Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

انا خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وسلم) لا نبی بعدی

انا خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وسلم) لا نبی بعدی
عنوان: انا خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وسلم) لا نبی بعدی
تحریر: مولانا شہزاد احمد مجددی چوراہی
پیش کش: بنت تنویر عطاریہ

عقیدۂ ختمِ نبوت کا تعلق ضروریاتِ دین سے ہے، جس کا منکر اسلام کے وسیع دائرے سے خارج ہے۔ اس بات پر چودہ صدیوں سے مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اور یہ عقیدہ قرآن کی نصوصِ قطعیہ اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے۔ اور ”خاتم النبیین“ کے معنی ”آخری نبی“ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود متعین فرمائے جس کے بعد اب ”خاتم النبیین“ کے معنی و مفہوم میں کسی قسم کا نہ تو کوئی ابہام باقی رہتا ہے اور نہ ہی مزید کسی لغوی تحقیق کی گنجائش باقی رہتی ہے۔

2۔ مہرِ نبوت کی علمی و حکیمانہ تشریح

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”خاتم النبیین میں فرمایا گیا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں میں سب سے پچھلے نبی۔ خاتم، ختم سے مشتق ہے اور ختم کے معنی مہر کے بھی ہیں اور آخری کے بھی، بلکہ مہر کو بھی خاتم اسی واسطے کہتے ہیں کہ وہ مضمون کے آخر میں لگائی جاتی ہے یا یہ کہ جب کسی تھیلے پر مہر لگ گئی، تو اب کوئی چیز نہ اس میں سے نکل سکے گی نہ کوئی نئی اس میں داخل ہو سکے گی۔ چیز باہر کی اندر اور اندر کی باہر نہیں جا سکتی، اسی طرح یہ آخری مہر لگ چکی، باغِ نبوت کا آخری پھول کھل چکا۔ خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خاتم النبیین کے معنی فرمائے ہیں کہ ”لا نبی بعدی“۔ اب جو شخص کسی طرح کا ظلی، بروزی، اصلی، عارضی، مناتی، مذاقی، شرابی، افیونی نبی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد مانے وہ بے دین اور مرتد ہے۔ اسی طرح جو خاتم النبیین کے معنی کرے بالذات نبی اور کسی نبی کا آنا ممکن جانے وہ مرتد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بے شک تشریف لائیں گے، مگر وہ پہلے کے نبی ہوں گے نہ کہ بعد کے، اور اب امتی کی حیثیت سے تشریف فرما ہوں گے۔“ [شانِ حبیب الرحمٰن من آیاتِ القرآن، ص: 179، مکتبہ اسلامیہ، لاہور]

آیت نمبر 1 اور اس کا ترجمہ

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا.

ترجمۂ کنز الایمان: ”محمد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔“ [سورۃ الاحزاب: 40]

آیت نمبر 2 اور اس کا ترجمہ

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا.

ترجمۂ کنز الایمان: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام دین کو پسند کیا۔“ [سورۃ المائدہ: 3]

3۔ تکمیلِ شریعت اور نبوت کا اختتام

یہ آیتِ کریمہ اس بات کا اعلان تھا کہ دینِ اسلام ظاہری، باطنی، صوری، معنوی ہر لحاظ سے مکمل ہو چکا۔ نبوت کی نعمت پوری ہو چکی، قانون و شریعت کے معاملات طے ہو چکے۔ عقائد، اعمال، اخلاق، حکومت، سیاست، مکروہات و مستحبات اور حرام و حلال کے اصول بن چکے۔ اور یہ کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا، اب قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔

عقیدۂ ختمِ نبوت احادیث کی روشنی میں

1۔ قصرِ نبوت کی تکمیل اور آخری اینٹ کی مثال

حدیث نمبر 1: صحیحین میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَرَجُلٍ بَنَىٰ دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ وَيَقُولُونَ لَوْلَا مَوْضِعُ اللِّبْنَةِ.

”میری اور پہلے نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکان پورا کامل اور خوبصورت بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی پس لوگ اس مکان میں داخل ہوتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی؟“

صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَا مَوْضِعُ اللِّبْنَةِ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ.

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں، پس مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہو گیا۔“ [صحیح البخاری، ج: 1، ص: 501، حدیث: 3535؛ صحیح مسلم، ج: 3، ص: 1791، کتاب الفضائل]

2۔ سابقہ انبیاء سے نسبت اور نبوت کی انتہا

حدیث نمبر 2: مسند امام احمد بن حنبل اور صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَىٰ دَارًا فَأَتَمَّهَا إِلَّا لَبِنَةً وَاحِدَةً فَجِئْتُ أَنَا فَأَتْمَمْتُ تِلْكَ اللِّبْنَةَ.

”میری اور پہلے نبیوں کی مثال اس شخص کی مانند ہے جس نے سارا مکان پورا بنایا سوائے ایک اینٹ کے، تو میں تشریف فرما ہوا اور وہ اینٹ میں نے پوری کی۔“ [مسند احمد بن حنبل، ج: 3، ص: 9؛ صحیح مسلم، ج: 3، ص: 1791، کتاب الفضائل]

3۔ عمارتِ نبوت کی تکمیل کا مشاہدہ

حدیث نمبر 3: صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَىٰ بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هٰذِهِ اللِّبْنَةُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللِّبْنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ.

”میری اور پہلے نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا، اس کو نہایت عمدہ اور آراستہ پیراستہ کیا مگر ایک طرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، پس لوگ آتے ہیں، اس کے گرد گھومتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی؟ آپ نے فرمایا: پس وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“

ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کی عمارت میں جس اینٹ کی کمی تھی وہ پوری ہو گئی اور عمارت ہر لحاظ سے مکمل ہو گئی۔ اب اس میں ایک اینٹ کی بھی گنجائش باقی نہیں رہی۔ [صحیح البخاری، ج: 1، ص: 501؛ صحیح مسلم، ج: 3، ص: 1791، کتاب الفضائل]

4۔ بنو اسرائیل کے انبیاء اور لا نبی بعدی کا اعلان

حدیث نمبر 4: صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي.

”پہلے بنی اسرائیل کے انبیاء حکمران ہوا کرتے تھے، جب ایک کی وفات ہو جاتی تو دوسرا اس کا خلیفہ ہوتا تھا اور بیشک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ [صحیح البخاری، ج: 1، ص: 491، کتاب الانبیاء؛ صحیح مسلم، ج: 3، ص: 1467، کتاب الامارۃ]

5۔ جھوٹے دعویدارانِ نبوت اور علاماتِ قیامت

حدیث نمبر 5: صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّىٰ يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللّٰهِ.

”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس کے قریب دجال کذاب نہ پیدا ہو جائیں، ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے گا۔“ [صحیح البخاری، ج: 1، ص: 509، کتاب المناقب؛ صحیح مسلم، ج: 4، ص: 2239، کتاب الفتن]

6۔ امتِ محمدیہ میں کذابین کی آمد اور مہرِ نبوت

حدیث نمبر 6: ترمذی میں حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي.

”میری امت پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ تیس کذاب ہوں گے ہر ایک اپنے آپ کو نبی کہے گا اور میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ [سنن الترمذی، ج: 3، ص: 399، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون]

7۔ دجال صفت مرد و خواتین اور دو ٹوک اعلان

حدیث نمبر 7: مسند امام احمد و معجم کبیر طبرانی میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ وَدَجَّالُونَ سَبْعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنْهُمْ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي.

”میری امت میں ستائیس کذاب دجال ہوں گے ان میں چار عورتیں ہوں گی اور بیشک میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ [مسند امام احمد بن حنبل، ج: 5، ص: 396؛ المعجم الکبیر للطبرانی]

احادیث کا خلاصہ اور حتمی فیصلہ

ان احادیث میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے زمانے کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو بالتصریح کذاب و دجال قرار دیا ہے اور واضح فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!