Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

آج ہر دوسرا شخص پریشان کیوں ہے؟ ”معیشتِ ضنک“ اور ہماری بربادی کے اسباب

آج ہر دوسرا شخص پریشان کیوں ہے؟ ”معیشتِ ضنک“ اور ہماری بربادی کے اسباب
عنوان: آج ہر دوسرا شخص پریشان کیوں ہے؟ ”معیشتِ ضنک“ اور ہماری بربادی کے اسباب
تحریر: بنت عقیل احمد مصباحی

آج کا انسان مادی ترقی کے آسمان چھو رہا ہے، پرتعیش گھر، بہترین سواریاں اور بینک بیلنس موجود ہے، مگر ایک عجیب سی بے چینی اور ”گھٹن“ ہے جو پیچھا نہیں چھوڑتی۔ لوگ نفسیاتی ماہرین کے چکر کاٹ رہے ہیں، سکون کی گولیاں کھا رہے ہیں، مگر سکون ہے کہ کہیں ملتا نہیں۔ کیوں؟

قرآنِ کریم نے اس عالمی بیماری کا علاج اور اس کی وجہ صرف ایک آیت میں بیان کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا [طٰہٰ: 124] ”اور جس نے میری یاد (ذکر) سے منہ موڑا، تو یقیناً اس کے لیے معیشت (زندگی) تنگ ہوگی۔“

”معیشتِ ضنک“ کی گہرائی: یہ تنگی ہے کیا؟

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ”تنگی“ کا مطلب صرف غریبی ہے، مگر مفسرینِ قرآن نے اس کی جو گہرائی بیان کی ہے وہ لرزا دینے والی ہے:

امام ابن کثیر کی تشریح: آپ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے دنیا میں کبھی اطمینانِ قلب میسر نہیں آئے گا۔ اسے کتنا ہی مال مل جائے، کتنا ہی بڑا منصب مل جائے، اس کا سینہ ہمیشہ ”گھٹن“ (Constriction) کا شکار رہے گا۔ وہ بھری محفل میں بھی تنہا اور بے چین رہے گا کیوں کہ اس کی روح کا تعلق اس کے خالق سے ٹوٹ چکا ہے۔

علامہ قرطبی کا نقطۂ نظر: وہ فرماتے ہیں کہ ”ضنک“ اس معیشت کو کہتے ہیں جس میں برکت ختم ہو جائے۔ مال تو بہت ہو مگر بیماریوں، مقدموں اور ناجائز کاموں میں اڑ جائے اور انسان ہاتھ ملتا رہ جائے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس: آپ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کی تقسیم پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ اس پر حرص اور لالچ کی ایسی تنگی مسلط کر دی جاتی ہے کہ وہ کروڑ پتی ہو کر بھی ایک فقیر جیسی زندگی گزارتا ہے۔

والدین کی نافرمانی: ذکرِ خدا سے اعراض کی بدترین شکل...

جب ہم اللہ کی یاد سے منہ موڑتے ہیں، تو اس کا پہلا اثر ہمارے رویوں پر پڑتا ہے۔ اللہ نے اپنے ذکر اور عبادت کے ساتھ ہی والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ جو شخص اپنے والدین کا نافرمان ہے، وہ درحقیقت اللہ کے ایک بڑے ”ذکر“ (حکم) سے اعراض کر رہا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”اپنے والدین کو ’اف‘ تک نہ کہو“۔ جب بندہ اس قول سے روگردانی کرتا ہے، تو قدرت اس کی زندگی پر ”معیشتِ ضنک“ مسلط کر دیتی ہے۔

حضرت سفیان ثوری کا فرمان: آپ فرماتے تھے کہ ”رزق میں تنگی اور گھر میں بے سکونی کا سب سے بڑا سبب والدین کے ساتھ بدسلوکی ہے۔“ ایسے شخص کی دعا عرش تک نہیں پہنچتی، اور جب دعا کا راستہ بند ہو جائے تو زندگی خود بخود تنگ ہو جاتی ہے۔

حدیثِ مبارکہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا اللہ دنیا ہی میں دے دیتا ہے: ایک ظلم اور دوسرا والدین کی نافرمانی۔“ یہی وہ دنیاوی تنگی ہے جہاں انسان سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سکونِ قلب کو ترستا ہے۔

اسلاف اور اولیائے اللہ کے مشاہدات

حضرت حسن بصری کا جواب: جب آپ سے کسی نے پوچھا کہ نافرمانوں کے پاس تو بہت مال ہے، پھر تنگی کہاں ہے؟ آپ نے تڑپ کر فرمایا: ”خدا کی قسم! ان کے نیچے گھوڑے دوڑتے ہوں یا ریشم کے بچھونے ہوں، اللہ کی نافرمانی کی ذلت ان کے دلوں کو اندر سے سیاہ اور تنگ کر دیتی ہے۔ وہ ایک پل بھی چین سے نہیں سو سکتے۔“

امام فخر الدین رازی: آپ فرماتے ہیں کہ اللہ کی یاد سے اعراض کرنے والا شخص ”مخلوق“ کا محتاج ہو جاتا ہے۔ کبھی وہ پیسوں کے پیچھے بھاگتا ہے، کبھی عہدوں کے پیچھے۔ مخلوق کی یہ غلامی ہی دراصل وہ ”تنگ زندگی“ ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔

ابراہیم بن ادھم: آپ نے بادشاہت چھوڑ کر فقیری اختیار کی اور فرمایا: ”اگر دنیا کے بادشاہوں کو اس سکون کا علم ہو جائے جو ذکرِ الٰہی میں ہے، تو وہ اس کے لیے ہم پر تلواروں سے حملے کر دیتے۔“

ضمیر کی آواز: کیا ہم بھی اس تنگی کا شکار ہیں؟

غور کیجیے! اگر ہمارے گھر میں سب کچھ ہے مگر سکون نہیں، اولاد ہے مگر فرماں بردار نہیں، مال ہے مگر برکت نہیں، تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ”معیشتِ ضنک“ کے حصار میں آ چکے ہیں۔ ہم نے نمازیں چھوڑ دیں، تلاوتِ قرآن سے دوری اختیار کر لی، والدین کے دل دکھائے اور دنیا کی محبت کو دل میں بسا لیا۔

خلاصۂ کلام: نجات کا واحد رستہ

زندگی کی تنگی، بینک بیلنس بڑھانے سے ختم نہیں ہوگی، بلکہ ذکرِ الٰہی اور والدین کی دعاؤں سے ختم ہوگی۔

  • لوٹ آئیے اپنے رب کی طرف: پانچ وقت کی نماز اور اللہ کی یاد کو اپنی ڈھال بنائیں۔
  • والدین کی رضا: ابھی وہ باحیات ہیں، ان کے پاؤں میں جنت تلاش کریں، ورنہ صرف ہاتھ میں افسوس کے علاوہ کچھ نہیں رہے گا۔

یاد رکھیے! اللہ کی یاد کے بغیر یہ دنیا ایک خوب صورت جیل ہے، اور اللہ کی یاد کے ساتھ ایک جھونپڑی بھی جنت کا نمونہ ہے۔ اللہ پاک ہمیں سچی توبہ اور اپنے ذکر کی حلاوت عطا فرمائے۔ آمین

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!