| عنوان: | مفتی دیوبند اور جامعۃ الرضا کا امتحانی پرچہ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد جسیم اکرم مرکزی |
| پیش کش: | محمد رفیع مرکزی |
یادگارِ تاج الشریعہ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف، یوپی میں 2023ء (فروری اور مارچ) 1444ھ رجب المرجب و شعبان المعظم کو سالانہ امتحان منعقد ہوا جو بحمدہٖ تعالیٰ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا، لیکن بعدِ امتحان سوشل میڈیا پر ایوانِ صلح کلیت و دیوبندیت میں ایک عجیب ہی کھلبلی مچی ہوئی دیکھی۔
اس کھلبلی کی وجہ امامِ عشق و محبت، امیرِ کشورِ فقاہت، کنز الکرامت، جبل الاستقامت، مجددِ دین و ملت، عظیم المرتبت، رفیع الدرجات، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز کی تصنیفِ لطیف حُسَامُ الحَرَمَيْن عَلَى مَنْحَرِ الكُفْرِ وَالمَيْن کا امتحانی پرچہ تھا۔
یادگارِ تاج الشریعہ جامعۃ الرضا میں مطالعہ میں کیسی کیسی نایاب کتب داخلِ نصاب ہیں، اس کو جاننے کے لیے راقم الحروف کی تحریر “جامعۃ الرضا اور حسام الحرمین” کا مطالعہ فرمائیں۔
یہاں پر میں صرف مفتیِ دیوبند صاحب کو آئینہ دکھانا چاہوں گا کہ جو باتیں وہ جامعۃ الرضا بریلی شریف کے متعلق کہہ رہے ہیں، کیا ان کا دار العلوم دیوبند ان باتوں سے محفوظ ہے؟
مفتیِ دیوبند صاحب کہتے ہیں:
“معزز ناظرین! اہلِ سنت و جماعت احناف علمائے حق، علمائے دیوبند فرقہ ضالہ و باطلہ کے سلسلے میں زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں، خاص طور سے اپنے مدرسے میں ایسے افراد تیار نہیں کر رہے ہیں جس طریقے سے بریلی مذہب کے علما اپنے مدرسے میں اپنے طالب علموں کو تیار کر رہے ہیں، اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے۔ بالکل سچائی ہے کہ بریلی مذہب میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، اس کے کان میں اذان پڑھی جائے نہ پڑھی جائے اس سے فرق نہیں پڑتا، اقامت کہی جائے نہ کہی جائے اس سے فرق نہیں پڑتا، لیکن اس کے کان میں یہ بات ضرور کہی جاتی ہے کہ دیوبندی فرقے سے بچ کر رہنا، علمائے دیوبند سے بچ کر رہنا، یہ گستاخِ رسول ہیں، یہ کافر ہیں۔”
مفتیِ دیوبند صاحب نے بجا فرمایا کہ وہ فرقۂ ضالہ و باطلہ میں زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں، کیوں کہ اگر اس پر توجہ دیں گے تو پھر کیسے کہیں گے کہ جو اوم ہے وہی اللہ ہے، جو منو ہے وہی آدم ہے (نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ)۔
پھر یہ کیسے کہیں گے کہ جیسا علم حضور کا ہے، ایسا علم تو صبی، مجنون، گدھے، خچر بلکہ جمیع بہائم کو بھی ہے (نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ خَبْطِ الْإِيْمَانِ)۔
پھر یہ کیسے کہیں گے کہ نیا نبی آ بھی جائے تو خاتمیتِ محمدی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا (نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ أَعْدَاءِ خَيْرِ النَّاسِ وَهَفَوَاتِ تَحْذِيْرِ النَّاسِ)۔
صرف یہی نہیں کہ یہ حضرات توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ آگے کہتے ہیں: خاص طور سے ایسے افراد بھی تیار نہیں کر رہے ہیں جو حق و باطل میں امتیاز کر سکیں۔
تو ظاہر سی بات ہے جب عقائد کی حفاظت کے افراد تیار نہیں کریں گے تو رام کی گود میں جا بیٹھیں گے، اوم کو سجدہ کریں گے اور ستم تو یہ ہے کہ اگر کہیں ایسے افراد تیار کر لیے جائیں تو ان کی دکان بند ہو جائے گی۔
لیکن بحمدہٖ تعالیٰ بریلی شریف اور بریلی شریف کے ماننے والے تمام حضرات آج بھی اس طرف خاصی توجہ دیتے ہیں اور عقائد و ایمان کے تحفظ کے لیے علما تیار کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ چمنِ حافظِ ملت، باغِ فردوس الجامعۃ الاشرفیہ میں طلبائے کرام سے قادیانی اور طواغیتِ اربعہ کی تکفیر کے سلسلے میں دستخط بھی لیے جاتے ہیں اور اس پر قائم رہنے کے لیے حلف بھی اٹھواتے ہیں۔
آج بھی “منصفانہ جائزہ” الجامعۃ الاشرفیہ میں کتبِ مطالعہ میں داخلِ نصاب ہے، یہ ایک ایسی کتابِ مستطاب ہے جس نے دیابنہ وہابیہ کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے ہیں۔
ہاں! اسی لیے بریلی شریف اور اس کے متبعین ایسے افراد تیار کرتے ہیں، جب کوئی گستاخِ رسول آواز اٹھائے تو اس کی آواز کو اس کے حلق ہی میں دبوچ سکیں اور بتا سکیں:
کلکِ رضا ہے خنجرِ خوں خوار برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں
جی ہاں! بالکل سچائی ہے کہ متبعینِ اعلیٰ حضرت کو اپنی جان، مال و دولت کسی چیز کی پروا نہیں ہے، اگر پروا ہے تو ناموسِ رسالت کی حفاظت و صیانت کی پروا ہے تاکہ کوئی ناموسِ رسالت پر مغلظات نہ بک سکے، حضور کو بڑا بھائی نہ کہے۔
جی ہاں! بریلی شریف کے ماننے والے اپنے بچوں کے دلوں میں بچپنے ہی میں حضور کی محبت راسخ کر دیتے ہیں اور یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ کبھی گستاخِ رسول سے سمجھوتا مت کرنا، یہ وہابیہ دیابنہ گستاخِ رسول ہیں، کافر ہیں، ان سے دور رہنا، ان کی تعظیم مت کرنا، ان کے پاس مت بیٹھنا، ورنہ یہ تمھیں بھی یہی سکھائیں گے کہ حضور بڑے بھائی ہیں، ہماری طرح بشر ہیں، اوم اللہ ایک ہے، منو آدم ایک ہے (نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ أَعْدَاءِ الدِّيْنِ)۔
آگے مفتی دیوبند صاحب کہتے ہیں:
“اس کو سمجھنے کے لیے یہ ایک وائرل ہونے والا امتحان کا پرچہ ہی کافی ہے، دیکھیے یہ پرچہ بریلی میں واقع ایک مدرسہ مرکزِ۔۔۔ ایں۔۔۔ جامعۃ الرضا، جس میں تقریباً سات سو کے قریب بچے پڑھتے ہیں، ان میں کیسے افراد تیار کیے جاتے ہیں، اس پرچے کو پڑھنے کے بعد آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ بریلی مذہب کے علما اپنے طلبا کو کس طرح سے تیار کر رہے ہیں، علمائے حق، علمائے دیوبند کے خلاف۔”
قارئینِ کرام! کچھ دیر کے لیے یہیں پر ٹھہر جائیں اور مفتیِ دیوبند کی عبارت خوانی اور اردو دانی کو ملاحظہ فرمائیں اور دل ہی دل میں مسکرائیں۔
مفتیِ دیوبند سے مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا کی عبارت بھی صحیح سے نہیں پڑھی گئی، پھر بھی اس کی ہمت پر داد دینی چاہیے کہ انھوں نے پڑھنے کا آغاز ضرور کیا، اگرچہ انھیں ‘مرکزِ’ کے بعد کیا ہے اس میں تأمل ہوا، چلیے کوئی بات نہیں، ایسا ہوتا رہتا ہے۔
البتہ اردو دانی ضرور دلفریب ہے۔ موصوف مفتیِ دیوبند صاحب نے کہا “تقریباً سات سو کے قریب بچے پڑھتے ہیں”، میرے خیال سے دنیائے اردو اس جملے کو کبھی قبول نہیں کرے گی، البتہ تصحیح کرتے ہوئے یہ ضرور کہے گی کہ مفتی صاحب اس طرح کہیں تو ہم آپ کے جملے کو ضائع ہونے سے بچا لیں گے: “تقریباً سات سو بچے پڑھتے ہیں”۔
اب آئیے پرچے کا مَا لَهَا وَمَا عَلَيْهَا مفتیِ دیوبند صاحب کی ہی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
“میرے پاس ایک پرچہ ہے، یہ پرچہ درجۂ۔۔۔ چھٹی جماعت کے لیے جسے الصف السادس کہا جاتا ہے، چھٹی جماعت کے طلبا کے لیے یہ پرچہ تیار کیا گیا ہے، یہ مطالعہ کا پرچہ ہے، دیکھیے اس میں علمائے دیوبند کے سلسلے میں کیسے سوالات کیے گئے ہیں۔ اس پرچے میں کل سات سوال ہیں، جن میں سے:”
“پہلے سوال کا تعلق غلام احمد قادیانی سے ہے یعنی مرزائیت سے ہے۔”
“جب کہ دوسرا سوال مولانا امیر حسن، نذیر حسین اور مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ کے متعلق ہے۔”
“جب کہ تیسرا قطبِ عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ کے متعلق ہے۔ یہ سوال کیا گیا کہ (نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) مولانا رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ نے جو اللہ کی شان میں گستاخی کی ہے، اس گستاخی کو لکھتے ہوئے مولوی احمد رضا خاں بریلوی نے جو اس کے رد میں ‘سُبْحَانَ السُّبُّوْح’ لکھی ہے، اس کی روشنی میں اس کا رد لکھا جائے۔”
“اسی طریقے سے چوتھا سوال حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ‘حفظ الایمان’ کے متعلق کیا گیا ہے۔ سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں جو بات لکھی اس کی وضاحت کرو، یعنی کہ جس طریقے سے مولانا اشرف علی تھانوی نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنا علمِ غیب ہے، اتنا علمِ غیب تو بچوں اور مجنونوں کو ہے (نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ)، اسے لکھنے کے بعد اس پر رد لکھا جائے۔”
“پانچواں سوال حضرت مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ کی کتاب ‘تحذیر الناس’ میں جو باتیں لکھی ہیں، اس کے متعلق سوال کیا گیا ہے۔ اسی طریقے سے خاص طور سے اس بات کو بھی پوچھا گیا ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختمِ نبوت کے سلسلے میں واہیات ان کے قول کے مطابق لکھی ہیں، اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس کا رد بھی لکھا جائے۔”
“جب کہ پانچویں اور ساتویں۔۔۔ ایں۔۔۔ چھٹے اور ساتویں سوال کا تعلق حسام الحرمین پر جو علما نے تقاریظ لکھی ہیں، ان میں سے دو علما کا نام لکھ کر انھوں نے تقریظ لکھی ہے، ان تقاریظ کا خلاصہ مانگا گیا ہے۔”
“اب دیکھیے چھٹی جماعت کا مطالعہ کا پرچہ ہے، اس پرچے میں کس طریقے سے سوالات کیے گئے ہیں کہ اب اندازہ لگائیں کہ یہ مولوی بنتے بنتے کتنی محنت کرتے ہوں گے، خارجی مطالعہ میں خاص طور پر علمائے حق، علمائے دیوبند کے خلاف کیسی تیاریاں کر رہے ہیں۔”
یہ ہوا مفتیِ دیوبند صاحب کی زبانی پرچے کا خلاصہ۔
میں مفتیِ دیوبند سے پوچھنا چاہوں گا:
کیا ‘تحذیر الناس’ میں قاسم نانوتوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختمِ نبوت کا انکار نہیں کیا؟
کیا ‘حفظ الایمان’ میں اشرف علی تھانوی نے حضور کا علم بچے اور مجنون کے علم جیسا نہیں بتایا؟
کیا رشید احمد گنگوہی نے امکانِ کذبِ باری تعالیٰ نہیں مانا؟
کیا مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا؟
یہ وہ باتیں ہیں جو اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، اسی لیے علمائے دیوبند گستاخِ رسول، کافر و مرتد ہیں اور قادیانی بھی اپنی واہیات و مغلظات کی وجہ سے۔
رہی بات یہ کہ اگر آپ کو پرچے میں فرقۂ ضالہ و باطلہ کے عقائد و نظریات کو بیان کرنے کی وجہ سے اعتراض ہے تو آپ یہ بتائیں:
کیا آپ کے یہاں معتزلہ کے بارے میں نہیں پڑھایا جاتا ہے کہ وہ بندوں کو ہی اپنے افعال کا خالق مانتے ہیں، شفاعت کا انکار کرتے ہیں وغیرھما؟
کیا آپ کو قدریہ کے بارے نہیں پڑھایا جاتا ہے؟
کیا رافضی تفضیلی کے بارے نہیں پڑھایا جاتا ہے؟
کیا آپ کو خارجی کے عقائد و نظریات سے واقفیت نہیں دلائی جاتی ہے؟
کیا آپ کو مودودی کے افکارِ باطلہ سے روشناس نہیں کرایا جاتا ہے؟
اگر ان تمام سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو پھر اعتراض کیوں؟ اور اگر نفی میں ہے تو آپ جھوٹے ہیں۔
اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر آپ خود اپنے گھر کو کھنگال کر دیکھتے تو خود اپنے ہی پیر میں کلہاڑی نہیں مارتے۔
دیکھیے میں آپ کو آئینہ دکھاتا ہوں، خود آپ ہی کے گھر دار العلوم دیوبند میں کس طرح فرقہ بندی کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں۔
یہ پرچہ ہے 29 ربیع الاول 1440ھ جس کے سرے پہ لکھا ہے:
امتحان ششماہی دار العلوم دیوبند
محاضراتِ علمیہ
محاضرہ ردِ مودودیت
اب آئیے پرچے کے سوالات پر بھی ایک نظر ڈالیے اور اپنے گھر کی نازیبا حرکت پر ماتم منائیے۔
سوال نمبر 1: امت میں فرقہ بندی کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ساتھ ساتھ ابتدائے اسلام کے مشہور گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف کرائیں! نیز خلاصۂ مودودیت بھی تحریر کریں۔ (30)
[مفتیِ دیوبند صاحب! آپ کو تو بہت درد ہو رہا ہوگا، آپ ہی کے گھر میں فرقہ بندی کے بنیادی اسباب پوچھے جا رہے ہیں، صرف یہی نہیں ابتدائے اسلام کے مشہور گمراہ فرقوں کا تعارف بھی کرایا جا رہا ہے، آہ! آپ کہاں پھنس گئے مفتیِ دیوبند صاحب۔ چلیے لگے ہاتھ دوسرا سوال بھی ملاحظہ فرما لیجیے، شاید یہ آپ کے لیے تریاق ثابت ہو۔]
سوال نمبر 2: مودودی صاحب کی تفسیر ‘تفہیم القرآن’ کی بنیادی خامیاں کیا ہیں؟ تفہیم القرآن کن محرکات کے تحت لکھی گئی؟ تفسیر بالرائے پر کیا وعید ہے؟ اور مودودی صاحب کو تفسیر کی نازک وادی میں قدم نہ رکھنے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟ وہ کونسے نبی ہیں کہ جن سے بقول مودودی صاحب (الْعِيَاذُ بِاللّٰهِ تَعَالَىٰ) فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہو گئی تھیں؟ وضاحت سے لکھیں۔ (30)
[اوہ! میں نے تو سمجھا تھا شاید دوسرا سوال مفتیِ دیوبند صاحب آپ کے لیے تریاق ثابت ہوگا لیکن یہ تو اس سے بھی بڑھ کر زہر نکلا، اس میں تو ایک ہی سوال میں چار چار سوال پوچھے گئے ہیں، ستم بالائے ستم یہ کہ وضاحت کے ساتھ لکھنے کو کہا گیا ہے۔ چلیے مفتیِ دیوبند صاحب کچھ دیر اس درد کو اور سہہ کر چند سوالات ملاحظہ فرما لیں۔]
سوال نمبر 3: مودودی مکتبِ فکر میں دین کا کیا تصور ہے؟ مودودی صاحب کی دعوت قبول نہ کرنے والے مسلمانوں کی ان کے یہاں کیا پوزیشن ہے؟ دعوت کی سربراہی اور اقامتِ دین کے علم برداروں کی قلابازی پر مختصر روشنی ڈالیں۔ نیز بعثتِ انبیا کے مقاصد بھی تحریر کریں۔ (30)
[چلیے مفتی صاحب! اور تھوڑی دیر رکیے، مابقیہ دو سوال اور ملاحظہ فرما لیجیے، ہو سکتا ہے یہی آپ کے لیے باعثِ تسکین بن جائیں۔]
سوال نمبر 4: کیا صحابۂ کرام معیارِ حق ہیں؟ اولاً معیارِ حق کا مطلب لکھیں، بعدہٗ صحابۂ کرام معیارِ حق ہونے کو دلائل سے مزین کریں، مودودی صاحب کا اس سلسلے میں کیا نظریہ ہے؟ صحابۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا تنقید سے بالاتر ہیں؟ اس مسئلے میں اہلِ حق کی کیا رائے ہے؟ اور مودودی صاحب کیا رائے رکھتے ہیں؟ واضح کریں۔ (30)
سوال نمبر 5: تقلیدِ ائمہ سے متعلق مودودی صاحب کا کیا مسلک ہے؟ مودودی صاحب مقلد ہیں یا غیر مقلد؟ وہ تلفیق بین المذاہب کسے کہتے ہیں؟ تلفیق کے بارے میں مودودی صاحب کا کیا فرمان ہے؟ اور علمائے حق کا متفقہ فیصلہ کیا ہے؟ نیز داڑھی کی شرعی مقدار کے سلسلے میں مودودی نظریہ بھی لکھیے۔ (30)
مفتیِ دیوبند صاحب! یہاں پر پانچوں سوال مکمل ہوئے لیکن آپ کے لیے آپ کا تریاق نہیں ملا، لہٰذا آپ بیٹھ کر اپنے اہلِ خانہ دار العلوم دیوبند پر ماتم ہی منائیں، اس کے علاوہ اور کوئی سبیل نہیں ہے۔
الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
اب بتائیں مفتیِ دیوبند صاحب! کیا کبھی آپ نے اس پرچے کے بارے میں بھی کچھ کہا ہے؟ یا یہاں آپ کی زبان خاموش ہو گئی، فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ کے زلزلے آ پڑے، قلم خشک ہو گیا یا سیاہی ہی نہیں ملی؟
اگر آپ کے یہاں ردِ فرقہائے باطلہ غلط نہیں تو بریلی شریف میں کیوں؟
میں تو یہی کہوں گا:
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا
مفتیِ دیوبند صاحب اپنی قوم سے شکوہ کرتے ہوئے آگے کہتے ہیں:
“افسوس سے کہنا پڑتا ہے، جب کبھی ہمیں فرقۂ باطلہ سے، فرقۂ ضالہ سے بات کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمارے علما یہ کہہ کر دامن چھڑا دیتے ہیں کہ ارے ان کو تو سکھاتے سکھاتے، ان کو بتاتے بتاتے، دلائل دیتے دیتے صدی گزر گئی لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں ہو رہے ہیں، لیکن یہ بتائیے کیا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ یہ ہماری بات نہیں مانتے، نہ مانیں نہ مانیں لیکن کم سے کم اپنا دفاع تو کر سکتے ہیں۔”
مفتیِ دیوبند صاحب کی یہ بہت بڑی جرأتانہ بات ہے جو مبنی بر حق ہے کہ یہ حضرات اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے بلکہ دامن چھڑانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
آج مفتیِ دیوبند صاحب نے کچھ تبدیلی کے ساتھ وہی بات کہی ہے جو ماضی قریب میں انھیں کے ایک مقتدر عالمِ دین مولانا عامر عثمانی دیوبندی نے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی کتابِ مستطاب ‘زلزلہ’ کے تاثرات میں کہی تھی:
“مگر یہ کتاب ‘زلزلہ’ جو نقد جواب طلب کر رہی ہے، اس سے عہدہ برآ ہونے کی صورت آخر کیا ہوگی؟ اپنی کسی غلطی کو تسلیم کرنا تو ہمارے آج کے بزرگانِ دین نے سیکھا ہی نہیں۔ انھوں نے صرف یہ سیکھا ہے اپنی کہے جاؤ اور کسی کی مت سنو۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى اس کتاب کے ساتھ ان کا سلوک اس سے مختلف نہیں ہوگا۔” [تجلی دسمبر 1972ء، ص: 90]
اس لیے مفتیِ دیوبند صاحب! آپ مان جائیے یہ لوگ اپنا دفاع کسی صورت نہیں کر سکیں گے۔
بس ایک ہی راستہ ہے اور وہ وہی جو آپ ہی کے مقتدر عالمِ دین مولانا عامر عثمانی دیوبندی نے اپنے علما کو دکھایا تھا:
کہ ان تمام کتبِ دیابنہ کو جن میں واہیات لکھی ہوئی ہیں بیچ چوراہے پر رکھ کر آگ لگا دو! [حوالہ سابق]
یہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے کہ یہ وار وار سے پار ہے
