| عنوان: | زندگی حرکت کا نام ہے |
|---|---|
| تحریر: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
حَامِداً لِلّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ سُبْحَانَهُ وَتَعَالٰی وَمُصَلِّياً وَمُسَلِّماً عَلٰی رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
مراقبہ کی لغوی تعریف
عربی لغت میں مراقبہ کا لفظ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جس کا لغوی معنی نگرانی کرنا، نظر رکھنا، دیکھ بھال کرنے کے ہیں۔
مراقبہ ایک ایسی عقلی تادیب کا نام ہے جس میں کوئی شخصیت ماحول کے روابطِ حیات سے ماوراء ہو کر افکارِ عمیق کی حالت میں چلی جائے اور فکرِ دنیا سے الگ ہو کر سکون و فہم جستجو کرے۔ یعنی یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فکرِ آلودہ سے دور ہو کر فکرِ خالص کا حصول مراقبہ کہلاتا ہے۔
مراقبہ کی اصطلاحی تعریف
امام جرجانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اِسْتِدَامَةُ عِلْمِ الْعَبْدِ بِاطِّلَاعِ الرَّبِّ عَلَيْهِ فِي جَمِيعِ أَحْوَالِهِ [معجم التعريفات، ص: 176]
بندے کو ہمہ وقت اس بات کا علم ہو کہ پروردگار اس کے تمام احوال سے باخبر اور مطلع ہے۔
یعنی اللہ عزوجل کا لحاظ کرنا اور اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہونا ہے اور جب بندے کو اس بات کا علم ہو جائے کہ اللہ عزوجل دیکھ رہا ہے، اللہ عزوجل کی باتوں پر مطلع ہے، پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، بندوں کے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور ہر جان کے عمل سے واقف ہے، اس پر دل کا راز اس طرح عیاں ہے جیسے مخلوق کے لیے جسم کا ظاہری حصہ عیاں ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ عیاں ہے، جب اس طرح کی معرفت حاصل ہو جائے اور شک یقین میں بدل جائے تو اس سے پیدا ہونے والی کیفیت کو مراقبہ کہتے ہیں۔
نفس کو مراقبہ یعنی اعمال میں غور و فکر کی جانب متوجہ کرے اور اس پر گہری اور سخت نظر رکھتے ہوئے خوب حفاظت کرے کیونکہ نفس کو کھلی چھوٹ ملنے سے اس کے لیے گناہ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور نفس کو گناہوں کی لت پڑ جاتی ہے پھر گناہوں سے بچنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ بگڑ کر سرکش ہو جاتا ہے اور یہ چیز ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔ لہٰذا نفس کو خبردار کرتے رہنا چاہیے۔
مراقبہ کی فضیلت
مراقبہ کا ثبوت حدیث شریف سے:
حضرت سیدنا جبرائیل امین علیہ السلام نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے احسان کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ
یعنی تم اللہ عزوجل کی عبادت اس طرح کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو۔
ایک روایت میں یوں ہے:
اُعْبُدِ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ
یعنی اللہ عزوجل کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم سے یہ نہ ہو سکے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو بے شک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ “اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے” یہ حالت مراقبہ کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ مراقبہ بندہ کے اس بات کو جاننے کا نام ہے کہ رب سبحانہ و تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس علم کا دوام اپنے رب کے لیے مراقبہ ہے اور یہ ہر نیکی کی اصل ہے اور اس مرتبہ تک اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب محاسبہ سے فارغ ہو جائے۔ جب محاسبہ کر چکے تو موجودہ وقت میں اپنی اصلاح کرے، حق کے راستے کو لازم پکڑے اور اپنے اور اللہ کے درمیان دل کے معاملے کو اچھا کرے اور اللہ کے احکام کے ساتھ اپنی سانسوں کو محفوظ رکھے اور اپنے عام حالات میں اللہ کو دیکھتا رہے۔ اور یہ بات جان لے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے دل کے قریب ہے، اس کے احوال کو جانتا ہے، اس کے افعال کو دیکھتا اور اس کے اقوال کو سنتا ہے۔ جو شخص ان باتوں سے غافل ہوا وہ وصلِ الٰہی کی ابتدا سے ہی کنارہ کش ہے۔ وہ قربت کے حقائق کو کیسے پا سکتا ہے۔
مراقبہ کے متعلق بزرگانِ دین کے چند اقوال ملاحظہ فرمائیں:
-
حضرت جریری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے اور اللہ کے درمیان تقویٰ اور مراقبہ کو مضبوط نہیں کرتا وہ کشف اور مشاہدہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
-
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مراقبہ کی علامت یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کو ترجیح دے جن کو اللہ نے ترجیح دی ہے اور ان چیزوں کی تعظیم کرے جن کو اللہ نے قابل تعظیم قرار دیا اور ان کو حقیر جانے جو اللہ کے یہاں حقیر ہیں۔
-
حضرت نصر اباذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امید تجھے اطاعت کی ترغیب دیتی ہے اور خوف تمہیں گناہوں سے دور رکھتا ہے اور مراقبہ تمہیں حقائق کی راہ تک پہنچاتا ہے۔
-
حضرت ابوالعباس بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت جعفر بن نصیر رحمۃ اللہ علیہ سے مراقبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جو خیال دل میں پیدا ہوتا ہے اس کے بارے میں بندہ یہ خیال کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور اس طرح وہ دل کی حفاظت کرے تو یہ مراقبہ ہے۔
-
حضرت جریری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہمارا یہ معاملہ (تصوف) دو باتوں پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ تم اپنے نفس پر یہ بات لازم کر دو کہ وہ ہمیشہ اللہ کو پیش نظر رکھے، دوسری بات یہ کہ اس علم کا اثر تمہارے ظاہر پر بھی موجود ہو۔
-
حضرت مرتعش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مراقبہ یہ ہے کہ ہر لحظہ اور ہر لفظ کے ساتھ غیب کو دیکھتے ہوئے اپنے باطن کا خیال رکھا جائے۔
-
حضرت ابن عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ افضل عبادت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: “مُرَاقَبَةُ الْحَقِّ عَلٰی دَوَامِ الْأَوْقَاتِ” یعنی ہر وقت اللہ کو نگاہ میں رکھنا۔
-
حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: احکامِ خداوندی کا خیال رکھنے سے مراقبہ پیدا ہوتا ہے اور مراقبہ سے ظاہر و باطن میں خلوص پیدا ہوتا ہے۔
-
حضرت ابو عثمان مغربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: طریقت میں افضل ترین چیز جسے انسان اپنے اوپر لازم کرے وہ محاسبہ، مراقبہ اور اپنے علم کے مطابق عمل کرنا ہے۔ [رسالہ قشیریہ، مراقبہ کا بیان، ص: 354]
-
حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص سے فرمایا: اللہ عزوجل کو دیکھتے رہا کرو۔ اس نے عرض کی: اس کی وضاحت فرما دیجیے؟ فرمایا: ہمیشہ اس طرح رہو گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔
-
حضرت سیدنا عبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب میرا رب تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے تو مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔
افضل عمل اور بہترین عبادت
-
حضرت سیدنا ابو عثمان مغربی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: انسان راہِ سلوک میں جو چیزیں اپنے اوپر لازم کرتا ہے ان میں سب سے افضل محاسبہ نفس، مراقبہ اور علم کے ذریعے اپنے عمل کی جانچ کرنا ہے۔
-
حضرت سیدنا احمد بن حسین جریری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارا طریقت کا معاملہ دو ضابطوں پر مبنی ہے: اول اللہ عزوجل کی رضا کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ و مراقبہ کرنا اور دوم اپنے علم پر عمل پیرا ہونا۔
-
حضرت سیدنا ابو عثمان جیری رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابو حفص عمرو بن مسلمہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جب تم لوگوں کے لیے وعظ کی مجلس کا انعقاد کرو تو اپنے نفس اور دل کے لیے واعظ بن جاؤ کہ کہیں مجلس میں لوگوں کی آمد تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ لوگ تمہارے ظاہر کو دیکھتے ہیں جبکہ رب تعالیٰ تمہارے باطن کو دیکھ رہا ہے۔
-
ایک شخص نے حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: نگاہیں نیچی رکھنے پر میری کون سی بات مدد کر سکتی ہے؟ ارشاد فرمایا: یہ ذہن بناؤ کہ جس کی طرف تم نظر کر رہے ہو اس سے پہلے تمہیں ناظرِ حقیقی یعنی اللہ عزوجل دیکھ رہا ہے۔
-
حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حقیقی مراقبہ اس شخص کا ہوتا ہے جسے رب تعالیٰ کی بارگاہ سے حاصل ہونے والے حصے کے فوت ہو جانے کا خوف ہو۔ [احیاء العلوم، ج: 5، ص: 323]
