کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

روحِ اسلام (قسط: سوم)

روحِ اسلام (قسط: سوم)
عنوان: روحِ اسلام (قسط: سوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

مجدد الدین فیروز آبادی صاحبِ قاموس فرماتے ہیں کہ شیخ محی الدین ابن عربی ایک بحرِ ناپیدا کنار ہیں۔ جب وہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے تو تمام علماء ان کی مجلس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے آتے اور ان کی تصانیف کا ان سے درس لیتے تھے۔ آپ نے مکہ معظمہ کی چھت پر "فتوحاتِ مکیہ" کو ایک سال تک رکھا، شدید بارشوں اور آندھیوں کے باوجود اس کا ایک ورق بھی نہ بھیگا، اس غیبی مقبولیت کے بعد ہی آپ نے اس کی اشاعت کی اجازت دی۔ تقی الدین سبکی فرماتے ہیں کہ شیخ محی الدین اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ [الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر]

شیخ سراج الدین بلقینی فرماتے ہیں کہ شیخ محی الدین کی کسی بات پر اعتراض سے بچو، کیونکہ ان کی عبارات ان کے ہم رتبہ اہل اشارات پر مخفی نہیں۔ جو لوگ ان کے مسلک سے بے خبر تھے انہوں نے انہیں کافر کہا، حالانکہ وہ نہ تو شیخ کی اصطلاح سے آشنا تھے نہ اس راہ کے سالکین سے دریافت کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے کلام میں ایسے رموز و روابط ہیں جو جاہلوں کے نزدیک مجہول ہیں۔ اگر یہ لوگ ان کے مقدمات سے آگاہ ہوتے تو وہ ثمرات پاتے جو مقصود ہیں۔

اہلِ حق کی مخالفت: ایک تاریخی تسلسل

امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ ہر دور میں یہ ہوتا آیا ہے کہ جب کوئی شخصیت بلند مرتبہ ہوئی تو کوئی کمینہ دشمن اس کی مخالفت پر اتر آیا۔ حضرت آدم سے لے کر حضور ﷺ تک ہر نبی کے دشمن رہے۔ صحابہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر پر نفاق کا بہتان لگا اور حضرت سعد بن ابی وقاص جیسے جلیل القدر صحابی کی شکایت فاروقِ اعظم تک لائی گئی کہ یہ نماز اچھی نہیں پڑھتے۔ ائمہ مجتہدین میں امام اعظم، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے قید و بند اور زدوکوب کی صعوبتیں اٹھائیں۔ امام بخاری کو بخارا سے نکال دیا گیا اور حضرت بایزید بسطامی کو سات بار شہر بدر کیا گیا۔

حضرت ذو النون مصری کو بیڑیاں ڈال کر زندیق کہتے ہوئے لے جایا گیا اور حضرت سہل بن عبد اللہ تستری کو کافر کہہ کر بصرہ نکالا گیا۔ امام سیوطی نے حضرت ابن عربی کے دفاع میں "تَنْبِيْهُ الْغَبِيِّ فِي تَبْرِئَةِ ابْنِ عَرَبِيٍّ" تصنیف فرمائی۔ ان بیانات سے واضح ہے کہ اہل حق کی عداوت کوئی نئی چیز نہیں۔ مخالفین تو گوشۂ گمنامی میں مرکھپ گئے، لیکن ان اولیاء اللہ کی جلالتِ شان کا ڈنکا آج بھی بج رہا ہے۔ چند لا مذہبوں کے شور سے معرفت کا آفتاب کبھی دھندلا نہیں ہوتا۔

ان شاء اللہ عزوجل اربابِ حقیقت و معرفت کی عظمت کا مزید تذکرہ قسط چہارم میں پیش کیا جائے گا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!