| عنوان: | حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت کے سبب فجر کی اذان سے روکا جانا اور سورج کا طلوع نہ ہونا — ایک علمی و تحقیقی جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | عمر سفیر رضوی |
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک واقعہ عرصۂ دراز سے واعظین، مقررین اور عوام الناس میں زبان زدِ عام ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو فجر کی اذان دینے سے روک دیا گیا تو اس روز سورج طلوع نہ ہوا۔ حالیہ دنوں میں معروف یوٹیوبر وقار خان کی ایک ویڈیو میں بھی (3 منٹ 10 سیکنڈ پر) اسی من گھڑت روایت کو بیان کیا گیا ہے۔
اس مقالے میں ہم اس روایت کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیں گے اور دلائل کی روشنی میں اس کی حقیقت کو واضح کریں گے۔
روایت کی علمی حیثیت
امام ابن اثیر جزری اپنی معروف کتاب النہایہ میں لکھتے ہیں:
فِي حَدِيثِ الْأَذَانِ: “فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا” أَيْ: أَرْفَعُ وَأَعْلَى، وَقِيلَ: أَحْسَنُ وَأَعْذَبُ، وَقِيلَ: أَبْعَدُ.
حدیث اذان میں “أندی صوتا” کا معنی اونچی اور بلند آواز والا ہونا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی حسین شیریں آواز والا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہےکہ اس کا معنیٰ ہے جس کی آواز بہت دور تک جاتی ہے۔ [النہایہ فی علم الروایہ، ج: 5، ص: 37، مکتبہ بیروت]
تذکرۃ الموضوعات میں اس واقعے کے تحت لکھا ہے:
وَقَدْ تَرْجَمَ غَيْرُ وَاحِدٍ لِأَنَّهُ كَانَ نَدِيَّ الصَّوْتِ حَسَنَهُ وَفَصِيحَهُ، وَلَوْ كَانَ فِيهِ لُثْغَةٌ لَتَوَفَّرَتِ الدَّوَاعِي عَلَى نَقْلِهَا وَعَابَهَا أَهْلُ النِّفَاقِ.
کئی حضرات نے ان کی سیرت (بلال) میں یوں بیان کیا ہے: آپ بلند، خوبصورت اور فصیح الفاظ کے مالک تھے، اگر ان کی زبان میں لکنت موجود ہوتی تو اس کی کثیر نقول موجود ہوتیں، اور اس کی وجہ سے منافقین اور گمراہ لوگ ضرور ان کو عیب لگاتے۔ [تذکرۃ الموضوعات، ص: 101، مکتبہ ادارۃ الطاعۃ المنیر]
امام زرقانی فرماتے ہیں:
وَكَانَ حَسَنًا نَدِيًّا فَصِيحًا.
حضرت بلال بہترین بلند اور فصیح آواز والے تھے۔ [شرح الزرقانی، ج: 1، ص: 501، مکتبہ بیروت]
علامہ عبدالمنان اعظمی لکھتے ہیں: حضرت بلال کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم صفحہ 108 میں ہے کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر و حضر ہر دو حال میں اذان دیتے، اور یہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری زندگی تک مؤذن رہے۔ [فتاوی بحر العلوم، ج: 1، ص: 109، مکتبہ لاہور]
حضرت بلال کی زبان میں لکنت نہیں تھی، بلکہ آپ فصیح و حسین زبان کے مالک تھے، اس بات کی گواہی خود حدیث میں موجود ہے۔
چنانچہ سنن ترمذی وغیرہ کتبِ احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن زید کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ، فَإِنَّهُ أَنْدَى وَأَمَدُّ صَوْتًا مِنْكَ، فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ، وَلْيُنَادِ بِذَلِكَ.
تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، کیونکہ وہ تم سے زیادہ اونچی اور لمبی آواز والے ہیں، لہٰذا جو تم سے [خواب میں] کہا گیا ہے وہ بلال کو بتاتے رہو تاکہ وہ ان کلمات سے ندا (اذان) دیں۔ [سنن ترمذی، ج: 1، ص: 239، مکتبہ الرسالۃ العالمیہ]
وَكَانَ يُعْرَفُ بِبِلَالِ بْنِ حَمَامَةَ وَهِيَ أُمُّهُ، وَكَانَ مِنْ أَفْصَحِ النَّاسِ.
آپ بلال بن حمامہ کے نام سے مشہور تھے، وہ حمامہ آپ کی والدہ تھیں، لوگوں میں فصیح ترین تھے۔ [البدایہ والنہایہ، ج: 8، ص: 305، مطبوعہ: دار الہجر]
خلاصۃ التحقیق
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بعض مواقع پر اذان نہ دینا، خصوصاً رمضان المبارک میں، ثابت ہے کیونکہ آپ کا معمول فجر کی اذان کے بجائے تہجد کی اذان دینا تھا۔ علاوہ ازیں، قرائن و دلائل بخوبی اس امر کی نفی کرتے ہیں کہ سورج کے طلوع نہ ہونے جیسا غیر معمولی واقعہ کبھی پیش آیا ہو، کیونکہ اگر ایسا واقعہ رونما ہوتا تو اس کی شہرت ہر گوشۂ عالم میں پھیل جاتی اور اس کا ذکر کتبِ حدیث و تاریخ میں محفوظ ہوتا۔
لہٰذا تمام معتبر دلائل کی روشنی میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ روایت سراسر موضوع اور بے بنیاد ہے۔ ایسے من گھڑت اور بے سند روایات سے اجتناب کرنا ہر طالبِ حق کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ دین کی خالص تعلیمات محفوظ رہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کو پہچاننے، اس کے اظہار کی جرأت عطا فرمائے اور اس پر عمل پیرا رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
