Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسجد آپ کی تفریح گاہ نہیں|غلام علی عطاری

مسجد آپ کی تفریح گاہ نہیں
عنوان: مسجد آپ کی تفریح گاہ نہیں
تحریر: غلام علی عطاری

مسجدیں اللہ پاک کا گھر ہوتی ہیں۔ ان کی تعمیر کا واحد مقصد اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت اور ریاضت کرنا ہوتا ہے۔ رب عزوجل قرآن مجید میں مسجد آباد کرنے والوں کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَم| يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ [سورۃ التوبة: 18]

ترجمۂ کنز الایمان: اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم رکھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مسجد آباد کرتے ہیں کہ انہیں قرآن مجید میں ایمان والے کہا جا رہا ہے۔ مسجدیں بڑی ذیشان ہوتی ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ان کی عظمت و شان کا حق بھی ادا کریں۔ مگر افسوس کہ آج مسجد میں آنے والوں کی ایک بڑی تعداد مسجد کے آداب کا خیال نہیں رکھتی۔ گویا کہ مسجدیں ان کی تفریح گاہیں ہیں۔ کوئی مسجد میں بلند آواز سے باتیں کر رہا ہوتا ہے، کوئی زور سے ہنس رہا ہوتا ہے، کوئی کچھ کر رہا ہوتا ہے اور کوئی کچھ، الغرض: وہ مسجد میں بھی اسی طرح رہتے ہیں جس طرح دیگر مقامات پر رہتے ہیں۔ یہاں ان غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں میں سے کچھ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو کہ عام طور پر لوگ مسجدوں میں کرتے ہیں۔

مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا

مسجد روحانیت کا مرکز ہوتی ہے۔ مسجد میں بندہ اللہ پاک کا قرب حاصل کرتا ہے۔ جو رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو، اسے دنیا و مافیہا کی فکر نہیں ہوتی۔ مسجد کو آباد کرنے والا اللہ پاک کا زائر ہوتا ہے۔ چناں چہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے باسناد صحیح، موقوفاً روایت ہے فرماتے ہیں کہ: “جس نے گھر میں اچھی طرح وضو کیا پھر مسجد کو آیا، وہ اللہ کا زائر ہے اور جس کی زیارت کی جائے اس پر حق ہے کہ زائر کا اکرام کرے” [المعجم الکبیر، رقم الحدیث: 6139، ج: 6، ص: 253] [بہار شریعت، حصہ: 3، ص: 640]

سبحان اللہ! کیسی پیاری فضیلت ہے! اللہ پاک ہمیں بھی اس فضیلت سے سرشار فرمائے۔ آئیں اب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ فی زمانہ ہمارا کیسا طرز عمل ہے؟ ہماری اکثریت کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ مسجد میں تو آتے ہیں لیکن ان کا طرز عمل ویسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ کوئی تفریح گاہ میں آئے ہوں۔ وہ مسجد میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ ایک مسئلے کے تحت مسجد میں باتیں کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں: “افسوس کہ اس زمانے میں مسجدوں کو لوگوں نے چوپال بنا رکھا ہے، یہاں تک کہ بعضوں کو مسجدوں میں گالیاں بکتے دیکھا جاتا ہے”۔ العیاذ باللہ تعالیٰ [بہار شریعت، حصہ: 3، احکام مسجد کا بیان، تحت مسئلہ: 26]

مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا کس قدر ہلاکت کا باعث ہے اس کا اندازہ مدارک شریف میں موجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان عبرت نشان سے لگائیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح چوپایا گھاس کو کھا جاتا ہے”۔ [تفسیر نسفی، ص: 916] [فیضان نماز، ص: 237]

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیاوی باتیں تو دور، ضروری باتیں بھی مسجد میں کرنے سے پرہیز کریں کہ عین ممکن ہے ضروری باتیں کرتے کرتے فضول، دنیاوی باتوں میں پڑ جائیں۔

بعض حضرات کسی کا کال آنے پر مسجد میں ہی بات کرنا شروع کر دیتے ہیں، کسی سے کچھ کام ہو تو مسجد میں ہی دریافت کرنے لگتے ہیں، بعض خیر خیریت لینے لگتے ہیں، یہ ساری باتیں اگرچہ گناہ نہیں لیکن دنیاوی باتوں میں ضرور شمار ہوں گی جو کہ مسجد میں کرنا جائز نہیں۔

بعض لوگ جو مسجد میں باتیں کرتے ہیں ان کی وجہ سے ان کے قریب میں نماز پڑھنے والے کو نماز پڑھنے میں تکلیف ہو رہی ہوتی ہے، ان کی باتیں نمازی کو نماز میں خشوع و خضوع لانے سے روک رہی ہوتی ہیں، یہ نہایت بری بات ہے۔ نمازی کے قریب تو بلند آواز سے قرآن کریم کی تلاوت تک کرنے سے منع کیا گیا ہے، تو پھر باتیں کرنا کس طرح درست ہوگا؟

پیارے اسلامی بھائیوں! ہم پر مسجد میں دینی باتوں کے علاوہ ہر قسم کی باتوں سے بچنا لازم ہے، ورنہ ہلاکت ہمارا مقدر ہوگی۔

مسجد میں ہنسنا

قارئین! مسجد میں ہنسنا ہلاکت اور محرومی کا باعث ہے۔ سرکار عالی وقار صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: “مسجد میں ہنسنا قبر میں اندھیرا لاتا ہے” [الفردوس بماثور الخطاب، ج: 2، ص: 431، رقم الحدیث: 6891] [فیضان نماز، ص: 238]

فکر آخرت رکھنے والے تو مسجد کے علاوہ بھی ہنسنا گوارا نہیں کرتے، مگر افسوس کہ ہم سر تا پا گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہونے کے باوجود بیت اللہ میں ہنستے بلکہ معاذ اللہ! قہقہہ لگاتے ہیں جو کہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ مسجد میں رہ کر خالق کائنات کو راضی کرنے کے بجائے اس کے دشمن کو خوش کرنا بہت بڑی جرأت ہے۔ مسجد ہماری تفریح گاہ نہیں کہ ہم اس میں عام جگہوں کی طرح رویہ اختیار کریں۔ مسجد میں آنے والے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ایسے عظیم مقام پر آ کر ٹھٹا بازی کر کے خود کو بربادی پر پیش کرے۔

مسجد میں سامان زور سے پھینکا

بعض لوگ مسجد میں بہت بھاری قدم رکھتے ہیں جس سے آوازیں بھی پیدا ہوتی ہیں، کچھ کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامان مثلاً: موبائل، گھڑی، گمچھا، چابی، چھڑی، وغیرہ چیزیں کھڑے کھڑے مسجد کے فرش پر پھینکتے ہیں۔ اس طرح کا عمل مسجد کو بہت تکلیف پہنچاتا ہے۔ جی ہاں! مسجد کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ جذب القلوب کے صفحہ نمبر 222 پر ہے: “مسجد میں اگر خس (یعنی معمولی سا تنکا یا ذرہ) بھی پھینکا جائے تو اس سے مسجد کو اس قدر تکلیف پہنچتی ہے جیسے انسان کو اپنی آنکھ میں معمولی ذرہ پڑ جانے سے ہوتی ہے”۔ [فیضان نماز، ص: 244]

قارئین! مسجد جو کہ بیت اللہ ہے، اسے تکلیف پہنچانا یقیناً غضب الہی کو دعوت دینا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مسجد میں آہستہ قدم سے چلیں اور کوئی چیز فرش پر رکھنی ہو تو دور سے پھینکنے کے بجائے نرمی سے زمین پر رکھنے کی عادت بنائیں۔ ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مسجد سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے نہ کہ مسجد کو تکلیف پہنچانی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: “جو مسجد سے تکلیف دینے والی چیز نکالے گا، اللہ پاک اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا”۔ [ابن ماجہ، ج: 1., ص: 419، رقم الحدیث: 757] [فیضان نماز، ص: 294]

مساجد میں جو کوڑا، کچرا آجاتا ہے، وہ بھی ایک طرح سے با برکت ہو جاتا ہے اس لیے یہ بھی یاد رکھیں کہ مسجد کا کوڑا جھاڑ کر کسی ایسی جگہ نہ ڈالیں جہاں بے ادبی ہو۔

اللہ پاک ہمیں مسجد سے تکلیف دہ چیز دور کرنے کی فضیلت کا حقدار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

فرش مسجد پر وضو کا پانی گرانا

کچھ اسلامی بھائی وضو کرنے کے بعد بغیر اعضا کو سکھائے مسجد میں داخل ہو جاتے ہیں اور ان کے اعضا سے پانی فرش مسجد پر ٹپک رہا ہوتا ہے یہ عمل ناجائز ہے۔ [بہار شریعت، احکام مسجد کا بیان، مسئلہ: 16] فقہائے کرام اسے مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔ عموماً یہ معاملہ تب درپیش ہوتا ہے جب بندہ نماز کے لیے دیر سے پہنچے اور جماعت کھڑی ہو گئی ہو۔ اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ وقت سے پہلے مسجد میں پہنچ جائیں تاکہ تکبیر اولیٰ بھی نہ چھوٹے اور وضو کے قطرے فرش مسجد پر گرانے سے بچ جائیں۔

مسجد میں بچوں کو لانا

بچوں کو نماز کا عادی بنانے کے لیے مسجد میں لانا ضروری ہے لیکن ان بچوں کو جن کو سمجھ بوجھ ہو، مسجد میں شور و غل نہ کریں اور نمازیوں کی نماز میں خلل نہ ڈالیں۔

بچوں کے متعلق دار الافتا اہل سنت کے ایک فتوے میں بیان کیا گیا ہے کہ ایسے چھوٹے بچے جو نماز کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے، مسجد میں آ کر الٹی سیدھی حرکتیں کرتے، بھاگتے دوڑتے اور شور مچاتے ہیں ان کو مسجد میں لانے کی شرعاً اجازت نہیں۔ حدیث پاک میں حکم دیا گیا ہے کہ “مساجد کو بچوں اور پاگلوں سے بچاؤ” [مختصر فتاویٰ اہل سنت، ص: 45]

بعض حضرات چھوٹے چھوٹے بچوں کو مسجد میں بڑوں کی صف میں شامل کر لیتے ہیں وہ یہ یاد رکھیں کہ اتنے چھوٹے بچے جن کو نماز کی بھی سمجھ بوجھ نہیں تو ان کو صف میں کھڑا نہیں کر سکتے، چاہے ایک ہو یا زیادہ کیونکہ ایسے بچوں کی نماز ہی معتبر نہیں اور صف میں جہاں ایسا بچہ کھڑا ہوگا گویا وہاں سے صف خالی رہے گی اور یہ شرعاً ممنوع و ناجائز ہے۔ [مختصر فتاویٰ اہل سنت، ص: 45]

خلاصۃً یہ کہ ہر اس کام سے بچا جائے جو مسجد کو تکلیف پہنچانے، اسے آلودہ کرنے اور روحانیت ختم کرنے کا سبب بنے۔ ان ساری بے ادبیوں اور گناہوں کا ایک بڑا سبب مسجد میں منعقد ہونے والے اجتماعات و محفلیں بھی بنتے ہیں۔ اجتماعات و محفلیں یقیناً کار ثواب ہیں، لیکن اس میں کئی افراد جمع ہونے کی وجہ سے باتیں، ہنسی مذاق، اور دیگر غلطیاں کثرت سے سرزد ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان اجتماعات و محفلوں میں شرکت کریں لیکن مسجد کے آداب و احکام کو بھی پیش نظر رکھیں تاکہ اجتماع اور محفل کی برکتیں حاصل ہوں، ورنہ ایسا نہ ہو کہ برکتیں پانے کے بجائے گناہوں کا انبار لے کے واپس آئیں۔

مسجد وہ عظیم مقام ہے جہاں خالق کائنات سے ہم کلام ہوا جاتا ہے۔ یہ معاذ اللہ ہماری تفریح گاہ نہیں کہ یہاں بھی اسی طرح رہا جائے جس طرح دیگر جگہوں پر رہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا مسجدوں سے انوکھا تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق جب ہی مضبوط ہوگا جب ہمارے دل میں مسجد کی عظمت موجود ہوگی۔ تعجب ہوتا ہے کہ عوام تو عوام، جن حضرات کو آداب و احترام مسجد کے متعلق خوب معلوم ہوتا ہے وہ بھی لاپرواہی کی بنا پر مسجد کے حقوق کو پامال کر رہے ہوتے ہیں۔

ہونا یہ چاہیے کہ اگر ہمیں مسجد کے احکام و آداب معلوم نہیں ہوں تو اسے جاننے کی جستجو میں لگ جائیں اور اگر جانتے ہوں تو ان آداب کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسجد کا احترام کر کے دارین کی سعادتوں کے حقدار بنیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں اور مسجد سے محبت کے صدقے و طفیل مسجد کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام طرح کی بے ادبی اور گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ نبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!