت میں بصد ادب و احترام حاضر ہوکر اکتساب فیوض و برکات کرتے، جن سعادت مندوں کو آپ نے اپنی خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا وہ اس دور کی مقتدر ہستیاں تھیں جن میں مشہور نام غوث الوقت چراغ ربانی مولانا محمد کامل نعمانی، حضرت مولانا عبد السبحان مچھلی شہری اور حضرت شیخ عبد اللہ شاہ کِشنوی کا ہے اس کے علاوہ حضرت حاجی وارث علی شاہ سے ملاقات کا واقعہ بھی ملتا ہے۔ [مشایخ نقشبندیہ۔ از حضرت مولانا نفیس احمد مصباحی، ص: 735 تا ص: 737 ملخصاً۔ ناشر کتب خانہ مینائیہ، لکھنؤ]
آپ کا نام سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ معصومیہ کے بڑے بزرگوں میں آتا ہے بحمد اللہ میں نے جیسا سنا اور پڑھا تھا ویسا ہی پایا، آپ کا وصال 17 محرم الحرام 1270ھ کو ہوا۔ اسی تاریخ کو کشنی میں حضرت کا عرس مقدس بھی ہوتا ہے۔ اتفاق یہ کہ ہم لوگ جس دن حاضر بارگاہ ہوئے اس کے دوسرے دن حضرت کا عرس تھا، تعلیمی مصروفیات کی بنا پر عرس کی تقریبات میں شرکت تو نہیں ہو سکی، لیکن چوں کہ حاضری بعد نمازِ مغرب ہوئی تو قمری اعتبار سے 17 محرم کی تاریخ شروع ہوچکی تھی۔ اس لحاظ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سال کی عرس کی تاریخ ہی میں ہم لوگ حاضر بارگاہ ہوئے اور بعید نہیں کہ تقریب عرس کا سب سے پہلا روحانی فیض ہم لوگوں کے حصے میں آیا ہو۔ وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔
ایک اچھے اور کامیاب سفر کا دار و مدار اچھے رفقاء کی معیت پر ہوتا ہے اور میرا یہ سفر ایسوں کے ساتھ تھا جن کے ساتھ رہنے سے انسانی زندگیاں سنور جاتی ہیں، تو یہ سفر کیا چیز ہے۔ جو شخص بہ یک وقت عالم، فاضل، مفتی، محدث، ادیب، مصنف گر ہونے کے ساتھ ساتھ متقی، پرہیزگار، استاذ، مفکر، مدبر اور امت مسلمہ کا درد رکھنے والا ہو، دنیا جسے اس کے دینی و علمی کارناموں سے جانتی ہو، مجھ جیسا ناکارہ اس کی تعریف کیا کرے۔ میری مراد استاذ گرامی ادیب شہیر حضرت علامہ مولانا مفتی نفیس احمد مصباحی مد ظلہ شیخ الادب الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی ذات پاک ہے حضرت کے توسل سے ہی یہ سفر ہوا اور میں آسانی کے ساتھ اتنی بڑی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل کر سکا، حضرت کے علاوہ اور بھی کچھ لوگ تھے جن میں نمایاں نام حضرت کے صاحب زادے مفتی محمد رئیس اختر مصباحی زید مجدہ استاذ جامعہ عربیہ سلطان پور کا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے، ہمیں اپنی معرفت عطا فرما کر دارین کی سرفرازیوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔ بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
