| عنوان: | استاذ زمن علامہ حسن رضا خان امام اہل سنت کی نظر میں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
یوں تو خانوادۂ رضویہ اپنے مورثِ اعلیٰ ہی سے قدرو منزلت اور تعظیم وتوقیر کی نظر سے دیکھے جاتے تھے لیکن چودہویں صدی میں اس خانوادے کی عزت وعظمت میں گویا پر لگ گئے اور کیوں نہ ہو کہ اسی صدی میں اس خاندان میں ”رضا“ کی آمد ہوئی جو نہ صرف اس خاندان کی رضا تھا بلکہ رب کی رضا تھا، محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا تھا، انبیائے کرام کی رضا تھا، اولیائے عظام کی رضا تھا، اچھے اچھوں کی رضا تھا، سچے سچوں کی رضا تھا، اہل سنت کی رضا تھا بلکہ اہل اسلام کی رضا تھا۔
وہ رضا تھا: جس نے تقدیس الوہیت کے لیے زندگی کا لمحہ لمحہ قربان کر دیا۔ جس نے عصمت انبیائے کرام اور عظمت ورفعت انبیائے عظام کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ نثار کر دیا۔ جس نے بدعقیدوں کی بدعقیدگی کا ہر موڑ پر تعاقب کرتے ہوئے قلع قمع کیا۔ جس نے ہر گام پر اہل سنت و جماعت کی شرعی، فقہی اور علمی رہنمائی کی۔ جس نے قوم وملت کی صحیح رہنمائی اور فلاح وبہبود کے لیے علمی و فنی نایاب وکم یاب نکات پرمشتمل کثیر کتب بطور تحفہ پیش کیا۔ جس نے عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم وآداب بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے امتِ مسلمہ کو روشناس کرایا۔ جس نے دین وسنت کی احیا میں اس قدر تگ ودو کی کہ ’إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا‘ کی بشارت سے مشرف ہوئے اور مجددِ وقت سے یاد کیے گئے۔
المختصر جس نے زندگی کا لمحہ لمحہ خدمتِ دینِ متین اور تحفظِ ناموسِ رسالت میں گزار دیا۔ لیکن میرے ”رضا“ نے یہ سب یوں ہی نہیں کیا بلکہ اسی خاندان میں ایک اور ذات والاتبار کی آمد ہوئی۔۔۔
جس نے میرے رضا کو خانگی ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا تاکہ یہ ذمہ داریاں تقدیس الوہیت کے کام میں رخنہ انداز نہ ہوں۔
جس نے میرے رضا کو معاشی فکر سے بے نیاز کر دیا تاکہ انبیائے کرام کی عصمت اور عظمت ورفعت کی حفاظت میں اثر انداز نہ ہو۔
جس نے میرے رضا کو انتظامی امور سے فارغ البال کر دیا تاکہ یہ بدعقیدوں کی بدعقیدگی کے تار وپود بکھیرنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔
جس نے میرے رضا کو مدرسہ منظر اسلام کے اہتمامی معاملات سے بے پروا کر دیا تاکہ یہ معاملات آپ کے لیے اہل سنت و جماعت کے شرعی، فقہی اور علمی عقدہ کشائی میں سدِ باب نہ ہوں۔
جس نے میرے رضا کی عنانِ فکر کو زمینی جائداد کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیا تاکہ آپ اپنی ذہنی اور فکری قوت وتوانائی قوم کی قیادت اور فلاح وبہبودیِ ملت کے لیے کتابیں تصنیف کرنے میں صرف ہو۔
جس نے میرے رضا کو اپنی کتابوں کی طباعتی واشاعتی پریشانیوں سے آزاد رکھا تاکہ یکسوئی کے ساتھ آپ خدمتِ دین میں مصروفِ عمل رہیں۔
یہاں تک کہ میرے رضا کو دنیا سے آزاد و بے نیاز کر دیا جس کے سبب آپ نے وہ خدماتِ دینی انجام دیں جسے دنیا دیکھ رہی ہے۔ جانتے ہیں وہ عظیم ہستی کون ہیں جس نے رضائے الٰہی کے حصول کے لیے میرے رضا کے لیے اتنی بڑی قربانیاں دیں؟ جی ہاں! تو سنیے وہ عظیم شخصیت وہ ہیں۔۔۔
جس کی ولادت باسعادت شہرِ بریلی کے علمی، عملی وروحانی خانوادہ کے چشم و چراغ علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ کے گھر ۲۲؍ربیع الاول ۱۲۷۶ھ مطابق ۱۹؍ اکتوبر ۱۸۵۹ء کو ہوئی۔
جس کی تعلیم وتربیت خاندانی بزرگوں علامہ نقی علی خان اور امام اہل سنت کے زیرِ سایہ ہوئی۔
جس کی شاعری اور نعت نگاری کا امام اہل سنت جیسی ذات معترف تھی۔
جس کی کتاب کی امام اہل سنت نے تصدیق وتوثیق فرمائی۔
جس کے سیال قلم سے دینِ حسن، نگارستانِ لطافت، ترکِ مرتضوی، آئینۂ قیامت، بےموقع فریاد کے مہذب جواب، سوالاتِ حقائق نما بررؤوسِ ندوۃ العلما، فتاوی القدودۃ لکشف دفین الندوہ، ندوہ کا نتیجہ روداد سوم کا نتیجہ، ہدایتِ نوری بجواب اطلاعِ ضروری، اظہار روداد اور کوائف اخراجات جیسی کتابوں کا ہدیہ دیا۔
جس کی نظم نگاری نے ذوقِ نعت، وسائلِ بخشش، صمصامِ حسن، قندِ پارسی، ثمر فصاحت جیسے منظومات کا خزانہ پیش کیا۔
جس کی ذات نے ”قہر الدیان علی مرتد بقادیان“ کے نام سے ردِّ قادیانیت پر پہلا باضابطہ ماہ نامہ جاری کر کے جہاں میدانِ صحافت میں ایک اہم کام انجام دیا وہیں ردِّ قادیانیت پر باضابطہ ایک نمایاں کام کیا۔
جس کی ذات نے اہل سنت و جماعت کو طباعتی اور اشاعتی پریشانیوں سے نجات دلانے والا ”مطبع اہل سنت“ کا اہتمام و انصرام کا نہایت اہم فریضہ انجام دیا ۔
جس کی ذات کو اعلیٰ حضرت کا قائم کردہ ادارہ ”دار العلوم منظرِ اسلام“ کے اولین مہتمم ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
جس کی ذات نے امام اہل سنت کو ہر طرح کی خانگی، معاشی، معاشرتی اور انتظامی فکروں سے آزاد کر کے آپ کو احقاقِ حق وابطالِ باطل کے لیے وقف کر دیا۔ جس کا اعتراف خود امام اہل سنت کو بھی تھا جبھی تو آپ نے ایک موقع پر استاذِ زمن کے تعلق سے فرمایا:
”(حسن میاں) میں جو کچھ دین کی خدمت کر رہا ہوں اس کے اجر میں باذن اللہ تم بھی حصہ دار ہو، اس واسطے کی تمھیں نے مجھے دینی خدمات کے لیے دنیا سے آزاد کر دیا ہے“
ہاں! اس ستودہ صفات کے مالک میرے رضا کا محسن، اہل سنن کا محسن بلکہ اہل اسلام کا محسن ہیں جس کو دنیا حسن رضا خان کے نامِ نامی اور استاذِ زمن اور قوتِ بازوے رضا کے القاب سے یاد کرتی ہے۔
یوں تو علامہ حسن رضا خان علیہ الرحمہ کی خوبیوں اور صفاتِ جمیلہ کا ایک جہان قائل رہا ہے لیکن ہمارا موضوع یہ نہیں بلکہ ”استاذِ زمن امام اہل سنت کی نظر میں“ ہے اس لیے اس مختصر سے تمہیدی اور تعارفی کلمات کے بعد ملاحظہ فرمائیں کہ امام اہل سنت استاذِ زمن کو کیسا دیکھتے، کیسا سمجھتے، کیسا جانتے، کیسا مانتے۔
معتبر ومستند مصنف:
تحریر وقلم سے اس خاندان کا بہت گہرا لگاؤ ہے یہی وجہ ہے کہ اس خاندان نے دنیائے اسلام کو کتابوں کے تحفے پیش کیے جس کی نظیر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔ ذرا دیکھیے خاتم المحققین امام المتکلمین علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ نے تقریباً ۴۰ کتابیں قوم وملت کو عطا فرمائی (بحوالہ تاریخِ مشائخِ قادریہ، ج: ۲، ص: ۲۹۶)۔ امام اہل سنت مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ نے ۱۰۵ علوم وفنون پر مشتمل علم وحکمت سے لبریز تقریباً ۱۰۰۰ کتابوں سے اہل سنت کو شاد کام کیا (بحوالہ امام احمد رضا کی نعتیہ شاعری، ص: ۵۹)۔ حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان علیہ الرحمہ کے نوکِ قلم سے ۱۴ تصنیفات معرضِ وجود میں آئیں (بحوالہ تذکرۂ جمیل، ص: ۱۸۴)۔ حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ نے بھی ملتِ اسلامیہ کو ۴۰ کتابوں کا تحفہ دیا (فتاویٰ مصطفویہ، ص: ۱۷۔ ۲۴) اور حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ نے بھی بڑی چھوٹی تقریباً ۵۰ یا اس سے زائد کتابیں تصنیف فرمائیں نیز ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ حضور علامہ حسن نے بھی اپنی خاندانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کتابیں تصنیف فرمائیں اور ایسی تصنیف فرمائی کہ جن کی کتاب کی امام اہل سنت نے پڑھنے اور سننے کا مشورہ دے کر تصدیق وتوثیق فرمائی۔ چناں چہ امام اہل سنت سے عرض کیا گیا:
”محرم کی مجالس میں جو مرثیہ خوانی وغیرہ ہوتی ہے سننا چاہیے یا نہیں؟“
تو آپ رضی اللہ عنہ نے جو جواب ارشاد فرمایا اس سے نہ صرف کتاب بلکہ مصنف کتاب کی استنادی حیثیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
”مولانا شاہ عبد العزیز صاحب کی کتاب جو عربی میں ہے وہ یا حسن میاں مرحوم میرے بھائی کی کتاب ”آئینہ قیامت“ میں صحیح روایات ہیں، انھیں سننا چاہیے، باقی غلط روایات کے پڑھنے سے نہ پڑھنا اور نہ سننا بہت بہتر ہے“۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۲۹۳)
متشرع شاعر:
شعر وشاعری خصوصاً نعتیہ شاعری اس خاندان کے لیے جز لاینفک کا درجہ رکھتی ہے جس کا بین ثبوت اس خاندان کے تقریباً تمام مشہور شخصیات کے نعتیہ دیوان ہیں۔ امام اہل سنت کے حدائقِ بخشش کو کون نہیں جانتا؟ حجۃ الاسلام کے بیاضِ پاک کا علم کس کو نہیں؟ مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے سامانِ بخشش سے کون واقف نہیں؟ ریحانِ ملت کے ریحانِ بخشش سے زمانہ واقف ہے اور تاج الشریعہ کے سفینۂ بخشش سے دنیا آشنا ہے۔ استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان کو اپنے اس خاندانی ورثے سے کچھ زیادہ ہی حصہ ملا جیسا کہ ان کے شعری مجموعات سے واضح ہے۔ استاذِ زمن کس پایہ کے شاعر تھے؟ آپ کا شعری مزاج کیسا تھا اور آپ کے اشعار کیسے ہوتے تھے؟ ملاحظہ فرمائیں امام اہل سنت کی زبانی۔ امام اہل سنت فرماتے ہیں:
”سوا دو کے کلام کے کسی کا کلام میں قصداً نہیں سنتا، مولانا کافی اور حسن میاں مرحوم کا کلام اوّل سے آخر تک شریعت کے دائرہ میں ہے البتہ مولانا کافی کے یہاں لفظ ”رعنا“ (یعنی نازک، حسین۔ یہ لفظ عام طور پر مجازی محبوبوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔) کا اطلاق (یعنی استعمال) جا بجا ہے اور یہ شرعاً محض ناروا وبے جا (یعنی نامناسب اور بے فائدہ) ہے، مولانا کو اس پر اطلاع نہ ہوئی ورنہ ضرور احتراز فرماتے۔ حسن میاں مرحوم (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے یہاں بِفَضْلِہِ تَعَالٰی یہ بھی نہیں۔ اُن کو میں نے نعت گوئی کے اُصول بتا دیئے تھے، اُن کی طبیعت میں ان کا ایسا رنگ رچا کہ ہمیشہ کلام اُسی معیارِ اعتدال پر صادر ہوتا۔ جہاں شبہ ہوتا مجھ سے دریافت کر لیتے ۔۔۔ غرض ہندی نعت گویوں میں ان دو کا کلام ایسا ہے۔ باقی اکثر دیکھا گیا کہ قدم ڈگمگا جاتا ہے“۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۲۲۵، ۲۶)
