Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اصلاحِ خلق اور اصولِ ہدایت

اصلاحِ خلق اور اصولِ ہدایت
عنوان: اصلاحِ خلق اور اصولِ ہدایت
تحریر: صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

خلق کی اصلاح کے لیے خصائلِ رذیلہ و افعالِ قبیحہ سے باز رکھنے اور خراب عادات اور برے اطوار کو مٹا ڈالنے کی تدبیریں ضروری ہیں۔ جب تک یہ نہ ہوں، اس وقت تک انسان مکارمِ اخلاق و محاسنِ صفات کے ساتھ متصف نہیں ہو سکتا، اور دنیا کی عملی حالت اوجِ خوبی پر نہیں پہنچ سکتی۔

اصلاحِ خلق کے لیے اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے مقدس نفوسِ قدسیہ پیدا کیے ہیں جو خود ذمائمِ صفات و قبائحِ افعال سے بالکل پاک ہیں، اور ان کی لوحِ فطرت پر کوئی بھی دھبہ نہیں ہے۔ اس گروہ کو انبیاء اور ان کی اس طہارت کو عصمت کہتے ہیں۔ اور دفعِ مفاسد کے لیے جن ہستیوں کو مامور کیا جائے، باقتضائے حکمت ضروری ہے کہ ان کی ذات ہر مفسدات کے لوث سے پاک ہو، جس طرح سمیّت کے دفع کے لیے فادِ زہر (زہر مہرہ) بہترین علاج ہے، کیونکہ اس میں سمیّت کا شائبہ بھی نہیں؛ اسی طرح ہر فساد کے دفع کرنے کے لیے وہی زیادہ بہتر ہے جو فساد سے بالکل پاک ہو۔

اس گروہِ پاک، انبیاء کی تعلیم بہت گہرے، عمیق اور مؤثر اصولِ ہدایت پر مبنی ہوتی ہے، بلکہ ان کی تعلیمات سے ہدایت و حکمت کے اصول دریافت کیے اور جانے جاتے ہیں۔

بدعملی کو روکنے کے لیے اس کے مقدمات پر گرفت کرنا اور ان کو ممنوع ٹھہرانا اس بدی کے انسداد کی بہترین تدبیر، بلکہ ضروری امر ہے۔ اور دنیا کی قومیں اس پر عامل بھی ہیں کہ جس چیز کو وہ روکنا چاہتی ہیں، پہلے اس کے مقدمات کی بندش کر لیتی ہیں۔ اگر مقدمات کی بندش نہ کی جائے تو پھر کسی چیز کو روکنا سہل اور آسان نہیں ہے۔

ایک دیوار کو گرنے سے بچانے والا پشتہ بناتا ہے، پانی کے جمع ہونے کی بندش کرتا ہے، اس کے گزرنے کے راستے ٹھیک کر دیتا ہے، تب دیوار قائم اور مضبوط رہتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے اور پانی بنیاد میں جاتا رہے تو پھر دیوار کسی امداد سے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔

حکومتوں کو غنیم و باغیوں سے خطرہ ہوتا ہے تو اس کے لیے پہلے سے حفاظتی تدبیریں کی جاتی ہیں۔ خلافِ قانون مجمع روکے جاتے ہیں، تقریروں اور تحریروں پر احتساب قائم ہوتا ہے، خفیہ ریشہ دوانیوں کا تجسس کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو بغاوت کے مواد بڑھتے بڑھتے ایسی قوت کے ساتھ سامنے آئیں کہ پھر ان کو زیر کر لینا حکومتوں کے لیے دشوار ہو جائے، اور جن حکومتوں نے اس طرف سے تغافل سے کام لیا ہے، ان کا انجام یہی ہوا ہے کہ وہ تباہ ہو گئیں۔

امراض سے بچنے کے لیے پہلے سے صفائی کے انتظامات کیے جاتے ہیں، خطرناک امراض کے لیے پہلے سے ٹیکے لگا دیے جاتے ہیں، اور جسموں میں قبولِ امراض کی صلاحیت تا بمقدار نہیں چھوڑی جاتی، اور جس چیز سے بھی مرض پھیلنے یا اس کی ترقی کرنے کا اندیشہ ہو، اس کو دفع کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے طاعون کے بیماروں کو محفوظ رقبوں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا، چوہے مارے جاتے ہیں۔

بدامنی اور خونریزی روکنے کے لیے اسلحہ اور سمی اشیاء پر لائسنس لگائے جاتے ہیں، خزانوں اور مال کے مقامات پر پہرے لگانا اور رات کے وقت ان مقامات کے قریب گزرنے والوں کی جانچ رکھنا بھی اسی اصول کے ماتحت ہے۔

حفاظتِ ملک کے لیے فوجیں رکھنا، فوجی کیمپ قائم کرنا، فوجوں کو جنگی کام سکھانا، حربی سامان و ذخائر بہم پہنچانا، غنیموں کے راستوں پر فوجی نگرانیاں رکھنا—یہ سب پیشگی تدبیریں ہیں۔ اگر کوئی بادشاہ خطرہ کو محسوس نہ کرے اور اس اہتمام کو لغو و بیکار سمجھے، فوجی نظام توڑ دے، تو دشمن کے حملے کے وقت اس کو ملک سے دستبردار ہو جانا ناگزیر ہوگا۔ ایسے صدہا واقعات دنیا میں ظہور پذیر ہو چکے ہیں۔ طرابلس الغرب سے فوجی قوت کم کر کے ترکوں نے جو نقصان اٹھایا، وہ ابھی دنیا کو فراموش نہیں ہوا ہے۔

غرض، دنیا میں حفظِ ما تقدم کی تدابیر نہایت عاقلانہ و حکیمانہ فعل مانی جاتی ہیں، اور جس چیز کی حفاظت منظور ہوتی ہے، اس کے اسباب و مقدمات کی بندش کی جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو پیش آنے والے امور کی کوئی سبیل باقی نہ رہے، اور جو شخص ایسے تدابیر سے غافل رہے، وہ اربابِ خرد کے نزدیک ناداں، سفیہ اور نافہم کہلانے کا مستحق ہے۔

ہادیوں کی نظر اعتقاد، اخلاق و اعمال پر ہوتی ہے اور ان کی توجہ ان سب کو فساد سے محفوظ رکھنے پر ہوتی ہے۔ اعمال کے لیے کچھ مقدمات ہوتے ہیں جو انسان کے لیے ان کے ارتکاب کا باعث ہوتے ہیں، اور باوجود عمل کی برائی اور اس کے قبیح ہونے سے واقف ہونے کے بھی وہ امور آدمی کو فعلِ بد کا شوق دلاتے ہیں اور طبیعت کو دم بدم اس کی طرف کھینچتے ہیں۔

جو مفاسدِ اعمالِ قبیحہ کا انسداد کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے باقتضائے حکمت لازم ہے کہ پہلے وہ مقدماتِ فجور کو روک دے۔ اگر ایسا نہ کیا تو قبائحِ افعال کے روکنے میں کامیابی ہرگز نہ ہو سکے گی۔

مثلاً زنا ایک فعلِ بد ہے، نہایت قبیح ہے، اس کی قباحت پر تمام عالم کے ہر ملت و مذہب کے لوگ متفق ہیں، بلکہ لامذہب بھی، جو کوئی ملت نہیں رکھتے، مگر ذرا سی عقل و شائستگی ان میں ہے، وہ بھی اس کو نہایت قبیح جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ جانوروں میں بھی جو طبیعتِ سلیمہ رکھتے ہیں، وہ اپنے جوڑے کے سوا دوسرے کی طرف التفات نہیں رکھتے، اور کسی وجہ سے ان کا جوڑا ٹوٹ جائے یا اس میں سے ایک مر جائے یا کہیں قید ہو جائے تو دوسرا اپنی تمام زندگی زاہدِ عزلت گزیں کی طرح تنہائی میں گزار دیتا ہے اور کسی دوسرے کے جوڑے کی طرف نظر نہیں ڈالتا۔

نسلوں کا استحفاظ، خاندانوں کی بقا اور قوموں کی حفاظت اسی پر منحصر ہے کہ حرام کاری معدوم کر دی جائے۔ زنا انسان سے حیا و غیرت کی بہترین صفت کو دور کر دیتا ہے اور اس کے نفس کو نہایت بے شرم اور ناپاک بنا دیتا ہے۔ اس سے بہت سی خونریزیاں ہوتی ہیں اور یہ ایک جرم بے شمار جرائم کے ارتکاب کا باعث ہو جاتا ہے۔

زنا سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے، اس کی زندگی کس قدر صعوبتوں کا شکار ہوتی ہے! نہ اس کا کوئی باپ ہے، نہ کسی کو باپ بتا سکتا ہے، نہ اپنے نسب کو کسی کی طرف منسوب کر سکتا ہے، نہ شفقتِ پدری و تربیتِ آبائی و خاندانی کا فیض اسے حاصل ہو سکتا ہے۔ وہ تمام عمر دنیا کی نگاہوں میں ذلت و حقارت کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔

زنا کی برائیاں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ کسی مختصر تحریر میں ضبط کی جا سکیں، اور زیادہ تفصیل کی حاجت بھی نہیں، کیونکہ اس قبیح فعل کے شرمناک عیب اور بدترین جرم ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہے، اور بالاعلان کوئی شخص بھی اسے اچھا کہنے والا نہیں۔

تو جب دنیا نے تسلیم کر لیا کہ یہ بدترین عیب ہے، نہایت قبیح جرم ہے، اور نسلِ انسانی کی حفاظت و بقا اور فسادوں کا دفع اور طبیعتوں کی طہارت اور انسان کی روحانیت اس کے انسداد پر موقوف ہے، تو ہادی کے لیے ضروری ہوا کہ وہ ایسے فعل کے انسداد میں پوری توجہ صرف کرے اور اس کو روکنے کی تمام تدابیر بروئے کار لائے۔

تو اب یہ دیکھنا ہے کہ اس کے محرکات کیا کیا ہیں اور کون سے اعمال و اشغال ایسے ہیں جو انسان کو ایسے فعلِ قبیح کے ارتکاب پر ابھارتے ہیں۔ جو جو فعل بھی اس کا ممد و معین ہو سکتا ہے، اس کا روک دینا زنا کے روکنے والے کے لیے بمقتضائے حکمت ضروری ہوگا۔

اس لیے اطبائے روحانی اور ان کے سردار، یعنی انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام نے تمام مقدماتِ فجور کو ممنوع فرما دیا۔ گانا بجانا، ولولہ انگیز عاشقانہ نظمیں، نغمات کو موسیقی کے انداز میں ادا کرنا شہوات کو ابھارتا ہے۔ حرام کاری کو روکنے والی شریعت اس کو کب گوارا کر سکتی ہے؟ اس لیے اس قسم کا راگ اور باجا، جو شہوت انگیز ہو، ممنوع فرمایا گیا۔

تصویروں کے ذریعہ بے حیائی، بے حجابی اور بدفعلی کے ذوق پیدا کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ تصویروں میں اور مفاسد بھی ہیں، مگر تصویر کو ممنوع کر دینے سے فجور کے ایک بہت بڑے مقدمہ کی بندش ہو گئی۔

عورتوں کی بے حجابی، ان کا بے پردہ سامنے آنا، دل پسند وضع اور لباس میں مردوں کے سامنے رونما ہونا، بالیقین قوائے شہوانیہ میں ہیجان پیدا کرتا ہے اور حرام کاری، فتنہ و فساد کا باعث ہوتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں کے جذبات اس سے خراب ہو جاتے ہیں اور نفسِ شہوت پرست کو مبتلائے معصیت ہونے کے بہت سے مواقع ہاتھ آتے ہیں۔ اس لیے جس ہادی کو حرام کاری کا بند کرنا منظور ہے، اس نے پردہ لازم کیا۔

زمانوں کے بدلنے سے حالات بھی کچھ بدل جایا کرتے ہیں۔ جس زمانے میں انسان سادہ زندگی کے عادی تھے، طبیعتوں میں شرم و حیا تھی، عورتیں موٹے اور تمام جسم کو ڈھانکنے والے لباس پہنتی تھیں، باوجود ایں کہ جہاں مرد ہوں وہاں سے بچتی تھیں، بے پڑھی لکھی تھیں، عشقی قصے کہانیاں، ناول سننے یا دیکھنے کا انہیں کوئی موقع نہ تھا—اس وقت پردہ اتنا ضروری نہ تھا جتنا آج ہے۔

اس لیے آج کل کے حالات کے پیشِ نظر سینما دیکھنا چھوڑ دو، گراموفون سننا چھوڑ دو۔ اگر ایسا نہ کیا تو انسانی شرافت اور شرعی حرمت کی حفاظت نہ ہو سکے گی۔

تعلیم کی آڑ میں بھی عورتوں کو بے پردہ کرنے کے لیے سرمستانِ شہوت بہت کوشش کر رہے ہیں۔ مسلمان ان مغالطوں سے بچیں اور ان دشمنانِ ملت و حمیت کے ہتھکنڈوں کو پہچانیں، عواقبِ امور پر نظر ڈالیں اور اس بلائے عام کو دور کریں، اور علماءِ دین کے ساتھ ارتباط و عقیدت بڑھائیں اور ان کے احکام کے سامنے سر جھکائیں۔

کبھی غور کریں کہ سینما اور گراموفون وغیرہ محرکاتِ شہوت سے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے، ان کی کتنی دولتیں ضائع ہو چکی ہیں، کتنا روپیہ روزمرہ لٹ رہا ہے، کیسے فاسد افعال اور برے اخلاق پیدا ہو رہے ہیں۔ مزدور طبقہ اور چھوٹی حیثیت کے لوگ اپنی تمام مزدوری ان لغویات میں برباد کر رہے ہیں، اور ان کے گھر والے اور بچے فاقہ اور تنگی کی مصیبتیں اٹھاتے ہیں۔

افسوس ہے ان کی عقلوں پر جو اس تباہ انگیز طوفان کو ترقی کہتے ہیں اور ایسے مفسدات کے رواج دینے میں سعی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت فرمائے کہ مسلمانوں کو بالکل تباہ کر ڈالنے سے پہلے وہ اپنی غلطی پر متنبہ ہو جائیں۔ آمین ثم آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!