| عنوان: | نوجوان علما میں بغاوت کے تیور یوں ہی تو نہیں؟ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
(ح) افراد شناسی کا ہنر پیدا کریں اور زبان درازوں، تملق پیشہ جاہلوں اور مٹھی بھر لوگوں کے حلقوں سے باہر نکل کر سوچنے کا گر پیدا کریں تاکہ غلط فہمیاں نہ پنپیں۔ ماضی قریب میں ہمارے بزرگوں کے ناک آنکھ بننے والوں نے سنیت کو جتنے دھڑوں میں بانٹا، اس کی تباہیاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔
(ط) خدانخواستہ اگر ماتحتوں کے درمیان دوریاں پیدا ہو گئی ہوں تو کچے کانوں کا استعمال کرنے اور فریق بننے کی بجائے معاملات کا تصفیہ کریں۔
(ی) اپنے ماتحتوں کی غربت کا استحصال کرتے ہوئے ان کی علمی، قلمی اور تصنیفی صلاحیتیں اپنے نام غصب نہ کریں تاکہ خاموش بغاوتیں نہ پیدا ہوں۔ اس وقت مصنف بننے کے شوق میں کچھ مذہبی تحریکوں کے امیر، اداروں کے سربراہ، مدرسوں کے مہتمم اور خانقاہوں کے سجادہ نشین یہ کام کر رہے ہیں اور اپنی تمام تر غیر علمی مصروفیات کے باوجود ہر سال اپنی مالی استطاعت کے مطابق درجن، نصف درجن کتابوں کے مصنف بنتے جا رہے ہیں اور غریب اصحابِ قلم دیانت کو بالائے طاق رکھ ہلکے داموں میں قلم فروخت کر رہے ہیں۔ یہ چوری اور سینہ زوری زیادہ چل نہیں پاتی۔ ادبی دنیا میں سہ ماہی “اثبات” بمبئی نے حالیہ دنوں میں “سرقہ نمبر” نکال کر بڑے بڑے ادبی چہروں سے نقاب کشائی کی ہے اور پرانے گڑے مردے اکھاڑے ہیں۔ مذہبی دنیا کو بھی ایسے کسی بے باک محاسب اور حاضر دماغ نقاد سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے، ورنہ جتنی عزت ہے، وہ بھی جاتی رہے گی۔
(ک) قائدانہ صلاحیتوں کے حوالے سے حرفِ آخر اور لوہے کی لکیر کے طور پر جو بات کہی جا سکتی ہے وہی ہے جو قرآنِ پاک نے کہی ہے۔ صالح قیادت کے لیے تقویٰ بنیادی شرط ہے۔ جس کو یہ خوبی مل جائے، وہ من جانب اللہ ہر رسم پروری سے بے نیاز، ہر خوف سے بے خطر اور ماحول سے مستغنی ہو جاتا ہے۔ تائیدِ غیبی ملتی رہتی ہے، ترقیاں ہوتی رہتی ہیں، کام بنتے رہتے ہیں اور ارشادِ قرآنی کے مطابق وہاں سے راستے کھلتے رہتے ہیں جہاں سے وہم و گماں بھی نہیں ہوتا۔
(ل) بزرگوں کی طرح نوجوان نسل کو بھی اپنے حاشیۂ خیال میں یہ بات راسخ کر لینی چاہیے کہ ٹیکنالوجی اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود اسلامی روحانیت کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی اور اپنے پرکھوں سے وابستہ رہ کر آگے بڑھنے میں جو بات ہے، وہ شاید ٹیکنالوجی اور مادی سہولیات میں کبھی نہ ملے۔
(م) بے شک نوجوانی کے خون میں ابال ہوتا ہے لیکن یہ خیال رہنا چاہیے کہ عاقبت نا اندیشی کرتے ہوئے کچھ ایسا کر گزرنا کہ بزرگی تک پچھتانا پڑے، نوجوانی نہیں، بے وقوفی ہے۔
(ن) ہر کام نوجوانوں کی مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ بہت سارے موقعوں پر سمجھوتہ کرنا سیکھیں اور حالات کی نزاکتوں کا احساس کریں۔
(س) بارہا بزرگوں کی نظر وہ دیکھا کرتی ہے، جہاں تک چشمِ جواں کی رسائی نہیں ہوتی، اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ایسے ہر موقع پر بردباری کا دامن نہ چھوٹے۔
(ع) اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں اور حالات آپ کے حق میں سازگار نہیں تو مناسب ہے کہ کچھ وقت کے لیے اپنے جذبات کو سرد کرتے ہوئے کسی مناسب موقع کا انتظار کر لیا جائے کیوں کہ حالات ہمیشہ ناسازگار بھی نہیں رہتے۔
(ف) خدانخواستہ آپ تک بزرگوں کے حوالے سے کوئی پریشان کن بات پہنچتی ہے تو ضروری ہے کہ کچھ پیش قدمی سے پہلے تشفی کر لیں کیوں کہ ہمارے بزرگ معصوم نہیں لیکن ہمارا دین معصوم ہے، دو افراد کی چپقلشوں میں اس کا نقصان نہیں ہونا چاہیے۔
(ص) نوجوانوں کو یہ بات قطعاً نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ قربِ قیامت اور دورِ فتن کی پیداوار ہیں، اس لیے بہت ممکن ہے وہ کسی فتنہ کا شکار ہوں، اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ جذبات سے زیادہ محاسبۂ نفسی پر توجہ مرکوز رکھیں اور کسی کا بھی خیال کریں یا نہ کریں، دین و مسلک کا بہر حال خیال کریں کیوں کہ ہمارے لیے یہی معیار ہے اور یہی ذریعۂ نجات۔
