Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (پہلی قسط)

امام احمد رضا اور تقابل ادیان
عنوان: امام احمد رضا اور تقابل ادیان
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

حضرت رضا بریلوی یعنی جامع علوم و فنون، محدث، مفسر، فقیہ، امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی کی علمی شان اور ان کا علمی مرتبہ آج کی کثیر تعداد پر ظاہر و آشکارا ہے۔ کتنے علوم و فنون پر انھیں مہارت تھی، یہ خود ایک مستقل تحقیق کا موضوع ہے؛ البتہ! ہمارے نقطۂ نظر سے جب تک ان کی تمام کتابوں کی اشاعت نہیں ہو جاتی اس وقت تک تعداد متعین نہیں کی جا سکتی۔ ایک نہیں کئی درجن علوم و فنون میں حد درجہ مہارت رکھنے والی شخصیت کی وفات کے سو سال بعد بھی ان کی تمام کتابوں کو شائع نہیں کیا جا سکا، یہ ہندوستان کی اسلامی تاریخ کا سیاہ باب ہی کہا جا سکتا ہے۔

حضرت رضا بریلوی کے فتاویٰ رضویہ کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اپنے وقت میں عیسائیت کی تردید کا کارنامہ بھی انجام دیا ہے اور اس سلسلے میں ان کا مطالعہ بالکل بھی گہرا معلوم ہوتا ہے، اگرچہ اس موضوع پر ان کی کوئی مستقل تصنیف ہمارے علم میں نہیں، لیکن فتاویٰ رضویہ میں ہمیں دو مقام ایسے ملے ہیں جہاں بائبل کے حوالے ملتے ہیں۔

فتاویٰ رضویہ میں بائبل کے دو حوالے:

پہلا مقام: فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۲۹ صفحہ ۲۰۶ پر یہ ہے:

"بائبل کی زبان ایسی پیچیدہ ہے کہ اور تو اور خود مصنفِ محرّف کی سمجھ میں نہیں آتی۔ تواریخ کی دوسری کتاب باب ۲۱ درس ۲۰ اور باب ۲۲ درس ۲ و ۵ میں لکھا ہے کہ بتیس برس کی عمر میں بادشاہ ہوا، ۱۸ برس بادشاہت کی اور جاتا رہا۔ داؤد کے شہر میں گاڑا گیا۔ یروشلم کے باشندوں نے اس کے چھوٹے بیٹے اخزیا کو اس کی جگہ بادشاہ کیا۔ اخزیا ۴۲ برس کی عمر میں بادشاہ ہوا۔ یعنی باپ ۴۰ برس کی عمر میں مرا اُس وقت بیٹا ۴۲ برس کا تھا۔ باپ سے دو برس پہلے پیدا ہو لیا تھا۔ متی کی انجیل میں مسیح و داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیچ میں ۲۶ پشتیں ہیں اور اس میں عدد بھی گنا دیا ہے کہ مسیح تا داؤد ۲۸ شخص ہیں۔ لیکن لوقا کی انجیل میں مسیح سے داؤد تک ۴۳ آدمی ہیں، ۱۵ پشتیں زائد اور اسما بھی بالکل نامطابق، ایضاً انجیل متی باب ۵ درس ۱۷: یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابیں منسوخ کرنے آیا ہوں، نہیں بلکہ پوری کرنے آیا ہوں۔ درس ۱۸: کیوں کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان و زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ ٹلے گا۔ یہاں تو مسیح کا اس شدت سے انکار ہے اور جا بجا انجیل میں نسخِ احکامِ توریت کا اظہار ہے۔ اسی انجیل کے اسی باب درس ۳۱ میں ہے: یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو کوئی اپنی جورو کو چھوڑ دے اسے طلاق نامہ لکھ دے پر میں تمھیں کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی جورو کو تاگے کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دیے اس سے زنا کرواتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے زنا کرتا ہے۔ ایضاً درس ۳۳ تا ۳۷: تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا اپنی قسمیں خداوند کے لیے پوری کر، پر میں تمھیں کہتا ہوں کہ ہرگز قسم نہ کھانا۔ ایضاً درس ۳۸ و ۳۹: تم سن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت، پر میں تمھیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔ ایضاً باب ۱۹ درس ۸ و ۹: موسیٰ نے جو روں کو چھوڑ دینے کی اجازت دی پر میں تم سے کہتا ہوں جو کوئی اپنی جورو کو سوائے زنا کے اور سبب سے چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے زنا کرتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی عورت کو بیاہے زنا کرتا ہے۔ یہی مضمون انجیل مرقس باب ۱۰ درس ۴ تا ۱۲ میں ہے ان کے سوا بہت نظائر تناقض و ناسخی کے ہیں۔"
(فتاویٰ رضویہ جلد ۲۹ صفحہ ۲۰۶ تا ۲۰۷)

دوسرا مقام: جہاں فتاویٰ رضویہ میں بائبل کا رد ملتا ہے وہ آپ کا مشہور رسالہ "الصمصام علی مشکک فی آیۃ علوم الارحام" کے آخر میں...یہ مقام ہے:

"خدارا انصاف، وہ عقل کے دشمن، دین کے رہزن، جنم کے کوڈن کہ ایک اور تین میں فرق نہ جانیں، ایک خدا کے تین مانیں، پھر ان تینوں کو ایک ہی جانیں، بے شکل بے کفو کے لیے جوڑ بتائیں، بیٹا ٹھہرائیں، اس کی پاک بانڈی ستھری کنواری پاکیزہ بتول مریم پر ایک بڑھی کی جورو ہونے کی تہمت لگائیں، مگر خداوند کی حیاتِ خاوند کی موجودگی میں بی بی کے جو بچہ ہوا اسے دوسرے کا گائیں، خدا کا بیٹا ٹھہرا کر ادھر کافروں کے ہاتھ سے سولی دلوائیں، ادھر آپ اس کے خون کے پیاسے لوہیوں کے بھوکے روٹی کو اس کا گوشت بنا کر زور زور چبائیں، شرابِ ناپاک کو اس پاک معصوم کا خون ٹھہرا کر تف تف چڑھائیں، دنیا میں تعزیری اَدھر موت کے بعد کفار کو اسے بھینٹ کا بکرا بنا کر جہنم بھجوائیں، لعنتی کہیں ملعون بنائیں، اے سبحان اللہ! اچھا خدا جسے سولی دی جائے، عجب خدا جسے دوزخ جلائے۔ طرفہ خدا جس پر لعنت آئے جو بکرا بن کر بھینٹ دیا جائے، اے سبحان اللہ! باپ کی خدائی اور بیٹے کو سولی، باپ خدا بیٹا کس کھیت کی مولی، باپ کی جہنم کو بیٹے ہی سے لاگ، مرسلوں کو دشنام بے گناہ پر آگ، امتی ناجی رسول ملعون، معبود پر لعنت بندے مامون۔ تف تف وہ بندے جو اپنے ہی خدا کا خون پینکھیں، اسی کے گوشت پر دانت رکھیں، اف اف وہ گندے جو انبیاء و رسل پر وہ الزام لگائیں کہ بھنگی چمار بھی جن سے گھن کھائیں، سخت فحش بیہودہ کلام گھڑیں اور کلامِ الہی ٹھہرا کر پڑھیں، زہ زہ بندگی خہ خہ بندگی خہ خہ تعظیم ہے پہ تہذیب ثہ ثہ تعلیم (مثال کے لیے دیکھو بائبل پرانا عہد نامہ، یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۳۲ درس ۱۵ تا ۱۸) خدا کا معاذ اللہ زنا کی خرچی کو مقدس ٹھہرانا اور اپنے مقربوں کے لیے اسے چن رکھنا کہ کھائیں اور مستائیں۔ ایضاً کتابِ پیدائش باب ۱۹ درس ۳۰ تا ۳۸ سیدنا لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معاذ اللہ اپنی دختروں سے زنا کرنا، بیٹیوں کا باپ سے حاملہ ہو کر بیٹے جننا۔ ایضاً کتاب دوم شموئیل نبی باب ۱۱ درس ۲ تا ۵ سیدنا داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنے ہم سائے کی خوبصورت جورو ننگی نہاتے دیکھ کر بلانا اور معاذ اللہ اس سے زنا کر کے پیٹ رکھوانا۔"
(جلد ۲۸ صفحہ ۴۸۶، ۴۸۷)

محدث بریلوی نے بائبل کی جن چیزوں کو اپنے فتاویٰ میں ذکر کیا ہے ان کو دو عنوانات (۱) بائبل میں تعارضات اور (۲) بائبل کی عجیب و غریب باتیں کے تحت سمیٹا جا سکتا ہے۔ ہم ان کی وضاحت بائبل کے اقتباسات کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

فصل اول: بائبل میں تعارضات

محدث بریلوی نے سب سے پہلے بائبل کے ایک ناقابلِ دفع تعارض کی طرف اشارہ کیا جس کے لیے تواریخ دوم کے باب ۲۱ اور ۲۲ کا حوالہ دیا جو درج ذیل ہے۔

(۱) بیٹا باپ سے دو سال بڑا
رضا بریلوی نے تواریخ دوم باب ۲۱ آیت نمبر ۲۰ اور باب ۲۲ آیت نمبر ۲ کے حوالے کے ساتھ یہ لکھا کہ بائبل کے اس آدھے صفحے میں زبردست تعارضات ہیں۔ لیکن ہم سمجھ کی آسانی کے لیے چار آیات قبل سے بائبل کا اقتباس نقل کرتے ہیں:

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!