| عنوان: | آہ! حضرت مفتی اعظم راجستھان |
|---|---|
| تحریر: | مبارک حسین مصباحی |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
9 ذی الحجہ 1434ھ، 15 اکتوبر 2013ء بروز منگل دو بج کر پچاس منٹ پر مفتی اعظم راجستھان حضرت مفتی شاہ محمد اشفاق حسین نعیمی کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ اس دردناک خبر سے نہ صرف راجستھان بلکہ ملک اور بیرونِ ملک غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی اعظم راجستھان کو غریقِ رحمت فرمائے، ان کی قبرِ انور پر مغفرت کے بادل برسائے، اولاد، پسماندگان اور متعلقین کو صبر و شکر کی توفیقِ خیر عطا فرمائے۔ (آمین)
آپ کے وصالِ پرملال کے بعد نہ صرف راجستھان اور گجرات میں بلکہ کثیر مقامات پر ایصالِ ثواب کی محفلیں منعقد ہوئیں، دوبار جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں، انتقال کی خبر پا کر 15 اکتوبر 2013ء کو اور پھر عید الاضحیٰ کی تعطیل کے بعد اساتذہ اور طلبہ کی محفل میں۔ دوسری مجلس میں علمائے کرام نے اپنے دردناک خیالات کا اظہار کیا اور اجتماعی طور پر ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا گیا۔
حضرت مفتی اعظم راجستھان ہلکی پھلکی بیماریوں میں برسوں سے مبتلا تھے، ادھر ایک ماہ سے شدید بیمار تھے، ان کے دگرگوں حالات سے تلامذہ و خلفاء، مریدین و متوسلین اور اہلِ خانہ سخت مضطرب تھے۔ ہر زندگی کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ آخری ایام میں حضرت ایم جی ایم ہاسپٹل میں زیرِ علاج تھے، وقت پورا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ آپ کے محبوب تلامذہ اور متعلقین نے غسل دیا اور انتہائی ادب و احترام کے ساتھ تمام مراسم ادا کیے۔ ٹھیک عید الاضحیٰ کے دن 2 بجے نمازِ جنازہ کا اعلان کیا گیا تھا، متعلقین کے ہجومِ شوق نے وقتِ موعود کو آگے بڑھا دیا۔ نائب مفتی اعظم راجستھان حضرت مفتی شیر محمد خاں نے شام 5 بجے نماز پڑھائی۔ نمازِ جنازہ جودھ پور کی مرکزی اور وسیع عیدگاہ میں ادا کی گئی، ساڑھے آٹھ بجے کے قریب حضرت مفتی اعظم راجستھان کے چہیتے فرزند الحاج معین الدین اشرفی اور حضرت کے پوتوں اور نواسوں نے قبر میں اتارا اور یوں انتہائی نمناک اور غم زدہ ماحول میں تمام آخری مراسم ادا کیے گئے۔ حضرت مفتی اعظم راجستھان کی قبرِ انور اشفاقیہ انسٹی ٹیوٹ، چوکھا، جودھ پور کے وسیع رقبے میں بنائی گئی ہے۔
چہلم شریف کا اجلاس 12 محرم الحرام 1435ھ مطابق 17 نومبر 2013ء کو صبح سے نمازِ ظہر تک رہے گا۔ یہ عظیم الشان اجلاس بھی اشفاقیہ انسٹی ٹیوٹ، چوکھا، جودھ پور کے وسیع و عریض میدان میں منعقد ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس پروگرام کو مکمل کامیابی سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔
حضرت مفتی اعظم راجستھان کی ولادتِ باسعادت موضع شیونالی ضلع امروہہ میں 1921ء میں ہوئی۔ دادا جان اور پھر والدِ گرامی گاؤں کے مکھیا تھے۔ والدِ گرامی جناب محمد الطاف حسین مرحوم علم دوست تھے۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ میرا بیٹا عالمِ دین بنے اور ہندوستان بھر میں دین و سنیت کی تبلیغ کرے۔ گاؤں میں پہلے سے کوئی اسکول اور مکتب نہیں تھا۔ اب ضرورت پیش آئی تو انہوں نے اپنے اثر سے گاؤں میں ایک اسکول قائم کیا اور مفتی اشفاق حسین علیہ الرحمہ کو اس میں داخل کیا۔ آپ نے اس اسکول میں پرائمری تعلیم کے ساتھ اردو اور ناظرۂ قرآن مجید بھی مکمل کیا۔ اور پھر والدِ گرامی آپ کو لے کر سنبھل پہنچے، جہاں اجمل العلماء حضرت علامہ شاہ اجمل حسین رضوی علیہ الرحمہ کا شہرۂ آفاق ادارہ چل رہا تھا۔ والدِ گرامی نے حضرت شاہ صاحب سے عرض کیا، ”حضور یہ آپ کا بیٹا ہے، ہم آپ کی بارگاہ میں عالم و فاضل بنانے کے لیے لے کر آئے ہیں۔ آپ کی نگاہِ کرم ہو گئی تو ان شاء اللہ ہم سب کی مرادیں پوری ہو جائیں گی“۔ حضرت نے ان شاء اللہ فرما کر قبول فرمایا۔ اس وقت مدرسہ اہلِ سنت اجمل العلوم سنبھل میں حضرت اجمل العلماء کی نیابت میں مناظرِ اہلِ سنت حضرت مفتی محمد حسین منجھلی، جامع معقول و منقول حضرت علامہ سید مصطفیٰ حسین سنبھلی بھی استاذ تھے۔ ان بزرگوں کی نگاہِ علم اور توجہ و عنایت سے جناب اشفاق حسین صاحب مفتی اعظم راجستھان بن گئے۔ اساتذۂ کرام کی دعائیں اور والدین کی تمنائیں پوری ہو گئیں۔
عہدِ طالبِ علمی میں ایک واقعہ پیش آیا، یہ شاید منجھل میں حضرت کا پہلا برس تھا، بقول حضرت مفتی اعظم راجستھان: ”کسی وہابی نے میرے والد سے کہا کہ آپ اپنے بچے کو دیوبند بھیج دیجیے، میرے والد کا جواب تھا، میں اپنے بچے کو جاہل تو رکھ سکتا ہوں مگر دیوبندی مدرسے میں نہیں دے سکتا۔ یہ میرے والد کی سختی کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مقام عطا فرمایا۔“ [معارف مفتی اعظم راجستھان، ص: 416]
بڑے تزک و احتشام کے ساتھ جشنِ دستارِ فضیلت کا انعقاد ہوا۔ پروگرام کے روحِ رواں تو بلاشبہ حضرت اجمل العلماء اور دیگر اساتذۂ اجمل العلوم تھے، لیکن بحیثیت خطیب جن بزرگوں نے شرکت فرمائی ان میں تاج العلماء حضرت مولانا محمد عمر نعیمی، مفتی آگرہ حضرت مولانا عبد الحفیظ اور معمارِ ملت حضرت مولانا محمد یونس نعیمی علیہم الرحمہ وغیرہ مدعو تھے۔
ختمِ بخاری شریف اور جشنِ دستار بندی کے بعد جب حضرت گھر پہنچے تو ہر طرف مسرت و شادمانی کا ماحول تھا، مبارکبادیوں کے گلدستے لٹائے جا رہے تھے۔ حضرت کی دادی جان جو چودہ برس سے نابینا تھیں، حضرت کے والدِ گرامی نے مسلسل علاج کرایا لیکن مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا، آج دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ دادی جان بھی فرحت و مسرت میں ڈوب گئی تھیں۔ اب اس کے بعد کیا ہوا، اس کی تفصیل حضرت مفتی اعظم راجستھان کی مقدس زبان سے سنیے: ”جب میں بخاری شریف ختم کر کے گھر پہنچا تو ان کو اتنی خوشی ہوئی کہ وہ بینا ہو گئیں اور ایک سال تک جیتی رہیں، اور آنکھوں میں ایسی روشنی آئی کہ 29 کا چاند دیکھا کرتی تھیں۔ اس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے مجھ کو بچپن میں دیکھا تھا، بینائی آنے کے بعد انہوں نے مجھے دیکھا تو میری داڑھی مونچھ آ چکی تھی، یعنی میں جوان ہو گیا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ میں دعا کرتی تھی کہ جب تم پڑھ کر آؤ تو میں تمہارا چہرہ دیکھوں۔“ [معارف مفتی اعظم راجستھان، ص: 420]
حضرت مفتی اعظم راجستھان فراغت کے بعد چند ایام کے لیے دھڑپال ضلع مراد آباد تشریف لے گئے، 1945ء میں پالی مارواڑ گئے۔ اکتوبر 1947ء میں والدِ بزرگوار کا انتقالِ پرملال ہو گیا۔ دسمبر 1947ء میں آپ اپنے وطن گئے۔ قریب دس ماہ تک آپ گھر پر رہے۔ 10 دسمبر 1948ء میں آپ جودھ پور تشریف لے گئے، اب مزید تفصیل حضرت مفتی اعظم راجستھان علیہ الرحمہ کی زبانِ مبارک سے سنیے: ”پہلے میں پالی آیا، مدرسہ اسحاقیہ بہت ہی قدیم ادارہ ہے، اسے تقریباً سو برس پہلے ایک بزرگ حافظ و قاری اسحاق صاحب نے قائم کیا تھا۔ وہ باعمل عالم تھے۔ پالی کے قیام کے دوران جودھ پور کے لوگوں سے تعلقات تھے۔ خاص طور سے منشی محمد حسین صاحب مرحوم، حاجی غلام مصطفیٰ صاحب۔ ان لوگوں نے پالی والوں پر زور دیا کہ ہم جودھ پور آ جائیں، چنانچہ دسمبر 1948ء میں جودھ پور آیا۔ یہاں مدرسے میں صرف تین کمرے تھے مسجد میں ایک حجرہ تھا، اس حجرے میں میرا قیام ہوا اور کوئی عمارت نہیں تھی۔ اسی حجرے میں تدریسی فریضہ انجام دینے لگا۔ اس وقت اس ادارے کی مالی حالت انتہائی کمزور تھی۔“ [معارف مفتی اعظم راجستھان، ص: 415]
اقتصادی پریشانیوں کے پیشِ نظر حضرت مفتی اعظم راجستھان ذہنی طور پر بوجھل ہونے لگے۔ 1955ء میں حسنِ اتفاق سے خانوادۂ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے شیخِ طریقت، خطیبِ اعظم حضرت محدثِ اعظم ہند اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت، تاجدارِ اہلِ سنت حضرت مفتی اعظم ہند کی آمد ہوئی۔ ان دونوں بزرگوں کا قیام دار العلوم اسحاقیہ میں تھا۔ حضرت مفتی اعظم راجستھان نے حالات کی سنگینی کا ذکر کیا۔ دونوں بزرگوں نے بڑی توجہ سے آپ کی باتوں کی سماعت کی۔ حضرت محدثِ اعظم ہند نے فرمایا کہ آپ یہاں سے جانے کی بات کر رہے ہیں، اور ہم دار العلوم اسحاقیہ کا مستقبل بہت روشن دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ہماری رائے یہی ہے کہ آپ جودھ پور سے ہرگز نہ جائیں اور دلجمعی کے ساتھ دین و سنیت کی خدمت کریں اور یہ ہمارا نہیں بلکہ حضرت صدر الافاضل سید شاہ محمد نعیم الدین مراد آبادی کا حکم ہے۔ اب اس اجمال کی تفصیل آپ حضرت مفتی اعظم راجستھان کی زبان سے سنیے۔
حضرت فرماتے ہیں: ”1955ء میں حسنِ اتفاق کہ حضرت محدثِ اعظم ہند، حضرت مفتی اعظم ہند، یہ دونوں آفتاب و ماہتاب یہاں تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ وقت پر تنخواہ بھی نہیں ملتی، بڑی پریشانی ہے۔ دونوں بزرگ اس ادارے کے مختصر سے صحن میں تشریف فرما تھے۔ جب میں نے عریضہ پیش کیا کہ مالی حالت انتہائی کمزور ہے، آپ مجھے اجازت دیں کہ میں یہ جگہ چھوڑ دوں۔ ان دونوں بزرگوں نے میری گزارشات بغور سنیں اور سننے کے بعد حضرت محدثِ اعظم ہند کی زبان سے نکلا، ”آپ جا رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس ادارے کا مستقبل انتہائی شاندار ہے۔ یہاں سے ایسے پھول کھلیں گے جو صرف پورے علاقے کو نہیں بلکہ پورے ملک کو مہکائیں گے“۔ پھر دونوں نے دعا کی، اور دعا کے بعد فرمایا: ”مولانا سنیے! آپ کو یہاں سے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ حضرت صدر الافاضل کا حکم ہے۔ آپ رکیے، اس ادارے کا مستقبل بہت روشن ہے۔“ [معارف مفتی اعظم راجستھان، ص: 415]
1955ء میں ان بزرگوں نے دعائیں فرمائیں۔ 1957ء میں مجاہدِ دوراں حضرت مولانا سید مظفر حسین کچھوچھوی کا ورود ہوا۔ حضرت سے عرض کیا گیا کہ مدرسے کے قریب ایک حویلی بک رہی ہے، مجاہدِ دوراں نے پوری بات کو سنا اور دوسرے ہی دن جودھ پور کے مسلمانوں میں اعلان فرما دیا کہ جلد ہی اس حویلی کو خریدنا ہے اور سارے پروگرام ملتوی کر کے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے میدان میں اتر پڑے۔ جودھ پور کے گلی کوچوں میں چندے کی حصولیابی کے لیے مہم کی باگ ڈور سنبھالی۔ حضرت نے انتہائی محنت و لگن سے اس مہم کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی مگر انتظام صرف آدھی حویلی خریدنے کا ہو سکا۔ ایک عظیم خانقاہ کے فرزندِ ارجمند، مشہور خطیب اور شہرۂ آفاق سیاسی قائد کی یہ ایک بڑی قربانی تھی۔ اس وقت مجاہدِ دوراں نے ایک ماہ تک جودھ پور میں قیام فرمایا۔ 1959ء میں دار العلوم اسحاقیہ کا باضابطہ تعمیری کام شروع ہوا۔
1968ء کی بات ہے۔ دار العلوم اسحاقیہ کے دو بڑے ہال جو نیچے اوپر تعمیر ہوئے تھے، جن میں ایک سیکنڈری اسکول کی لیبارٹری روم اور دوسرا لیکچر ہال تھا، 26 ستمبر کو بالائی ہال کی چھت اچانک بیٹھ گئی، اور ملبے کے بوجھ سے پہلی منزل بھی زمین بوس ہو گئی، لیبارٹری کے بیش قیمت فرنیچر اور ساز و سامان چور چور ہو گئے۔ اس عمارت کی تعمیر میں اہلِ جودھ پور نے بے پناہ اخراجات کیے تھے، جب آنکھوں کے سامنے سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔ 28 اکتوبر کو ایک ہنگامی اجلاس الحاج محمد جی ٹھیکیدار کی صدارت میں منعقد ہوا۔ وحید اللہ خاں نے افتتاحی تقریر کی، اس موقع پر حضرت مفتی اعظم راجستھان نے ایک ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔ حضرت نے اپنے خطاب میں صحابۂ کرام کے ایثار و قربانی کے رقت انگیز واقعات سنائے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر سرکار علیہ السلام نے صحابۂ کرام سے کچھ پیش کرنے کے لیے ارشاد فرمایا، اس موقع پر حضرت فاروقِ اعظم نے خیال کیا کہ آج ہم اتنا لے جائیں گے کہ سرکار علیہ السلام خوش ہو جائیں۔ اپنے گھر کے تمام سامان کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ بارگاہِ رسول میں پیش کیا۔ اتنے میں حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیقِ اکبر سے دریافت کیا کہ اے صدیق کیا اہلِ خانہ کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا سرکار اہلِ خانہ کے لیے تو اللہ تعالیٰ اور آپ کی محبت ہی کافی ہے۔ مجمع پر حضرت مفتی صاحب کے خطاب کا انتہائی گہرا اثر پڑا۔ اسی لمحے حضرت مفتی صاحب نے اعلان فرمایا میں اپنے، ٹھیکیدار شوکت علی اور ٹھیکیدار عبد الرشید کی جانب سے اعلان کرتا ہوں کہ منہدم عمارت ہم تینوں بنوائیں گے۔ اس اعلان کے بعد مجمع نے بے پناہ مسرت و شادمانی کا اظہار کیا اور یکے بعد دیگرے اپنے اپنے تعاون کا اعلان کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے مجمع کی تاریک فضا امید و یقین کے اجالوں میں گم ہو گئی۔
1988ء میں پال سنگ روڈ، کمل نہرو نگر جودھ پور میں ایک وسیع زمین خریدی گئی، جس میں اشفاقیہ ہاسٹل کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس خوبصورت عمارت میں طلبہ کے قیام و طعام اور تعلیم و تربیت کا معقول انتظام ہے۔ 1992ء میں اشفاقیہ ہاسٹل کے بالکل سامنے مدرسہ فاطمۃ الزہرا کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اب اس عالیشان عمارت میں اہلِ سنت و جماعت کی طالبات کا معقول انتظام ہے۔
اشفاقیہ انسٹی ٹیوٹ جو تقریباً آٹھ بیگھہ زمین میں ہے، یہ قلبِ شہر سے آٹھ کلومیٹر کی دوری پر ہے، اس میں جلد ہی تصنیف و تحقیق کے مختلف شعبے قائم کیے جائیں گے۔ یہی وہ مقدس زمین ہے جس میں مفتی اعظم راجستھان کی آخری آرام گاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبرِ انور پر رحمت و نور کی موسلادھار بارش فرمائے۔
حضرت مفتی اعظم راجستھان اپنے علم و دیانت، تقویٰ و پرہیزگاری اور شفقت و محبت میں ہمیشہ ایک مثالی حیثیت کے حامل رہے۔ آپ نے تعمیر و ترقی اور خدمتِ خلق میں بھی بڑے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ آپ نے صرف دار العلوم اسحاقیہ جودھ پور ہی کو ترقی نہیں دی بلکہ اس کے ساتھ پورے راجستھان اور اس سے متصل علاقوں میں مدارس اور تحریکوں کا جال پھیلا دیا اور درجنوں ادارے دار العلوم اسحاقیہ کی شاخ کے طور پر برسرِ عمل ہیں۔ آج راجستھان کا گوشہ گوشہ مفتی اعظم راجستھان کے احسانات کے بارِ گراں سے بوجھل ہے۔ عام طور پر لوگ اپنے دینی مسائل حضرت ہی سے دریافت کرتے تھے اور اسی طرح اپنے معاملات میں بھی حضرت ہی سے رابطہ رکھتے تھے۔ علمائے اہلِ سنت نے آپ کو مفتی اعظم راجستھان کا عظیم خطاب عطا فرمایا۔ آپ کے فتاویٰ کے تین رجسٹر تھے، مگر افسوس دو مسودے اب تک دستیاب نہ ہو سکے۔ جو مسودہ ہاتھ آیا وہ 1962ء کا ہے جس میں کثیر موضوعات کے تحت آپ کے فتاویٰ ہیں۔ آپ کوئی باضابطہ قلم کار تو نہیں تھے، مگر جو کچھ لکھتے تھے وہ بہت اہم ہوتا تھا۔ دو کتابیں آپ کی تصانیف میں یادگار ہیں: (1) اِعْتِقَادُ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ نَبِيَّنَا دَافِعُ الْخَوْفِ وَالْبَلَاءِ وَشَفِيعُ الْمُذْنِبِينَ. (2) مکینِ لامکاں، محبوبِ رب العالمین کی آمد، عالم میں دھوم دھام۔
حضرت مفتی اعظم راجستھان ایک عابدِ شب زندہ دار اور سچے عاشقِ رسول تھے۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے سنتِ مصطفیٰ کا آئینہ نظر آتے تھے۔ آپ سے لوگ مسائل بھی معلوم کرتے تھے، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر یہ یقین کر لیتے تھے کہ یہی شرعی حکم ہوگا۔ حضرت مفتی اعظم راجستھان نے میری معلومات کے مطابق دو بار سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ یہ دونوں مبارک خواب ہم حضرت ہی کے بیان سے ذیل میں نقل کرتے ہیں:
حضرت فرماتے ہیں: ”جب میں پالی میں تھا اس وقت میں نے خواب دیکھا، نصیبہ جاگا، رات کے آخری حصے میں اللہ رب العزت کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری ہوئی، جیسے ہی اندر حاضری کے لیے آگے بڑھا تو ایک آواز آئی، مڑ کر دیکھا حضرت صدر الافاضل مراد آبادی وہاں نظر آئے۔ میں نے یہ سمجھا کہ اسی توسل سے ہی میں آگے پہنچا ہوں، اصل مزار شریف پر حاضری ہوئی۔ میں اور میرے ساتھ ایک جمِ غفیر، میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کون لوگ تھے، چونکہ میں ان کو جانتا نہیں تھا، ہم نے مزار شریف کو صاف کیا، کس چیز سے صاف کیا، میں نہیں بتا سکتا اور ایک ایسی نورانیت میں نے وہاں محسوس کی، جسے میں اپنے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ہوں۔ ایک عجب کیف و سرور کا عالم تھا۔ بہرحال مزار شریف کی حاضری کے بعد ہم سب باہر آئے، فجر کی اذان ہو رہی تھی کہ آنکھ کھل گئی۔“
حضرت مفتی اعظم راجستھان اس خواب سے خوش تو بہت تھے، لیکن اس خواب کی تعبیر دریافت کرنے کے لیے حضرت صدر الافاضل علامہ شاہ محمد نعیم الدین مراد آبادی کی بارگاہ میں خط روانہ کیا۔ حضرت نے جو جواب عنایت فرمایا، اسے آپ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں: ”میں نے اس دن کا خواب لکھ کر حضرت صدر الافاضل کی خدمت میں ارسال کیا۔ ایک ہفتے کے اندر حضرت صدر الافاضل کا جواب آیا۔ ”مبارک ہو، مبارک ہو، مبارک ہو، اللہ تعالیٰ آپ سے اور آپ کے ان رفقا سے جو آپ کے ساتھ ہیں، دین کا کام لے گا۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ آج کچھ دین کا کام ہو رہا ہے تو یہ اسی خواب کی تعبیر ہے۔“ [معارف مفتی اعظم راجستھان، ص: 413، 414]
حضرت مفتی اعظم راجستھان سے سفرِ حرمین طیبین کی تاریخ اور اس سفر وغیرہ کے بارے میں دریافت کیا گیا، حضرت نے انتہائی سکون کے ساتھ درج ذیل بیان نوٹ کرایا: ”میں نے پہلا حج 1963ء میں کیا، مدینہ پاک میں ایک ماہ قیام رہا اور مدینۂ طیبہ میں ایک ہفتہ قیام ہو چکا تھا کہ ایک دن عصر و مغرب کے درمیان مواجہۂ اقدس میں باادب سلام عرض کر رہا تھا معاً مجھے خیال آیا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں یہاں بخاری شریف حرفاً حرفاً ختم کر لیتا۔ اس خیال کا اظہار قطبِ مدینہ، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، علامہ و مولانا ضیاء الدین مہاجر مدنی علیہ الرحمہ سے کیا۔ فرمایا بڑا مبارک خیال ہے، آج پیر کا دن ہے، آج ہی بخاری شریف پڑھنا شروع کر دو۔ چنانچہ اسی دن بخاری شریف لے کر حرفاً حرفاً پڑھنا شروع کر لی۔ پندرہ ایام میں بخاری شریف ختم ہوئی اور بخاری شریف دوپہر کے وقت میں ختم کی۔ یہ میرے اس خواب کی تعبیر تھی جو حجِ بیت اللہ کی ادائیگی سے سترہ سال پہلے دیکھا اور یہ خواب رات کے حصے کا ہے۔ سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا، حضور نے ارشاد فرمایا: ”بخاری لاؤ“، ایک صاحب بخاری لانے گئے، میں نے عرض کیا سرکار دعوت قبول فرمائیے، ارشاد فرمایا: ”دوپہر کی دعوت منظور ہے“۔ مدینہ پاک کے قیام کے دوران دوپہر کے وقت بخاری شریف کو ختم کرنا اس خواب کی صحیح تعبیر ہے۔“ [ماہنامہ اشرفیہ، مبارکپور، مارچ 2007ء]
حضرت مفتی اعظم راجستھان کا عشقِ رسول بارگاہِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبول تھا۔ حضرت کی پوری زندگی اعتدال و توازن سے عبارت تھی۔ آپ نے اہلِ سنت کے داخلی اختلافات حل کرانے کی بھی بے پناہ کوششیں کیں اور حضرت کی منصوبہ بند کوششیں بڑی حد تک بارآور بھی ہوئیں۔ حضرت ہر معاملے میں ایک متوازن رائے رکھتے تھے اور کچھ بولنے سے پہلے غور کر لیتے تھے۔ آج بعض لوگ دعوتِ اسلامی اور سنی دعوتِ اسلامی کی مخالفت میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہتے ہیں، حضرت نے بڑے اعتدال اور توازن کے ساتھ ان کی خدمات کو بھی سراہا ہے۔ حضرت فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک یہ تنظیمیں اور تحریکیں بنامِ دین و سنیت اپنے اپنے اصول و ضوابط اور دائرۂ کار کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ جن سے میں پورے طور پر اتفاق کرتے ہوئے خوشی اور مسرت کا اظہار کرتا ہوں اور مبارکباد دیتا ہوں، بلکہ ہماری نیک خواہشات اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ جن میں دعوتِ اسلامی اور سنی دعوتِ اسلامی کا دائرۂ کار عروج و ارتقائی منازل طے کرتا ہوا ہندوستان کی وسعتوں سے نکل کر بیرونِ ہند جا پہنچا، جیسا کہ اہلِ مشاہدہ کا بیان اس پر شاہدِ عدل ہے۔“ [ماہنامہ اشرفیہ، مبارکپور، مارچ 2007ء، ص: 18]
حضرت مفتی اعظم راجستھان بلاشبہ ایک سچے عاشقِ رسول ہیں، زندگی بھر نجدی وہابیوں اور دیوبندیوں کی تردید فرماتے رہے، دو بار آپ نے دیوبندیوں سے علمِ غیبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر کامیاب مناظرہ بھی فرمایا۔ دورانِ حج آپ نے نجدی اماموں کی اقتدا سے بھرپور پرہیز کیا، بلکہ واپسی پر ایک گراں قدر تحریر بھی لکھی۔
اہلِ سنت کے عظیم محقق و خطیب حضرت علامہ سید محمد قائم قتیل داناپوری علیہ الرحمہ نے حج و زیارت سے واپسی کے بعد نجدی وہابی اماموں کے پیچھے نماز کی اقتدا کے تعلق سے شرعی حکم تحریر کیا تھا۔ اس وقیع تحریر پر ہندوستان بھر کے نامور علما سے تائیدی تحریریں بھی حاصل کی گئی تھیں جو بنام ”مسئلۂ مرغوب“ یکجا کتابی شکل میں شائع ہوئیں۔ بابائے ملت حضرت مفتی محمد اشفاق حسین نعیمی بھی اس سال حج و زیارت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے تھے۔ نجدیوں نے حرمین طیبین میں رسول دشمنی کے جو قیامت آشوب کرتوت کیے ہیں اور عاشقانِ رسول حجاجِ کرام کے ساتھ سعودی حکومت کے کارندے جو نازیبا برتاؤ کرتے ہیں، مفتی اعظم راجستھان وہ دردناک مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئے تھے۔ آپ نے ایک چشم دید شاہد اور بلند پایہ فقیہ کی حیثیت سے علامہ قتیل داناپوری کی تحریر پر ایک مفصل تائیدی تحریر سپردِ قلم فرمائی جو اپنے موضوع پر آج بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس گراں قدر، چشم کشا تحریر کے چند حصے ذیل میں پڑھیے:
”الحمد للہ کہ اس سال کاتب الحروف بھی زیارتِ حرمین شریفین سے مشرف ہوا اور ہر نماز باجماعت پڑھی۔ نجدیوں کی جماعت کے بعد ہماری جماعت ہوتی تھی جس میں ہند و بیرونِ ہند کے علما و صلحا و عوام شریک ہوتے۔ مدینۂ طیبہ میں پنج وقتہ نماز باجماعت ریاض الجنہ میں ہوتی تھی اور مستحب وقت میں جماعت کرتے تھے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ بعض نمازوں میں خصوصاً عصر کی نماز ایسے وقت نجدی امام پڑھاتا ہے جبکہ عند الاحناف عصر کا وقت بھی شروع نہیں ہوتا اور جمعہ کی نماز ضحوۂ کبریٰ کے وقت ہوتی ہے۔ یعنی وقت سے قبل۔
نجدی شرک کی حقیقت: مواجہہ شریف میں اگر جالی شریف کو زائر نے بغیر پیسہ دیے بوسہ دیا، یا مسجد شریف کے ستونوں کو بوسہ دیا، فوراً نجدی سپاہی شرک و بدعت کا فتویٰ لگا دیتا ہے۔ جب بقول نجدیوں کے یہ فعل شرک ہے تو اس کا فاعل مشرک ہوا اور مشرک اس وقت تک مسلمان ہو نہیں سکتا جب تک اس فعل سے توبہ کر کے کلمہ نہ پڑھے، چنانچہ نجدی دھرم میں اس کی ضرورت نہیں۔ ان کا شرک چند پیسوں سے دور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ میں نے خود دیکھا ہے کہ ایک شخص ایک ریال سپاہی کو دے کر جالی شریف سے چند ہاتھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا تو اس سپاہی نے اس زائر کا ہاتھ پکڑ کر جالی کے پاس کھڑا کر کے کہا، بوسہ دو۔ اور ایک ریال تو بہت ہے اگر کسی نے چند قرش دے دیے تو اس کو بھی بوسہ کی اجازت ہے۔ کیا نجدی مفتی و قاضی یہ بتلا سکتا ہے کہ پیسہ دے کر تو بوسہ کی اجازت اور بغیر پیسہ دیے اگر کسی نے بوسہ دیا تو شرک؟“
اخبارات وغیرہ میں بادشاہ کو جلالۃ الملک کہتے ہیں، نام نہیں۔ اور سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا جب ذکر کرتے ہیں تو اکثر صرف محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک اخبار میں خود لے کر آیا ہوں۔ سامانِ تعیش حرم شریف کے دروازے پر بکتا ہے، جس میں عریاں تصویریں بھی ہوتی ہیں، اس پر کسی قسم کی بھی پابندی نہیں، مگر فضائلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر کتابوں کو جلوا دیا گیا، سعیِ بلیغ کے بعد بھی علامہ نبہانی کی ”جواہر البحار“ وغیرہ دستیاب نہ ہو سکی۔ ایک سنی نے مجھ سے کہا کہ اس کتاب کا ملنا مشکل ہے، کیوں کہ جس کتاب کے متعلق نجدی حکومت کو معلوم ہو جائے کہ اس میں فضائلِ رسول ہیں، اس کو جلوا دیا جاتا ہے۔ العیاذ باللہ مسجد الحرام شریف میں بابِ ابراہیم کی طرف ایک اونچی جگہ قرآن پاک رکھے ہوئے تھے، اسی جگہ کرسی بچھا کر نجدی سپاہی مع جوتوں کے کرسی پر بیٹھا رہتا ہے۔ بار بار اس کو منع کیا گیا، مگر وہ اپنی خباثت سے باز نہ آیا۔ اس قسم کی بہت سی بیہودگیاں نجدیوں کی نظر آئیں، خدا نجدی کے شر سے بچائے۔۔۔۔“ [ماہنامہ اشرفیہ، مارچ 2007ء، ص: 27، 29]
راجستھان کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ اشوک گہلوت اور دیگر بڑے وزرا آپ سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ ابھی کچھ دنوں قبل اشوک گہلوت نے آپ کے دار العلوم اسحاقیہ کو 33 بیگھہ زمین مبلغ ایک روپیہ میں عطا کی ہے۔ راجستھان کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ کا یہ کارنامہ تاریخ میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ مقامِ مسرت یہ ہے کہ سٹی انتظامیہ نے اس زمین پر باؤنڈری بنانے کے لیے مبلغ ڈیڑھ کروڑ روپے بھی مختص کر دیے ہیں۔
24 فروری 2007ء کو دار العلوم اسحاقیہ جودھ پور کے ذمہ داران اور حضرت کے مریدین اور تلامذہ نے عظیم الشان ”جشنِ مفتیِ اعظم راجستھان“ منعقد کیا۔ پروگرام سے قبل شہزادۂ مفتیِ اعظم راجستھان الحاج معین الدین اشرفی ہمارے گھر شاہ آباد ضلع رامپور بھی تشریف لائے۔ ان کے ساتھ دیگر احباب میں الحاج ذوالفقار علی سنبھلی (عرف حاجی بھٹو) مرحوم بھی تھے۔ جشن سے قبل اتفاق سے ہم جودھ پور میں تھے، اسی دوران جشن کی میٹنگ ہوئی جس میں ہم بھی شریک رہے۔
حضرت مفتی اعظم راجستھان کی اولین زیارت ہمیں ان دنوں نصیب ہوئی جب ہم شعبۂ حفظ میں مدرسہ اجمل العلوم سنبھل میں زیرِ تعلیم تھے، اس کے بعد فاروقیہ بک ڈپو مٹیا محل، دہلی میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ دہلی ملاقات باضابطہ تعارف کے بعد تھی، اسی دن حضرت کے حکم سے انہی کی معیت میں ہم نے ایک جلسے میں شرکت کا شرف بھی حاصل کیا اور اس کے بعد مسلسل جودھ پور کے جلسوں اور کانفرنسوں میں شرکت کرتا اور فیض حاصل کرتا رہا۔ اسی دوران حضرت مفتی اعظم راجستھان نے اس بندۂ حقیر مبارک حسین مصباحی بن خلیل احمد مرحوم کو ”سند الخلافۃ والاجازۃ“ سے سرفراز کیا۔ اس سند کے آخر میں ”التَّوْقِيعُ لِلشَّيْخِ الْمُعَظَّمِ“ کے طور پر حضرت مفتی اعظم راجستھان کا اسمِ گرامی وقار ہے: اشفاق حسین نعیمی غفر لہ القوی، 18 شعبان المعظم 1425ھ، 4 اکتوبر 2004ء۔
اس سندِ خلافت و اجازت میں سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نوریہ ضیائیہ اور سلسلۂ چشتیہ اشرفیہ نعیمیہ اجمالیہ وغیرہ کے مختلف سلاسل کی خلافتیں اور اجازتیں ہیں۔
جشنِ مفتیِ اعظم راجستھان میں دینی اور عصری علوم کے ماہرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دن میں دار العلوم اسحاقیہ کے اندر ”مفتی اعظم راجستھان سیمینار“ تھا، سیمینار میں بلند پایہ قلم کاروں نے شرکت کی۔ ذمہ داروں نے سیمینار کی نظامت کا بارِ گراں ہمارے ناتواں کاندھوں پر ڈالا اور بفضلہٖ تعالیٰ سب کچھ بخیر و عافیت ہو گیا۔
رات میں عظیم الشان ”جشنِ مفتیِ اعظم راجستھان“ کا انعقاد ہوا، اس اجلاس میں ہندوستان بھر سے اکابرِ اہلِ سنت نے شرکت فرمائی۔ اہم خطابات ہوئے، اس موقع پر اتر پردیش کے علما اور مشائخ کی جانب سے ذمہ دارانِ جشن کی بارگاہوں میں عزیزِ ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ صاحب سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ مبارکپور نے ہدیۂ تبریک پیش کیا۔ یہ ”ہدیۂ تبریک“ ایک فریم میں تھا۔ حضرت نے مجمعِ عام میں پڑھ کر ان کی نذر کیا۔
جشن کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اہلِ عقیدت نے حضرت مفتی اعظم راجستھان کو چاندی سے وزن کیا۔ یہ زریں لمحات حضرت مفتی اعظم راجستھان اور دار العلوم اسحاقیہ کے لیے بڑے یادگار تھے۔ اس موقع پر سات سو سے زائد صفحات پر مولانا اظہر خان مصباحی اور مولانا محمد شاہد علی مصباحی نے ”معارف مفتی اعظم راجستھان“ کے نام سے ایک قیمتی دستاویز شائع کی، مفتی اعظم راجستھان کے عقیدت مندوں نے اسے شرکائے جشن علما اور مشائخ کے درمیان تقسیم کیا۔
1433ھ / 2012ء کو برصغیر کی شہرۂ آفاق درسگاہ جامعہ اشرفیہ مبارکپور کی رفاہی اور تبلیغی تحریک ”تنظیم ابنائے اشرفیہ“ مبارکپور نے حضور مفتی اعظم راجستھان کو ”حافظِ ملت ایوارڈ“ سے سرفراز کیا۔ اس موقع پر حضرت مفتی اعظم راجستھان نے اپنے گراں قدر تاثرات سے نوازا۔ حضرت مفتی صاحب جلالۃ العلم حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی کے بھی بے پناہ مداح تھے۔ اپنی محفلوں میں ان کی دینی اور علمی خدمات کا ذکر خوب کیا کرتے تھے۔ ایک بار فرمایا:
”حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا بڑا اثر آپ کے وطن بھوج پور (ضلع مراد آباد) اور قرب و جوار پر بھی ہے کہ آپ ہی کے صدقے میں بھوج پور اور قرب و جوار کا علاقہ آج تک سنیوں کا گڑھ ہے۔ آپ اگرچہ مبارکپور رہتے تھے، مگر اپنے علاقے سے غافل نہ تھے۔ ان کی اصلاح و ترقی کی بھی فکر کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے علاقے کے لوگ آج بھی حافظِ ملت کے مداح اور عقیدت مند ہیں اور یہ بھی یاد رکھنے کی چیز ہے کہ بالعموم اہلِ فضل و کمال اپنے خطے میں مقبول نہیں ہوتے باہر چاہے ان کی کتنی ہی مقبولیت کیوں نہ ہو، لیکن حضور حافظِ ملت باہر تو باہر اپنے علاقے میں بھی بہت مقبول و محبوب تھے۔ یہ حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی ایک بڑی خصوصیت ہے، جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔“
حضرت مفتی اعظم راجستھان بے پناہ خوبیوں کے حامل تھے۔ ان کی زندگی کا انقلابی دور عہدِ طالبِ علمی ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ حضرت فطری طور پر انتہائی نیک اور وجیہ تھے۔ رہن سہن اور لباس میں سادگی رہتی تھی، جبکہ معمولاتِ حیات اور گراں قدر کارنامے ہمیشہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھلے رہتے تھے۔ کردار و اخلاق کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے در پر لوگ حاضر ہوتے اور دل کی مرادیں پوری کر کے واپس ہوتے۔ اساتذہ، اراکین اور طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ صد قابلِ مبارکباد رہتا۔ مشکل ترین حالات میں بھی آپ نے حق کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ چہرے پر ہلکا تبسم ہر وقت نظر آتا اور بیرونی طلبہ ہوں یا مقامی سب کے ساتھ حسنِ سلوک فرماتے۔ اللہ تعالیٰ انہیں دارین کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ حبیبہ سید المرسلین علیہ الصلاۃ والتسلیم۔
امامِ علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ
یہ افسوس ناک خبر بھی آپ تک پہنچ چکی ہوگی کہ خواجۂ علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین 14 ذی الحجہ 1434ھ مطابق 20 اکتوبر 2013ء رات 3 بج کر 30 منٹ پر ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، 21 اکتوبر 2013ء بعد نمازِ ظہر آبائی وطن ”سنگھیا“ بائسی، پورنیہ میں آپ کو بصد حسرت و یاس سپردِ خاک کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)
آپ کی ولادت موضع سنگھیا ضلع پورنیہ میں ہوئی، اس موضع میں ایک متمول اور علمی خاندان خواجہ عماد الدین مرحوم کا تھا۔ حضرت امامِ علم و فن کی والدہ کا انتقال ایامِ رضاعت ہی میں ہو گیا تھا۔ والدِ گرامی حضرت مولانا خواجہ زین الدین علیہ الرحمہ نے آپ کی پرورش کی۔ چار سال کی مدت کے بعد والدِ گرامی نے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کرائی اور 13 سال کی عمر میں ابتدائے شرحِ جامی تک پڑھا دیا۔ اس کے بعد آپ بہار کے شہرۂ آفاق ادارے جامعہ لطیفیہ بحر العلوم کٹیہار میں داخل ہوئے، اس مشہور ادارے میں آپ 1371ھ سے 1375ھ تک رہے۔ ان دنوں اس میں ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری، حضرت مولانا سلیمان بھاگلپوری اور حضرت مولانا یوسف عظیم آبادی علیہم الرحمہ سے بھرپور اکتسابِ فیض کیا۔ حضرت ملک العلماء کے اشارے پر آپ مظہرِ اسلام بریلی شریف تشریف لے گئے۔ ان دنوں دار العلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف تاجدارِ اہلِ سنت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی علمی اور روحانی سرپرستی میں چل رہا تھا۔ علامہ غلام جیلانی اعظمی، شارحِ بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی، علامہ ثناء اللہ مئوی، مولانا معین الدین رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین جیسے اکابر اساتذہ تھے۔ 1377ھ / 1958ء کے ماہِ شعبان میں خلعت و دستار سے سرفراز ہوئے۔
امامِ علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ نے فراغت کے بعد مظہرِ اسلام بریلی شریف سے تدریسی زندگی کا آغاز کیا۔ پانچ سال یہاں تدریسی زندگی گزار کر تین سال دار العلوم مصطفائیہ چمنی بازار پورنیہ میں رہے۔ پھر مظہرِ اسلام بریلی شریف میں دو سال، منظرِ اسلام بریلی شریف میں ایک سال، جامعہ عربیہ سلطان پور میں آٹھ سال، دار العلوم فیضیہ ایشی پور میں آٹھ سال، جامعہ اشرف کچھوچھہ میں ایک سال، دار العلوم فیض الرسول براؤں ضلع بستی میں دو سال، دار العلوم غریب نواز الہ آباد میں ایک سال، مدرسہ قادریہ بدایوں میں چھ سال اور اب دار العلوم نور الحق چوہہ محمد پور میں سترہ یا اٹھارہ سال سے تھے۔ اسی درسگاہ میں آپ کا وصالِ پرملال ہوا۔
جمشید پور جھارکھنڈ میں رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے عرس کے موقع پر عرس کمیٹی نے آپ کو ”قائدِ اہلِ سنت ایوارڈ“ اور ”عمدۃ العقلاء“ کا خطاب دیا۔
امامِ علم و فن علامہ خواجہ مظفر حسین پرنوی علیہ الرحمہ گوناگوں اوصاف و کمالات کے جامع تھے، موصوف جدید و قدیم علوم و فنون کے ماہر تھے، عام طور پر جن علوم کے نام سے بھی علما واقف نہیں ہوتے، حضرت خواجہ صاحب ان سے بھی بڑی حد تک واقف تھے۔ ان میں بہت سے علوم کو آپ پر نے اپنے مشاہیر تلامذہ تک بھی پہنچایا، حضرت خواجہ صاحب اعلانیہ فرماتے تھے:
”بحمدہٖ تعالیٰ مجھے ربِ قدیر نے امام احمد رضا اور مرشدِ برحق سیدنا سرکار حضور مفتی اعظم ہند کے وسیلے سے غوثِ پاک کا صدقہ عطا فرمایا اور پھر نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ہیچمدان درسگاہوں میں چلنے والی معیاری کتابوں کے علاوہ، ہیئت و ہندسہ، توقیت و مساحت، جبر و مقابلہ، ارثماطیقی، مثلثِ مسطح، مثلثِ کروی، زیجات، اعمالِ متینۂ عمل بالخائطین، علم الاسطرلاب، علم الربع المجیب، علم الحساب، علمِ لوگرتھم، علمِ جفر، مناظر و مرایا، رمل و تکسیر، علم الابعاد وغیرہ وغیرہ علوم و فنون کا مطالعہ جاری رکھا۔ ان علوم و فنون میں ظاہراً میرا کوئی استاذ نہیں۔“
حضرت امامِ فن سے راقم کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں، ہم نے پہلی بار انہیں جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں دیکھا۔ مجلسِ شرعی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کے فقہی سیمیناروں میں متعدد بار شرفِ زیارت حاصل کیا۔ بلند اخلاق، نرم خو اور بہت ملنسار تھے۔ ملاقات کے وقت چھوٹے بڑے کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے۔ بے تکلف اور ٹوٹ کر ملتے تھے۔ اپنے اکابر اور مشائخ کا بے پناہ احترام فرماتے تھے۔ حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدثِ مراد آبادی اور ان کی تحریکِ اشرفیہ کے بے پناہ مداح رہتے۔ ایک بار آپ نے فرمایا:
”جامعہ اشرفیہ مبارکپور موجودہ دور میں تعلیمی، تبلیغی اور تصنیفی میدانوں میں سب سے زیادہ اور اہم ترین خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کا معیار و مقدارِ تعلیم اپنی جماعت میں سب سے زیادہ بلند و بالا ہے۔ اور فقیہِ اعظم ہند شارحِ بخاری علیہ الرحمہ اس ادارے کے سب سے بڑے خدمت گزار تھے۔“
قابلِ مبارکباد ہیں ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی جنہوں نے حضرت خواجۂ علم و فن کے 55 مقالات اور مضامین کا مجموعہ بنام ”تحقیقاتِ علم و فن“ مرتب فرمایا۔ اب اس کی روشنی میں خواجہ صاحب کی شخصیت و فکر پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
دعا ہے مولیٰ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، پسماندگان اور متعلقین کو صبر و شکر کی توفیقِ خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
