| عنوان: | امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور علم القرآن (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری، طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | ام حبیبہ واسطی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:
جَمِيعُ الْعِلْمِ فِي الْقُرْآنِ لَكِنْ تَقَاصَرَ عَنْهُ أَفْهَامُ الرِّجَالِ
(قرآن مقدس میں سارے علوم ہیں لیکن اس کے سمجھنے سے لوگوں کی عقلیں قاصر ہیں)
قرآن مقدس معانی و مفاہیم کا بحرِ ذخار ہے۔ ہر شخص اپنی بساطِ علم کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتا ہے۔ جس کی نظر جہاں تک پہنچتی ہے وہیں تک وہ اخذ کرتا ہے۔ جس نے جتنا غوطہ خوری کی قسم قسم کے لؤلؤ و مرجان کو چنا مگر سر اٹھایا تو حیرت و استعجاب میں یہ کہنا پڑا:
حق تو یہ ہے حق ادا نہ ہوا
قرآن مقدس کے علوم کی دو جہتیں ہیں لفظی اور معنوی۔ تمام علوم کا استنباط معنوی جہت سے ہے۔ فقہ، اصولِ فقہ، فصاحت و بلاغت، علمِ تفسیر، ناسخ و منسوخ وغیرہ۔ مگر لفظی جہت سے تجوید و ترتیل، اظہار و ادغام، علاوہ ازیں رسمِ عثمانی وغیرہ ہیں۔
علمائے اصول نے قرآن مقدس کی آیات کی تقسیم کئی نہج پر کی ہے۔ مکی و مدنی آیات و سور، پھر لیلی و نہاری آیات و سور، پھر سفری و حضری، ارضی و سماوی، صیفی و شتائی، وغیرہ۔ اس کے علاوہ اسبابِ نزول کے ساتھ، زمانہ نزول، نیز کیفیتِ نزول کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان تقسیمات سے قرآن مقدس کا تاریخی پہلو اجاگر ہوتا ہے، جس سے ناسخ و منسوخ کی شناخت ہوتی ہے، تا کہ مسائل کی تہہ تک پہنچ کر یہ معلوم ہو سکے کہ حکمِ الٰہی کے کس پہلو پر امت کے لیے عمل لازم ہے۔ انہیں امور میں وہ مکررات بھی ہیں جو حسبِ واقعہ یا حسبِ ضرورت دو یا چند مرتبہ نازل ہوئیں۔
اور بعض وہ احکام جو ماسبق شریعتوں میں مذکور تھے ان کو یا تو من و عن یا خفیف تبدیلی کے ساتھ اس امت پر بھی اتارا گیا۔
اس کا ایک اہم باب تدوینِ قرآن بھی ہے۔ کہ قرآن مقدس سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جو جمع کرایا اور پھر عہدِ عثمانی میں جو کام ہوا دونوں کی نوعیتیں کیا تھیں؟ اور دونوں میں فرق کیا ہے؟
پھر قراءتِ سبعہ اور قراءِ سبعہ سے کون مراد ہیں؟ اور قرآن مقدس جو سات قراءتوں پر اتارا گیا وہ سات قراءتیں کیا وہی ہیں جو قراءتِ سبعہ متواترہ کی ہیں؟ یہ اور اس طرح کے بہت سارے موضوعات علومِ قرآن کے خواص ہیں۔
علم القرآن کے لیے متاخرین علمائے امت میں امام جلال الدین سیوطی کی الْإِتْقَانُ فِي عُلُومِ الْقُرْآنِ سب سے جامع اور اس کے تمام گوشوں پر حاوی ہے۔
امام احمد رضا اور علم القرآن
امام احمد رضا علیہ الرحمہ والرضوان جس طرح بہت سارے علوم میں فردِ فرید تھے اس طرح علومِ قرآن کے بارے میں بھی اپنے عہد کے یکتائے روزگار تھے۔ ان کی نظر قرآن مقدس پر بہت وسیع اور جامع تھی۔ آپ کی تصانیف میں علومِ قرآن کے جواہر پارے جگہ جگہ درخشاں ملتے ہیں، جو آپ کی عظمت پر دلیل ہیں۔
پاروں کی تقسیم کب ہوئی؟
آپ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عہدِ صحابہ میں پاروں کی تقسیم ہوگئی تھی؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا:
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے کتاب “الْإِتْقَان” میں جس قدر احادیث و روایات و اقوال قرآن عظیم کے ایسے امور کے متعلق ہیں جمع فرما دیئے ہیں۔ اس میں پاروں کا کہیں ذکر نہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے وقت تک یہ تقسیم نہ تھی۔ ہاں رکوع جاری ہوئے آٹھ سو برس ہوئے۔ مشائخ کرام نے الحمد شریف کے بعد پانچ سو چالیس (540) رکوع رکھے کہ تراویح کی ہر رکعت میں ایک رکوع پڑھے تو ستائیسویں شب میں کہ شبِ قدر ہے ختم ہو۔ [الملفوظ، ص: 92، مکتبہ رضا بریلی]
پاروں اور رکوع کی تقسیم کے تعلق سے کوئی واضح ثبوت نہیں مل پایا کہ کب اور کس نے کیا۔ مگر بعض قرائن سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جز اور رکوع کی تقسیم غالباً عجم کی دین ہے۔ کیونکہ عربوں میں مطبوع قرآن پاک میں پارے تو ہوتے ہیں مگر رکوع نہیں ہوتے۔ اور یہ بھی کہ پاروں کو سورتوں کے تابع کر کے طبع کیا جاتا ہے۔ البتہ احزاب و اعشار کے متعلق امامِ اہلِ سنت ایک سوال کے جواب میں مزید ارشاد فرماتے ہیں:
احزاب و اعشار زمانہ مبارک سے ہیں۔ اعشار دس دس آیتوں کے مجموعہ کا نام تھا۔ یعنی صحابہ کرام ایک عشر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھتے اور اس کے متعلق علوم و معارف جو ان کے لائق ہوتے ان سب کو حاصل کرنے کے بعد دوسرا عشر شروع کرتے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے آٹھ برس میں سورۂ بقرہ شریف ختم فرمائی اور بعد اختتام ایک اونٹ قربانی فرمایا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سورۂ بقرہ شریف بارہ برس میں پڑھی۔ [الملفوظ، ص: 92]
تو یہ امر متحقق ہے کہ احزاب و اعشار عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں مقرر ہو چکے تھے۔ اور صحابہ کرام انہیں کے مطابق تلاوتِ قرآن پاک کا شرف رکھتے تھے مگر پاروں اور رکوع کی تقسیم کا اس دور میں بھی سراغ نہیں ملتا۔
تدوین قرآن پاک
قرآن مقدس کی تدوین کے تعلق سے محققین نے جو رائے قائم کی وہ یہ ہے کہ تدوین کا عمل حضور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں ہوا ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ والرضوان نے اس تعلق سے تفصیلی کلام فرمایا ہے۔ اور عہدِ صدیقی نیز عہدِ عثمانی میں جو کام ہوا اس کی نشاندہی اس طرح کی ہے کہ قاری مطمئن ہو جائے۔ ایک سوال قاری کے ذہن میں یہ آتا ہے کہ جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مبارک دور میں قرآن مقدس کو جمع کر دیا گیا تھا، تو یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جو اپنے عہد مبارکہ میں کام کرایا ہے اس کی نوعیت کیا تھی؟ امام احمد رضا نے تفصیلی جواب مرحمت فرمایا۔ ارشاد فرماتے ہیں:
قرآن عظیم کی جمع و ترتیب آیات و تکمیل و تفصیلِ سورت زمانہ اقدس حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم میں بامرِ الٰہی حسب بیان جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام و ارشاد و تعلیم حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم واقع ہوئی تھی۔ مگر قرآن عظیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سینوں اور متفرق کاغذوں، پتھروں کی تختیوں، بکری، دنبے کی پوستوں، شانوں، پسلیوں وغیرہ میں تھا، ایک جگہ سارا قرآن مجموع نہ تھا۔ جب جنگِ یمامہ میں کہ مسیلمہ کذاب ملعون مدعیِ نبوت سے زمانہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں ہوئی، صدہا صحابہ کرام حفاظِ قرآن نے شہادت پائی۔ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دلِ الہام منزل میں حق جل وعلا نے القا کیا کہ حضرت خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر گزارش کی کہ اس لڑائی میں بہت صحابہ جن کے سینوں میں قرآن عظیم تھا شہید ہوئے۔ یونہی جہادوں میں حفاظ صحابہ شہید ہوتے گئے اور قرآن عظیم متفرق رہا تو بہت قرآن جاتے رہنے کا اندیشہ ہے۔ میری رائے میں حکم دیجئے کہ قرآن عظیم کی سب سورتیں یکجا کر لی جائیں۔ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے پسند فرمائی اور حضرت زید بن ثابت وغیرہ حفاظ صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس امرِ جلیل کا حکم دیا کہ بحمد اللہ تعالیٰ سارا قرآن عظیم یکجا ہو گیا۔
ہر سورت ایک جدا صحیفے میں تھی، وہ صحیفے تاحیاتِ صدیقی حضرت خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد حضرت امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم اور ان کے بعد ام المومنین حفصہ بنت الفاروق زوجہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 26، ص: 439]
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں قرآن کو مختلف اجزاء سے حاصل کر کے ایک جگہ بایں صورت جمع کیا گیا کہ اس کے مختلف صحیفے قائم کیے گئے۔ سب ایک جلد میں نہیں تھے۔ بس اتنا کیا گیا کہ قرآن مقدس کو محفوظ کر دیا گیا تا کہ ضائع نہ ہو جائے مگر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس کو ایک جلد میں محفوظ کیا گیا۔
جاری ہے۔۔۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، ص: 104 تا 106]
