| عنوان: | انسان اور AI میں فرق — ایک منصفانہ جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
آج پوری دنیا میں لوگ مصنوعی ذہانت (AI) سے مختلف قسم کے سوالات پوچھتے ہیں، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ AI سے مسئلہ پوچھنا کیسا ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان اور AI ایک چیز نہیں ہیں، بلکہ دونوں کے درمیان بنیادی فرق موجود ہے۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا، جو تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے، جبکہ AI کو انسان نے بنایا ہے، اور انسان خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اس اعتبار سے انسان کا مرتبہ AI سے کہیں بلند ہے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ AI ایک مشین اور سافٹ ویئر ہے، جسے انسان نے مخصوص مقاصد کے لیے تیار کیا ہے، جبکہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل، شعور، ارادہ اور فہم رکھتا ہے۔
ایک عقل مند شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ بنانے والا اپنی بنائی ہوئی چیز سے افضل ہوتا ہے۔ انسان اپنی ضرورت کے مطابق نئی نئی مشینیں اور پروگرام بنا سکتا ہے، لیکن AI خود اپنی مرضی سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں کر سکتی، بلکہ وہ انہی حدود میں کام کرتی ہے جو اس کے بنانے والوں نے مقرر کی ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی پنکھا اس طرح بنایا جائے کہ وہ صرف سو (100) کی رفتار سے چل سکے، تو وہ خود اپنی رفتار بڑھا کر ایک سو بیس (120) نہیں کر سکتا، جب تک بنانے والا اس میں وہ صلاحیت شامل نہ کرے۔ اسی طرح AI بھی اپنی مقررہ حدود کے اندر کام کرتی ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ AI بھی انسان کی طرح بات کرتی ہے اور سوالوں کے جواب دیتی ہے، اس لیے دونوں برابر ہیں۔ یہ درست نہیں، کیونکہ انسان اپنی عقل، فہم اور شعور سے سوچ کر جواب دیتا ہے، جبکہ AI اپنے تربیتی مواد اور الگورتھم کی بنیاد پر جواب تیار کرتی ہے۔ اس کے پاس انسان جیسا شعور اور ارادہ نہیں ہوتا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا AI سے دینی یا دنیاوی مسائل پوچھنا جائز ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس بارے میں ایک ہی حکم ہر صورت پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
اگر دنیاوی معلومات حاصل کرنا مقصود ہو، جیسے زبان، ریاضی، سائنس، کمپیوٹر یا دیگر عمومی علوم، تو AI سے استفادہ کرنا اصل کے اعتبار سے جائز ہے، البتہ اہم معلومات کی تصدیق معتبر ذرائع سے کر لینی چاہیے۔
رہی بات دینی مسائل کی، تو اس میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص دینی علم رکھتا ہو اور صحیح و غلط، معتبر اور غیر معتبر اقوال میں فرق کر سکتا ہو، تو وہ AI کے جواب کو بطور معاون دیکھ سکتا ہے، لیکن اسے آخری دلیل نہ سمجھے۔
اور اگر کوئی عام آدمی صحیح اور غلط بات میں امتیاز نہیں کر سکتا، تو اسے اپنے دینی مسائل AI پر اعتماد کرکے نہیں سیکھنے چاہییں، بلکہ مستند علماءِ اہلِ سنت سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ دینی مسائل میں غلطی ایمان اور عمل دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
لہٰذا AI ایک مفید ذریعہ ہے، لیکن یہ عالمِ دین یا مفتی کا متبادل نہیں۔ دینی معاملات میں اصل اعتماد ہمیشہ قرآن، سنت، اجماع، فقہِ معتبر اور مستند علماء پر ہونا چاہیے۔
