| عنوان: | امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
افسوس ناک پہلو:
حال ہی میں کرنسی اور زر کے موضوع پر ہونے والے ایک پی ایچ ڈی کے مقالے میں ایک دیوبندی مقالہ نگار مولوی عصمت اللہ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کا موقف غلط نقل کیا ہے۔ مقالہ نگار کی اس غلطی کا اعتبار کر لیا جائے تو "کفل الفقیہ" کی جو افادیت تھی وہ ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوٹ کی حیثیت کو متعین کرنے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سمیت تمام لوگوں کا موقف شاذ اور حقیقت کے برعکس تھا اور آج کے لوگوں نے جو تحقیق کی ہے وہ ایک نئی چیز ہے۔ اس سے پہلے یہ کام کسی نے نہیں کیا، لہٰذا یہ کارنامہ آج کے لوگوں کا ہے۔
اس غلط موقف کو کیوں بیان کیا گیا؟ یا تو اس کارنامے کا سہرا کسی اور کے سر باندھنے کے لیے تعصب سے کام لیتے ہوئے مولوی عصمت اللہ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے موقف کو غلط بیان کیا، یا پھر ان کی فہم کا قصور ہوگا کہ وہ جس مسئلے پر پی ایچ ڈی کر رہے تھے اسی عنوان پر لکھی گئی بنیادی کتاب کے مطالب کو بلکہ صریح ترین عبارات کو پڑھنے سے قاصر رہے اور درست کے بجائے غلط بات آگے بیان کی۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ یہ مقالہ تقی عثمانی کی نگرانی میں لکھا گیا جس کا اقرار تقی عثمانی نے خود اپنی اس کتاب کے لیے لکھی گئی تقریظ میں کیا ہے، تقی عثمانی نے لکھا ہے کہ اس نے یہ مقالہ بالاستیعاب پڑھا ہے۔ ملاحظہ ہو "زر کا تحقیقی مطالعہ، ص: 19"۔
مقالہ نگار مولوی عصمت اللہ نے اپنے مقالے میں تین مقامات پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا حوالہ دیا ہے۔
پہلا مقام:
صفحہ 98 سے مقالہ نگار نے نوٹ کی حیثیت پر مختلف نظریات بیان کرنے کی ابتدا کی اور اسی صفحے پر پہلے نظریے کے ضمن میں علمائے دیو بند کا یہ نظریہ بیان کیا کہ ان کے نزدیک نوٹ دین کی سند ہے۔ بیان کردہ دوسرے نظریے کو ہم آخر میں بیان کریں گے، صفحہ 108 پر مولانا عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے سے بیان کیا کہ ان کے نزدیک نوٹ سونے کا بدل ہے۔ صفحہ 112 پر چوتھا نظریہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ "نوٹ کی شرعی حیثیت سے متعلق چوتھا موقف یہ ہے کہ نوٹ بذاتِ خود ثمنِ عرفی ہے، اور احکام میں فلوس کی طرح ہے، یعنی نوٹ نہ سندِ دین ہے نہ عروض ہے اور نہ سونے چاندی کا بدل ہے، بلکہ خود ثمن ہے اور احکامِ شرعیہ میں فلوس کی طرح ہے، اکثر علماء اسی نظریے کے قائل ہیں اور یہی نظریہ ہمارے نزدیک راجح ہے۔"
مقالہ نگار نے دوسرا نظریہ بیان کرتے ہوئے صفحہ 103 پر لکھا کہ "نوٹ مال اور سامان (Goods) ہے، کیونکہ لین دین اور سارے معاملات نفس کاغذ ہی سے متعلق ہوتے ہیں، اور کاغذ مالِ متقوم (قیمت والا) ہے، جس کی قدر و قیمت عرف و رواج کی وجہ سے بڑھ گئی، جیسے ہیرے، جواہرات کہ انتہائی قیمتی ہوتے ہیں، لیکن ان کی حیثیت مال اور سامان کی ہوتی ہے۔ ہندوستانی علمائے کرام میں علمائے رام پور اور جناب احمد رضا خان صاحب بریلوی کی بھی یہی رائے ہے، اور یہی شیخ عبدالرحمن بن سعدی کے نزدیک راجح معلوم ہوتی ہے۔ احمد رضا خان صاحب بریلوی کا اس موضوع پر باقاعدہ رسالہ ہے جس کا نام کفل الفقیہ الفاہم فی احکام القرطاس والدراہم ہے جس میں انہوں نے یہ ثابت کیا کہ نوٹ مال اور سامان ہے، سندِ دین یا خود ثمن نہیں۔"
دوسرا مقام:
اپنے خود ساختہ موقف اور تحریف کا اعادہ مقالہ نگار نے صفحہ 218 پر بھی ان الفاظ میں کیا: "جو حضرات کہتے ہیں کہ نوٹ عروض اور سامان کے حکم میں ہے، ان کے نزدیک بھی نوٹوں کا تبادلہ بیعِ صرف نہیں، کیونکہ صرف کے لیے عوضین کا زر (نقد) ہونا ضروری ہے، ان کے ہاں صرف صرف سونے اور چاندی میں منحصر ہے۔ علمائے ہند میں سے علمائے رام پور اور احمد رضا خان بریلوی صاحب اسی کے قائل ہیں۔" [زر کا تحقیقی مطالعہ، ص: 218]
تیسرا مقام:
مقالہ نگار نے اپنی سابقہ بات کو ان الفاظ میں دہرایا: "واضح رہے کہ جن حضرات کے نزدیک کرنسی نوٹ سندِ دین ہے، ان کے نزدیک ملکی کرنسی کا تبادلہ بطور بیع درست نہیں، بلکہ بطور عقدِ حوالہ درست ہوگا، تفصیلات گزر چکی ہیں، اور جو حضرات کرنسی نوٹ کو سامان کا درجہ دیتے ہیں، ان کے نزدیک نہ صرف ملکی کرنسی کی بیع درست ہے، بلکہ تفاضل بھی جائز ہے، اور جن حضرات کے نزدیک کرنسی نوٹ سونے چاندی کا قائم مقام اور اس کا بدیل ہے، ان کے نزدیک ملکی کرنسی کی بیع بشرطِ تماثل جائز ہے، اور بیعِ صرف ہے۔ حاصل یہ کہ ملکی کرنسی کے تبادلے میں چار قول ہو گئے:.......... 2۔ ملکی کرنسی کا تبادلہ بطور بیع تفاضلاً بھی درست ہے۔ علمائے رام پور اور مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی اس کے قائل ہیں۔" [زر کا تحقیقی مطالعہ، ص: 225]
مقالہ نگار کا رد: نوٹ صرف مال نہیں بلکہ فلوس کی طرح ثمنِ اصطلاحی ہے
چونکہ مقالہ نگار نے تین مرتبہ "کفل الفقیہ" سے متعلق غلط موقف بیان کیا لہٰذا ہم بھی "کفل الفقیہ" کے صرف تین مقامات سے یہ بات واضح کریں گے کہ مقالہ نگار کا موقف ہرگز درست نہیں، اور مقالہ نگار کو چاہیے کہ ان عبارتوں کو دوبارہ پڑھنے کے بعد "کفل الفقیہ" سے متعلق اپنے موقف کو درست انداز میں پیش کرے۔ سب سے پہلے تو یہ بیان کر دوں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے نزدیک نوٹ محض مال یا عروض نہیں؛ نوٹ مال ضرور ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن مال کی چار اقسام "کفل الفقیہ" کے پہلے ہی سوال کے جواب میں بیان کی گئی ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے نزدیک نوٹ عروض کے قبیل سے ہرگز نہیں، بلکہ یہ فلوس کی طرح ثمنِ اصطلاحی ہے۔ مقالہ نگار نے پہلے مقام پر جو چوتھا موقف بیان کیا وہی موقف اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا ہے۔ نوٹ کی حیثیت کے حوالے سے "کفل الفقیہ" کی عبارات ملاحظہ ہوں:
(1) پہلا حوالہ
ساتویں سوال کا جواب دیتے ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
وَاَمَّا السَّابِعُ فَاَقُوْلُ: قَدْ اَذْنَاكَ اَنَّہٗ ثَمَنٌ اِصْطِلَاحِيٌّ فَاسْتِبْدَالُہٗ بِالثَّوْبِ لَا يَكُوْنُ مُقَايَضَةً بَلْ بَيْعًا مُطْلَقًا وَلَا يَتَعَيَّنُ النُّوْطُ بَلْ يَلْزَمُ فِي الذِّمَّةِ كَالْفُلُوْسِ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 17، ص: 424]
جواب سوالِ ہفتم۔ فاقول: (میں کہتا ہوں) ہم تمہیں بتا چکے ہیں کہ نوٹ ثمنِ اصطلاحی ہے تو کپڑے سے اس کا بدلنا مقایضہ نہ ہوگا بلکہ بیعِ مطلق ہوگا اور خاص کوئی معین نوٹ دینا نہ آئے گا بلکہ پیسہ کی طرح ذمہ پر لازم ہوگا۔
علمِ فقہ سے ادنیٰ ممارست رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ اگر نوٹ کو عروض مانا جاتا تو سامان کی نوٹ کے بدلے خرید و فروخت بیعِ مقایضہ ہی ہوتی نہ کہ بیعِ مطلق، حالانکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن واضح الفاظ میں بیان کر رہے ہیں کہ نوٹ کی سامان کے بدلے بیع مقایضہ نہیں کیونکہ نوٹ ثمنِ اصطلاحی ہے۔
(2) دوسرا حوالہ
نویں سوال کا جواب "کفل الفقیہ" میں درج ذیل الفاظ میں دیا گیا:
وَاَمَّا التَّاسِعُ فَاَقُوْلُ: نَعَمْ يَجُوْزُ اِذَا قُبِضَ النُّوْطُ فِي الْمَجْلِسِ كَيْلَا يَفْتَرِقَا عَنْ دَيْنٍ بِدَيْنٍ وَتَحْقِيْقُ ذٰلِكَ اَنَّ بَيْعَ النُّوْطِ بِالدَّرَاہِمِ كَالْفُلُوْسِ بِہَا لَيْسَ بِصَرْفٍ حَتّٰى يَجِبَ التَّقَابُضُ فَاِنَّ الصَّرْفَ بَيْعُ مَا خُلِقَ لِلثَّمَنِيَّةِ بِمَا خُلِقَ لَہَا كَمَا فَسَّرَہٗ بِہِ الْبَحْرُ وَالدُّرُّ وَغَيْرُہُمَا وَمَعْلُوْمٌ اَنَّ النُّوْطَ وَالْفُلُوْسَ لَيْسَتْ كَذٰلِكَ وَاِنَّمَا عَرَضَ لَہَا الثَّمَنِيَّةُ بِالِاصْطِلَاحِ مَا دَامَتْ تَرُوْجُ وَاِلَّا فَعُرُوْضٌ وَبِعَدَمِ كَوْنِہِ صَرْفًا صَرَّحَ فِي رَدِّ الْمُحْتَارِ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 17، ص: 425]
جواب سوالِ نہم۔ فاقول (تو میں کہتا ہوں) ہاں جائز ہے جبکہ اسی جلسہ میں نوٹ پر قبضہ کر لیا جائے تاکہ طرفین دین کے بدلے دین بیچ کر جدا نہ ہوں اور تحقیق اس مسئلے کی یہ ہے کہ نوٹ کی بیع دراہم کے بدلے فلوس کی طرح ہے ایسا عقد بیع صرف نہیں کہلائے گا کہ دونوں طرف کا قبضہ شرط ہو اس لیے کہ صرف اس میں ہوتا ہے جو چیز ثمن ہونے کے لیے پیدا کی گئی ہے اسے ایسی ہی چیز کے ساتھ بیچیں جیسا کہ اس کی یہ تعریف بحر و در وغیرہ میں فرمائی اور معلوم کہ نوٹ اور پیسے ایسے نہیں ان میں تو ثمن ہونا اصطلاح کے سبب عارض ہو گیا جب تک چلتے رہیں ورنہ وہ متاع ہیں اور اس کے بیع صرف نہ ہونے کی ردالمحتار میں تصریح فرمائی۔
مذکورہ عبارت کے ترجمے کے خط کشیدہ الفاظ قابلِ توجہ ہیں۔ پہلی عبارت میں کہا گیا کہ نوٹ فلوس کی طرح ہیں جو کہ عروض قرار دینے کا رد ہے اور دوسری عبارت میں بھی واضح لکھا گیا کہ ان میں فلوس کی طرح ثمن ہونا عارض ہے اسی لیے تو انہیں ثمنِ اصطلاحی کہتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت ان کی ثمنیت ختم کر دے تو یہ متاع شمار ہوں گے۔ یہاں بھی نوٹ کو ثمنِ اصطلاحی اور فلوس کے حکم میں ہونا بیان کیا گیا ہے۔
(3) تیسرا حوالہ
دسویں سوال کا جواب دیتے ہوئے امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
وَاَمَّا الْعَاشِرُ فَاَقُوْلُ: نَعَمْ يَجُوْزُ السَّلَمُ فِي النُّوْطِ وَقَدْ يُقَالُ لَا يَجُوْزُ فَاِنَّہٗ ثَمَنٌ وَلَا سَلَمَ فِي الْاَثْمَانِ كَمَا تَقَدَّمَ عَنِ النَّہْرِ وَالتَّحْقِيْقُ اَنَّ ہٰذَا اِنَّمَا يَبْتَنِيْ عَلٰى رِوَايَةٍ نَادِرَةٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَاِلَّا فَالْمَنْصُوْصُ عَلَيْہِ فِي الْمُتُوْنِ جَوَازُ السَّلَمِ فِي الْفُلُوْسِ وَاِنَّمَا لَا يَجُوْزُ فِي الْاَثْمَانِ الْخِلْقِيَّةِ وَہِيَ النَّقْدَانِ لَا غَيْرُ لِعَدَمِ قُدْرَةِ الْعَاقِدَيْنِ عَلٰى اِبْطَالِ ثَمَنِيَّتِہَا بِخِلَافِ الْاَثْمَانِ الْاِصْطِلَاحِيَّةِ. قَالَ فِي التَّنْوِيْرِ وَالدُّرِّ (يَصِحُّ اَيِ السَّلَمُ فِيْمَا اَمْكَنَ ضَبْطُ صِفَتِہِ) كَجَوْدَتِہِ وَرَدَاءَتِہِ (وَمَعْرِفَةُ قَدْرِہِ كَمَكِيْلٍ وَمَوْزُوْنٍ وَ) خَرَجَ بِقَوْلِہِ (مُثَمَّنٌ) الدَّرَاہِمُ وَالدَّنَانِيْرُ لِاَنَّہُمَا اَثْمَانٌ فَلَمْ يَجُزْ فِيْہِمَا السَّلَمُ خِلَافًا لِمَالِكٍ (وَعَدَدِيٌّ مُتَقَارِبٌ كَجَوْزٍ وَبَيْضٍ وَفَلْسٍ اِلٰخ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 17، ص: 441]
جواب سوالِ دہم۔ فاقول (تو میں کہتا ہوں) ہاں نوٹ میں بدلی جائز ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ جائز نہ ہو اس لیے کہ نوٹ ثمن ہے اور ثمن میں بدلی جائز نہیں جیسا کہ نہر سے گزرا، اور تحقیق یہ ہے کہ یہ قول صرف ایک روایتِ نادرہ پر مبنی ہے جو امام محمد سے آئی ورنہ متون میں تو یہ نص ہے کہ فلوس میں بدلی جائز ہے ہاں جو ثمن ہونے کے لیے پیدا کیے گئے ان میں جائز نہیں اور وہ صرف چاندی سونا ہے وبس، اس لیے کہ بائع و مشتری ان کی ثمنیت باطل کرنے پر قدرت نہیں رکھتے بخلاف ان چیزوں کے جو اصطلاحاً ثمن قرار پائی ہیں۔ تنویر الابصار اور درمختار میں فرمایا سلم جائز ہے ہر اس چیز میں جس کی صفت کا انضباط ہو سکے جیسے اس کا کھر اور کھوٹا ہونا اور اس کا اندازہ پہچان سکیں جیسے ناپ اور تول کی چیز، اور یہ جو مصنف نے فرمایا کہ وہ چیز ثمن نہ ہو اس سے روپے اور اشرفی نکل گئے اس لیے کہ وہ ثمن ہیں تو ان میں بدلی جائز نہیں، امام مالک کا اس میں اختلاف ہے یا گنتی سے بکنے کی چیز ہو ایسی ہو کہ اس کے افراد باہم قریب قریب ہوتے ہوں جیسے اخروٹ اور انڈے اور پیسہ الخ۔
اس عبارت سے بھی صاف واضح ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نوٹ کو فلوس کے حکم میں مان کر ثمنِ اصطلاحی قرار دے کر اس میں بیعِ سلم ہونے کے جواز پر وارد شبہات کا جواب دے رہے ہیں۔ اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک نوٹ متاع اور عروض ہی ہوتے تو ان کے سلم قرار دینے میں کیا رکاوٹ تھی؟ وہ تو عمومی عروض میں ویسے ہی جائز تھا۔ یہاں اشکال تو یہ تھا کہ فلوس کے حکم میں مان کر ثمنِ اصطلاحی قرار دے کر سلم کو جائز کیسے کہا گیا؟ حالانکہ ثمنِ اصلی یعنی دراہم اور دنانیر میں تو سلم جائز نہیں، جس کا جواب آپ علیہ الرحمہ نے دیا۔ واضح رہے کہ یہاں جس جواز کی بات ہوئی ہے وہ دراہم یعنی چاندی کے بدلے کرنسی نوٹ کے سلم کی بات ہوئی ہے نہ کہ نوٹ کے بدلے نوٹ کے سلم کی۔
خلاصۂ کلام یہ کہ مقالہ نگار نے جو موقف امام اہل سنت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا وہ جھوٹ پر مشتمل ہے، اور خلافِ واقع ہے اور اس نے "کفل الفقیہ" کے اصل موقف کو اپنے مقالے میں جدید موقف کے طور پر ثابت کر کے تحقیق کا سہرا کسی اور کے سر باندھنے اور اس تحقیق کو منظرِ عام پر لا کر اپنے منھ میاں مٹھو بننے کی کوشش کی ہے جو ایک بہت بڑی علمی خیانت پر مبنی ہے۔
محترم قارئین کرام اس سے آگے مطالعہ کرنے کے لیے قسط پنجم اوپن (سرچ) کریں۔
