| عنوان: | نقد و نظر؛ کتاب نصابِ علمِ تخریجِ حدیث کا تاثراتی جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا راشد علی عطاری مدنی |
| پیش کش: | نوری کرن |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
"حدیثِ نبوی" شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا بنیادی مأخذ ہے، اور قرآنِ کریم کے بعد دین کی تفہیم و تشریح کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، افعال اور تقریرات کو محفوظ رکھنا اور ان کی صحت کی تحقیق کرنا امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر آج تک محدثینِ کرام نے احادیث کی حفاظت، تدوین اور تحقیق میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ تاریخِ انسانی میں بے مثال ہیں۔
علمِ تخریجِ حدیث اسی عظیم علمی روایت کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔
تخریج کا مطلب محض کسی حدیث کا حوالہ تلاش کر لینا نہیں، بلکہ یہ ایک جامع علمی عمل ہے جس میں حدیث کو اس کے اصل مصادر تک پہنچانا، اس کی مختلف روایات کو جمع کرنا، اس کی اسناد کا تجزیہ کرنا، اور اس کی صحت و ضعف کے بارے میں محدثین کے اقوال کو یکجا کرنا شامل ہے۔
یہ فن علمِ حدیث کی بنیاد ہے، اور اس کے بغیر کوئی محقق، مفتی، مفسر یا فقیہ احادیث سے صحیح استدلال نہیں کر سکتا۔ آج کے دور میں جب معلومات کی فراوانی ہے اور ہر طرف احادیث کے حوالے ملتے ہیں، لیکن ان کی صحت کی جانچ پڑتال کی صلاحیت عام مسلمانوں میں کم ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں علمِ تخریجِ حدیث کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔
سوشل میڈیا، واٹس ایپ، اور مختلف ویب سائٹس پر بے شمار احادیث گردش کر رہی ہیں جن میں سے بہت سی موضوع، ضعیف یا بے اصل ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں تخریجِ حدیث کا علم رکھنے والا شخص ہی حق و باطل میں تمیز کر سکتا ہے اور امت کو گمراہی سے بچا سکتا ہے۔
زیرِ نظر کتاب "نصابِ علمِ تخریجِ حدیث" اس اہم فن کی تعلیم کے لیے انتہائی قیمتی اور جامع کاوش ہے۔
اس کے مؤلف "مولانا عمران رضا عطاری مدنی" ہیں۔ موصوف "المدینۃ العلمیہ (دعوتِ اسلامی، انڈیا)" میں تحریری خدمات میں مصروف اور "مجلس تحریر و لائبریری" کے ہند سطح کے ذمہ دار ہیں۔ مؤلفِ محترم نے اس کتاب میں تخریجِ حدیث کے اہم پہلوؤں کو نہایت منظم اور سلیس انداز میں پیش کیا ہے۔
یہ کتاب عملی تربیت کا بہترین نصاب ہے، طالبِ علم کو قدم بہ قدم اس فن میں مہارت حاصل کرنے کی رہنمائی فراہم کرتی ہے، فقیرِ راقم الحروف کتاب کی گوناگوں خصوصیات کو ذیل میں چند جملوں میں بیان کرنے کی سعی کرتا ہے:
(1) کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی منظم ترتیب اور جامعیت ہے۔ مؤلف نے سب سے پہلے تخریج کے بنیادی معانی اور مراحل کو واضح کیا ہے، پھر اس کے بارہ فوائد بیان کیے ہیں جو طالبِ علم کو اس فن کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں۔ تخریجِ حدیث کی تاریخی روایت کو اجاگر کرتے ہوئے اولین کتب اور اصولِ تخریج پر لکھی گئی اہم تصانیف کا ذکر کیا گیا ہے، جو طالبِ علم کو اس فن کی تاریخی گہرائی اور وسعت کا اندازہ دیتا ہے۔
(2) مصادرِ تخریج کی تفصیلی تقسیم (مصادرِ اصلیہ اور مصادرِ فرعیہ) کتاب کا ایک اہم باب ہے جو طالبِ علم کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کون سے مصادر بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور کون سے ثانوی۔ یہ تفریق علمی تحقیق میں نہایت ضروری ہے۔
(3) تخریج کی مختلف اقسام (مطول، متوسط، مختصر) کی تفصیل اس کتاب کا ایک منفرد پہلو ہے۔ مؤلف نے واضح کیا ہے کہ ہر موقع اور ضرورت کے مطابق تخریج کا انداز مختلف ہو سکتا ہے۔ تحقیقی مقالات میں تخریجِ مطول کی ضرورت ہوتی ہے،جب کہ عام کتابوں میں متوسط یا مختصر تخریج کافی ہو سکتی ہے۔ یہ عملی رہنمائی طلباء کے لیے بے حد مفید ہے۔
(4) تخریج کے چھ طریقوں کی تفصیل کتاب کا مرکزی حصہ ہے۔ (١) سند و متن کے اعتبار سے تخریج، (٢) راویِ اعلیٰ کے ذریعے تخریج، (٣) موضوع کے ذریعے تخریج، (٤) غریب الفاظ کے ذریعے تخریج، (٥) مطلعِ حدیث کے ذریعے تخریج، (٦) اور وصفِ حدیث کے ذریعے تخریج۔ یہ چھ طریقے مختلف حالات میں کام آتے ہیں۔ مؤلف نے ہر طریقے کو علیحدہ علیحدہ واضح کیا ہے اور ہر طریقے سے متعلق اہم مصادر کا تعارف پیش کیا ہے۔
(5) عملی احتیاطوں اور عام غلطیوں کا ذکر اس کتاب کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ مؤلف نے واضح کیا ہے کہ تخریج کرتے وقت کن امور کا خیال رکھنا ضروری ہے اور کون سی غلطیاں عام طور پر سرزد ہو جاتی ہیں۔ یہ عملی رہنمائی طلبہ کو بہت سی غلطیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
(6) جدید دور کے الیکٹرانک ذرائع اور سافٹ ویئرز کا تعارف کتاب کو دورِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ بناتا ہے۔ مکتبہ شاملہ، جامع خادم الحرمین، جوامع الکلم، جامع الکتب التسعہ، اور التراث جیسے اہم الیکٹرانک وسائل کا تعارف اس بات کی دلیل ہے کہ مؤلف نے روایتی اور جدید دونوں طریقوں کو یکجا کر دیا ہے۔
مؤلفِ محترم کی یہ کاوش قابلِ ستائش ہے کہ انہوں نے ایک انتہائی اہم لیکن نسبتاً مشکل موضوع کو اردو زبان میں اس قدر سہل اور قابلِ فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ مؤلف کی علمی دیانت، محنت، اور فن کی گہری سمجھ اس کتاب کے ہر صفحے سے عیاں ہے۔
یہ کتاب طلبہ و علماء سبھی کے لیے یکساں مفید ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ مؤلفِ محترم کی اس کاوش کو قبول فرمائے، ان کی اشاعتِ علم کی کوششوں میں برکت عطا فرمائے، اور اس کتاب کو امتِ مسلمہ کے لیے نافع بخش بنائے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کو اس علمی خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے اور انہیں مزید علمی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور جون 2026۔ ص: 51 تا 52
