Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جنھیں بلایا ہے مصطفیٰ نے وہی مدینے کو جارہے ہیں

جنھیں بلایا ہے مصطفیٰ نے وہی مدینے کو جارہے ہیں
عنوان: جنھیں بلایا ہے مصطفیٰ نے وہی مدینے کو جارہے ہیں
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی
پیش کش: مجمع التصانیف

جنھیں بلایا ہے مصطفیٰ نے وہی مدینے کو جارہے ہیں

عشق و محبت، شوق و مستی کا وہ مقدس سفر جو تمام اسفارِ عالم سے ممتاز، سب سے اعلیٰ، سب سے افضل اور سب پر فائق ہے، وہ سفرِ مدینہ ہے۔ یہ ایسا روح پرور سفر ہے کہ جس کا محض تصور ہی دل کو فرحت و شادمانی، روح کو سکون اور قلب کو راحت عطا کرتا ہے۔ غموں کو ہلکا، پریشانیوں کو دور اور ایمان کو تازگی بخشتا ہے۔ یہی وہ سفر ہے جس کی آرزو ہر عاشقِ رسول ﷺ کے دل میں موجزن رہتی ہے، جس کے لیے وہ شب و روز دعائیں مانگتا اور بارگاہِ الٰہی میں حاضری کی سعادت طلب کرتا رہتا ہے۔

یقین جانیے! سفرِ مدینہ مال و دولت سے زیادہ اجازت اور نصیب کا سفر ہے۔ کتنے ہی لوگ وسائل رکھنے کے باوجود محروم رہ جاتے ہیں، اور کتنے ہی ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس ظاہری اسباب کم ہوتے ہیں مگر بارگاہِ رسالت ﷺ سے بلاوا آ جائے تو راستے خود بخود ہموار ہونے لگتے ہیں۔

جب مدینے والے آقا، رحمتِ عالم ﷺ کی طرف سے حاضری کی سعادت مقدر ہو جاتی ہے تو پھر ایسے ایسے انتظامات ہو جاتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ کبھی بند دروازے کھل جاتے ہیں، کبھی ناممکن نظر آنے والے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں، اور کبھی دل میں ایک ایسی بے قرار تڑپ پیدا ہو جاتی ہے جو آخرکار روضۂ اقدس کی حاضری تک پہنچا دیتی ہے۔ واقعی، مدینہ بلانے والا جب بلاتا ہے تو راستے بھی وہی بناتا ہے، خرچ بھی وہی عطا کرتا ہے اور حاضری کی سعادت بھی وہی نصیب فرماتا ہے۔ شاعر نے کہا: جب بلایا آقا نے خود ہی انتظام ہوگئے، کچھ ایسے واقعات نظروں کے سامنے ہیں، جنھیں سوچ کر آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں، کہ جب سرکار کا کرم ہوتا ہے حاضری کا اشارہ ہوتا ہے تو بندہ کسی طرح بھی مدینے پہنچ جاتا ہے۔ شاعر نے حق کہا:

کہاں کا منصب کہاں کی دولت
قسم خدا کی یہ ہے حقیقت
جنھیں بلایا ہے مصطفیٰ نے
وہی مدینے کو جارہے ہیں

چند واقعات عرض کرتا ہوں۔

میں مدینے کیسے پہنچا؟

ایک مرتبہ مدینۂ منورہ میں گنبدِ خضریٰ کے پُرنور سائے تلے حاضری کا شرف حاصل تھا۔ اسی دوران ایک اسلامی بھائی اپنے سفرِ مدینہ کی ایمان افروز داستان سنانے لگے۔ ان کی گفتگو میں عشقِ رسول ﷺ کی تڑپ بھی تھی اور بارگاہِ نبوی کے کرم کا عملی مشاہدہ بھی۔ انہوں نے بتایا:

"میرے پاس سفرِ مدینہ کے لیے کوئی زادِ راہ نہیں تھا، لیکن دل میں حاضریِ بارگاہِ رسالت ﷺ کی ایسی بے قراری تھی جو ہر لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ میرے ایک نہایت محترم استادِ گرامی بھی مدینۂ منورہ کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔ یہ خبر سن کر میرے دل کی تڑپ اور بھی بڑھ گئی۔ میں نے عاجزی کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: 'یا رسول اللہ ﷺ! مجھے بھی اپنی بارگاہ کی حاضری کا اذن عطا فرما دیجیے۔'

میرے آقا ﷺ کا کرم دیکھیے کہ کچھ ہی دنوں میں سفر کے تمام اسباب بنتے چلے گئے، حتیٰ کہ ویزہ بھی مل گیا۔ لیکن ایک مشکل باقی تھی۔ میرے پاس احرام خریدنے کے لیے بھی رقم نہیں تھی۔ میں نے پھر بارگاہِ نبوی میں عرض کیا: 'یا رسول اللہ ﷺ! میرے پاس احرام خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ جب آپ ﷺ نے یہاں تک انتظام فرما دیا ہے تو اس کا بھی کوئی سبب پیدا فرما دیجیے۔'

اللہ اکبر! میرے آقا ﷺ کی بارگاہ کتنی کریم ہے۔ یہاں اخلاص کے ساتھ کی جانے والی فریاد رد نہیں ہوتی، غم زدہ دلوں کو آسودگی ملتی ہے اور بے سہاروں کے لیے رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے:

واللہ! وہ سن لیں گے، فریاد کو پہنچیں گے
اتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے

انہوں نے مزید بتایا: "ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ میرے ایک دوست کا فون آیا۔ اس نے کہا: 'ماشاء اللہ! آپ مدینۂ منورہ جا رہے ہیں، جب کہ میں اس سعادت سے محروم ہوں۔ میری خواہش ہے کہ آپ احرام میری طرف سے خرید لیجیے۔ میں اسے اپنے لیے باعثِ عز و شرف سمجھوں گا۔'

قارئینِ کرام! جب وہ اسلامی بھائی یہ واقعہ سنا رہے تھے تو ان کی نظریں مسلسل گنبدِ خضریٰ پر جمی ہوئی تھیں، آنکھوں سے اشک رواں تھے، اور ان کی کیفیت دیکھ کر مجھ سمیت وہاں موجود ایک اور اسلامی بھائی پر بھی رقت طاری ہوگئی۔ واقعی ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کتنے کریم، کتنے مہربان اور اپنے غلاموں پر کس قدر عنایت فرمانے والے ہیں۔

امام اہل سنت فرماتے ہیں:

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہا دیے ہیں، دریا بہا دیے ہیں

گیٹ مین کا مدینے سے بلاوا

استقبالِ حجاج اجتماع 2026ء میں نگرانِ شوریٰ مولانا عمران عطاری نے ایک نہایت ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا۔ آپ نے بتایا کہ میرے گھر کا ایک گیٹ مین ایک دن مدینۂ منورہ کی نعتیں سن رہا تھا۔ نعت سنتے سنتے اس پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہنے لگے۔ اسی دوران وہاں موجود ایک شخص نے اس کی یہ کیفیت اپنے موبائل میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی۔

اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ وہ ویڈیو ایک صاحبِ خیر شخصیت تک پہنچ گئی۔ انہوں نے ویڈیو دیکھی تو اس رونے والے شخص کی کیفیت نے ان کے دل کو متاثر کر دیا۔ انہوں نے فوراً ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے سے رابطہ کیا اور دریافت کیا: "یہ شخص کون ہے؟" جب اس کے بارے میں معلومات ملیں تو انہوں نے بلا تردد فرمایا: "انہیں میری طرف سے مدینۂ منورہ بھیج دیجیے، تمام اخراجات میری ذمہ داری ہیں۔"

قارئینِ کرام! ذرا غور کیجیے، کس لمحے کس کی آہ قبول ہو جائے، کس وقت کس کے آنسو بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو جائیں، اور کس انداز سے مدینے والے آقا ﷺ کی طرف سے حاضری کا پروانہ مل جائے، اس کا کسی کو علم نہیں۔ بظاہر ایک عام سا گیٹ مین، جس نے شاید کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ اس انداز سے اسے مدینۂ منورہ کی حاضری نصیب ہوگی، لیکن جب تڑپ سچی ہو، محبت خالص ہو اور دل میں مدینے کی طلب ہو، تو اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا فرما دیتا ہے جن کا انسان وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا۔ شاعر نے بڑی پیاری بات کہی:

اٹھی نظر جو ان کے کرم پر ٹھہر گئی
میں کیا سنور گیا ، میری قسمت سنور گئی
ہجرِ نبی میں آہ کہاں بے اثر گئی
تڑپے جو ہم یہاں تو مدینے خبر گئی

ذہنی آزمائش ٹیم اور مدینے کا بلاوا:

عالمی اسلامی اسکالر، رکنِ شوریٰ مولانا عبدالحبیب عطاری نے ایک واقعہ بیان فرمایا: آپ نے بتایا کہ ذہنی آزمائش کا سلسلہ جاری تھا۔ اسی دوران دعوتِ اسلامی کے انٹرنیشنل اجتماع اور عالمی مشاورت کا انعقاد ہوا، جس کی وجہ سے کئی دن تک ذہنی آزمائش کے سلسلے براہِ راست (Live) نشر نہ کی جا سکیں۔ میں نے مدنی چینل کی ٹیم سے کہا کہ: "اس دوران گزشتہ سال کا فائنل اور اس سے پہلے کی چند سلسلے نشر کر دیجیے، تاکہ ناظرین کا سلسلہ برقرار رہے۔"

چنانچہ گزشتہ سال کا فائنل سلسلہ نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں کامیاب ہونے والے اسلامی بھائی کو مدینۂ منورہ کی حاضری کے ٹکٹ دیے گئے تھے، جب کہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اس وقت مدینے کے ٹکٹ کا انتظام نہ ہو سکا، لہٰذا انہیں نقد انعام (چیک) دے دیا گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے! جب یہ ریکارڈ شدہ پروگرام دوبارہ نشر ہوا تو ایک صاحبِ خیر نے اسے مدنی چینل پر دیکھا۔ ان کی نظر ان شرکاء کی آنکھوں میں مدینۂ منورہ کی تڑپ اور حاضری کی بے قراری پر پڑی تو ان کا دل بھر آیا۔ وہ اس کیفیت کو دیکھ کر خاموش نہ رہ سکے۔ فوراً مدنی چینل کی ٹیم سے رابطہ کیا اور فرمایا: "ان تینوں عاشقانِ رسول کو میری طرف سے مدینۂ منورہ کی حاضری کے ٹکٹ پیش کر دیجیے۔"

بعد ازاں جب اسی سال ذہنی آزمائش کا سلسلہ دوبارہ براہِ راست نشر ہوا تو مولانا عبدالحبیب عطاری نے پورا پس منظر بیان فرمایا، پھر ان تینوں خوش نصیبوں کو اسٹیج پر بلا کر مدینۂ منورہ کے ٹکٹ پیش کیے۔ اس ایمان افروز منظر کو دیکھ کر اسٹیج پر موجود عاشقانِ رسول کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس موقع پر مولانا عبدالحبیب عطاری نے فرمایا: اور کتنی دلیل دیں، کتنے مناظر دکھائیں کہ مدینے جانے کے لیے مال و دولت کی نہیں، بلاوے کی ضرورت ہے۔ اور پھر یہ شعر پڑھا:

کہاں کا منصب کہاں کی دولت
قسم خدا کی یہ ہے حقیقت
جنھیں بلایا ہے مصطفیٰ نے
وہی مدینے کو جارہے ہیں

کیمرہ مین کو مدینے بھیج دیں!

ایک مرتبہ ذہنی آزمائش کا براہِ راست (Live) سلسلہ جاری تھا۔ ایک نعت خواں نہایت سوز و گداز کے ساتھ بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتِ پاک کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔ نعت کے درد بھرے اشعار سن کر پوری محفل پر ایک روحانی کیفیت طاری ہوگئی۔ اسی دوران مدنی چینل کے ایک کیمرہ مین اسلامی بھائی پر بھی عشقِ مدینہ کی ایسی کیفیت غالب آئی کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ وہ کافی دیر تک یادِ مدینہ میں اشک بہاتے رہے، جب کہ وہ اپنا کام بھی انجام دے رہے تھے۔

نعت کے اختتام کے کچھ دیر بعد رکنِ شوریٰ مولانا عبدالحبیب عطاری نے ان کیمرہ مین اسلامی بھائی کو اسٹیج پر بلایا اور فرمایا: "مجھے ایک اسلامی بھائی کا پیغام موصول ہوا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ آپ کے سامنے جو فلاں کیمرہ مین اسلامی بھائی ہیں، میں نے انہیں نعتِ رسول ﷺ کے دوران یادِ مدینہ میں روتے ہوئے دیکھا ہے۔ میری طرف سے انہیں مدینۂ منورہ کی حاضری کا ٹکٹ پیش کر دیجیے۔"

یہ اعلان سنتے ہی محفل میں خوشی اور رقت کی ایک عجیب کیفیت پیدا ہوگئی۔ ہر شخص اس کرمِ مصطفیٰ ﷺ پر سبحان اللہ کہہ اٹھا۔

واقعی، جب مدینے کی محبت آنکھوں سے آنسو بن کر بہتی ہے تو کبھی کبھی انہی آنسوؤں کے صدقے مدینۂ منورہ کی حاضری کا پروانہ بھی عطا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سچی تڑپ، خالص محبت اور بار بار مدینۂ منورہ کی باادب حاضری نصیب فرمائے۔ آمین۔

یا مصطفیٰ عطا ہو اب اذن حاضری کا
کر لوں نظارہ آ کر میں آپ کی گلی کا
روتا ہوا میں آؤں داغ جگر دکھاؤں
افسانہ بھی سناؤں میں اپنی بے کسی کا
پھر سبز سبز گنبد کی دیکھ لوں بہاریں
اب اذن دیدو آقا تم مجھ کو حاضری کا
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!