Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

ہے کوئی رحمت و بخشش کا طلبگار!

ہے کوئی رحمت و بخشش کا طلبگار!
عنوان: ہے کوئی رحمت و بخشش کا طلبگار!
تحریر: محمد عبد الرحیم نشتر فاروقی
پیش کش: ناظم اسماعیلی

شعبان المعظم اسلامی سال کا آٹھواں سعادت افزا مہینہ ہے جو اپنے دامن میں خیر و برکت، رحمت و مغفرت اور رزق و نعمت کا مژدہ لے کر جلوہ گر ہوتا ہے، اس ماہِ مبارک میں مسلمانوں کے لیے خیرِ کثیر تقسیم ہوتی ہے، اسی مقدس مہینے میں تحویلِ قبلہ عمل میں آئی اور اسی ماہِ مسعود میں سید الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ با سعادت ہوئی، غرض کہ اس ماہِ مبارک کے دامنِ کرم میں سعادت و کرامت کا ایک سمندر موجیں لے رہا ہے، قرآن و حدیث میں اس مہینے کی بے شمار فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔

اللہ کے پیارے حبیب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شعبان، ماہِ رجب اور ماہِ رمضان کے درمیان ایک مہینہ ہے، لوگ اس کی عظمت سے غافل ہیں، اس میں بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اٹھائے جائیں جب میں روزے کی حالت میں ہوں۔“ [ما ثبت بالسُنّۃ، ص: 121]

نبیِ نازِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم تمام مہینوں میں شعبان کو زیادہ محبوب رکھتے تھے، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رجب اللہ تعالیٰ کا، شعبان میرا اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔“ [ما ثبت بالسُنّۃ، ص: 126]

حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ شعبان میں پانچ حرف ہیں:

  1. شین

  2. عین

  3. باء

  4. الف

  5. نون

پس ”شین“ عبارت ہے ”شرف“ سے، ”عین“ عبارت ہے ”علو“ سے، ”باء“ عبارت ہے ”بِرّ“ یعنی بھلائی سے، ”الف“ عبارت ہے ”الفت“ سے اور ”نون“ عبارت ہے ”نور“ سے، لہٰذا خداوندِ قدوس ماہِ شعبان المعظم میں اپنے بندوں کو یہ پانچ چیزیں عطا فرماتا ہے۔ [غنیۃ الطالبین، ج: 1، ص: 188]

اللہ رب العزت نے بعض چیزوں کو بعض چیزوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے، جس طرح مدینۂ منورہ کو تمام شہروں پر، وادیِ مکہ کو تمام وادیوں پر، چاہِ زمزم کو تمام کنوؤں پر، مسجدِ حرام کو تمام مساجد پر، سفرِ معراج کو تمام سفروں پر، مؤمن کو تمام انسانوں پر، ولی کو تمام مؤمنوں پر، صحابی کو تمام ولیوں پر، نبی کو تمام صحابہ پر، رسول کو تمام نبیوں پر اور تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام رسولوں پر فضیلت و برتری حاصل ہے، اسی طرح اللہ رب العزت نے بعض دنوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، یومِ جمعہ کو ہفتے کے تمام ایام پر، ماہِ رمضان کو تمام مہینوں پر، لیلۃ القدر اور شبِ براءت کو دیگر تمام راتوں پر۔

اللہ جل شانہ نے جن عظمت و فضیلت والی راتوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے، ان میں ایک شعبان المعظم کی پندرہویں رات بھی ہے جو ”شبِ براءت“ اور ”لیلۃ البراءۃ“ کے نام سے موسوم و مشہور ہے جو دراصل قدرت کی طرف سے ہم جیسے گنہگاروں، سیاہ کاروں کے لیے اپنی توبہ و استغفار کو شرفِ قبولیت سے ہمکنار کرنے کا ایک سنہرا موقع ہے۔

قطبِ عالم، حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”اس رات میں اللہ کے نیک بندے آخرت کی ذلت و رسوائی سے دور کر دیے جاتے ہیں اور بدبخت و خطاکار لوگ (جو اس رات میں بھی اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت سے دور رکھے جاتے ہیں۔“ [غنیۃ الطالبین]

امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب شعبان کی پندرہویں شب آئے تو اس رات میں قیام کیا کرو اور دن میں روزہ رکھا کرو، اس رات میں غروبِ آفتاب کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے اور اعلان فرماتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے گناہوں کی معافی مانگنے والا؟ جسے میں معاف کر دوں، ہے کوئی مجھ سے رزق طلب کرنے والا؟ جس کے رزق میں وسعت پیدا کر دوں، ہے کوئی مصائب و آلام میں مبتلا؟ جسے میں عافیت عطا کر دوں، ہے کوئی ایسا شخص؟ ہے کوئی ایسا شخص؟ ہے کوئی ایسا شخص؟ (ساری رات اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرماتا رہتا ہے اور اپنی بخشش و عطا کے خزانے لٹاتا ہے) یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی ہے۔“

مذکورہ احادیثِ مبارکہ سے ثابت اس مبارک و مسعود رات کی عظمت و فضیلت مسلمانوں کو اپنے اندر کثرتِ عبادت و ریاضت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہے، نہ جانے بخشش و رحمت اور امن و سلامتی سے مملو یہ رات پھر کبھی نصیب ہو یا نہ ہو، اس لیے شبِ براءت میں جبکہ رحمتِ الٰہی کی موسلا دھار بارش ہو رہی ہو، ہمیں اس موقع کو غنیمت تصور کرتے ہوئے صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے، کیونکہ اور دنوں میں ہم اپنے اعمالِ صالح کے ذریعے رب کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں لیکن اس بابرکت رات میں تو اللہ رب العزت خود مائل بہ کرم ہوتا ہے، بس اس سے لو لگانے کی دیر ہے، بخشش کا پروانہ تیار رکھا ہے۔

آج ہم ذلت و رسوائی اور خوف و دہشت کے سائے میں جی رہے ہیں، ہمارے خون کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی، شہری و ملکی حقوق ہم سے چھینے جا رہے ہیں، ہماری عورتوں کی عصمتیں سرِ بازار پامال کی جا رہی ہیں، ہماری عبادت گاہیں، درس گاہیں اور خانقاہیں سب دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں، ہم کیا کھائیں، کیا پکائیں، یہ فیصلہ بھی اب ہم خود نہیں کر سکتے، ہر شخص کو یہاں مذہبی آزادی حاصل ہے، لیکن ہم اس آزادی سے محروم کیے جا رہے ہیں، کاروبار اور تجارت کے راستے ہم پر بند کیے جا رہے ہیں، ہم اپنی صلاحیتوں کی فائلیں کہیں بھی جمع کریں، نام دیکھ کر ہی انہیں کوڑے دان میں ڈال دیا جاتا ہے، ہمیں اس طرح تقسیم کیا جا رہا ہے کہ ہم کسی بھی حال میں اپنی قوت کا مظاہرہ نہ کر سکیں۔ ہمارے مکانوں اور دکانوں میں ہمارے سامنے ہی آگ لگا دی جاتی ہے اور ہم محض تماشائی بنے دیکھتے رہ جاتے ہیں، جبکہ جہاں بانی و حکمرانی کی ہماری ایک طویل تاریخ رہی ہے، ہم نے اس ملک پر بھی ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے اور آج ہمیں حاشیے پر بھی برداشت نہیں کیا جا رہا ہے۔

ایسا کیوں؟ ایسا صرف اس لیے ہے کہ قرآن اور صاحبِ قرآن سے ہمارا رشتہ لگ بھگ ٹوٹ چکا ہے، قرآنِ حکیم آج بھی یہ اعلان کر رہا ہے کہ ساری فیروز مندیاں، ساری سربلندیاں اور عظمتوں کے سارے بام و در تمہارے لیے ہیں، بشرطیکہ تم مؤمنِ کامل بن جاؤ۔

آئیے! ذلت و رسوائی اور خوف و دہشت بھری اس زندگی سے نجات کے لیے ہم مؤمنِ کامل بن جائیں اور تمام مسلمان اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں، اس رحیم و کریم کی بارگاہ میں اپنی خطاؤں پہ ندامت کے آنسو بہائیں خلوصِ دل سے توبہ و استغفار کریں اور اپنے رب سے یہ عہد کریں کہ ہم اسلامی اصولوں کو برتنے میں کبھی سستی نہیں کریں گے۔

شبِ براءت مناجات کی رات ہے، رب کی رحمتوں سے اپنے دامنِ مراد کو بھرنے کی رات ہے، اس لیے رات کا کوئی بھی لمحہ ضائع نہ ہونے پائے، ہمارا عہد اجتماعی عہد ہو تو زیادہ بہتر ہے کیوں کہ انفرادی عہد اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے، اگر ہمارے عہد میں صداقت ہوگی تو حالات ضرور بدلیں گے، ایک شاعر ہمیں یہی سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے:

آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

شعبان المعظم ہمیں رمضان المبارک کے لیے بھی خود کو تیار کرنے کی دعوت دیتا ہے، یہ تیاری صرف اعمال کی حد تک نہ ہو بلکہ کردار بھی اسلامی اصولوں کا پابند ہو جائے، ہمیں اپنے ایمان و عمل اور کردار و گفتار میں چٹان جیسی مضبوطی لانی ہوگی۔

اس موقع پر کسی اہلِ قلم کے چند خوبصورت جملے ذہن و فکر کے پردے پر ابھر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

”استغفار اور دیگر مسنون اذکار کے ساتھ دلوں کی زمین میں بوئی جانے والی فصل تیار کریں اور پھر اسے آنسوؤں کی نہروں سے سیراب کریں تاکہ رمضان المبارک میں معرفت و محبتِ الٰہی کی کھیتی اچھی طرح نشوونما پا کر تیار ہو سکے، قیام اللیل اور روزوں کی کثرت ہی ہمارے دل کی زمین پر اُگی خودرو جھاڑیوں کو (جو پورے سال دنیاوی معاملات میں غرق رہنے کی وجہ سے حسد، بغض، لالچ، نفرت، تکبر، خود غرضی، ناشکری اور بے صبری کی شکل میں موجود رہتی ہیں) اکھاڑ سکے گی اور ہمارے دل کے اندر ماہِ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں کو سمیٹنے کے لیے قبولیت اور انجذاب کا مادہ پیدا ہوگا، سو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ماہِ شعبان المعظم، عظیم ماہِ رمضان المبارک کا ابتدائیہ اور مقدمہ ہے، جس میں ہم خود کو بہتر طور پر آنے والے مقدس مہینے کے لیے تیار کر سکتے ہیں۔“

اس مبارک رات میں اللہ رحمٰن و غفار کی بخشش و عطا کا یہ عالم ہے کہ بے شمار لوگوں کی بخشش و مغفرت فرماتا ہے، چنانچہ نبیِ رحمت نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر یوں فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے اور قبیلۂ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔“ [جامع الترمذی، ص: 156]

اس دنیا میں کچھ ایسے بھی کم نصیب ہوتے ہیں جن کی بخشش، اس عام بخشش والی رات میں بھی نہیں ہوتی، چنانچہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ماہِ شعبان کی پندرہویں رات کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے، پس وہ شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے سوا ہر ایک کی بخشش و مغفرت فرما دیتا ہے۔“

کچھ روایتوں میں کافر و مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ والدین کا نافرمان، شرابی، سود خور، تکبر سے تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، رشتہ داروں سے بدسلوکی کرنے والا، قاتل، زانی، نجومی، عشار (ٹیکس وصول کرنے والا جو لوگوں پر ظلم کرتا ہو)، میوزک، سارنگی، طبلہ اور ڈھول بجانے والا، ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا، جادوگر اور شرط لگانے والا، رشوت خور اور ظالم سپاہی جیسے لوگوں کا بھی ذکر ہے کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو بھی نظرِ رحمت نہیں فرماتا جب تک کہ یہ سبھی توبہ نہ کر لیں۔

حضرت عطا بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ملک الموت کو ایک کتاب دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے جن کے نام اس کتاب میں ہیں ان کی روحیں قبض کرو، بندہ باغات لگا رہا ہوتا ہے، شادیاں کر رہا ہوتا ہے اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہوتا ہے (لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا) کہ اس کا نام مرنے والوں میں لکھ دیا گیا ہے۔“ [ما ثبت بالسُنّۃ]

اس لیے اے مسلمانو! غفلت کی دبیز چادر اتار پھینکو اور بارگاہِ ایزدی میں اپنی جبینِ نیاز خم کر دو کہ یہ رات ان راتوں میں شامل ہے جن میں اللہ کسی کی دعائیں رد نہیں فرماتا۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ”پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی، جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور دونوں عیدوں کی راتیں۔“ [مصنف عبد الرزاق، جلد: 4، ص: 317]

شبِ براءت ایک نہایت ہی بابرکت رات ہے جو عظمت و فضیلت میں ہزار راتوں سے بھی افضل ہے، اس مبارک رات میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کا رزق متعین فرماتا ہے، اسی رات سالِ آئندہ پیدا ہونے والے اور مرنے والے لوگوں کی فہرست بارگاہِ خداوندی میں پیش کی جاتی ہے اور اسی لیلۃ البراءۃ میں بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ۝ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ ۝ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ۝ أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ۝ رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۝

قسم ہے اس روشن کتاب کی، ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے، ہر حکمت والا کام، ہمارے حکم سے، بے شک ہم بھیجنے والے ہیں تمہارے رب کی طرف سے رحمت، بے شک وہی سنتا جانتا ہے۔ (بقیہ ص: 39 پر) [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، مئی 2018ء، ص: 6، 7، 8]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!