| عنوان: | سید الموذنین حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
بیت المقدس میں اذان
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جب بیت المقدس فتح ہوا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیت المقدس آنے کی دعوت دی۔ آپ جس وقت بیت المقدس پہنچے تو مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: “اے ہمارے سردار بلال! آج اسلام کے قبلہ اول پر توحید کا پرچم لہرا دیا گیا ہے، اس باعظمت موقع پر آپ اذان دیں۔”
مدارج النبوت میں منقول ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس فرمائش پر عرض کیا کہ امیر المؤمنین میں عہد کر چکا تھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کبھی اذان نہ دوں گا مگر آج آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اذان دوں گا۔ اس کے بعد آپ بیت المقدس کی چھت پر اذان دینے کے لیے چڑھ گئے۔
حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت میں بیت المقدس کی چھت پر اذان دینے کے لیے چڑھا تو میری آنکھوں کے سامنے ماضی کے مناظر اُبھر آئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی ملاقات، مسجد نبوی میں پہلی مرتبہ اذان اور پھر فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ کی چھت پر اذان، یہ سب مناظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ پھر جس وقت میری زبان سے اَللّٰهُ اَکْبَرُ اَللّٰهُ اَکْبَرُ کی صدا بلند ہوئی، میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور جس وقت میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دی اُس وقت مجھ پر بے پناہ رقت طاری ہو گئی۔ اُس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابئ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ سب کے سب روتے روتے نڈھال ہو گئے۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنا روئے کہ اُن کی ہچکی بندھ گئی۔ میں نے انہیں آخری مرتبہ اس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر روتے دیکھا تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حال بھی نہایت برا تھا۔ حضرت معاذ بن جبل کا حسین چہرہ جو صرف مسکرانے کے لیے ہی بنا تھا، وہ بھی زار و قطار رو رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ جب میں نے اذان ختم کی تو اس کے بعد کہیں جا کر سب کے دلوں کو قرار آیا۔
ملک شام کو روانگی
حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی کہ انہیں ملک شام میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو ملک شام میں رہنے کی اجازت دے دی۔ ملک شام جا کر آپ نے شہر دمشق میں رہائش اختیار کی جہاں پر آپ تادم وصال موجود رہے۔ 20 محرم الحرام سن 20 ہجری میں آپ کا وصال ہوا۔
دربار نبی سے بلاوا
جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملک شام چلے گئے تو ایک رات حضرت بلال کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: “اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟”
خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لَبَّيْكَ! يَا سَيِّدِيْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجد نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالم وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا: “یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہے۔” یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزار پرانوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔
اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذن رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟”
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: “اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ ہمارے نانا جان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔”
اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کی گنجائش نہ رہی، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتب سیر میں یوں بیان ہوا ہے:
جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اَللّٰهُ اَکْبَرُ اَللّٰهُ اَکْبَرُ سے اذان کا آغاز فرمایا تو مدینہ طیبہ میں لوگ بے تاب ہو گئے، جب اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے کلمات کہے تو لوگوں کی بے چینی اِس قدر بڑھ گئی کہ ہر طرف رونا دھونا شروع ہو گیا، پھر جب اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ پر پہنچے تو لوگ اپنے آپ سے اجنبی ہو گئے، ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: “کیا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم مزار پرانوار سے باہر تشریف لے آئے ہیں؟”
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد اہلِ مدینہ میں کبھی اتنی زیادہ آہ و زاری نہ ہوئی تھی جتنی اس دن دیکھنے میں آئی۔ [سیر اعلام النبلاء، ابن عساکر، رقم: 493، فتاوی رضویہ، ج: 10، ص: 720، ملخصاً]
