| عنوان: | اسلام کا نظامِ طلاق (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد اسحاق مصباحی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اعتبار کرنا ہے۔ جن چاروں اماموں پر پورا عالمِ اسلام دورِ اسلامی سے لے کر اب تک بھروسہ کرتا آیا ہے۔
ان کی بات قرآن و حدیث کا عطر ہے، خلاصہ ہے۔ انہوں نے درست سمجھا ہے، چودہ سو سال بعد ہمارے لیے اتنا امتیاز کرنا مشکل ہے، جتنا ان بزرگوں نے کیا ہے۔
ہمیں آپ پر بھروسہ نہیں۔ اس لیے نہ کہ آپ کو اُن جیسی عربی آتی ہے نہ اتنی احادیث حفظ ہیں اور نہ ہی آپ ان جیسا کردارِ بے لوث رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہم اہلِ سنت کے لیے کسی مسئلہ میں ان ائمہ کرام سے ہٹنا ممکن نہیں، چاہے فی الحال اس مسئلہ کی نوعیت کچھ ہو۔
ہمارے یہاں کوئی بھی مسئلہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ان ائمہ سے نقل ہو کر آجاوے، ہم اس کو حق مانیں گے۔ چاہے عقل اس کی تائید کرے یا نہ کرے۔
بس طلاقِ ثلاثہ کا مسئلہ بھی جس طرح ہمارے ائمہ احناف نے بیان کیا ہے اور ثابت کیا ہے، اور اس کی تائید میں کافی آیات و احادیث تحریر فرمائی ہیں۔ ہمارے لیے اس سے تجاوز کرنا ممکن نہیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے:
يُحْسَبُ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ الْبِدْعِيُّ سَوَاءٌ كَانَ وَاحِدًا أَوْ أَكْثَرَ بِاتِّفَاقِ الْأَئِمَّةِ وَخَالَفَهُمْ بَعْضُ الَّذِينَ لَا يُعَوَّلُ عَلَى آرَائِهِمْ [الفقه على المذاهب الاربعة، ج: 4، ص: 273]
(ترجمہ) مرد کی کہی طلاقِ بدعت شمار ہوگی چاہے تعداد میں ایک ہو یا زیادہ۔ یہ اتفاقِ ائمہ سے ہے اور ان ائمہ کی مخالفت بعض غیر معتبر لوگوں نے کی ہے۔
فَإِذَا طَلَّقَ ثَلَاثًا فِي طُهْرٍ وَبِكَلِمَةٍ وَقَعَ الطَّلَاقُ وَصَارَ عَاصِيًا وَذَهَبَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمُ الظَّاهِرِيَّةُ وَالشِّيعِيَّةُ أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ جُمْلَةٌ وَاحِدَةٌ [كنز الدقائق، ص: 411]
(ترجمہ) تو اگر کسی نے ایک طہر میں تین طلاق دیں یا ایک کلمہ سے، تو طلاق واقع ہو جائے گی اور گناہگار ہوگا اور ایک جماعت کہ ان میں ظاہریہ اور شیعہ ہیں، کا مذہب ہے کہ تین طلاق یک دم ایک مانی جائیں گی۔ اس کے بعد فاضلِ محشی نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا وہ قول نقل کیا ہے جس سے ان لوگوں کو شبہ ہوا، اور اس کا وہ جواب نقل کیا ہے جو علامہ عینی شارحِ بخاری نے دیا ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَ الطَّلَاقُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ وَخِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ وَاحِدَةً فَأَمْضَاهَا عُمَرُ رضي اللہ تعالیٰ عنہ۔
(ترجمہ) ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ طلاق زمانہ رسالت و ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ میں، ایک صورت میں رائج تھی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کو نافذ فرمایا۔
جواب یہ دیا کہ اس روایت میں اتنا ہے کہ طلاق واحد تھی یہ کب ہے کہ تین واحد تھیں، اور اگر ہوں بھی تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اس زمانہ میں لوگ ایک ایک کر کے طلاق دیتے تھے جیسے اب لوگ اکٹھا تین بول دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ یوں کہ نیا تھا بدعت فعلی تھا۔ لہٰذا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا وہ حکم بھی بیان فرما دیا جو اس وقت خلیفۂ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جاری فرمایا تھا کہ وہ نافذ ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حدیث ابنِ طاؤس کے واسطہ سے مروی ہے اور ائمہ کا کہنا ہے کہ ابنِ طاؤس کے شاگردوں نے فتویٰ وہی دیا ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تھا تو اگر یہ نسبتِ قول صحیح ہوتی تو اب طاؤس کے تمام شاگرد ایک صدی تک تو یہ سلسلے جاری رکھتے۔
بہر حال اس کے علاوہ ائمہ کرام نے چند اور احادیثِ مرفوعہ بھی ذکر کی ہیں جن میں طلاقِ ثلاثہ کو نافذ کیا گیا ہے، اور تمام مذکورہ واسطوں میں حدیث کا یہ جملہ ضرور ذکر کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو نافذ فرمایا ہے، لہٰذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکثر احادیث اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اور تمام عالمِ اسلام میں آج تک اس فیصلہ کو برقرار رکھنے کا حکم ائمہ کرام دیتے رہے ہیں۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو نافذ فرمایا، صحابہ کرام نے انکار نہ فرمایا تو تمامِ امت کا اتفاق ہوا۔ اب بتائیے کہ ایک زیرِ بحث اسناد پر عمل کرتے ہوئے اس اجماع اور تمام احادیث کو چھوڑنے والے اہلِ حدیث کہلانے کے مستحق ہیں؟
ہاں، اے غیر مقلدو! تم کو یہ حق تو حاصل ہے کہ کہو ہم اپنی خواہش پر عمل کرتے ہیں، یہ نہ کہو کہ حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ طلاقِ ثلاثہ پر اجماعِ امت ہے، جیسا کہ آگے آتا ہے۔
شامی جلد ۴ صفحہ ۴۳۴ میں ہے:
ذَهَبَ جُمْهُورُ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّهُ ثَلَاثٌ [شامی، ج: 4، ص: 434]
تمام صحابہ کرام و تابعین اور تمام بعد کے علماء، فقہاء، امامانِ ملتِ اسلامیہ کا یہی مذہب ہے۔ کہ تفسیر صاوی میں اس کو مجمع علیہ بتایا ہے اور فرمایا زیرِ آیت فَلَا تَحِلُّ لَهُ:
أَمَّا الْقَوْلُ بِأَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ فِي مَرَّةٍ وَاحِدَةٍ لَا تَقَعُ مِنْهَا إِلَّا طَلْقَةٌ وَاحِدَةٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا لِابْنِ تَيْمِيَّةَ وَرَدَّ عَلَيْهِ أَئِمَّةُ مَذْهَبِهِ حَتَّى قَالَ الْعُلَمَاءُ إِنَّهُ الضَّالُّ الْمُضِلُّ وَنِسْبَتُهَا إِلَى الْإِمَامِ أَشْهَبَ بَاطِلَةٌ.
(ترجمہ) اب یہ کہنا کہ طلاقِ ثلاثہ، بیک وقت کی صرف ایک نافذ ہوگی، یہ مذہب ابنِ تیمیہ کے علاوہ کسی کی طرف منسوب و معروف نہیں۔ اس پر اس کے مذہب کے علماء یعنی حنابلہ نے رد کیا ہے۔ بلاشک وہ راہِ گم کردہ اور گمراہ کرنے والا ہے اور اس قول کی نسبت امام اشہب کی طرف باطل و بے واقعہ ہے۔
لہٰذا صاحبو! طلاقِ ثلاثہ کا نفاذ، اس پر اجماعِ امت ہو چکا ہے۔ اب اگر آپ کہیں کہ ہمیں دورِ صحابہ میں اس کے خلاف بھی روایت ملتی ہے، تو ہم عرض کریں گے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا فرمانا “فامضاها عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ” خود ہی اس اجماع کو ثابت کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کو اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ پسند نہ ہوتا تو وہ ضرور اس کے خلاف زبان کھولتے اور یہ کہتے کہ “لیس بحق” یا کہتے “اخطا عمر”۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطا کی، مگر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طلاقِ ثلاثہ کو نافذ کر دیا۔ مطلب ظاہر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفۂ وقت ہیں اور امامِ مطلق و مجتہد ہیں۔ لہٰذا جب انہوں نے نافذ کرنے کا فیصلہ لیا تو کسی کو بھی مجالِ دم زدن نہیں۔ یہ آخری جملہ ہی آپ حضرات کا رد کر رہا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غلط کیا، معاذ اللہ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اس غلط فیصلہ کو قبول فرمایا۔ جیسے آپ غیر مقلد حضرات کہتے ہیں تو پھر تو تمام صحابہ کرام سے امان اٹھ جائے گا اور تمام دین جو ہم تک صرف صحابہ کرام کے واسطہ سے آیا ہے، ایک مشکوک امر ہو جائے گا۔
لہٰذا ہمارے نزدیک تو تمام صحابہ کرام عادل ہیں، ہم تو ان کی بات کا درست معنی تلاش کریں گے، نہ کہ ان کو غلط کہیں گے۔ یہ جرات تو صرف آپ حضرات میں ہے کہ صحابہ کرام اور تمام عالمِ اسلام کو گمراہ و غلط قرار دے دیں۔
اور دوستو! یہ بھی عرض کر دوں اگر بالفرض دورِ صحابہ میں اس پر اجماع نہ بھی ہو تو بھی ائمہ اربعہ کا اجماع کافی ہوگا۔ کیونکہ متاخرین کا اجماع بھی قطعی ہوتا ہے۔ نور الانوار میں ہے:
يَعْنِي أَنَّ الْإِجْمَاعَ فِي الْأُمُورِ الشَّرْعِيَّةِ فِي الْأَصْلِ مُفِيدٌ لِلْيَقِينِ وَالْقَطْعِيَّةِ فَيَكُونُ حُجَّةً [نور الانوار، ص: 225]
مصنف کا مطلب ہے کہ اجماعِ شرعی امور میں، اصل میں یقین کا افادہ کرتا ہے تو حجت قطعیہ ہوتا ہے۔ اجماع پر بحث کرتے ہوئے مزید فرمایا:
بَلِ الصَّحِيحُ أَنَّهُ يَنْعَقِدُ عِنْدَهُ إِجْمَاعُ الْمُتَأَخِّرِينَ وَيَرْتَفِعُ الْخِلَافُ السَّابِقُ مِنَ الْبَيْنِ [نور الانوار، ص: 223]
بلکہ درست یہ ہے کہ امامِ اعظم کے نزدیک متاخرین کا اجماع بھی منعقد مانا جائے گا اور سابقہ اختلاف اس کے بیچ سے اٹھ جائے گا۔ فاضلِ محشی مزید سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں:
لِأَنَّ دَلِيلَ السَّابِقِينَ الْمُخَالِفِينَ لَمْ يَبْقَ دَلِيلًا بَعْدَمَا انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ عَلَى خِلَافِهِ [نور الانوار، ص: 223، 225]
(ترجمہ) اس لیے کہ مخالفینِ سابقین کی دلیل اب حجت نہ رہے گی، اس کے خلاف پر اتفاق ہو جانے کے بعد۔ اب جبکہ اس مسئلہ پر اجماع ہو گیا تو وہ غلط نہ ہوگا، کیونکہ حدیث شریف میں ہے:
لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى الضَّلَالَةِ [نور الانوار، ص: 225]
یعنی میری امت گمراہی پر اتفاق نہ کرے گی۔
یہاں پر فاضلِ محشی اس حدیث شریف کی تخریج کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:
هَذَا الْحَدِيثُ مُتَوَاتِرُ الْمَعْنَى وَإِنْ رُوِيَ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ وَرَوَاهُ عِدَّةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْ قَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلَى ضَلَالَةٍ.
