Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مطالعۂ سیرت کی اہمیت و افادیت

مطالعۂ سیرت کی اہمیت و افادیت
عنوان: مطالعۂ سیرت کی اہمیت و افادیت
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کی ضرورت و اہمیت ہر مسلمان پر اظہر من الشمس ہے، کیونکہ سیرت کا مطالعہ ایک اہم دینی ضرورت ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت دینِ متین کا بنیادی ماخذ ہے۔

اور یہ سیرتِ نبوی کا اعجاز ہے کہ اتنے جامع اور اکمل انداز میں موجود ہے۔ دنیا کے کسی بھی انسان کی سیرت اتنے جامع انداز میں موجود نہیں ہے۔ اور یہ جامعیت و اکملیت اس لیے ہے کہ رہتی دنیا تک تمام اقوامِ عالم کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روشنی حاصل کرنا تھی تو اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی سیرت کی حفاظت کا ایسا حسین انتظام فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو روزِ روشن کی طرح ہمارے سامنے موجود ہے۔ سیرت النبی کے مطالعہ کی اہمیت ہر دور میں رہی ہے، لیکن موجودہ دور میں اس کی اہمیت و افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت ہے کہ مختلف پہلوؤں سے جدید انداز میں سیرت کو پیش کیا جائے۔

محبتِ رسول کا تقاضا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کی جان ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دل میں ہر چیز سے زیادہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو۔

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 44]

یعنی تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مدارِ ایمان ہے۔ اس محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھا جائے، کیونکہ انسان جس سے جتنی زیادہ محبت کرتا ہے اس کا ذکر بھی اتنی ہی کثرت سے کرتا ہے۔

یہ محبتِ رسول کا تقاضا ہی تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ایک دوسرے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور آپ کی صفات پوچھتے تھے اور اسی عمل کی اتباع تابعین نے کی۔ علماء و محدثین نے محبتِ رسول میں سرشار ہو کر احادیث اور احوالِ نبوی کی جمع و تدوین کا اہم کام انجام دیا۔

محبتِ رسول میں اضافہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے حصول اور اس میں اضافے کا ایک بہترین ذریعہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا اور آپ کی خصوصیات اور پاکیزہ احوال پر مطلع ہونا ہے، کیونکہ انسان کسی بھی ہستی کو جس قدر پڑھتا اور اس ہستی کی منفرد خصوصیات اور احوال پر مطلع ہوتا ہے، اسی قدر اس کے دل میں اس ہستی کی محبت بڑھ جاتی ہے۔ اور یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعہ میں نہایت ہی بلندی کو پہنچتا ہے۔ یہ مشاہدہ ہے کہ جو شخص نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ جس قدر زیادہ اور جتنی وارفتگی سے کرتا ہے، وہ محبتِ رسول اور عشق میں اسی قدر ہی اعلیٰ و ارفع منازل طے کرتا ہے۔

قرآنِ کریم کا سمجھنا سیرت کے مطالعہ پر موقوف

قرآنِ کریم مسلمانوں کے لیے قانونِ زندگی، شریعت کا ماخذ، علم و حکمت کا سرچشمہ اور کامیابی کا عظیم نسخہ ہے۔ لیکن اس نسخہ سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بہت زیادہ نفع بخش ہے، کیونکہ قرآن کے آفاقی پیغام کی تشریح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت ہی کے ذریعہ ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے۔ الفاظِ قرآن کی صحیح تعبیر و معانی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعہ پر ہی موقوف ہے۔ اسی طرف ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے قول سے اس طرح اشارہ فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق تو قرآن تھا۔

اتباعِ رسول کے حکم پر عمل سیرت کے مطالعہ پر موقوف

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت نے اپنی اطاعت و پیروی کے حکم کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اپنی محبت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے معلق فرمایا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [سورۃ النساء: 59]

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي [سورۃ آل عمران: 31]

اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ۔

ان دونوں آیات پر غور کیجئے، اللہ رب العزت نے اپنی اطاعت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو بیان فرمایا اور اپنی محبت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے ساتھ جوڑ دیا۔ اس سے پتہ چلا کہ جو دنیا و آخرت میں کامیابی چاہتا ہے اور جو اللہ رب العالمین کی رضا کا طلبگار ہے، اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنا ہوگی اور اس کے لیے سنتِ مصطفیٰ کا علم ضروری ہے جو نبی کریم کی سیرت کے مطالعہ سے حاصل ہوگا۔

ہمیں چاہیے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رشتے کو مضبوط کرتے ہوئے خود بھی سیرت کے مطالعہ کے عادی بنیں اور دوسروں کو بھی اس طرف رغبت دلائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پکی محبت عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔ [ماہنامہ فخربہار، جولائی 2026ء، ص: 43 تا 45]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!