Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (دوسری قسط)

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (دوسری قسط)
عنوان: امام احمد رضا اور تقابل ادیان (دوسری قسط)
تحریر: فیضان المصطفی قادری صاحب
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

"Moreover the LORD stirred up against Jehoram the spirit of the Philistines, and of the Arabians, that [were] near the Ethiopians: And they came up into Judah, and brake into it, and carried away all the substance that was found in the king's house, and his sons also, and his wives; so that there was never a son left him, save Jehoahaz, the youngest of his sons. And after all this the LORD smote him in his bowels with an incurable disease. And it came to pass, that in process of time, after the end of two years, his bowels fell out by reason of his sickness: so he died of sore diseases. And his people made no burning for him, like the burning of his fathers. Thirty and two years old was he when he began to reign, and he reigned in Jerusalem eight years, and departed without being desired. Howbeit they buried him in the city of David, but not in the sepulchres of the kings. And the inhabitants of Jerusalem made Ahaziah his youngest son king in his stead: for the band of men that came with the Arabians to the camp had slain all the eldest. So Ahaziah the son of Jehoram king of Judah reigned. Forty and two years old [was] Ahaziah when he began to reign, and he reigned one year in Jerusalem. His mother's name also [was] Athaliah the daughter of Omri."
(2 Chronicles, 21/16-22/2, 2Kings, 8/25-26, 9/29, KJV, TBR, BSI, Bangluru, 2008)
’’اور خُداوند نے یہورام کے خلاف فلستیوں اور اُن عربوں کا جو کوشیوں کی سمت میں رہتے ہیں دِل اُبھارا۔ سو وہ یہوداہ پر چڑھائی کر کے اُس میں گھس آئے اور سارے مال کو جو بادشاہ کے گھر میں ملا اور اُس کے بیٹوں اور اُس کی بیویوں کو بھی لے گئے ایسا کہ یہوآخز کے سوا جو اُس کے بیٹوں میں سب سے چھوٹا تھا اُس کا کوئی بیٹا باقی نہ رہا۔ اور اس سب کے بعد خُداوند نے ایک لاعلاج مرض اُس کی انتڑیوں میں لگا دیا۔ اور کچھ مُدّت کے بعد دو برس کے آخر میں ایسا ہوا کہ اُس کے روگ کے مارے اُس کی انتڑیاں نکل پڑیں اور وہ بُری بیماریوں سے مر گیا اور اُس کے لوگوں نے اُس کے لیے آگ نہ جلائی جیسی اُس کے باپ دادا کے لیے جلاتے تھے۔ وہ بتیس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا اور اُس نے آٹھ برس یروشلیم میں سلطنت کی اور وہ بغیر ماتم کے رُخصت ہوا اور انہوں نے اُسے داؤد کے شہر میں دفن کیا پر شاہی قبروں میں نہیں۔ اور یروشلیم کے باشندوں نے اُس کے سب سے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنایا کیوں کہ لوگوں کے اُس جتھے نے جو عربوں کے ساتھ چھاؤنی میں آیا تھا سب بڑے بیٹوں کو قتل کر دیا تھا۔ سو شاہِ یہوداہ یہورام کا بیٹا اخزیاہ بادشاہ ہوا۔ اخزیاہ بیالیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلیم میں ایک برس سلطنت کی ۔ اُس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو عُمری کی بیٹی تھی۔“
(تواریخ دوم: ۱۶/۲۱ تا ۲/۲۲ ، سلاطین دوم: ۲۵/۸۔۲۶ ، ۲۹/۹)

یعنی یہورام (اخزیاہ کا باپ) جب بنی اسرائیل کا بادشاہ بنا تو اس کی عمر بتیس (۳۲) برس تھی، اس نے آٹھ سال حکومت کی اور چالیس (۴۰) برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی موت کے بعد بنی اسرائیل کے لوگوں نے اس کے سب سے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو بادشاہ بنالیا۔ جس وقت اخزیاہ بادشاہ بنا اس کی عمر بیالیس (۴۲) برس تھی۔ اس نے صرف ایک سال حکومت کی اور دنیا سے چل بسا۔ مطلب ایک سال پہلے جب اخزیاہ کا باپ صرف چالیس سال کی عمر میں دنیا سے گیا تھا اور اخزیاہ بادشاہ بنا تھا اس وقت اخزیاہ کی اپنی عمر بیالیس (۴۲) برس تھی۔ یعنی بیٹا باپ سے دو سال بڑا تھا اور وہ اپنے ہی باپ سے دو سال پہلے پیدا ہوا تھا۔ یہ کتنی عجیب بات ہے۔ ایسا دانا شاید ہی ملے جو اس پر نہ مسکرائے۔

ایک شبہ:

محدث بریلوی کی اس تحریر پر ایک اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اپنے اعتراض کی بنیاد جس نکتے پر رکھی ہے، وہ نقطہ ہی موجود نہیں ہے تو اعتراض کا کیا مطلب؟ یعنی انھوں نے یہ لکھا ہے کہ تواریخ دوم (۹/۲۰ تا ۲/۲۱) کے مطابق باپ یعنی یہورام جب مرا تو اُس کی عمر چالیس سال تھی اور اس کی موت کے فوراً بعد اس کا بیٹا اخزیاہ تخت نشین ہوا جو اُس وقت 'بیالیس سال' کا تھا، مگر اخزیاہ اس وقت بیالیس سال کا نہیں بلکہ صرف 'بائیس سال' کا تھا جیسا بائبل میں لکھا ہوا ہے۔

إزالہ:- یہ صورتِ حال اُس وقت ہمارے سامنے بھی آئی تھی جب ہم نے ٹیلی فونک مذاکرے میں ایک عیسائی پادری کے سامنے یہ بات رکھی۔ ہم نے انھیں بائبل کے مذکورہ اقتباس کو پڑھنے کہا تو انھوں نے بائبل سوسائٹی ہند سے شائع ہندی بائبل کے الفاظ پڑھ کر سنائے جس میں 'بائیس سال' کا لفظ ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے تو ہمیں یقین نہیں آیا اور یہ محسوس ہوا کہ کچھ نہ کچھ غلطی اس مسیحی بھائی سے ہو رہی ہے، مگر دورانِ گفتگو ہی اپنے پاس موجود ہندی بائبل کو دیکھا تو ماضی کے تجربے کی روشنی میں بہت کچھ سمجھ میں آگیا جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

علمی خیانت کا انکشاف:

مختلف بائبلوں میں اس مقام پر یہورام کے بیٹے اخزیاہ (Ahaziah) کی عمر کے سلسلے میں تھوڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہمارے پاس موجود متعدد بائبلوں میں 'بیالیس سال' (Forty Two Years) کے الفاظ ملتے ہیں۔ جب کہ چند بائبلوں میں تاج پوشی کے وقت اخزیاہ کی عمر صرف 'بائیس سال' (Twenty Two Years) ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یعنی جب اس کا باپ چالیس سال کی عمر میں مرا تو وہ بائیس سال کا تھا، اور ایسا ممکن ہے کہ باپ بیٹے کی عمر میں صرف اٹھارہ سالوں کا فرق ہو۔ اس حالت میں تناقض کا یہ الزام خود بخود ختم ہو جائے گا اور محدثِ بریلوی کے اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں رہ جائے گی مگر معاملہ ایسا نہیں ہے کیوں کہ بائبل کے کچھ ایڈیشنوں میں جہاں 'بائیس سال' لکھا ہے، وہیں بہت سے ایڈیشنوں میں 'بیالیس سال' لکھا ہے۔ اُس کے علاوہ یہ کہ 'بائیس برس' کا لفظ لکھنے والے خود مطمئن نہیں ہیں جیسا کہ ان کے حوالے کے ساتھ نقل کیا جائے گا اور تیسری بات یہ ہے کہ جس دلیل کی بنیاد پر انھوں نے لفظ 'بائیس' کا ترجمہ کیا ہے، وہ دلیل نہ صرف کمزور ہے بلکہ مردہ ہے۔ تفصیلات آئندہ صفحات میں۔ آیئے! پہلے اسے ملاحظہ فرمائیں کہ کس بائبل نے کتنا لکھا ہے:

(۱-۲) بائبل سوسائٹی ہند، بنگلور، ہند کی اکائی ڈی بک روم کی جانب سے شائع بائبل کا معتبر ترین نسخہ 'کنگ جیمس ورژن' (KJV) کاپی رائٹ ۲۰۰۸ء اور اسی سوسائٹی کی اردو بائبل بنام "کتابِ مقدس" کاپی رائٹ ۲۰۰۹ء کے اقتباسات گذر چکے ہیں کہ جب یہورام چالیس سال کی عمر میں فوت ہوا تو اس کا سب سے چھوٹا بیٹا اخزیاہ تخت نشین ہوا جو اس وقت 'بیالیس سال' کا تھا، یعنی باپ سے دو سال بڑا تھا۔

(۳) نیوکنگ جیمس ورژن، ناشر: تھامس نیلسن انٹرنیشنل ان انڈیا، سکندر آباد (The Gideons International in India, Secunderabad) کاپی رائٹ ۲۰۰۹ء میں بھی تاج پوشی کے وقت اخزیاہ کے 'بیالیس برس' کا ہونے کا ذکر ہے:

"02. Ahaziah was forty-two years old when he became king, and he reigned one year in Jerusalem. His mother's name was Athaliah the granddaughter of Omri." (2Chronicles 22/2, 2Kings: 8/25-26, 9/29)

ترجمہ: "اخزیاہ جب بادشاہ بنا، وہ بیالیس سال کا تھا۔ اس نے یروشلیم میں ایک سال حکومت کی۔ اس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو عُمری کی پوتی تھی۔"

(۴) ہو بہو یہی انگریزی عبارت اس 'نیوکنگ جیمس ورژن' میں بھی ہے جسے بائبل ڈاٹ کام نے 'کاپی رائٹ تھامس نیلسن انکارپوریٹڈ ۱۹۸۲ء' (© 1982 by Thomas Nelson, Inc.) کے لوٹ کے ساتھ انٹرنیٹ پر اپلوڈ کیا ہے۔

into evil." (2Chronicles 22/2, 2Kings: 8/25-26, 9/29)

"اخزیاہ بائیس سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور یروشلیم پر ایک سال حکومت کی۔ یہ بھی اخی اب کے گھرانے کی راہ پر چلا، کیوں کہ اس کی ماں عتلیاہ جو اخی اب بادشاہ کی بیٹی اور اسرائیل کے عُمری بادشاہ کی پوتی تھی اُس نے اسے غلط مشورے دیے اور اس کو برائی کی راہ پر ڈال دیا۔"

ذرا اس کے حاشیے کو بھی دیکھ لیں:

"Some ancient translations (and see 2 Kgs 8.26) twenty-two; Hebrew forty-two."

"کچھ قدیم ترجموں (اور سلاطین دوم: ۲۶/۸) میں بائیس کا تذکرہ ہے، جب کہ عبرانی میں بیالیس کا ذکر ہے۔"

(۷) گڈ نیوز ورژن اور نیو انٹرنیشنل ورژن کی طرح معاصر انگریزی ورژن (CEV) مطبوعہ امریکی بائبل سوسائٹی کاپی رائٹ ۱۹۹۵ء کے متن اور حاشیے میں بھی مختلف چیزیں ذکر کی گئی ہیں:

"02. He was twenty-two years old at the time, and he ruled only one year from Jerusalem. Ahaziah's mother was Athaliah, a granddaughter of King Omri of Israel." (2Chronicles 22/2, 2Kings: 8/25-26, 9/29, CEV, ABS, NY, USA, ©1995)

ترجمہ: "تاج پوشی کے وقت وہ بائیس سال کا تھا۔ اس نے یروشلیم پر ایک سال حکمرانی کی، اس کی ماں عتلیاہ اسرائیل کے راجہ عُمری کی پوتی تھی۔"

اس ترجمہ اور ترجمہ نگار کا بھی حاشیہ ملاحظہ فرمائیں:

"Twenty-two: One ancient translation (see also 2 Kings 8.26); Hebrew "forty-two."

"ایک قدیم ترجمے (اور سلاطین دوم: ۲۶/۸) میں 'بائیس' جب کہ عبرانی میں 'بیالیس' ہے۔"

اس طرح کے تمام حاشیوں پر تفصیلی بحث اگلے صفحات

(۵) نیو انٹرنیشنل ورژن مطبوعہ انٹرنیشنل بائبل سوسائٹی، نیو جرسی، امریکہ کاپی رائٹ ۱۹۷۳ء، ۱۹۷۸ء، ۱۹۸۴ء اور ۱۹ویں میں ترجمہ کا متن (بائیس) اور اس کا حاشیہ 'بیالیس اور بائیس' کے سمندر میں غوطے کھا کر الگ الگ بیان دے رہے ہیں:

"02. Ahaziah was twenty-two years old when he became king, and he reigned in Jerusalem one year. His mother's name was Athaliah, a granddaughter of Omri." (2Chronicles 22/2, 2Kings: 8/25-26, 9/29)

ترجمہ: "اخزیاہ جب بادشاہ بنا، وہ بائیس سال کا تھا۔ اس نے یروشلیم میں ایک سال حکومت کی۔ اس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو عُمری کی پوتی تھی۔"

متن کے اقتباس کے مطابق جس وقت اخزیاہ بادشاہ بنا اس وقت وہ بائیس سال کا تھا، البتہ اس ترجمے پر خود ترجمہ نگار کا یہ حاشیہ بھی قابلِ مطالعہ ہے:

"Some Septuagint manuscripts and Syriac (see also 2 Kings 8:26); Hebrew forty-two"

"بعض یونانی اور سُریانی مخطوطات (اور سلاطین دوم: ۲۶/۸) میں 'بائیس' کا تذکرہ ہے، جب کہ عبرانی میں 'بیالیس' ہے۔"

بائبل کی کتابِ تواریخِ دوم کے جس باب اور اقتباس کا حوالہ دیا گیا ہے، اس پر تفصیلی گفتگو اگلے کچھ صفحات بعد ان شاء اللہ

(۶) نیو انٹرنیشنل ورژن کی طرح گڈ نیوز بائبل ٹوڈیز انگلش ورژن مطبوعہ بائبل سوسائٹی ہند، بنگلور، ہند سن ۲۰۱۶ء-۲۰۱۷ء، کاپی رائٹ امریکی بائبل سوسائٹی کا حاشیہ اور متن بھی 'بائیس اور بیالیس' کے درمیان گردش کر رہے ہیں:

"2-3 Ahaziah became king at the age of twenty-two and he ruled in Jerusalem for one year. Ahaziah also followed the example of King Ahab's family, since his mother Athaliah — the daughter of King Ahab and granddaughter of King Omri of Israel — gave him advice that led him
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!