| عنوان: | علامہ فضلِ حق خیر آبادی عظیم فلسفی یا زبردست اسلامی متکلم |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | اکرام رضوی |
علامہ فضلِ حق خیر آبادی (1212ھ / 1797ء - 1278ھ / 1861ء) نے علم و فن کی مختلف شاخوں اور زندگی کے متعدد شعبوں میں اپنے فضل و کمال کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ منطق و فلسفہ، فقہ و کلام اور شعر و ادب ہر میدان میں ان کی علمی برتری کے آثار آج بھی نظر آتے ہیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کا مشغلہ مدت العمر رہا، لیکن ایسا نہیں کہ وہ صرف درسگاہ میں محصور اور لائبریری میں گوشہ نشین ہو کر عوامی زندگی اور ملکی سیاست سے بے تعلق رہے ہوں۔ نہیں، بلکہ سرزمینِ وطن کو ظالم حکمرانوں سے بچانے اور ابنائے وطن کو غیروں کی غلامی سے آزاد رکھنے کی راہ میں انہوں نے جو مجاہدانہ کردار پیش کیا ہے، وہ ان کی زندگی کا ایسا درخشاں باب ہے جو تمام اہلِ ہند کی جانب سے ہزارہا خراجِ تحسین اور شکر و سپاس کا مستحق ہے۔ مگر یہاں میری گفتگو ان کی علمی زندگی اور فکری و قلمی آثار سے متعلق ہے جس کی کچھ تفصیل آئندہ سطور میں رقم ہوگی۔
مشہور یہ ہے کہ ”وہ زبردست فلسفی اور اپنے دور میں معقولات کے یکتائے روزگار شناور تھے“۔ لیکن فلسفیوں کو عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ وہ اہلِ یونان کے فضلات اور ارسطو و ابنِ سینا کے رشحات سے کسی باب میں انحراف نہیں کر سکتے۔ وہ یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ فلسفہ کہاں تک قابلِ قبول ہے اور کہاں تک ہفوات و فضول اور کہاں محض الحاد و زندقہ اور ناقابلِ قبول ہے۔ اہلِ یونان کی بنیادیں مضبوط کرنے کی خاطر دفتر کے دفتر سیاہ کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ بھی لحاظ نہیں ہوتا کہ خدا اور رسول کی بارگاہ میں اس کی حیثیت کیا ہے، اور علم و تحقیق کی اعلیٰ میزان میں اس کا وزن کیا ہوگا۔ فلاسفۂ یونان کے قواعد و مزعومات پر اگر کوئی اعتراض نظر آ گیا تو اس کا سخیف سے سخیف اور طویل سے طویل جواب لکھتے چلے جاتے ہیں اور اسے اپنی حیاتِ مستعار کا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ گویا اسی کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے اور آخرت کے لیے وہی توشہ لے کے جانا ہے۔
لیکن اگر کہیں اسلامی اصولوں پر اعتراض ہوا، خدا کی شان میں بکواس کی گئی، رسولِ اعظم علیہ صلاۃ ربہ الاکرم کی عظمتوں کو نشانہ بنایا گیا، انبیائے کرام کی تنقیص ہوئی، معصوم ملائکہ، مقدس صحابہ اور مبارک اولیاء کی اہانت بھی ہوئی تو ان فلسفیوں میں کوئی حرکت نظر نہیں آتی۔ اسلام کا کلمہ ضرور پڑھتے ہیں مگر نہ ان کی غیرتِ اسلامی جنبش میں آتی ہے، نہ حمیتِ دینی کو جوش آتا ہے، نہ فکرِ علمی و ایمانی کا تقاضا انہیں کسی حرکت و عمل پر آمادہ کرتا ہے، بلکہ وہ خود اسلامی اصولوں سے جا بجا ٹکراتے اور الجھتے ہیں اور اس کے لیے ہر جتن کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
اس کے برعکس ہم علامہ فضلِ حق خیر آبادی کو دیکھتے ہیں کہ جب تقویۃ الایمان نامی کتاب لکھ کر توحید کے نام پر توہینِ رسالت کا پرفریب دام پھیلایا گیا تو وہ کھل کر میدان میں آئے۔ مؤلفِ کتاب کی پرزور مخالفت کی، مجمعِ عام میں اس کا رد کیا اور سب کے سامنے اس پر حجت تمام کر دی۔ پھر اس سلسلے میں ”تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ“ نامی کتاب تحریر فرمائی جس سے فقہ و کلام اور قرآن و سنت میں وسعتِ نظری، دقتِ نگاہ اور جولانیِ فکر عیاں ہے۔
یہ دینِ اسلام کی حمایت اور ناموسِ رسول کی حفاظت میں ان کی غیرتِ ایمانی، حمیتِ دینی اور جوشِ اسلامی کا ایک ایسا دلکش منظر ہے جو ارسطو و ابنِ سینا کے وفاداروں میں ناپید ہے۔ اسی طرح حبِ وطن، غیرتِ قومی، جوشِ ملی اور سیاستِ ملکی کے میدان میں انہوں نے جو مجاہدانہ کردار پیش کیا، وہ اغیار کے ریزہ خواروں اور اپنی قوم کے بے غیرت غداروں کے یہاں کبھی نظر نہیں آ سکتا۔
ان اجمالی اشارات کے بعد اب میں آپ کو خالص علمی ماحول میں لے جانا چاہتا ہوں جہاں آپ دیکھیں گے کہ علامہ نے فلسفے کو کہاں تک قبول کیا ہے اور کہاں تک اس کی موافقت روا رکھی اور کہاں صراحتاً اس کی تردید فرمائی ہے۔ پہلے یہ ذہن نشین رہے کہ تمام موجودات کے واقعی حالات کی تحقیق کو فلسفہ نام دیا گیا ہے۔ اس لیے فلاسفہ نے واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی ذات و صفات اور تمام ممکنات کی تحقیق و تفتیش میں اپنی دماغی توانائیاں صرف کی ہیں۔ فلاسفہ کو اولاً دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: نظری اور عملی۔ پھر نظری کو الٰہی، ریاضی، طبعی تین شعبوں میں اور عملی کو تہذیبِ اخلاق اور تدبیرِ منزل، سیاستِ مدنیہ تین قسموں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پھر ریاضی کو خاصی وسعت دے کر حساب، ہندسہ، ہیئت، موسیقی چار خانوں میں تقسیم کیا۔
ظاہر ہے کہ یہ انسانی دماغ کی اعلیٰ کاوش ہے جو ہزارہا سالوں کی عرق ریزیوں کا نتیجہ ہے اور اس کے بے شمار اصول و قواعد ہیں جن پر موجودہ سائنس آج بھی عمل پیرا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فلسفہ کل کا کل قابلِ انکار نہیں، اس میں بہت سی باتیں اہلِ حق سے اخذ کر کے بھی شامل کی گئی ہیں اور انہیں عقل و استدلال کا رنگ دے دیا گیا ہے اور بہت سی چیزیں صرف ذہنی و فکری کاوش پر مبنی ہونے کے باوجود بجا و درست ہیں، لیکن بہت سے مزعومات وہ بھی ہیں جو سراسر باطل اور غلط ہیں اور بہت سے وہ ہیں جو غلط ہونے کے ساتھ اسلامی عقائد سے متصادم بھی ہیں، خصوصاً الٰہیات کے باب میں فلسفے کا زیادہ تر حصہ محض باطل و غلط ہے۔ اور فلکیات کا شعبہ بھی کثیر ظلمات پر مشتمل ہے، البتہ منطق و ریاضی، اخلاق و سیاست کی بنیادی باتیں عموماً بجا و درست ہیں اور شریعت سے متصادم نہیں۔
علامہ فضلِ حق خیر آبادی نے فلسفے میں ”ہدیۂ سعدیہ“ تصنیف کی ہے جس سے فلسفے میں ان کی مہارت اور ناقدانہ بصیرت کے ساتھ ساتھ ان کی اسلامی غیرت اور دینی رسوخ بھی عیاں ہے۔ وہ جا بجا صراحتاً و اشارتاً یہ بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جو کچھ بیان ہو رہا ہے وہ فلاسفہ کے مطابق ان کے نظریات کی تقریر و توضیح ہے، خود اپنا نظریہ کیا ہے اس کا تذکرہ دوسری کتابوں میں ہے۔ لیکن ”ہدیۂ سعدیہ“ میں بھی بعض مقامات پر اباطیلِ فلاسفہ پر نقد سے کتاب خالی رکھنا مناسب نہ سمجھا اور چند سطروں میں ان کی خامیوں کی ضروری نشان دہی کر دی۔ اس کی تائید کے لیے مناسب ہے کہ اصل کتاب سے چند نظائر و شواہد پیش کر دوں تاکہ اب تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے مکمل طور پر روشنی میں آ جائے۔ مزید تفصیل کے لیے ایک بار اسی نقطۂ نظر سے اصل کتاب کی مراجعت کر لی جائے۔
1۔ ماہیتِ جسم کے بیان میں حکما کے مذہب بیان کرتے ہوئے مشائیہ کا مذہب بتاتے ہیں کہ ان کے نزدیک جسم ہیولیٰ اور صورت نامی دو جوہروں سے مرکب ہے۔ پھر لکھتے ہیں:
وَنَحْنُ نُرِيدُ تَقْرِيرَ مَذْهَبِهِمْ وَبَيَانَهُ عَلَىٰ حَسَبِ مَطْلَبِهِمْ فِي هٰذَا الْمُخْتَصَرِ، وَأَمَّا تَحْقِيقُ مَا هُوَ الْحَقُّ فَقَدْ أَحَلْنَاهُ عَلَىٰ كُتُبٍ أُخَرَ.
(اس مختصر میں مشائیہ کے مذہب کی تقریر اور ان کے حسبِ مطلب اس کا بیان ہمارا مقصود ہے، مگر حق کیا ہے اس کی تحقیق دوسری کتابوں کے حوالے ہے)۔
2۔ فنِ ثانی فلکیات کے خاتمے میں لکھتے ہیں:
فلاسفہ کہتے ہیں کہ افلاک نو ہیں، ایک کواکب سے خالی ہے اسی لیے اسے فلکِ اطلس کہا جاتا ہے وہی فلک الافلاک ہے جس سے سمتوں کی تعیین ہوتی ہے وہ تمام اجسام کو محیط ہے۔ اس کے نیچے علی الترتیب فلکِ ثوابت، فلکِ مشتری، فلکِ مریخ، فلکِ شمس، فلکِ زہرہ، فلکِ عطارد، فلکِ قمر ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے محسوس کیا کہ تمام ستارے یومیہ حرکت سے مشرق سے مغرب کی جانب حرکت کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے ایک ایسا فلک مانا جو تمام ستاروں کو محیط ہے جس کی اصلی حرکت کے تابع ہو کر دوسرے تمام افلاک اور ستارے بالواسطہ و بالعرض حرکت کرتے ہیں۔ یہی فلکِ اعظم ہے جس سے سمتوں کی تحدید اور تعیین ہوتی ہے۔ پھر محسوس کیا کہ کچھ ایسے ستارے بھی ہیں جو ٹکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور ثوابت کہے جاتے ہیں مگر وہ بڑی سست رفتاری سے مغرب سے مشرق کی جانب حرکت کرتے ہیں اس لیے ایک فلک ان ثوابت کے لیے بھی مانا۔ یوں ہی ساتوں سیاروں کو دیکھا کہ یہ مختلف حرکتوں سے حرکت کرتے ہیں اس لیے ہر سیارے کے لیے ایک فلک مان لیا۔ اس طرح ان کا زعم یہ ہے کہ افلاک نو ہیں۔ انہوں نے فلکِ اعظم سے متعلق جو احکام مانے ہیں مثلاً بسیط ہونا، کروی ہونا، اس کے لیے حرکتِ اینی اور خرق و التیام محال ہونا اور اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں جو ماسبق میں تفصیلاً بیان ہوئیں وہ سب احکام دیگر افلاک کے لیے بھی ٹھہرائے ہیں اور جتنی ساری اٹکل پچو باتیں اور اوہام و خیالات ان کے نفس نے انہیں سجھائے، سب پر یقین کیے بیٹھے ہیں۔ انہیں یہ پتا نہیں کہ اگر ان کی دلیل مان لی جائے اور اعتراض و خلل سے سلامت رہ جائے تو بھی وہ زیادہ سے زیادہ فلکِ اعلیٰ کی سطحِ بالا میں راست آ سکتی ہے اس کے علاوہ کسی اور فلک کی سطح یا جسم میں وہ دلیل جاری نہیں ہو سکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس مقام پر ان کے جتنے مزعومات ہیں محض اٹکل پچو ہیں اور یہ بڑی لاعلاج بیماری ہے۔
3۔ ظاہری حواس پانچ ہیں: لامسہ، شامہ، سامعہ، باصرہ، ذائقہ۔ شیخ بو علی سینا نے ”شفا“ میں کہا کہ سامعہ اور باصرہ کو مناسب، نامناسب چیز کو سننے، دیکھنے سے کوئی لطف و الم نہیں حاصل ہوتا بلکہ جو بھی لذت و کلفت ہوتی ہے وہ نفس کو ہوتی ہے اور لامسہ، ذائقہ، شامہ کو خود بھی لذت و الم کا حصول ہوتا ہے۔ شیخ کے اس قول پر متعدد اعتراضات ہوئے جن کے جواب میں امام رازی نے شیخ کا دفاع کرتے ہوئے چند باتیں پیش کیں، مگر علامہ خیر آبادی نے وہ سب ذکر کرنے کے بعد لکھا:
یہ کلام بڑی متانت کا حامل ہے مگر اس سے اس اشکال کا حل نہیں نکلتا کہ کیا وجہ ہے کہ لامسہ، ذائقہ اور شامہ تو اپنے محسوسات سے متاثر ہوتے ہیں اور سامعہ، باصرہ متاثر نہیں ہوتے۔ آگے یہ فرماتے ہیں کہ لذت و الم اگر مناسب، نامناسب کے ادراک کا نام ہے تو ظاہر ہے کہ ادراک نفس کا کام ہے اور لذت و الم اگر حواس میں حاصل ہونے والی مناسب و نامناسب صورت کا نام ہے تو یہ بات دیگر حواس کی طرح باصرہ و سامعہ میں بھی ہوتی ہے۔ اس لیے یا تو یہ کہیں کہ پانچوں حواس کے احساسات سے لذت و الم صرف نفس کو ہوتا ہے یا یہ کہیں کہ لامسہ، ذائقہ، شامہ کی طرح سامعہ، باصرہ کو بھی لذت و الم کا حصول ہوتا ہے، ان کے درمیان فرق کی کوئی وجہ نہیں۔ آخر میں فرماتے ہیں کہ بہرحال شیخ نے ان حواس کے لذت و الم سے متعلق جو جداگانہ حکم لگایا ہے وہ ایسا غلط ہے جسے فطرتِ سلیمہ بھی قبول نہیں کر سکتی:
وَلَمْ نُخْلَقْ لِأَنْ نُؤْمِنَ بِمَا فِي دَفَّتَيِ الشِّفَاءِ.
(اور ہم اس لیے پیدا نہ ہوئے کہ ”شفا“ کے اوراق میں جو کچھ رقم ہو گیا اس پر ایمان لائیں)۔
اس سے فلسفے میں علامہ خیر آبادی کی ناقدانہ بصیرت عیاں ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ فلاسفہ کی عام باتیں بھی ان کے نزدیک اسی وقت قابلِ قبول ہوں گی جب وہ عقل و استدلال کی میزان پر پوری اتریں ورنہ انہیں بے دریغ رد کر دینا ان کی بے جا تاویلات کے مقابل زیادہ دانشمندانہ عمل ہوگا۔
4۔ فصل فی کائنات الجو کے آخر میں لکھتے ہیں:
اِعْلَمْ أَنَّ تَكَوُّنَ هٰذِهِ الْآثَارِ بَلْ سَائِرِ الْكَائِنَاتِ وَالْأَشْيَاءِ إِنَّمَا هُوَ بِتَقْدِيرِ قَدِيرٍ فَعَّالٍ يَخْلُقُ مَا شَاءَ، وَحُكْمِ حَكِيمٍ بَدِيعٍ، بَدِيعِ الْإِنْشَاءِ فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، لَا يَحْتَاجُ فِي تَكْوِينِ الْأَشْيَاءِ إِلَىٰ مَادَّةٍ وَمُدَّةٍ، وَلَا إِلَىٰ مُعِدٍّ وَعُدَّةٍ، لٰكِنْ حِكْمَتُهُ الْكَامِلَةُ رَبَطَتْ كَائِنَاتٍ بِأَسْبَابٍ عَادِيَّةٍ، وَقُدْرَتُهُ الشَّامِلَةُ كَوَّنَتْ مَوَادَّ عَنَاصِرَ وَأَعَدَّتْهَا لِتَكْوِينِ أَشْيَاءَ مَادِّيَّةٍ، وَرَتَّبَتْ عَلَيْهَا مَصَالِحَ وَغَايَاتٍ، وَجَعَلَتْهَا عَلَىٰ عَظَمَتِهِ وَحِكْمَتِهِ أَدِلَّةً وَآيَاتٍ. فَخَلَقَ اللّٰهُ سُبْحَانَهُ بَسَائِطَ وَرَكَّبَ مِنْهَا أَبْخِرَةً وَأَدْخِنَةً، وَجَعَلَهَا مَوَادَّ وَأَسْبَابًا وَقَدَّرَ مِنْهَا مَطَرًا وَمَاءً وَسَحَابًا فَتَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.
(معلوم رہے ان آثار کا وجود بلکہ دیگر تمام اشیاء اور کائنات کا وجود ایک قدرت والے کی تقدیر اور حکم سے ہوتا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے تخلیق فرماتا اور بناتا ہے، وہ حکمت والا از سرِ نو ایجاد فرمانے والا زمین و آسمان میں انوکھی ایجاد والا، وہ اشیاء کو وجود بخشنے میں کسی مادہ و مدت اور کسی معد (تیار کرنے والے) و سامان کا محتاج نہیں، مگر اس کی حکمتِ کاملہ نے کچھ وجود پانے والی چیزوں کو کچھ اسبابِ عادیہ سے مربوط کر دیا ہے اور اس کی ہمہ گیر قدرت نے عناصر کے مادے پیدا کر کے انہیں کچھ مادی چیزوں کے بنانے کے لیے تیار کر دیا ہے اور اس پر بہت سے مصالح و مقاصد مرتب فرمائے ہیں اور ان سب کو اپنی عظمت اور حکمت کے لیے دلیل و نشان بنا دیا ہے۔ تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بسائط کی تخلیق فرمائی ان سے کچھ بخارات و دخانات ترکیب دیے پھر انہیں مادہ و سبب بنا کر ان سے بارش، پانی اور ابر کو وجود بخشا [اور ان سے اناج اور پودے اگائے اور ہر ایک کے لیے موسم اور وقت مقرر کر دیا اور ان کو رزق اور خوراک بنا دیا] تو بڑی برکت والا ہے اللہ جس کی تخلیق سب سے بہتر ہے)۔
یہ خالص اسلامی نظریہ اور ایمانی نظر ہے جو اسباب و مسببات کے تعلقات میں الجھ کر رک نہیں جاتی بلکہ خالق تک پہنچتی ہے اور یہ دیکھتی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے دراصل اسی کی تقدیر و تخلیق سے ہو رہا ہے اور اسباب میں جو کچھ صلاحیت و استعداد جلوہ نما ہے وہ سب اسی کا فیضان، اسی کی عطا اور اسی کی بخشش ہے، جب کہ خالص فلسفی کا دماغ مادہ و عناصر اور اسبابِ ظاہر کی بھول بھلیوں سے کبھی باہر نہیں نکلتا۔
5۔ فلاسفہ نباتات کے لیے بے شعور نفس مانتے ہیں جس سے آلات و قویٰ کے ذریعے مختلف کام انجام پاتے ہیں اور نفسِ نباتی کے لیے حسبِ ذیل قوتیں ثابت کرتے ہیں:
- جاذبہ
- ماسکہ
- ہاضمہ
- دافعہ
- غاذیہ
- نامیہ
- مولدہ
- مصورہ
”ہدیۂ سعدیہ“ میں ہر ایک کی تعریف و توضیح اور اس سے متعلق کام رقم کرنے کے بعد ان قویٰ کے ماننے پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں وہ تحریر کیے ہیں، ان کا کچھ اقتباس درجِ ذیل ہے:
غور کریں تو نباتات میں بڑی دلکش، عمدہ اور حسین و جمیل ترتیب و تقدیر پائی جاتی ہے جس میں عقل و فہم حیرت زدہ ہے۔ اس میں جو منافع و مصالح ودیعت ہیں ان کے ادراک میں ذہن و دماغ سرگرداں ہے۔ اس کے ابتدائی اصول سمجھنے سے فکر و نظر درماندہ ہے، انتہا و غایت تک رسائی سے عاجزی کے باوجود انسان کی خلقت و ایجاد میں ودیعت کردہ جن منافع اور حکمتوں کا حکما کی ضعیف و کمزور عقل و فہم استخراج کر سکی ہے ان کی تعداد پانچ ہزار ہے جو علمِ تشریح میں مذکور ہے، جب کہ اب تک جو کچھ دریافت ہوا ہے وہ نامعلوم اسرار کی بنسبت کم سے کم تر ہے۔
تو جسے ذرا بھی دانش و بینش کا حصہ ملا ہے وہ ایک بے شعور قوت سے ایسی صورت گری صادر ہونے کا کیسے قائل ہو سکتا ہے جو بڑی انوکھی اور دقیق حکمتوں، دلکش عظیم مصلحتوں اور خوشنما حیرت انگیز و دیدہ زیب صورتوں اور شکلوں وغیرہ پر مشتمل ہو، اگرچہ یہی مان لیا جائے کہ وہ قوت بسیط نہیں بلکہ مرکب ہے اور مادے مختلف استعداد اور صلاحیت کے حامل ہیں۔
بے شعور نبات کے اندر ہونے والے حیرت انگیز، دلکش اور محکم افعال کو مذکورہ قویٰ کی جانب منسوب کرنا بہت بڑی حماقت ہے۔ اسی طرح یہ ماننا کہ بدن اور اس کے اجزا کو بنانا نفسِ حیوانی یا نفسِ انسانی یا اس کی کسی قوت کا فعل ہے، یہ بھی کھلی جہالت اور گمراہی ہے۔ نفس کی قوت کا فعل تو اس لیے نہیں ہو سکتا کہ وہ بے شعور ہے اور اس سے ان محکم حکمتوں کا صادر ہونا محال ہے اور خود نفس کا فعل اس لیے نہیں ہو سکتا کہ فلسفہ کے نزدیک وہ بدن کے بعد پیدا ہوتا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ نفسِ انسانی اپنے علوم کے کامل ہونے اور اپنے ادراک کی آخری حد تک پہنچ جانے کے بعد بھی اعضا کی کیفیت، ان کی مقداروں، ان کے حالات و حرکات، غذا طلبی، صحت و بیماری وغیرہ کی کیفیات اور ان کے اجزاء و عوارض سے آشنا نہیں ہوتا۔ اگر کچھ جانتا ہے تو علمِ تشریح وغیرہ کی مہارت کے بعد بہت قلیل مقدار میں جانتا ہے، وہ بھی محض ظن و تخمین کے طور پر ہوتا ہے جزم و یقین کا حصول نہیں ہوتا۔ پھر یہ کیسے خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ نفس اپنے وجود پذیر ہونے کی ابتدا میں اتنی ساری تفصیلات سے آشنا ہے، ان اعضائے بدن سے متعلق تمام مصالح اور حکمتوں کی رعایت کر لیتا ہے؟
تیسری وجہ یہ ہے کہ جب نفس کی قوت پورے کمال کو پہنچ جاتی ہے اس وقت بھی وہ بدن کی کسی صفت کو وجود بخشنے پر قدرت نہیں رکھتا پھر اپنے وجود کے آغاز اور شدتِ ضعف کے عالم میں ان بدیع صفات کے بنانے پر کیسے قادر ہو سکتا ہے؟
تو لامحالہ یہ ماننا ہوگا کہ بدن کو تخلیق کرنے، بنانے اور اس میں عظیم حکمتیں ودیعت فرمانے کا کام ایک عالمِ خبیر، حکیم، قدیر کا ہے جس نے پیدا کیا تو بہت عمدہ بنایا اور جیسے چاہا حکمتیں فرمائیں، وہی ہے جو رحم میں اپنی مشیت کے مطابق صورتیں بناتا ہے۔
اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بدن و اجزائے بدن میں جاذبیت اور پکانے پختہ کرنے والی حرارت، مدافعت وغیرہ صفات نہ ہوں، اس لیے کہ یہ ساری چیزیں اسی حکیم خلاق قدیر مختار علی الاطلاق نے بدن میں پیدا کر دی ہیں اور ودیعت فرما دی ہیں۔ ساری وصف لی مخلوقات میں اس کے سوا اور کسی کی تاثیر حقیقت میں نہیں، اگرچہ بطورِ عادت بعض اشیاء بعض کے لیے سبب ہوتی ہیں کیونکہ خالقِ کائنات کی جانب سے عادت اور دستور یوں ہی جاری ہے جس میں بہت سی مصلحتیں اور حکمتیں کارفرما ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ فعالِ قدیر اپنے بندوں میں سے جن کو عظیم سعادتوں سے سرفراز فرماتا ہے ان کی کرامت اور اعزاز کے طور پر عادتاً تخلیق پانے والی چیزوں سے زیادہ بدیع اور انوکھی چیز پیدا فرما دیتا ہے۔
هٰذَا هُوَ التَّحْقِيقُ فَهُوَ سُبْحَانَهُ وَلِيُّ الْعِصْمَةِ وَالتَّوْفِيقِ.
(یہی تحقیق ہے پس وہ سبحانہ ہی عصمت اور توفیق کا ولی ہے)۔
اس طرح کی بہت سی مثالیں خود ”ہدیۂ سعدیہ“ میں موجود ہیں جن میں علامہ نے صراحتاً اسلامی موقف کی ترجمانی فرمائی ہے اور فلاسفہ کے باطل نظریات سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور عِنْدَهُمْ وغیرہ الفاظ کے ذریعے ان کے باطل خیالات سے اپنی براءت تو بہت سے ایسے مقامات پر بھی کرتے گئے ہیں جہاں خود فلاسفہ کے نظریات اور ان کے دلائل کا بیان ہو رہا ہے۔ اس طرزِ نگارش سے ثابت ہوتا ہے کہ علامہ کو فلسفے میں انہماک نہ تھا اور نہ فلسفے پر ان کا ایمان تھا، وہ اسلام کو پختہ دلائل اور قوی براہین کی روشنی میں حق مانتے تھے اور اس سے متصادم ہر نظریے کو تارِ عنکبوت کی طرح تار تار کرنے کی عظیم صلاحیت کے حامل تھے۔ اس لیے انہیں ایک فلسفی کہنے کے بجائے زبردست اسلامی ترجمان، عظیم متکلم اور پرجوش داعی، دردمند ہادی اور ملکی سیاست کے باب میں غیرت مند مجاہد اور دور اندیش رہنما کہنا پسند کرتا ہوں۔ بلاشبہ یہی ان کے شایانِ شان ہے اور یہی حقیقت کے مطابق بھی ہے۔
علامہ کی دیگر تصنیفات مثلاً حاشیۂ قاضی مبارک سے بھی ردِ فلسفہ اور تائیدِ اسلام کی مثالیں پیش کرنے کا ارادہ تھا مگر طولِ مضمون اور قارئین کے ملالِ خاطر کے خیال سے چھوڑ دیا۔ توفیق ملی تو آئندہ کبھی ان گلستانوں کی سیر کی جائے گی۔ وَاللّٰهُ الْمُوَفِّقُ وَهُوَ خَيْرُ مُعِينٍ۔
