| عنوان: | زندگی حرکت کا نام ہے |
|---|---|
| تحریر: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
اللہ جل و علا کی تخلیق کردہ کائنات کا نظام “حرکت” پر ہی قائم ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ پکار پکار کر یہی کہہ رہا ہے کہ کسی بھی وجود کی اصل اور اس کے بقا کا راز حرکت میں ہی مضمر ہے۔ اس کا مسلسل عمل، حرکت اور پیہم سفر کرنا ہی نئی اور جدید منازل سے آشنائی کا وسیلہ بنتا ہے۔ جس وجود نے جمود اور سکون اختیار کر لیا تو گویا کہ اس نے اپنی اصل شناخت کھو دی اور اس کا جمود اختیار کرنا بے شک و لا ریب موت کے مترادف ہے۔
کائنات کا ہر ذرہ محو سفر ہے؛ چاند، سورج، سیارے، سب اپنی اپنی حدود میں محو سفر ہیں۔ دن آتا اور رات جاتی ہے، ہوائیں چلتی ہیں، دریا، سمندر، چشمے، جھرنے، سب اپنی اپنی لہروں کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے بیج میں سے تناور درخت نکلتا ہے، اگر کائنات کی یہ تمام اشیاء جمود اختیار کر لیں تو کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔ گویا کہ قدرت ہمیں سکھا رہی ہے کہ کائنات میں بقا صرف اسی وقت ممکن ہے جب عمل اور حرکت کا تسلسل برقرار رہے، اسی حرکت اور عملِ پیہم کی انسانی زندگی بھی متقاضی ہے۔
جب ہم تاریخ کے اوراق پر نظر کرتے ہیں تو یہ بات ہم پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جو قومیں متحرک الافعال رہیں، تو انہوں نے مسلسل جدوجہد اور محنت سے لازوال کامیابیاں حاصل کیں اور اپنی خود ایک تاریخ بنا دی جسے تا قیامت آنے والی نسلوں کے سینوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اور جس قوم نے سستی، کاہلی اور جمود کو اختیار کیا، وہ زمانے اور وقت کی برق رفتاری میں کھو گئیں اور دنیا سے ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔
متحرک زندگی گزارنے کے فوائد
جب انسان متحرک الافعال ہوتا ہے تو وہ زندگی میں آنے والی تمام تر مصائب اور مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کرتا ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، ناکامی ہاتھ آنے کے بعد بھی مسلسل محنت اور جدوجہد سے فلاح و ظفر کی راہیں ہموار کرتا ہے اور قدم بقدم اپنی منزل کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔
غیر متحرک زندگی گزارنے کے نقصانات
جن لوگوں نے جمود، سستی، کاہلی اور ماندگی اختیار کی اور زندگی میں آنے والے چیلنجوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ گئے، تو فلاح و بہبودی نے بھی ان سے اپنا رخ پھیر لیا اور وہ زمانے سے پیچھے کہیں بہت دور تنہا کھڑے رہ گئے۔
ہر ذی شعور کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کامیابی انہی لوگوں کی قدم بوسی کرتی ہے جو لوگ جمود کے حصار کو توڑ کر مسلسل عمل اور حرکت کا لبادہ اوڑھتے ہیں اور اپنی منزل کی پرخار راہوں کو اپنی انتھک محنت و مشقت سے گلزار بناتے ہیں، بے شک و لا ریب زندگی نام ہے حرکت کا، مسلسل عمل کا اور محنت و ارتقا کا۔
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
