| عنوان: | عید الاضحیٰ کا پیغام |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
عید الاضحیٰ کا تعلق تاریخ اسلام کے ایک نہایت ہی درخشاں باب سے ہے۔ یوں تو بظاہر یہ سنت ابراہیمی کے طور پر جانوروں کی قربانی پیش کرنے سے زندہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک اہم پیغام ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر عزیز چیز قربان کرنے کا درس دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا تمام تر متاع قربان کر دینا یہی قربانی ہے۔ انسان کو دو چیزیں زیادہ عزیز ہوتی ہیں ایک جان اور دوسری اولاد۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان دو چیزوں سے آزمایا۔
آزمائش اول
نمرود کی جلائی ہوئی آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعے آگ میں ڈالنے کی تیاری کی جا رہی تھی، کفر خوشیاں منا رہا تھا کہ اب ہمارے معبودوں کو برا کہنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ کے خلیل کوئی حاجت ہو تو بتائیے، آپ نے فرمایا حاجت ہے لیکن تم سے نہیں۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا جس سے حاجت ہے اس کی بارگاہ میں عرض کرے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا وہ میرے حال کو جان رہا ہے، اگر مرضیِ رب جلیل یہی ہے تو رضائے خلیل بھی یہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جیسے ہی آگ میں ڈالا جاتا ہے، رحمت خداوندی جوش میں آتی ہے حکم الٰہی ہوتا ہے: اے آگ ٹھنڈی اور سلامتی ہو جا ابراہیم پر۔ اس طرح حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام پہلے امتحان میں استقامت کے ساتھ گزر گئے۔
آزمائش ثانی
اپنے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بحکم الٰہی حضرت ابراہیم علیہ السلام بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ گئے تھے، جب کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو دیکھنے آئے تو وہاں کا منظر نرالا دیکھا۔ فرشتوں نے عرض کیا اے میرے رب ابراہیم اولاد سے محبت کرتے ہیں۔ رب نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ رب تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عالم خواب میں حکم دیا کہ اے ابراہیم قربانی پیش کرو۔ صبح اٹھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سو (100) اونٹوں کی قربانی پیش کر دی، دوسری رات بھی یہی حکم ہوا، پھر اونٹوں کی قربانی پیش کر دی۔ تیسری رات پھر یہی حکم ہوا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے رب کون سی چیز تیری بارگاہ میں پیش کروں؟ ارشاد ہوا جو تجھے سب سے عزیز ہے اس کو میری راہ میں قربان کر۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ کو فرزند ارجمند کی قربانی مطلوب ہے، صبح سویرے ہی رفیقہ حیات کے پاس جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اسماعیل کو نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہنا دو، ایک بڑے کی دعوت میں جانا ہے۔ رفیقہ حیات نے حکم کی فوراً تعمیل کی اور نور نظر کو سجا کر والد کے سامنے پیش کر دیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آستین میں رسی اور چھری چھپا کر رکھ لی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر وادی منیٰ کی طرف چل پڑے۔
شیطان حضرت ہاجرہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ اسماعیل کو ان کے باپ ذبح کرنے جا رہے ہیں، آپ نے فرمایا اے نادان! باپ کہیں بیٹے کو ذبح کرتا ہے؟ شیطان نے کہا کہ تمہارے رب کی یہی مرضی ہے۔ حضرت ہاجرہ نے فرمایا کہ اگر میرے رب کی یہی مرضی ہے تو ایک اسماعیل کیا؟ اگر سیکڑوں اسماعیل ہوں تو اس کی مرضی پر قربان کرنے کو تیار ہوں۔ شیطان یہاں مردود اور ناکام ہونے کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اسماعیل تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے والد تمہیں کہاں لے جا رہے ہیں؟ جواب ملا کہ ہاں مجھے معلوم ہے کہ ایک دعوت میں ہم جا رہے ہیں۔ شیطان نے کہا نہیں اسماعیل تمہیں تمہارے والد منیٰ کی سرزمین پر ذبح کرنے لے جا رہے ہیں۔ کہا کہ کوئی باپ بھی اپنے بیٹے کو ذبح کرتا ہے۔ شیطان کہتا ہے کہ ان کے رب کا ایسا ہی حکم ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ تجھ پر لعنت ہو مردود، اللہ کے حکم پر باپ ذبح کرنے کے لیے اور بیٹا ذبح ہونے کے لیے تیار ہے تو بیچ میں تو کون دیوار بننے والا ہوتا ہے؟ یہاں سے مایوس ہو کر شیطان حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قربانی سے روکنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، لیکن حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میرا خواب شیطانی نہیں رحمانی ہے، نبی کا خواب وحی الٰہی ہوتا ہے۔ اب شیطان ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے۔ وادی منیٰ میں پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے اپنا خواب بیان کیا۔ بیٹے نے عرض کیا ابا جان! جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے، آپ اس کو کیجیے ان شاء اللہ آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔ باپ نے بیٹے کو زمین پر لٹا دیا۔ تاریخ ہستی میں یہ ایک انوکھی مثال ہے، ایک باپ اپنے بیٹے کو قربان کرنے جا رہا ہے۔ چھری چلانے سے پہلے بیٹے نے باپ سے کہا کہ ابا جان! میری تین باتیں قبول فرمائیں:
- میرے ہاتھ پیر رسی سے مضبوط باندھ دیں تاکہ تڑپنے سے خون کا چھینٹا آپ کے کپڑے پر نہ پڑ جائے۔
- آپ اپنی آنکھ پر پٹی باندھ لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہاتھ بیٹے کی محبت کی وجہ سے رک نہ جائیں۔
- میرے ذبح کی خبر میری ماں کو نہ دیں۔
باپ نے بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی تسلیم و رضا اور ایثار و قربانی کا یہ منظر آج تک چشم فلک نے نہ دیکھا ہوگا، تیز چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر پہنچ کر کند ہو گئی، دو مرتبہ ایسا ہی ہوا، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری کو ایک پتھر پر دے مارا، چھری نے پتھر کے دو ٹکڑے کر دیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری سے کہا کہ اتنے سخت پتھر کے دو ٹکڑے کر دیے، مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ریشم سا گلا نہ کاٹ سکی۔ چھری نے کہا کہ اے خلیل! آپ کہتے ہو کہ کاٹ، مگر جلیل اس سے منع کرتا ہے، جب خلیل خود رب جلیل کا حکم مانتے ہوئے بیٹے کو رب کی رضا کے لیے قربان کرنے کے لیے لٹائے ہوئے ہے تو میں کیسے رب کے حکم کا انکار کر سکتی ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر چھری اٹھائی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چلائی، مگر رب کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چھری کے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر پہنچنے سے پہلے حضرت جبرئیل علیہ السلام جنت سے مینڈھا لے آئے اور اس کو چھری کے نیچے رکھ دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اٹھا لیا اور مینڈھا ذبح ہو گیا۔ اور ندا آئی: ”اے ابراہیم! تو نے خواب سچا کر دکھایا، ہم نیکوں کو یوں ہی جزا دیتے ہیں، بے شک یہ صاف آزمائش ہے، ہم نے اس کا فدیہ ذبح عظیم کے ساتھ کر دیا اور اس کو بعد والوں میں باقی رکھا۔“ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس دوسری آزمائش میں بھی کامیاب ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ قربانی قبول فرما لی اور اسے یادگار کے طور پر قیامت تک باقی رکھا، اب ہر سال اس یاد کو تازہ کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربانی کے لیے پیش کر کے ہمیں یہ درس دے دیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر چیز کے قربان کرنے کا جذبہ ہمارے اندر ہونا چاہیے، اسی جذبے کے تحت کربلا میں نواسۂ رسول نے اپنے نانا کے دین کی خاطر اپنے کنبے کے ساتھ اپنی جان بھی قربان پیش کر دی۔
آج بھی عید الاضحیٰ ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو بھی حکم آئے ہم اس کو پورا کرنے میں اپنے لیے سعادت جانیں اور اللہ کو ہماری ہر عزیز ترین چیز کی قربانی منظور ہو تو ہمیں اس کی قربانی پیش کرنا چاہیے۔ قربانی کرتے وقت ہمیں یہ نیت کرنی چاہیے کہ ابھی تو ہم اس جانور کی قربانی پیش کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تو اپنی جان و مال سب کی قربانی پیش کر دیں گے۔ عید قرباں ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم مکمل طور پر اسلام کے سانچے میں ڈھل جائیں۔ ساتھ ہی جانور کی قربانی پیش کرنے کے ساتھ اپنی خواہشات کو بھی قربان کریں، اور عہد کریں کہ اب تک جو زندگی کٹی، کٹی۔ اب اللہ کے حکم پر زندگی کٹے گی ان شاء اللہ۔
