Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی فقہی خدمات|غلام علی عطاری

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی فقہی خدمات
عنوان: حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی فقہی خدمات
تحریر: غلام علی عطاری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی عطا کردہ شریعت کی تعلیم دی۔ جب حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلۂ نبوت کا اختتام فرمایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے وارثانِ انبیا کو تبلیغِ اسلام اور تعلیمِ شریعت کا عظیم شرف عطا فرمایا۔ بلاشبہ علمائے کرام نے نہایت شاندار انداز میں امت کی رہنمائی فرمائی اور انہیں مسائل و احکامِ شریعت سے آگاہ کیا۔

علمائے حق اور فقہائے اسلام کی شان ہی نرالی ہوتی ہے۔ انہی کی بدولت مسلمان گمراہی اور شریعتِ مطہرہ سے انحراف سے محفوظ رہتا ہے۔ یہاں جس عظیم علمی و فقہی شخصیت کی خدمات کا تذکرہ مقصود ہے، وہ خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے چشم و چراغ، جانشینِ حضور مفتیِ اعظمِ ہند، قاضی القضاۃ فی الہند، حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان ازہری رحمہ اللہ کی ذاتِ گرامی ہے۔ آپ کی شانِ رفیع اور خدماتِ جلیلہ بے شمار ہیں، جن میں سے چند جھلکیاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جا رہی ہے۔

حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کثیر علوم و فنون کے جامع تھے، لیکن تفقہ فی الدین آپ کا امتیازی وصف تھا۔ امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالے “إِبَانَةُ الْمُتَوَارِي فِي مُصَالَحَةِ عَبْدِ الْبَارِي” میں فقیہ کی جو تعریف بیان فرمائی ہے، حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ اس کا کامل مصداق نظر آتے ہیں۔

فقہ و افتا سے اپنی خصوصی دلچسپی کے بارے میں آپ خود ارشاد فرماتے ہیں:

“میں بچپن ہی سے حضرت مفتیِ اعظمِ ہند سے داخلِ سلسلہ ہو گیا تھا۔ جامعہ ازہر سے واپسی کے بعد میں نے ذوق و شوق کی بنا پر فتویٰ نویسی کا کام شروع کیا۔ ابتدا میں مفتی سید افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر مفتیانِ کرام کی نگرانی میں یہ خدمت انجام دیتا رہا اور کبھی کبھی حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر فتویٰ دکھایا کرتا تھا۔ کچھ دنوں بعد اس کام میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی اور پھر مستقل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔ حضرت کی توجہ سے مختصر مدت میں اس کام میں مجھے وہ فیض حاصل ہوا جو کسی کے پاس مدتوں بیٹھنے سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔” [حضور تاج الشریعہ: حیات و خدمات، فتاویٰ تاج الشریعہ، ص: 37]

حضور مفتیِ اعظمِ ہند رحمۃ اللہ علیہ، تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے بے حد محبت فرماتے تھے اور ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

“میں دارالافتا تمہارے سپرد کرتا ہوں۔”

फिर حاضرین سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:

“آپ لوگ اب اختر میاں سلمہ سے رجوع کریں، انہیں ہی میرا قائم مقام اور جانشین جانیں۔” [حیاتِ تاج الشریعہ، ص: 14-15]

اس ارشاد کے بعد لوگوں کا رجحان آپ کی جانب مزید بڑھ گیا اور آپ کی علمی و افتائی مصروفیات میں بھی اضافہ ہو گیا۔

جب حضور مفتیِ اعظمِ ہند رحمۃ اللہ علیہ وصال فرما گئے تو حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ مرجعِ فتاویٰ بن گئے۔ آپ کے فتاویٰ کو عالمِ اسلام میں سند اور مرجعیت کا مقام حاصل ہے۔ آپ ان جلیل القدر مفتیانِ کرام میں سے تھے جو عربی، اردو اور انگریزی تینوں زبانوں میں فتاویٰ تحریر فرمایا کرتے تھے۔ ان زبانوں پر آپ کو غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ آپ کے بعض انگریزی فتاویٰ “ازہر الفتاویٰ” کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ فارسی اور ہندی زبان میں بھی فتاویٰ تحریر فرمایا کرتے تھے۔

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اپنی نگرانی میں “سنی دنیا” کے نام سے ایک معیاری ماہنامہ جاری فرمایا۔ اس میں “باب الاستفتاء” کے عنوان سے ایک مستقل کالم شامل تھا، جو چار یا پانچ صفحات پر مشتمل رہتا تھا۔ آپ کی بارگاہ میں ملک و بیرونِ ملک سے کثیر تعداد میں استفتاءات موصول ہوتے تھے۔ ان کے جوابات کے لیے آپ نے مرکزی دارالافتا میں متعدد مفتیانِ کرام کو تیار کر رکھا تھا۔ یہ حضرات جوابات تحریر کرتے اور حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ان کی مراجعت و تصدیق فرمایا کرتے تھے۔

آپ کا معمول تھا کہ ہر جمعرات کو “ازہری گیسٹ ہاؤس” کے ہال میں مغرب یا عشاء کے بعد تشریف فرما ہو کر دور دراز سے آنے والے سائلین کے سوالات کے زبانی جوابات ارشاد فرماتے۔ جمعہ کے دن بھی بریلی شریف کی مختلف مساجد میں مغرب یا عشاء کے بعد سوال و جواب کی نشست منعقد فرمایا کرتے تھے۔ مزید برآں، آپ ہر اتوار کی رات 9 بجے سے 10:30 بجے تک انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر سے موصول ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ [حضور تاج الشریعہ: حیات و خدمات، فتاویٰ تاج الشریعہ، ص: 37]

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ایک عظیم عالمِ دین، ماہرِ شریعت اور جلیل القدر مفتیِ اسلام تھے۔ آپ کی پوری زندگی دینِ متین اور مسلکِ اہلِ سنت کی خدمت میں گزری۔ آپ کے تبحرِ علمی اور گہرے فقہی شعور کا مشاہدہ کرنا ہو تو “الْمَوَاهِبُ الرَّضَوِيَّةُ فِي الْفَتَاوَى الْأَزْهَرِيَّةِ” المعروف فتاویٰ تاج الشریعہ کا مطالعہ بہترین ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فقیہ النفس، مرجع العلماء، حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و فقہی فیوض سے حصہ عطا فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!