Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

غیروں کی نقالی ایک لمحہ فکریہ

غیروں کی نقالی ایک لمحہ فکریہ
عنوان: غیروں کی نقالی ایک لمحہ فکریہ
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

ہر انسان پر اللہ رب العزت کے بے شمار احسانات ہیں اور قوم مسلم پر سب سے بڑا احسان کہ اس نے ایمان کی دولت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت اجابت میں رکھا جن کی زندگی مکمل نمونۂ عمل ہے، جن کی اطاعت و فرمانبرداری کو اللہ رب العزت نے اپنی فرمانبرداری فرمایا۔ لیکن اگر ہم جائزہ لیں تو ہمارے اندر سب سے بڑی خرابی اور تباہی کا باعث یہ بات سامنے آئے گی کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر ترقی کرنا چاہتے ہیں جو کہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

ہم نے دنیاوی نام و نمود اور مشرقی تہذیب کی خاطر اپنا معیار زندگی بدل کر رکھ دیا ہے، آج ہم میں کا چھوٹا بڑا، مرد و عورت ہر کوئی نام و نمود اور غیروں کی تقلید کے بوجھ میں دبا ہوا ہے۔ جبکہ قوم مسلم کے پاس نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی کا نقش موجود ہے، صحابہ کرام و ائمہ عظام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا طرز زندگی ان کے سامنے ہے اور مقربان خدائے پاک اولیاء اللہ کی زندگی کا عملی نمونہ ان کو عمل کی دعوت دے رہا ہے لیکن قوم مسلم ہے کہ اسے غیروں کی تقلید کا طوق گلے میں ڈالنے کا ایسا شوق چڑھا ہے کہ اس طوق کے بوجھ سے نفسیاتی مرض کا شکار بھی ہو رہے ہیں لیکن پھر بھی پلٹ کر اسلامی زندگی کی طرف آنے میں انہیں شرم آ رہی ہے۔

آپ غور کریں کہ ناگہانی اموات کی شرح کس حد تک بڑھتی جا رہی ہے، نہ ختم ہونے والے حادثات کی باڑھ سی آئی ہوئی ہے لیکن قوم مسلم عبرت حاصل کرنے کو تیار نہیں ہے۔

جس قوم کو نبی اکرم کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ بنا کر اپنی دنیا اور آخرت سنوارنا چاہیے تھی آج وہ قوم غیروں کی نقل کرنے میں فخر محسوس کر رہی ہے۔ اور اس نقل کرنے میں اسے حرام و حلال کا بھی لحاظ نہیں رہا۔ خدارا اپنے اوپر رحم کھاؤ۔

آج قوم نے نمود و نمائش کا بوجھ اس قدر لاد رکھا ہے کہ اسے فرائض و واجبات کی ادائیگی کی بھی فرصت نہیں ہے اور کوئی انہیں اس طرف دعوت دے تو انہیں عدیم الفرصتی کا بہانہ بناتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ آج انسان کے پاس تقریبات میں شرکت کا وقت ہے، سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے، ریلز دیکھنے، فالتو گپ شپ کرنے کا وقت ہے، سیر و تفریح کے نام پر بے حیائی کا مظاہرہ کرنے کا تو وقت ہے، لیکن اگر اسی انسان سے نماز و اذکار، قرآن کی تلاوت، دینی مسائل کی تعلیم کو کہا جائے تو بلا جھجھک کہہ دیتا ہے کہ وقت نہیں مل پا رہا ہے بہت بزی شیڈیول چل رہا ہے۔

اب ذرا بتائیں کہ حشر کے دن آپ کا یہ جواب کام آ جائے گا کہ ہمارے پاس وقت نہیں تھا؟ نہیں ہرگز نہیں آئے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ [سورۃ الزمر: 56]

کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں ہنسی بنایا کرتا تھا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبردار کر دیا کہ اے لوگو! اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو، تم وہ کام کرو جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ پاک میں تمہیں حکم دیا ہے اور جس کام سے منع کیا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ پھر ایسا نہ ہو کہ عذاب دیکھنے کے بعد کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیں کہ اس کی فرمانبرداری نہ کر سکا اور اس کے حق کو نہ پہچانا اور اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر نہ کی اور بیشک میں تو اللہ تعالیٰ کے دین کا اور اس کی کتاب کا مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔

اب ذرا غور کریں کہ قیامت کے دن ہمارا یہ کہنا کچھ کام نہیں آئے گا کہ ہمیں فرصت نہیں ملی، بلکہ یہ صرف نفس کا دھوکہ ہے۔

حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد (والی زندگی) کے لیے تیاری کرے اور بے وقوف وہ ہے جو خود کو خواہشات کے پیچھے لگا لے اور (پھر بھی) اللہ تعالیٰ سے امید رکھے۔

اگر ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہو گی ورنہ ہمیں دنیا میں بھی خسارہ اٹھانا پڑے گا اور آخرت کی بربادی بھی ہمارا مقدر بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے اور غیروں کی نقالی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین علیہ الصلوۃ والتسلیم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!