| عنوان: | استاذ زمن علامہ حسن رضا خان امام اہل سنت کی نظر میں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
ثوابِ رضا کا حصہ دار:
جیسا کہ تمہیدی کلمات میں مذکور ہوا کہ استاذِ زمن نے اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کو خانگی، معاشی، معاشرتی اور انتظامی وغیرہ دنیاوی فکروں سے نجات کا سامان فراہم کر کے ان کی قیمتی حیات کو احقاقِ حق وابطالِ باطل میں صرف کرنے کی راہ ہموار کر دی۔ استاذِ زمن نے کس کس طریقہ سے امام اہل سنت کو دنیاوی ذمہ داریوں سے بے پرواہ کر دیا۔
صاحب زادیوں کی شادی سے بے نیازی:
دیکھیے شہزادۂ استاذِ زمن حکیم الاسلام علامہ حسنین رضا خان فرماتے ہیں:
”اعلیٰ حضرت کی دو بیٹیوں کی شادی ہونے والی تھی، دونوں کے نکاح حسبِ دستور خاندان پہلے ہی ہو چکے تھے، رخصتی کا جب تقاضا ہوا تو مولانا حسن رضا خاں اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ: ”بھائی جان! حاجی احمد اللہ صاحب (اعلیٰ حضرت کے سمدھی) کا رخصتی کے لئے تقاضا آیا ہے، وہ آپ سے بیاہ کی تاریخ مانگتے ہیں، میری رائے یہ ہے کہ ہم دونوں بیٹیوں کی شادی ایک ساتھ کر دیں“۔
اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ: ”ایک بیٹی کی شادی کوئی آسان کام نہیں، نہ کہ ایک ساتھ دو کی، بیٹیوں کی شادی میں لوگ بڑے ساز وسامان کرتے ہیں آپ نے کچھ ضروری سامان بھی کر لیا ہے کہ مجھ سے تاریخ مقرر کرانے آ گئے“۔ مولانا حسن رضا خاں نے عرض کیا کہ: ”سامان کی تیاری کے متعلق آپ بھابھی جان سے دریافت فرما لیجیے“۔ اعلیٰ حضرت نے ان (بیوی صاحبہ) سے دریافت فرمایا کہ: ”بیٹیوں کی شادی کے لئے کیا کیا سامان تیار ہو گیا اور کیا کمی رہ گئی ہے“۔ بیوی صاحبہ نے عرض کیا: ”ہمارے پاس تو مسالے پسے تیار رکھے ہیں، دونوں کے جہیز مکمل ہو گئے ہیں، بارات میں کھانے والے کا کل سامان مہیا ہو چکا صرف تاریخ کی دیر ہے“۔
اعلیٰ حضرت نے جب بیوی صاحبہ سے یہ الفاظ سنے تو وفورِ مسرت سے آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ: ”حسن میاں تم نے تو مجھے دنیا سے بالکل بے نیاز کر دیا ہے، میری بیٹیوں کی شادیاں ہیں، میں ان کا باپ ہوتے ہوئے بھی بالکل بے خبر اور آزاد بیٹھا ہوں، تم نے مجھے یہ سوچنے کی بھی زحمت نہ دی کہ جہیز میں کیا کیا دیا جائے گا اور وہ کہاں کہاں سے فراہم ہوگا، یا یہ کہ بارات میں کیا کیا کھانے دیے جائیں گے“۔
زمینی دیکھ ریکھ سے بے نیازی:
امام اہل سنت کا خاندان ایک زمین دار خاندان بھی تھا جن کے حصے میں کئی ہزار بیگھے زمین تھی جن کی نگرانی کا فریضہ خاندانی افراد ہی انجام دیتے۔ امام اہل سنت کے والدِ محترم علامہ نقی علی خان نے اپنی حیات میں نگرانی کی پھر یہ ذمہ داری امام اہل سنت کے کندھے پر آئی پھر کیا ہوا؛ مولانا شہاب الدین کی زبانی سنیے، وہ کہتے ہیں:
”مولانا نقی علی خان کی زمینی جائداد موضع کرتولی ضلع بدایوں میں کئی سو کے حساب سے تھی۔ اس کے علاوہ رامپور میں بھی کچھ زمین تھی۔ رام پور والی زمین کے کاغذات جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء میں تلف ہو گئے، اس وجہ سے کوئی دعویٰ نہ کر سکے اور آخر کار حکومت نے زمین پر اپنا قبضہ جما لیا اور مولانا کو دستبردار ہونا پڑا۔ بدایوں کی قابلِ کاشت زمین تقریباً ایک ہزار بیگھہ تھی اور گاؤں کئی کئی میلوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ پوری زمین کی دیکھ بھال ملازمین رکھ کر خود کیا کرتے تھے۔
مولانا سال میں دو بار گاؤں تشریف لے جاتے۔ آپ کے انتقال کے بعد امام احمد رضا بریلوی نے صرف ایک سال زمین کی نگرانی کا کام انجام دیا؛ چوں کہ آپ کا فطری رجحان تصنیف وتالیف اور فتویٰ نویسی کی طرف تھا؛ اس لیے گاؤں کی ذمہ داری اپنے منجھلے بھائی مولانا حسن رضا بریلوی کے سپرد کر دی جنھوں نے تاحیات امام احمد رضا کو زمین داری اور گھریلو معاملات سے بے نیاز رکھا“۔ (مولانا نقی علی خان، ص: ۴۱)
خانگی ذمہ داریوں سے بے نیازی:
اس تعلق سے ابنِ استاذِ زمن علامہ حسنین رضا فرماتے ہیں:
”مولانا حسن رضا خان جب تحصیلِ وصولی کے لئے گاؤں جاتے تو پہلے اپنی بڑی بھاوج کے ہاں آتے اور جہاں گھی، تیل، ایندھن اور غلہ کے وزن وغیرہ معلوم کرتے، وہیں چار پائیاں، تخت، چوکی وغیرہ کے متعلق بھی دریافت کرتے، کہ گھر میں اگر ان چیزوں کی کمی ہو تو یہ سامان بھی گاؤں سے بن کر غلہ ایندھن وغیرہ کی گاڑیوں میں آجائے“۔
تصنیف وتالیف کے لیے قلم سے بے نیازی:
امام اہل سنت کی تصانیف کی تعداد سے آپ کی حیات کی مصروفیت واضح ہو جاتی ہے۔ قربان جائیے استاذِ زمن پر جنھوں نے امام اہل سنت کی اس مصروفیت میں بالکل خلل واقع نہ ہونے دیا حتیٰ کہ قلم کی دستیابی کی طرف بھی توجہ کرنے کی زحمت کا موقع نہیں دیا بلکہ استاذِ زمن خود ہی ہفتہ دس دن میں اس کا انتظام فرما دیا کرتے۔ چناں چہ علامہ حسنین رضا لکھتے ہیں:
”مولانا حسن رضا مرحوم کا یہ عمل بھی مدتوں جاری رہا، کہ ہفتہ عشرہ میں اپنے یہاں سے دو قلم بنا کے لے جاتے اور اعلیٰ حضرت کے قلمدان میں رکھ آتے اور ان کے گھسے ہوئے قلم خود لے آتے۔ انھیں (اعلیٰ حضرت کو) اتنی فرصت کہاں تھی کہ لکھنا چھوڑ کر قلم بنائیں، اور لکھتے لکھتے قلم ایک طرف سے گھس جاتی تو دوسری نوک سے لکھنے لگتے، مضمون کی آمد میں خلل نہ آنے دیتے“۔
غور کیجیے کہ امام اہل سنت کی زندگی کو استاذِ زمن نے کس طرح دنیاوی ذمہ داریوں اور دنیاوی معاملات سے بے فکر وبے نیاز کر دیا تھا جبھی تو امام اہل سنت نے بھی باذن مولیٰ استاذِ زمن کو اپنے خدماتِ دینی کے ثواب کا حصہ دار قرار دیا۔ امام اہل سنت فرماتے ہیں:
”میں جو کچھ دین کی خدمت کر رہا ہوں اس کے اجر میں باذن اللہ تم بھی حصہ دار ہو، اس واسطے کی تمھیں نے مجھے دینی خدمات کے لئے دنیا سے آزاد کر دیا ہے“۔
کیا کیا تھے آپ امام اہل سنت کی نظر میں:
اب استاذِ زمن کے نعتیہ مجموعہ ”ذوقِ نعت“ کی تاریخ میں امام اہل سنت کا لکھا ہوا ایک شاہ کار قطعہ سپردِ قرطاس کیا جاتا ہے جو قطعہ جہاں امام اہل سنت کے شاعری شکوہ انداز کا بین ثبوت اور آپ کی تاریخ گوئی میں مہارتِ تامہ کی واضح دلیل ہے وہیں استاذِ زمن کی شخصیت کی مختصر اور جامع تحسین وتذکرہ، آپ کی شاعری کی تعریف، آپ کی دینی، ملی اور مذہبی خدمات کی ایک جھلک، آپسی روابط وجذبات کا برملا اظہار اور آپسی اخوت وبھائی چارگی اور آپسی الفت ومحبت کا منہ بولتا مرقع ہے۔ ملاحظہ فرمائیں امام اہل سنت فرماتے ہیں:
قوتِ بازوئے من سُنّیِ نجدِی فِگن
حاجی و زائرِ حسن، سلمہٗ ذوالمنن
نعت چہ رنگیں نوشت، شعر خوش آئیں نوشت
شعر مگو دیں نوشت، دور ز ہر ریب وظن
شرع ز شعرش عیاں، عرش بہ پستیِش نہاں
سُنّیہ را حرزِ جاں، نجدیہ را سر شِکن
قلقلِ ایں تازہ جوش، بادہ بہنگامِ نوش
نور فشاند بگوش، شہد چکاں در دہن
کلکِ رضاؔ سالِ طبع، گفت بہ افضالِ طبع
زا نکہ از اقوالِ طبع، کلک بود نغمہ زن
”اوجِ بہیں مدحت، جلوہ گہِ مرحمت“
”عافیتِ عاقبت بادِ نوائے حسنؔ“
”بادِ نوائے حسنؔ، بابِ رضائے حسنؔ“
”بابِ رضائے حسنؔ، باز بہ جلبِ منن“
”باز بہ جلبِ منن، بازوئے بختِ قوی“
”بازوِ بختِ قوی، نیک حجابِ محن“
”نیک حجابِ محن، فضلِ عفو و نبی“
”فضلِ عفو و نبی، حبلِ وی و حبلِ من“
نعتِ حسنؔ آمدہ نعتِ حسن
حُسنِ رضاؔ بادِ بریں سلام
اِنَّ مِنَ الذَّوْقِ لَسِحْرٌ ہمہ
اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃٌ تمام
کلکِ رضاؔ داد چناں سال آں
یافت قول از شدِ رأس الانام
درج بالا تمام باتوں سے استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان کی عملی و علمی شخصیت بالکل اظہر من الشمس ہے ساتھ ہی امام اہل سنت اور خاندان کے لیے آپ کے ایثار وقربانی بھی ابین من الامس ہے۔ نیز دونوں برادرانِ خاندانی ودینی کے آپسی اخوت وموّدت اور الفت ومحبت بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ اسی گہرا لگاؤ اور جانبین کے دلی جذبات کا ہی نتیجہ رہا کہ امام اہل سنت نے بعدِ وفات بھی استاذِ زمن کی خواب میں زیارت کی۔ چناں چہ امام اہل سنت فرماتے ہیں:
”میں نے اپنے منجھلے بھائی حسن میاں مرحوم کو اُن کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا کہ اپنی مسجد کی فصیلِ شمالی (یعنی شمالی دیوار) پر مسجد میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں اور یہ مسجد کی منتہائے حد جنوبی سے میری طرف خوش خوش آ رہے ہیں۔ ہاتھ میں ایک بہت طویل کاغذ ہے وہ مجھے دکھانے لائے اور کہتے ہیں نو باتیں بہت ہی اعلیٰ درجہ پر قبول ہوئیں، تفصیل نہ معلوم ہوئی تھی کہ آنکھ کھل گئی“۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۲۲۸)
اب اس خواب کو امام اہل سنت کا استاذِ زمن سے حد درجہ لگاؤ کہیں یا استاذِ زمن کی کرامت کہیں کہ بعدِ وفات بھی امام اہل سنت کی خدمت کا فریضہ انجام دیا۔
