| عنوان: | اسلام کا نظامِ طلاق (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد اسحاق مصباحی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
(ترجمہ) یہ حدیثِ معنی متواتر ہے اگرچہ عبارتیں اس کی چند ہیں۔ اس کو چند صحابہ نے بھی روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی اسناد سے روایت کیا کہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے کہا، فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امت یا فرمایا امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی طرح گمراہی پر متفق نہ ہوگی۔
میرے یارو! اب بتاؤ کیا کہو گے۔ تصریح ہے کہ تمام صحابہ اور ائمہ کرام نے اس مسئلہ پر اجماع و اتفاق کیا ہوا ہے اور حدیثِ شریف ناطق ہے کہ ان کا اجماع عنداللہ و عندالرسول حق ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا خلاف گمراہی۔ اسی لیے ائمہ فرماتے ہیں کہ اجماع کا خلاف بسا اوقات کفر کا راستہ ہو سکتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ان غیر مقلد حضرات کو کسی بھی صورت میں ایمان دار کہلانے کا بھی حق نہیں، چہ جائیے کہ اہلِ حدیث نام رکھیں۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی تصدیق کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نافذ فرمایا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ واللہ کوئی معمولی بات نہیں۔ کچھ اور ثبوت نہ ہو تو یہ ہی کیا کم ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ جن کی تصدیق، اٹھارہ جگہ کتاب اللہ نے فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے جن کی زبان پر حق جاری فرمایا، وہ جن کے بارے میں خود شارع و حاکم حبیبِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عَنْ حُذَيْفَةَ رضي اللہ تعالیٰ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رضي اللہ تعالیٰ عنہما۔
(ترجمہ) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر میں اندازہ نہیں کہ میں تمہارے کتنا ٹھہروں تو تم لوگ ان دونوں کی اقتداء کرو جو میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما۔
ہمیں صراحتاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے بارے میں حکم ہے کہ ہم اس کو مانیں۔ ابھی آپ میرے ساتھ چلیے، دیکھیے ایک طرف تو تمام ائمہ کرام ہیں، جمہورِ صحابہ کرام ہیں چودہ سو سال تک کے تمام علماء کرام ہیں اور ان کا فیصلہ ہے۔ دوسری طرف ساتویں صدی کا ایک شخص ابنِ تیمیہ ہے، اس نے پہلے تو اس پر فتویٰ دیا اور کہا کہ اس پر اجماع ہے، پھر اس کے خلاف فتویٰ دیا اور کہا یہ درست ہے۔
آج تمام غیر مقلد حضرات اور شیعہ حضرات ابنِ تیمیہ کی اقتداء اس مسئلہ میں کرتے ہیں۔ اس شخص کو اس دور کے تمام علماء کرام نے گمراہ قرار دیا، اس کی کتابوں کی تلاش کی، تو ان میں مجوسیوں، یہودیوں کے عقائد ملے۔
لیکن موجودہ دور کے وہابی حضرات نے اس کو امام المسلمین بنا ڈالا، اس پر عالمِ عرب چیخ اٹھا اور پہلے کی طرح ہزاروں فاضلانِ عرب نے اس کا رد کیا اور نہایت دیانت داری سے اس کی کتابوں سے اس کی گمراہی ثابت کی، انہیں فاضلانِ عرب میں علامہ ابنِ عتیق یعقوبی ہیں۔ وہ اپنی کتاب “فتاویٰ ابنِ تیمیہ” میں فرماتے ہیں اور ان مسائل کا اجمالی ذکر کرتے ہیں جن کا رد علماء کرام نے اس کی زندگی میں ہی کیا تھا۔
ابنِ تیمیہ کی شوخ چشمیاں
ابنِ تیمیہ کا کہنا ہے کہ حائضہ کی طلاق نافذ نہ ہوتی ہے، اور یہ کہ تین طلاق کا مرجع اور حکم ایک ہے۔ حالانکہ یہی ابنِ تیمیہ اس سے قبل اس مسئلہ پر نقلِ اجماع کر چکے تھے، اور اُس نے کہا تھا کہ جس نے طلاقِ حائضہ کے نفاذ و طلاقِ ثلاثہ کے نفاذ کی مخالفت کی اس نے کفر کیا اور پھر خود ہی ایسا کر بیٹھا، اور اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ نمازِ عمداً چھوڑنے پر قضا نہیں اور یہ کہ حائضہ طوافِ خانہِ کعبہ کرے گی اور کفارہ نہیں، اور یہ بھی کہنا ہے کہ سیال چیزیں چھو لیا وغیرہ کے ان میں مرنے سڑنے سے ناپاک نہیں ہوتیں اور یہ بھی کہنا ہے کہ ناپاک شخص یعنی حالتِ جنابت والا نمازِ شب (رات) میں بغیر نہائے پڑھ لے گا اور فجر تک نہانے پر موقوف نہ رکھے گا، اگرچہ آبادی میں ہو اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مٹنے و پیدا ہونے والی چیزوں کا محل ہے اور یہ کہ اسے ہاتھ، آنکھ اور پنڈلی کی ضرورت ہے اور یہ کہ قرآن مٹنے و پیدا ہونے والی چیزوں میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات میں، اور یہ کہ عالمِ قدیم ہے نوع کے اعتبار سے اور ایک حصہ کتاب اس بارے میں لکھی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا علم غیر متناہی سے متعلق نہیں۔ جیسے اہلِ جنت کی نعمتیں، اور یہ کہ انبیاء گناہوں سے پاک نہیں، اور یہ کہ اہلِ دوزخ کا عذاب ابدی نہیں ختم ہو جائے گا، اور یہ کہ توریت و انجیل کے الفاظ و کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہ دونوں کتابیں اپنے الفاظ و کلمات پر جیسی اتریں آج تک ویسی ہی باقی ہیں۔
اس گمراہی کے نتیجہ میں اس کو قید کیا گیا اور اسی جگہ اس کی موت ہوئی، بھائیو! یہ ہیں ابنِ تیمیہ۔ اب ہمارے ان غیر مقلد حضرات کا ذوقِ دینی ہے کہ ہر مسئلہ میں اسی شخص کی اتباع کرتے ہیں جس کو تمام عالمِ اسلام متفقہ طور پر گمراہ قرار دے چکا ہے، بتائیے کس دلیل سے ہم جس کے عقائد مجوسیوں سے بھی بدتر ہیں جیسا کہ آپ دیکھ چکے۔ خلیفہِ ثانی کے فیصلہ سے بنیں اور طلاقِ ثلاثہ کو ایک طلاق قرار دیں۔
ہمارے لیے یہ ثابت ہونا چاہیے کہ شارع کا حکم کیا ہے۔ بس وہ حق ہے، یہ ثابت ہونا ضروری نہیں کہ اس کو عقل بھی قبول کرے۔ اگر عقل کے فیصلہ پر فتوے چلیں تو اب تک ہزار بار شریعت نئی بن چکی ہوتی۔
عقل اور دین
یہاں پر یہ بات بھی بتا دوں کہ اہلِ سنت اور باطل فرقوں میں بنیادی فرق کیا ہے۔ عقلِ دین کے ساتھ جہاں تک چلتی ہے اس کے فیصلہ قبول کرتے ہیں اور جہاں وہ دین سے ٹکراتی ہے، یا شک کرتی ہے، ہم اس کے خلاف دین کے فیصلے قبول کرتے ہیں۔ پورا اسلامی فلسفۂ عقائد کی تاریخ میں یہ فیصلہ کن امر ہے۔ معتزلہ فرقہ، جو ہمیشہ عقل کے فیصلوں کو ترجیح دیتا رہا گمراہ ہوا۔ اسی طرح ائمہ کرام کے وہ فیصلے جو انہوں نے قرآن و سنت کے نہایت باریک تتبع کے بعد کیے ہیں ان کے خلاف جانا اہلِ سنت کے بس کی بات نہیں ہے۔
مسلمانوں کی کم علمی سے فائدہ
غیر مقلد حضرات عام مسلمانوں کی کم علمی سے فائدہ اٹھا کر انہیں ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جب کسی کو ان کا حال معلوم ہو جاتا ہے تو وہ ہرگز ان کی سننے کو تیار نہیں ہوتا ہے اور آج بھی تمام مسلمان طلاقِ ثلاثہ کے مسئلہ میں اہلِ سنت کے ساتھ ہیں۔
لہٰذا آخر میں عرض کر دوں کہ تمام مسلمانوں کو نہ حکومت چھیڑے اور نہ یہ غیر مقلد حضرات۔ غیر مقلد حضرات تو صحابہ کرام تک کے خلاف زبان کھولنے سے نہیں ہچکچاتے ہیں۔ تمام اسلام کے بزرگوں کو خصوصاً سات سو سال تک کے مسلمانوں کو صراحتاً اور تمام مسلمانوں کو تا زمانِ نبوت، “ہمنا کا فرو مشرک” کہہ چکے ہیں۔ جیسا کہ “الدر السنیہ” نامی کتاب میں تحریر ہے۔ ہمارے مفتیانِ کرام سادہ فتویٰ لکھتے ہیں اور ان کو یہ غیر مقلد حضرات اور سر پھرے سماج سدھارک پریشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ ہماری اس مختصر گفتگو سے جس میں چند اصولی باتیں ہم پیش کر چکے ہیں اگر ان پر کوئی صاحبِ انصاف غور کرے تو نہ الجھے نہ الجھائے۔
دوستو! گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، اہلِ عشق و محبت کے اصول اور ان کی ادائیں دنیا والے نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے۔ ہم اور آپ کو اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و ہدایت پر عمل کرنا ہے اور اپنے بزرگوں کے طریقے کو سینے سے لگانا ہے۔
آوارگانِ کوئے محبت جدھر گئے
دنیا پکار اٹھی غلط راہ پر گئے
اگر دین کے فیصلوں کو عقل پر چھوڑ دیا جائے تو یہ بیچاری آئے دن فیصلہ بدلتی رہتی ہے۔ بہت سے محرمات میں فوائد بھی ہیں تو کیا عقل کے نزدیک فوائد ثابت ہونے سے ان کی حلت ہوگی؟ ہرگز نہیں، بہت سے فرائض میں بظاہر نقصان ہے تو کیا وہ فرائض نہ رہیں گے؟
یارو! تم ابھی سمجھے ہی کہاں کہ دین نام کس کا ہے، عقل کی خوبی کا نہیں۔ امرِ الٰہی کا نام دین ہے وہ جس کو چاہے دین بنا دے، اور جس کو چاہے نا جائز کر دے۔ یہی نکتہ تو شیطان نے حضرتِ آدم علیہ السلام کیسا خدا اپنے مخصوص منطقی انداز و مزاج سے شکلِ اول قیاس کی لے آیا ہے۔
خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [سورۃ الأعراف: 12]
یہی نکتہ ہمارے جماعتِ مودودی کے لوگوں اور ان کے سگے سوتیلے بھائی غیر مقلدوں اور شیعوں کو سمجھ میں نہ آیا ہے کہ لگے شریعت کے حکم میں عقلی مصلحت تلاش کرنے اور ہر ایک کو عقل پر پرکھے۔ ایک تو عقل ویسے ہی ہر جگہ اپنی ذات اور وسیع تر کائنات میں بہت سے اسرار کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے اور پھر ان بیچارہ کی عقل کا کیا کہنا کہ: “فی قلوبہم مرض فزادہم اللہ مرضا” کا مصداق ٹھہری، اور ایسی عقل جو یورپ کی تقلید، احساسِ کمتری، معتزلہ کی تقلید، کتاب و سنت کی تحقیر کا مزاج رکھتی ہے، جس کی فطرت سے انبیاء کرام کی تحقیر، وہ عقل کیونکر کسی مسئلہ میں راہِ راست پر آ سکے گی، ہرگز نہیں۔ اگر یہ غیر مقلد کچھ مزاج بدلے، علم سیکھے، ادب کے دائرہ میں آئے اور اپنی جہالت کے پردوں کو چاک کرے تو طلاقِ ثلاثہ ہی نہیں سارے احکامِ شریعت کو مرتب منظم دیکھے۔
