Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فضائلِ عیدُ الاضحی

فضائلِ عیدُ الاضحی
عنوان: فضائلِ عیدُ الاضحی
تحریر: محمد سلمان العطاری

عید الاضحی اسلام کا عظیم الشان اور مبارک تہوار ہے۔ یہ صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ اطاعتِ الٰہی، جذبۂ قربانی، ایثار، اخلاص اور سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرنے کا دن ہے۔ اس دن مسلمان خداوند متعال کی رضا کے لیے قربانی پیش کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں تقویٰ، محبتِ الٰہی اور اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات تازہ کرتے ہیں۔ عید الاضحی ہر سال ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو منائی جاتی ہے اور اس کا تعلق حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی سے ہے۔

عیدُ الاضحی کا معنی

”عید“ خوشی کے دن کو کہتے ہیں اور ”اَلْاَضْحٰی“ قربانی سے نکلا ہے۔

یعنی ایسا خوشی کا دن جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی پیش کی جائے۔

اس عید کو ”عیدِ قرباں“ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن مسلمان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔

عید الاضحی کی تاریخ

عید الاضحی کی اصل حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم واقعہ سے جڑی ہوئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خواب میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں، لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند متعال کے حکم کو بجا لانے کا پختہ ارادہ کر لیا۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی کامل فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کیا:

قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ کنزالایمان: کہا اے میرے باپ کیجئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ [الصافات: 102]

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے ایک دنبہ بھیج دیا۔ اسی یاد میں قیامت تک مسلمانوں پر قربانی مشروع کی گئی۔

عیدالاضحی کی اہمیت

عیدالاضحی اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک شعار ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا عظیم عبادت ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ

ترجمہ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ [الکوثر: 2]

اس آیتِ مبارکہ میں نماز اور قربانی دونوں کا حکم دیا گیا، جس سے قربانی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

قربانی کا مقصد

قربانی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا اور تقویٰ پیدا کرنا ہے۔

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنْكُمْ

ترجمہ کنزالایمان: اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔ [الحج: 37]

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف رسم نہیں بلکہ دل کے اخلاص اور تقویٰ کا نام ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں فضائلِ قربانی

نبی کریم ﷺ نے قربانی کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یوم النحر میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں۔ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت پا لیتا ہے۔ [ترمذی]

ایک اور حدیث میں فرمایا:

جس میں قربانی کی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔

اس حدیث سے قربانی کی اہمیت اور تاکید معلوم ہوتی ہے۔

عیدالاضحی کے دن کے اعمال

  1. غسل کرنا: عید کے دن غسل کرنا سنت ہے۔
  2. اچھے کپڑے پہننا: اپنے بہترین اور پاکیزہ کپڑے پہننا مستحب ہے۔
  3. خوشبو لگانا: مردوں کے لیے خوشبو لگانا سنت ہے۔
  4. عیدگاہ جانا: نمازِ عید ادا کرنے کے لیے عیدگاہ جانا سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
  5. تکبیرات پڑھنا: ذوالحجہ کی نویں تاریخ کی فجر سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک تکبیراتِ تشریق پڑھی جاتی ہیں: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ

نمازِ عید کی فضیلت

نمازِ عید مسلمانوں کے اتحاد، محبت اور اجتماعیت کا عظیم مظہر ہے۔

مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر خداوند متعال کی کبریائی بیان کرتے ہیں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے.

قربانی کا وقت

نمازِ عید کے بعد سے بارہ ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک قربانی کی جاسکتی ہے۔

عید الاضحی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ: اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا جائے۔

ایثار اور قربانی کا جذبہ اپنایا جائے۔

غریبوں اور محتاجوں کا خیال رکھا جائے۔

یہ عید مسلمانوں کو اخوت، محبت اور ہمدردی کا درس دیتی ہے۔

عید الاضحی کے موقع پر غریب اور محتاج لوگ بھی گوشت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں محبت، تعاون اور بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔

حج اور عیدالاضحی

عید الاضحی کا تعلق حج سے بھی گہرا ہے۔ دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان ان دنوں فریضۂ حج ادا کرتے ہیں۔ میدانِ عرفات، مزدلفہ اور منیٰ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا عظیم منظر ہوتا ہے۔ قربانی بھی مناسکِ حج کا اہم حصہ ہے۔

خلاصۂ کلام

عیدالاضحی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ عشقِ الٰہی، اطاعت، اخلاص، تقویٰ اور ایثار کا عظیم درس ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کی جا سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس مبارک موقع پر عبادت، قربانی، صدقہ و خیرات اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے دلوں میں حقیقی تقویٰ پیدا کریں۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں عید الاضحی کی حقیقی روح سمجھنے اور اخلاص کے ساتھ قربانی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!