Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام کا نظامِ طلاق (قسط: دوم) | مولانا محمد اسحاق مصباحی

اسلام کا نظامِ طلاق (قسط: دوم)
عنوان: اسلام کا نظامِ طلاق (قسط: دوم)
تحریر: مولانا محمد اسحاق مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

جدید تہذیب اور حقوقِ نسواں کے دعوے

سمجھیں، ہم نے اس وقت بھی آپ کی نہیں مانی تھی اور اب آپ بدل گئے اور کہنے لگے کہ مرد و عورت دونوں کو کمانا ہوگا۔ دونوں اقتصادی طور پر ایک دوسرے کے محتاج نہ ہوں گے، ہم نے آپ کی یہ بھی نہ سنی۔ پھر آپ نے کہا کہ عورت کو ان تمام محاذوں پر جانا ہوگا جہاں مرد جاتا ہے، ہم نے کہا عورت کو وہاں جانا ہوگا جہاں اس کے بدن کی ساخت اور حکمِ الٰہی اجازت دیتا ہے۔

پھر آپ نے کہا کہ عورت کو ہر مرد سے شناسا ہونے کی اجازت ہونا چاہیے، ہم نے کہا ہرگز نہیں۔ پھر آپ کہتے تھے کہ طلاق ہونا ہی نہیں چاہیے، ہم نے کہا کہ یہ خلافِ فطرت ہے۔ پھر آپ نے بالآخر ہماری مانی اور پھر طلاق آپ کو اتنی اچھی لگی کہ سب سے زیادہ طلاقیں یورپ میں ہونے لگیں۔ آپ نے طویل تاریخی سفر میں ہزاروں فیصلے بدلے ہیں اور ٹھوکریں کھائی ہیں۔ ہمیں کتابِ الٰہی کا نور ملا، ہم نے کبھی ٹھوکر نہیں کھائی۔ کبھی آپ ہم سے زنا پر سزائے موت کی تجویز سے جھگڑتے تھے، آج آپ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ کم از کم زنا پر سزائے موت ہونی چاہیے، آج کیوں مان گئے؟

ہمیں آپ حضرات کی تلون مزاجی اور قانونی غلطیاں معلوم ہیں۔ بتائیے تو ہم آپ کی کیوں کر مانیں؟ آج آپ ایک بات کہتے ہیں، کل دوسری کہتے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آپ کے پاس اللہ کا نور نہیں ہے، کتابِ مبین نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ کا مبلغِ علم نہایت پراگندہ ہے۔ آپ حضرات میں بعض تو ماسٹر ہیں، تو آپ کا مطالعہ صرف ایک شعبۂ علم کی چند اوپری سطحوں تک محیط ہو سکتا ہے اور بعض سیاسی حضرات ہیں جن کا رہنے کا اور عملی پسِ منظر نہایت بھیانک ہے اور جرائم کی دنیا میں ڈوبا ہوا ہے۔ بعض حضرات علمِ قانون کے ماہر تو ہیں لیکن ان کا اعتماد یورپی ماہرینِ قانون پر ہے اور وہ لوگ ہزاروں بار غلطیاں کر چکے ہیں، ٹھوکریں کھا چکے ہیں۔

خواتین کے حقیقی مسائل اور معاشرتی بے حسی

تیسری بات یہ ہے کہ آپ حضرات یہ سب کچھ واویلا حقوقِ نسواں کے نام پر کرتے ہیں۔ ہمیں آپ حضرات مطمئن نہیں کر سکتے کہ واقعی آپ کو حقوقِ نسواں سے دلچسپی ہے، اس لیے کہ طلاقِ ثلاثہ کے نفاذ میں چنداں حق تلفی نہیں جتنی کہ حق تلفی دوسرے میدانوں میں ہو رہی ہے اور آپ حضرات وہاں اتنا ناراض نہیں، حالانکہ وہاں اصل ہمدردی کی ضرورت ہے:

  1. کروڑوں نوجوان لڑکیاں دنیا میں شراب خانوں، رقص گاہوں اور دلال کوٹھے چلانے والے لوگوں کے پنجہ میں گرفتار ہیں، ان کو ناچنا بھی پڑتا ہے اور ایک شب میں کئی کئی گاہکوں کو جنسی اطمینان دلانا ہوتا ہے، اور ان کی مزدوری کا 90 فیصد حصہ دوسرے ظالم کھاتے ہیں۔ ان کے گاہکوں میں سماجی کارکن، تجار سے لے کر تمام جدید تہذیب کے دلدادہ لوگ ہیں۔

  2. پوری دنیا میں کمسن بچیاں مالداروں اور خاص کر بڑے لوگوں کو مستی کے لیے اسمگل کی جاتی ہیں، آئے دن آپ حضرات اس پر گفتگو کیوں نہیں کرتے؟ ان بیچاری مجبور اور پریشان و حیران بچیوں کی مدد کا شور کیوں نہیں ہوتا؟

  3. قبائل میں لڑکیوں کو مارنے کا رواج آج بھی ہے اور کئی غریب برادریوں میں دختر فروشی آج بھی جاری ہے۔

  4. عورت کو آج سرِ بازار صرف حصولِ لذت کا کاروبار اور عیش و تسلی کا سامان بنایا ہوا ہے۔ نئی تہذیب کے نام پر، آزادی کے نام پر اس کے اعضاء کی نمائش ہوتی ہے۔ اس کی تصویروں کو ہر سامان کے ساتھ فروخت کیا جا رہا ہے۔

  5. کروڑوں عورتیں ناقص غذا اور بے سود دواؤں کی وجہ سے زچگی میں لقمۂ اجل بنتی ہیں۔

  6. نشہ اور خصوصاً شراب کا نشہ دنیا میں کتنا عام ہے کہ شراب کی وجہ سے کروڑوں عورتیں اپنے شوہروں سے تنگ ہیں۔ وہ اتنے نکھٹو ہیں کہ ان کو نہ کما کر کھلا سکتے ہیں اور نہ ان کا علاج کرا سکتے ہیں، تو آپ حضرات اس شراب کو کیوں نہیں بند کراتے۔

طلاقِ ثلاثہ کے نفاذ سے زندگی اجیرن ہے یا شراب سے؟ اور اس پر ہماری حکومت خاموش ہی نہیں بلکہ شراب فروش کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ اس لعنت پر، اس برائی پر آپ حضرات کیوں خاموش ہیں؟ غرض ہر میدان میں عورت کو لوٹا جا رہا ہے، اس کی آبرو نیلام ہو رہی ہے۔ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کا گلا دبایا جا رہا ہے، اس کو جانوروں کی طرح فروخت کیا جا رہا ہے، مرد نشہ و شراب میں اس کی زندگی "حبسِ دوام" میں مبتلا کیے ہوئے ہیں اور ہمارا جدید ذہین تعلیم یافتہ طبقہ لطف اٹھاتا ہے اور جب کہیں سے طلاقِ ثلاثہ کے نفاذ کی بات آتی ہے، تو حقوقِ نسواں کا بھونپو لیے یہ سب ہمدرد نکل پڑتے ہیں۔

فسادات کی ماری لاکھوں مسلم عورتیں صبح و شام بلک بلک کر روتی ہیں، ایک ایک لقمہ کو ترستی ہیں، ہندوستان میں ہی نہیں، پوری دنیا میں اسلام مخالف قوتیں مسلم نوجوانوں کو تہِ تیغ کیے جا رہی ہیں، روزانہ بیواؤں کی تعداد بڑھ رہی ہے، کون ہے جو ان کے سہاگ کے اجڑنے پر آنسو بہائے، ان غریب و بے کس عورتوں کو ڈھارس بندھائے؟ لیکن اگر ہمارے یہ محسن بے چین ہیں تو صرف طلاقِ ثلاثہ کے لیے۔ اگر طلاقِ ثلاثہ کا نفاذ روک دیا جائے تو کیا تمام عورتیں تعلیم یافتہ ہو جائیں گی، ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟ کیا آپ تمام دنیا کو سدھار آئے کہ بس ایک طلاقِ ثلاثہ کا مسئلہ رہ گیا ہے اور اس سے نمٹنا چاہتے ہیں؟

دوستو! نہ آپ کو حقوقِ نسواں سے ہمدردی ہے اور نہ آپ کا دل مسلم خاتون کے لیے کڑھتا ہے۔ آپ جو خواہشاتِ عورت ہیں پوری کرنا چاہتے ہیں، اسلام اس میں آڑے ہے۔ لہٰذا آپ کو اسلام سے چڑ ہے، اور آپ اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کو پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں۔ آپ کو اگر مسلمانوں سے ہمدردی ہوتی تو ہندوستان میں مسلمان تعلیمی و اقتصادی طور پر ہر قوم سے پیچھے ہیں، آپ ان کو ہر جگہ ریزرویشن دیتے کہ وہ ترقی کریں، حالانکہ حال یہ ہے کہ کوئی حکومت مسلمانوں کو ریزرویشن دینے پر راضی نہیں اور اگر کوئی دو تین فیصد پر راضی ہوئی تو یہی لوگ جو طلاقِ ثلاثہ پر بے چین ہیں اور آر۔ایس۔ایس کے قریب ہیں، تلملا اٹھتے ہیں۔ لہٰذا آپ حضرات ہمیں یہ اطمینان دلانے میں قاصر رہے ہیں کہ آپ کو مسلمانوں سے ہمدردی ہے۔

اسلامی عائلی نظام کی ہمہ گیریت

آخری بات عرض کروں: اسلام ایک مکمل دستور ہے، اس میں سیاسی، سماجی، فوجی حقوق اور عائلی نظام ہیں، اس کا تعلیمی نظام ہے، اس کا عدلیہ کا نظام ہے۔ اس کے کسی مسئلہ کی خوبی اسی وقت آپ حضرات سمجھ سکتے ہیں جب آپ ہر مسئلہ کو اس نظام میں پرویا ہوا دیکھیں۔ یہاں پر صرف تھوڑا بہت عائلی نظام ہے تو اس کو آپ کیسے سمجھ سکتے ہیں۔

مسئلہ طلاق کے ساتھ، وراثت کا قانون نافذ ہونا چاہیے کہ عورت اپنے والد کی وراثت میں حصہ دار ہو، عدلیہ کا اسلامی نظام ہو کہ روبروئے قاضی ہر عورت بلا وکیل کے اپنا دعویٰ پیش کر سکے۔ اسی طرح اسلامی بیت المال کا نظام ہو کہ عورت پر تمام دروازے بند ہونے پر بیت المال اس کی کفالت کر سکے، ان سب کے بعد بھی اگر عورت کا حق مارا جائے تو آپ اعتراض کر سکتے ہیں۔ کسی ایک قانون کو لے کر اعتراض کرنا مناسب نہیں ہے۔

اور دیکھیے، آپ حضرات اسلام کے عقیدے کے قائل نہیں تو لازم ہے کہ ہمارا اور آپ کا نظریہ حیات بھی مختلف ہو۔ سارے نظام اور قانون، ہر شے کا حسن و قبح عقیدہ اور نظریہ حیات پر بنیاد رکھتا ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ ہم آپ کا عقیدہ اپنا لیں، تو یہ ہمارے اوپر فکر کی آزادی کا سلب ہوگا، جس آزادیِ فکر کے لیے آپ لوگوں نے دنیا کو سر پر اٹھا رکھا ہے۔

آپ کے سب عقائد منفی ہیں، ہمارے ایجابی۔ لہٰذا آپ ہمارے عقیدہ میں آئیے! آپ حاکمیتِ خدا کا انکار کرتے ہیں، ہم اثبات۔ آپ آخرت و حساب و قیامت کا انکار کرتے ہیں، ہم اثبات۔ آپ نبوت و رسالت کے منکر ہیں، ہم مقر۔ لہٰذا آپ کی اور ہماری کسی مسئلہ میں کیونکر بنے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جیتے ہیں دنیا میں، مگر یہ سمجھیے، آپ کو مٹنا ہے:

إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا [سورۃ بنی اسرائیل: 81]

غیر مقلدین (اہلِ حدیث) سے مکالمہ

غیر مقلد حضرات سے پوری بات: آپ حضرات خود کو اہلِ حدیث کہتے ہیں، ہم آپ سے دھوکا نہیں کھاتے اس لیے کہ ہر فرقہ جو خود میں ریب و ظن کی کیفیت پاتا ہے، ایسا خوبصورت نام تلاش لاتا ہے کہ اس کی حقیقت کا پتہ نہ چلے، مگر بھائیو! حقیقت تو حقیقت ہے، بھلا کہاں تک چھپے گی؟ قادیانی جو تمام تر زور کے ساتھ غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں، آج کل ان کے تمام لٹریچر پر تحفظ ختمِ نبوت کا عنوان ہوتا ہے۔ آپ حضرات بھی اگرچہ خود کو اہلِ حدیث کہتے ہیں مگر آپ کا تقلید کا انکار آپ کو خود بھی مسلم ہے۔

آپ کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث کے سامنے کسی انسان کی بات ماننا شرک ہے۔ مطلب آپ کا صاف ہے کہ چاروں اماموں کی بات قرآن و حدیث کا غیر ہے، یعنی ان چاروں بزرگوں نے جو کچھ بھی کہا نہ تو حدیث سے ثابت ہے نہ قرآن سے۔

تمام عالمِ اسلام ہر دور میں آج تک ان چاروں میں سے کسی ایک نہ ایک کا مقلد رہا ہے۔ تو آپ کے کہنے کے مطابق یہ چاروں امام اور ان کا مقلد عالمِ اسلام تاریخ کے طویل عرصہ میں گمراہ رہا؟ آپ کے گرو ابنِ تیمیہ اور ابنِ عبدالوہاب نجدی بھی خود کو حنبلی کہتے تھے، تو گویا آپ نے ان دونوں گرو گھنٹالوں سے بھی بغاوت کر دی۔ تمام عالمِ اسلام اپنی طویل تاریخ میں گمراہ رہا، اور آپ حضرات جن کی تعداد عام مقلدین کے اعتبار سے آٹے میں نمک جیسی بھی نہیں، ہدایت یافتہ ہوئے؟

یہ تو بہرحال عقل گوارا نہیں کرتی، اور تمام مسلمانوں کو گمراہ بتانے کا ذمہ آپ کے علاوہ کون لے سکتا ہے۔ تمام غیر مقلدین حضرات تقریباً گزشتہ صدی کی پیداوار ہیں، اور آپ کا زمانہ سرکارِ دو عالم ﷺ کے زمانہ تک ایک عظیم فاصلہ رکھتا ہے۔ یہ چاروں امام جن میں بعض تابعی ہیں اور بعض تبع تابعین، ان کا زمانہ تیسری صدی کے نصف تک پورا ہو جاتا ہے۔

وہ عمارِ دین خود کو اتنا قریب رکھ کر قرآن و حدیث سمجھ گئے، اور آپ چودہ سو سال بعد بنگال اور بھوپال میں پیدا ہو کر سب کچھ ٹھیک ٹھیک سمجھ گئے؟ عربی قواعد میں ہم ان اماموں پر اعتماد کریں اور آپ بھی، جن کا زمانہ دوسری یا تیسری صدی تک ہے جیسے خلیل، سیبویہ، مبرد اور اصمعی وغیرہ۔ اور قرآن و حدیث کے سمجھنے میں ہم آپ پر اعتماد کریں جن کو اردو بھی سالوں میں آئی ہے؟ تو بھائیو! یہ سب گل افشانیاں آپ کو مبارک ہوں، بھلا جنہوں نے دو تین واسطوں سے حدیثیں پائی ہوں، ان کے استاد صحابہ کرام ہوں یا صحابہ کرام کے بلا واسطہ شاگرد، وہ تو ٹھہرے جاہل، اور ہندوستان و پاکستان کے یہ غیر مقلد حضرات جن کا کسی طرح عالم ہونا ثابت نہیں ہے، وہ عالمِ کل! قرآن و حدیث کو سمجھنے والے ہمیں ان بزرگوں کی سمجھ پر... *(جاری ہے)*

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!