| عنوان: | منکرینِ تقلید کے شبہات |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
آج کے پرفتن دور میں مختلف نئے نئے گروہ، مسالک اور نام نہاد نظریاتی تحریکیں تیزی سے جنم لے رہی ہیں۔ یہ گروہ، جو علمی پختگی اور فقہی بصیرت سے عاجز و عاری ہیں، اپنے محدود فہم اور ظاہری تعبیرات کی بنیاد پر اہلِ سنت و جماعت جیسے صدیوں سے قائم و دائم اور امت کے سوادِ اعظم کے مسلک پر بدعت، ضلالت، بلکہ بعض اوقات شرک تک کے سنگین الزامات تھوپتے ہیں۔
ان کے بقول اہلِ سنت کی گمراہی کا سبب یہ ہے کہ اہلِ حق ائمہ اربعہ—امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ—میں سے کسی ایک کی فقہی اتباع و تقلید کرتے ہیں، اور اپنی دینی رہنمائی اپنے معتبر علمائے کرام سے حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ ائمہ اربعہ کی تقلید کوئی اختیاری سہولت نہیں بلکہ امت کے لیے ایک مضبوط قلعہ، علمی استقامت کی بنیاد اور شریعتِ مطہرہ کی صحیح تفہیم کی ضمانت ہے۔
اہلِ سنت و جماعت کو برا کہنا، ان پر بدعت و شرک کے الزامات لگانا دراصل علمی افلاس، تاریخی بے خبری، روحانی بے سمتی اور فکری بدحالی کا نتیجہ ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ اہلِ سنت و جماعت ہی وہ جماعت ہے جو صدیوں سے حق پر قائم ہے، جس نے قرآن و حدیث کی صحیح تعبیر کو نسل در نسل محفوظ رکھا، جس نے عقائدِ اسلامیہ کی حفاظت کی، اور جس نے امت کو اعتدال، توازن، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور احترامِ صحابہ و اولیاء کا سلیقہ سکھایا۔
اسی جماعت کی پہچان کو آج کے فتنہ انگیز گروہوں سے ممتاز کرنے کے لیے انہیں عوامی سطح پر ”بریلوی“ کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بریلویت کوئی الگ فرقہ نہیں، بلکہ تاریخی و فکری طور پر یہ اہلِ سنت و جماعت کی ہی وہی اصل شاخ ہے جو محبتِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم، تعظیمِ صحابہ، ادبِ اولیاء اور ائمہ اربعہ کی تقلید کے ساتھ ساتھ قرونِ اولیٰ کے عقائد کی حامل و ذمہ دار ہے۔ یعنی جو حقیقی سنی ہے وہی بریلوی ہے، اور جو بریلوی ہے وہی اہلِ سنت و جماعت ہے۔
اس حقیقت کی تائید نصوصِ نبویہ سے بھی ہوتی ہے۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً.“
ترجمہ: ”میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔“ [فتاویٰ فیض الرسول، ج: 1]
علمائے کرام و محدثین نے اس ”ایک ناجی جماعت“ کی جو تشریح کی ہے وہ اہلِ سنت و جماعت ہیں، سوادِ اعظم ہیں، وہی راہِ مستقیم کے حامل ہیں۔ پس جو لوگ آج اہلِ سنت کو برا بھلا کہتے ہیں، وہ درحقیقت امت کے اصل مزاج، صحیح عقیدہ اور معتبر علمی روایت سے خود کٹ چکے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ فکر امت کو مزید انتشار میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
اہلِ سنت و جماعت ہمیشہ سے تھے، آج بھی ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ ان کی بنیاد کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اجماعِ امت اور ائمہ اربعہ کی علمی میراث ہے، جسے نہ کوئی نئی تحریک مٹا سکتی ہے اور نہ کوئی فتنہ انگیز سوچ اس کے نور کو دھندلا سکتی ہے۔
آج کے اس دورِ فتن و اختلاط میں بعض ناتجربہ کار، کم فہم اور ظاہریت کے دھوکے میں مبتلا نئے نئے گروہ اہلِ سنت و جماعت پر بے جا اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے ہیں۔ ان کا ایک مشہور اعتراض یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا: ”تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ“ یعنی قرآن ہر چیز کا بیان ہے، تو پھر تم ائمہ اربعہ کی تقلید کیوں کرتے ہو؟ علمائے کرام کی بات کیوں مانتے ہو؟ تمہیں چاہیے کہ صرف قرآن پکڑو، یا صرف حدیث کو تھام لو، باقی سب چھوڑ دو۔
یہ اعتراض حقیقت میں نصوصِ شرعیہ کے فہم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ آیتِ کریمہ ”تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ“ کی ان لوگوں کی غلط فہمی کی اصل بنیاد یہ ہے کہ وہ اس آیتِ کریمہ کو اپنے ظاہری ذہنی خانوں میں رکھ کر سمجھتے ہیں، حالانکہ اس آیہ کریمہ کی حقیقت یہ ہے کہ: قرآنِ کریم میں ہر چیز کا بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے ہے، نہ کہ امتِ عامہ کے لیے۔
یعنی قرآن ایک جامع کتاب ضرور ہے لیکن احکام کی تفصیلات، شرعی اصولوں کی توضیحات، عبادات کے طریقے، حدود، قصاص، معاملات اور عبادات کے عملی طریقے یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان، آپ کے اجتہاد، آپ کی تشریحات اور آپ کی سنت کے ذریعے واضح ہوتے ہیں، نہ کہ عام انسان کی اپنی فہم سے۔
اگر قرآن عام امت کے لیے ”ہر چیز“ کھول کر بیان کرتا ہوتا تو پھر چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اجتہادی رائے کی اجازت کیوں دیتے؟
- مجتہد حاکم کے لیے دوہرا اجر اور خطا کی صورت میں ایک اجر کی بشارت کیوں دیتے؟
- اگر امت خود ہر چیز قرآن سے سمجھ سکتی تھی تو اجتہاد کا دروازہ، ائمہ اربعہ کی ضرورت، فقہی ابواب اور علمائے دین کی محنتیں کیوں ہوتیں؟
یہی وجہ ہے کہ مشکوٰۃ میں حدیثِ مبارکہ وارد ہے:
”إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ.“
ترجمہ: ”یعنی جو حاکم اجتہاد کرے اور صحیح تک پہنچے تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور اگر اجتہاد میں خطا ہو جائے تو بھی ایک اجر ملتا ہے۔“ [مشکوٰۃ المصابیح، باب العمل فی القضاء]
اگر قرآن ہر چیز امت کے لیے براہِ راست کھول کر بیان کرتا ہوتا تو اجتہاد کی کوئی ضرورت نہ رہتی، اور خطا کی گنجائش بھی نہ ہوتی۔ امت کے لیے قرآن کا ”تبیان“ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے ہے۔ اس کو آیتِ کریمہ سے سمجھو، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا:
”وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ“
ترجمہ: ”یعنی ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل کیا کہ آپ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں۔“
اگر لوگوں کو خود ہی سب سمجھ جانا تھا تو ”لِتُبَيِّنَ“ کا حکم کس لیے؟
تقلید کیوں ضروری ہے؟
جو لوگ مقامِ اجتہاد تک نہیں پہنچے — اور وہ امت کا 99% حصہ ہیں — ان کے لیے تقلید فرض ہے، کیونکہ وہ:
- قرآن کے ناسخ و منسوخ نہیں جانتے۔
- آیات کے اسبابِ نزول نہیں جانتے۔
- احادیث کے درجات نہیں پہچانتے۔
- اصولِ فقہ سے آگاہ نہیں۔
- متعارض احادیث میں ترجیح نہیں جانتے۔
- عمومات و خصوصیات کا علم نہیں رکھتے۔
- شرعی قیاس، استخراج اور استنباط نہیں کر سکتے۔
ایسے شخص کا براہِ راست قرآن و حدیث سے حکم نکالنا تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے آپ کو اہلِ حدیث کا نام دے رکھا ہے، وہ دراصل نہ حدیث کی روح سے واقف ہیں، نہ اصولِ حدیث سے آگاہ، اور نہ ائمہ محدثین کے طریقِ فہم کے وارث۔ نام تو اہلِ حدیث رکھ لیا، مگر حدیث کا مطالعہ، اس کے اصول، اس کے مراتب، اس کے فہم، اس کے ناسخ و منسوخ، اس کے علل، اس کی سند اور اس کے متعارض نصوص میں تطبیق—ان میں سے کسی شے کا علم نہیں۔
اگر یہ واقعی حدیث کو سمجھتے تو کم از کم اس مشہور حدیث کو ہی دیکھ لیتے:
”إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ.“
یعنی جب حاکم اجتہاد کرے اور صحیح تک پہنچے تو اسے دو اجر ملتے ہیں، اور اگر اجتہاد میں خطا ہو جائے تب بھی ایک اجر ملتا ہے۔
یہ حدیث خود بتا رہی ہے کہ اجتہاد موجود ہے، خطا ممکن ہے، اور غلطی پر بھی اجر ہے؛ لہٰذا جو لوگ ”براہِ راست حدیث“ کو پکڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اجتہاد اور فہمِ حدیث کو رد کرتے ہیں، وہ حقیقت میں حدیث کے منکر ہیں، حدیث کے خادم نہیں۔ بات اصل میں یہ ہے کہ محرومانِ ازل کے لیے دلائل کے دفتر پر دفتر بھی ناکافی رہ جاتے ہیں، اور اہلِ انصاف و اہلِ حق کے لیے ایک دلیل ہی کافی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم اہلِ سنت و جماعت کو صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے، اور تمام اہلِ باطل کو ہدایت کی راہ دکھا دے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
