| عنوان: | امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت مولانا مفتی شمشاد حسین بدایونی |
| پیش کش: | صبرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
علم اصول فقہ کا تعارف
اصول فقہ کی تعریف
اصول فقہ وہ علم ہے جس میں احکام کو دلیلوں سے ثابت کرنے سے بحث کی جائے، بعض نے کہا: اصول فقہ وہ علم ہے جس سے دلیلوں کے احوال کو اجمالی طور پر جاننے کا فائدہ حاصل ہو جو احکام کی معرفت کے لیے مفید ہوں۔
موضوع اور غرض و غایت
مختار مذہب پر اس کا موضوع ادلہ اور احکام ہیں۔ بعض نے کہا: اس کا موضوع صرف ادلہ ہیں۔
احکام شرعیہ عملیہ کو ان کی تفصیلی دلیلوں سے جاننا ہی اس کی غرض ہے۔[تعریفات علوم درسیہ، ص: 145، 146]
علم اصول فقہ کی اہمیت
یوں تو اصول فقہ کی تعریف و تشریح سے ہی اس بات کی جانکاری حاصل ہو جاتی ہے کہ اصول فقہ کا علم فقہ سے کیا رشتہ اور کیا تعلق ہے؟ پھر بھی مزید جانکاری کے لیے اس کی وضاحت کی جا رہی ہے۔
الاختلاف الاصولی میں ہے:
ترجمہ: ہم اصول فقہ اور فقہ کی تعریفیں پیش کر چکے، ان دونوں کی تعریفوں پر غور کرنے سے ہمارے لیے واضح ہو جاتا ہے کہ علم اصول فقہ کا علم فقہ سے اس طرح کا تعلق ہے جس طرح سے ایک اصل کا اس کی فرع سے ہوا کرتا ہے، اور بنیاد کا دیوار سے اور جز کا تنوں سے ہوا کرتا ہے۔ اصول فقہ اور اصولی کے منضبط کردہ قواعد و ضوابط کے ذریعہ ایک فقیہ احکام کے استنباط و استخراج شریعت کے مختلف دلائل و مصادر سے کر سکتا ہے۔ جب ایک اصولی اپنی بحث کے دوران اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ مطلق امر وجوب کا افادہ کرتا ہے اور مطلق نہی تحریم کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پاک حجت شرعیہ ہے، اجماع و قیاس اس کے علاوہ دوسرے مصادر شرعیہ ہیں، تو فقیہ انہی قواعد شرعیہ کو لے لیتا ہے، کیونکہ یہ مسلمات میں سے ہوا کرتے ہیں اور انہی قواعد کلیہ کی ادلہ تفصیلیہ اور حوادث جزئیہ پر تطبیق کر کے فعل مکلف پر حکم شرعی نافذ کر دیتا ہے۔
اس بات کو یوں بھی سمجھیں کہ ہمیں اس بات کا علم ہے کہ مطلق امر وجوب کا افادہ کرتا ہے تو اس قاعده کلیہ کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کے اس قول پر غور کیا جائے:
أَقِيمُوا الصَّلَاةَ
کہ “اقیموا” امر ہے اور ہر امر وجوب کا فائدہ دیتا ہے، لہذا ثابت ہوا کہ نماز ادا کرنا واجب ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ مطلق نہی تحریم کا افادہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا
اس میں “ولا تقربوا” فعل نہی ہے اور ہر فعل نہی تحریم کو ثابت کرتی ہے، لہذا ثابت ہوا عمل زنا حرام اور گناہ کبیرہ میں سے ایک اہم کبیرہ ہے۔ جب یہ حدیث پاک معلوم ہو چکی کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ مقدسہ میں داخل ہوئے اور وہاں آپ نے نماز ادا کی، اس حدیث پاک کی روشنی میں ایک فقیہ اس بات کا حکم لگا سکتا ہے کعبہ کے اندر نماز ادا کرنا سنت ہے، اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ حدیث پاک حجت شرعیہ ہے۔
علم اصول فقہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ اجماع بھی کسی حکم شرع کے لیے حجت لازمہ ہے تو اس کے تناظر میں کیا یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ جب بنتِ صلبی کے ساتھ کوئی پوتی ہو یعنی لڑکے کی بیٹی ہو اور اس کے ساتھ کوئی عصبہ نہ ہو تو دادا کی وراثت میں پوتی کا حصہ سدس 1/6 ہوگا کیونکہ اس پر اجماع ہو چکا ہے؟
اب رہی بات قیاس کی، قیاس بھی ادلہ اربعہ میں ایک دلیل شرعی ہے، قیاس کا مقتضی یہ ہے کہ جہاں علت پائی جائے گی وہاں حکم بھی نافذ ہوگا، گیہوں کے بدلے گیہوں بیچنا اس وقت جائز ہے جب دونوں طرف سے مثلاً بمثل یا یداً بید ہو، ایک طرف سے کم اور دوسری جانب سے زیادہ گیہوں ہو تو اس طرح کی بیع ناجائز ہے کہ یہاں اتحاد جنس ہے مگر سواء بسواء نہیں ہے۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ حکم لگایا جا سکتا ہے کہ زیادتی کے ساتھ چاول کی بیع جائز نہیں۔
ایک اصولی ایسے قواعد اصولیہ کی وضع کرتا ہے جو ادلہ تفصیلیہ سے احکام کے استنباط و استخراج کی کیفیت کو واضح کرتے ہیں اور ایک فقیہ ان قواعد کے تناظر میں احکام کا استنباط کیا کرتا ہے اور نئے قسم کی جزئیات پر شرعی حکم کا نفاذ کرتا ہے، اس توضیح سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اصول فقہ علم فقہ سے مضبوط قسم کا رابطہ رکھتا ہے اور یہ رابطہ ایسا ہوتا ہے کہ کبھی اور کسی صورت میں نہ اصول فقہ، فقہ سے اور نہ فقہ، اصول فقہ سے جدا ہو سکتا ہے۔ ایک فقیہ جب کسی حادثہ یا کسی واقعہ پر حکم لگاتا ہے تو اس کے لیے حکم لگانے کا ایک واحد راستہ یہی علم اصول فقہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اصول فقہ ایک فقیہ کے دل میں یقین و اعتماد اور سکون و اطمینان پیدا کرتا ہے اس لیے علم اصول فقہ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔[الاختلاف الأصولي، ص: 150، 151]
