Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حج کے واجبات و سنن

حج کے واجبات و سنن
عنوان: حج کے واجبات و سنن
تحریر: صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی
پیش کش: نازیہ احمدی ضیائی

حج کے واجبات

حج کے واجبات یہ ہیں:

  1. میقات سے احرام باندھنا، یعنی میقات سے بغیر احرام نہ گزرنا اور اگر میقات سے پہلے ہی احرام باندھ لیا تو جائز ہے۔
  2. صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا اس کو سعی کہتے ہیں۔
  3. سعی کو صفا سے شروع کرنا اور اگر مروہ سے شروع کی تو پہلا پھیرا شمار نہ کیا جائے، اس کا اعادہ کرے۔
  4. اگر عذر نہ ہو تو پیدل سعی کرنا، سعی کا طواف معتد بہ کے بعد یعنی کم سے کم چار پھیروں کے بعد ہونا۔
  5. دن میں وقوف کیا تو اتنی دیر تک وقوف کرے کہ آفتاب ڈوب جائے خواہ آفتاب ڈھلتے ہی شروع کیا ہو یا بعد میں، غرض غروب تک وقوف میں مشغول رہے اور اگر رات میں وقوف کیا تو اس کے لیے کسی خاص حد تک وقوف کرنا واجب نہیں مگر وہ اس واجب کا تارک ہوا کہ دن میں غروب تک وقوف کرنا۔
  6. وقوف میں رات کا کچھ جز آ جانا۔
  7. عرفات سے واپسی میں امام کی متابعت کرنا یعنی جب تک امام وہاں سے نہ نکلے یہ بھی نہ چلے، ہاں اگر امام نے وقت سے تاخیر کی تو اسے امام کے پہلے چلا جانا جائز ہے اور اگر بھیڑ وغیرہ کسی ضرورت سے امام کے چلے جانے کے بعد ٹھہر گیا ساتھ نہ گیا جب بھی جائز ہے۔
  8. مزدلفہ میں ٹھہرنا۔
  9. مغرب و عشا کی نماز کا وقت عشا میں مزدلفہ میں آ کر پڑھنا۔
  10. تینوں جمروں پر دسویں، گیارہویں، بارہویں تینوں دن کنکریاں مارنا یعنی دسویں کو صرف جمرہ عقبہ پر اور گیارہویں بارہویں کو تینوں پر رمی کرنا۔
  11. جمرہ عقبہ کی رمی پہلے دن حلق سے پہلے ہونا۔
  12. ہر روز کی رمی کا اسی دن ہونا۔
  13. سر منڈانا یا بال کتروانا۔
  14. اور اس کا ایام نحر اور
  15. حرم شریف میں ہونا اگر چہ منی میں نہ ہو۔
  16. قران اور تمتع والے کو قربانی کرنا اور
  17. اس قربانی کا حرم اور ایام نحر میں ہونا۔
  18. طواف افاضہ کا اکثر حصہ ایام نحر میں ہونا۔ عرفات سے واپسی کے بعد جو طواف کیا جاتا ہے اس کا نام طواف افاضہ ہے اور اسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں۔ طواف زیارت کے اکثر حصے سے جتنا زائد ہے یعنی تین پھیرے ایام نحر کے غیر میں بھی ہو سکتا ہے۔
  19. طواف حطیم کے باہر سے ہونا۔
  20. دہنی طرف سے طواف کرنا یعنی کعبہ معظمہ طواف کرنے والے کی بائیں جانب ہو۔
  21. عذر نہ ہو تو پاؤں سے چل کر طواف کرنا، یہاں تک کہ اگر گھسٹتے ہوئے طواف کرنے کی منت مانی جب بھی طواف میں پاؤں سے چلنا لازم ہے اور طواف نفل اگر گھسٹتے ہوئے شروع کیا تو ہو جائے گا مگر افضل یہ ہے کہ چل کر طواف کرے۔
  22. طواف کرنے میں نجاست حکمیہ سے پاک ہونا، یعنی جنب و بے وضو نہ ہونا، اگر بے وضو یا جنابت میں طواف کیا تو اعادہ کرے۔
  23. طواف کرتے وقت ستر چھپا ہونا یعنی اگر ایک عضو کی چوتھائی یا اس سے زیادہ حصہ کھلا رہا تو دم واجب ہو گا اور چند جگہ سے کھلا رہا تو جمع کریں گے، غرض نماز میں ستر کھلنے سے جہاں نماز فاسد ہوتی ہے یہاں دم واجب ہوگا۔
  24. طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا، نہ پڑھی تو دم واجب نہیں۔
  25. کنکریاں پھینکنے اور ذبح اور سر منڈانے اور طواف میں ترتیب یعنی پہلے کنکریاں پھینکے پھر غیر مفرد قربانی کرے پھر سر منڈائے پھر طواف کرے۔
  26. طواف صدر یعنی میقات سے باہر کے رہنے والوں کے لیے رخصت کا طواف کرنا۔ اگر حج کرنے والی حیض یا نفاس سے ہے اور طہارت سے پہلے قافلہ روانہ ہو جائے گا تو اس پر طواف رخصت نہیں۔
  27. وقوف عرفہ کے بعد سر منڈانے تک جماع نہ ہونا۔
  28. احرام کے ممنوعات، مثلاً سلا کپڑا پہننے اور منہ یا سر چھپانے سے بچنا۔

مسئلہ: واجب کے ترک سے دم لازم آتا ہے خواہ قصداً ترک کیا ہو یا سہواً خطا کے طور پر ہو یا نسیان کے، وہ شخص اس کا واجب ہونا جانتا ہو یا نہیں، ہاں اگر قصداً کرے اور جانتا بھی ہے تو گنہگار بھی ہے مگر واجب کے ترک سے حج باطل نہ ہو گا، البتہ بعض واجب کا اس حکم سے استثنا ہے کہ ترک پر دم لازم نہیں، مثلاً طواف کے بعد کی دونوں رکعتیں یا کسی عذر کی وجہ سے سر نہ منڈانا یا مغرب کی نماز کا عشا تک مؤخر نہ کرنا یا کسی واجب کا ترک، ایسے عذر سے ہو جس کو شرع نے معتبر رکھا ہو یعنی وہاں اجازت دی ہو اور کفارہ ساقط کر دیا ہو۔

حج کی سنتیں

  1. طواف قدوم یعنی میقات کے باہر سے آنے والا مکہ معظمہ میں حاضر ہو کر سب میں پہلا جو طواف کرے اسے طواف قدوم کہتے ہیں۔ طواف قدوم مفرد اور قارن کے لیے سنت ہے متمتع کے لیے نہیں۔
  2. طواف کا حجر اسود سے شروع کرنا۔
  3. طواف قدوم یا طواف فرض میں رمل کرنا۔
  4. صفا و مروہ کے درمیان جو دو میل اخضر ہیں، ان کے درمیان دوڑنا۔
  5. امام کا مکہ میں ساتویں کو اور
  6. عرفات میں نویں کو اور
  7. منی میں گیارہویں کو خطبہ پڑھنا۔
  8. آٹھویں کی فجر کے بعد مکہ سے روانہ ہونا کہ منی میں پانچ نمازیں پڑھ لی جائیں۔
  9. نویں رات منی میں گزارنا۔
  10. آفتاب نکلنے کے بعد منی سے عرفات کو روانہ ہونا۔
  11. وقوف عرفہ کے لیے غسل کرنا۔
  12. عرفات سے واپسی میں مزدلفہ میں رات کو رہنا اور
  13. آفتاب نکلنے سے پہلے یہاں سے منی کو چلا جانا۔
  14. دس اور گیارہ کے بعد جو دونوں راتیں ہیں ان کو منی میں گزارنا اور اگر تیرہویں کو بھی منی میں رہا تو بارہویں کے بعد کی رات کو بھی منی میں رہے۔
  15. ابطح یعنی وادی محصب میں اترنا، گر چہ تھوڑی دیر کے لیے ہو اور ان کے علاوہ اور بھی سنتیں ہیں، جن کا ذکر اثنائے بیان میں آئے گا۔ نیز حج کے مستحبات و مکروہات کا بیان بھی موقع موقع سے آئے گا۔

اب حرمین طیبین کی روانگی کا قصد کرو اور آداب سفر و مقدمات حج جو لکھے جاتے ہیں ان پر عمل کرو۔ [بہار شریعت، ج: ١، حصہ ٦، ص: ١٠۴٨/ ١٠۴٩/ ١٠٥٠/ ١٠٥١]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!