Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اعلیٰ حضرت اور نیوٹن (Newton) کی کششِ ثقل (Gravity) (قسط دوم و آخری)

اعلیٰ حضرت اور نیوٹن (Newton) کی کششِ ثقل (Gravity) (قسط دوم)
عنوان: اعلیٰ حضرت اور نیوٹن (Newton) کی کششِ ثقل (Gravity) (قسط دوم)
تحریر: محمد ہاشم رضا قادری امجدی
خادم التدریس: طیبۃ العلماء جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں: ”جاذبیت کے بطلان پر پہلا شاہدِ عدل آفتاب ہے، اس کے مدار میں جسے وہ مدارِ زمین سمجھتے ہیں ایک نقطہ مرکزِ زمین سے غایتِ بُعد پر ہے جسے ہم اوج کہتے ہیں اور دوسرا نہایت قرب پر جسے حضیض، ان کا مشاہدہ ہر سال ہوتا ہے، تقریباً 3 جولائی کو آفتاب زمین سے اپنے کمالِ بُعد پر ہوتا ہے اور 3 جنوری کو نہایت قرب پر۔“ [فوزِ مبین، ص: 303]

پھر ان دونوں نقطوں کے درمیان فرق ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”یہ تفاوت اکتیس لاکھ میل سے زائد ہے، تفتیشِ جدیدہ میں شمس کا بُعدِ اوسط نو کروڑ انتیس لاکھ میل بتایا گیا اور ہم نے حساب کیا مابین المرکزین دو درجے 45 ثانیے یعنی 2.5212 ہے تو بُعدِ ابعد 94,458,026 میل ہوا اور بُعدِ اقرب 91,341,974 میل، تفاوت 3,116,052 میل“ [ایضاً]

{قارئین کے ذوقِ مطالعہ کے لیے ہم جدید پیمائش کو کلومیٹر کے حساب سے ذکر کیے دیتے ہیں تاکہ اس کا صحیح طور پر اندازہ لگایا جا سکے۔ زمین سے سورج کا بُعدِ اوسط چودہ کروڑ پچانوے لاکھ ستانوے ہزار آٹھ سو اکہتر کلومیٹر (149,597,871 KM) ہے۔ اوجِ شمس کے وقت اس کی دوری پندرہ کروڑ اکیس لاکھ کلومیٹر (152,100,000 KM) اور حضیضِ شمس کے وقت چودہ کروڑ ستر لاکھ پچانوے ہزار کلومیٹر (147,095,000 KM) ہوتی ہے، لہٰذا ان کے درمیان تفاوت پچاس لاکھ پانچ ہزار کلومیٹر (5,005,000 KM) ہوگا۔}

اب اعلیٰ حضرت کا اس پر رد ملاحظہ فرمائیں: ”اگر زمین آفتاب کے گرد اپنے مدارِ بیضوی پر گھومتی ہے جس کے فوکسِ اسفل (Focus) میں شمس ہے جیسا کہ ہیئتِ جدیدہ کا زعم ہے تو اول ان کی سمجھ کے لائق یہی سوال ہے کہ زمین اتنے قوی عظیم شدید ممتد پر ہزارہا سال کے متواتر جذب سے کھنچ کیوں نہ گئی۔“ [ایضاً]

یہاں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نیوٹن کے فارمولے کا رد فرما رہے ہیں جو اوپر مذکور ہوا جس کے مطابق ہر مادی جسم دوسرے مادی جسم کو اپنی اور اٹریکٹ (Attract) کرتا ہے۔ اس پر اعلیٰ حضرت نے سب سے پہلا رد یہ پیش کیا کہ اگر کششِ ثقل (Gravity) جیسی کوئی قوت دو جسموں کے درمیان کام کر رہی ہوتی تو ہزاروں سال سے سورج جیسے عظیم جسم کے کھینچنے کے باوجود زمین اس کی اور کھنچ کیوں نہ گئی، اور وہ بھی ایسے عظیم جسم کے کھینچنے پر جس کا حجم تقریباً تیرہ لاکھ زمینوں کے برابر ہے۔

اس کے بعد فرماتے ہیں: ”ہیئتِ جدیدہ میں آفتاب 12 لاکھ 35 ہزار 130 زمینوں کے برابر اور بعض نے دس لاکھ بعض نے چودہ لاکھ دس ہزار لکھا اور ہم نے مقرراتِ جدیدہ پر بربنائے اصلِ کروی حساب کیا تو تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو سو چھپن زمینوں کے برابر آیا۔ بہرحال وہ جرم کہ اس کے 12 لاکھ حصوں میں سے ایک کے بھی برابر نہیں، کیا مقاومت کر سکتا ہے تو گرد دورہ کرنا نہ تھا بلکہ پہلے ہی دن کھنچ کر اس میں مل جاتا۔ کیا 12 لاکھ اشخاص مل کر ایک کو کھینچیں اور وہ دور ہی چاہے تو بارہ لاکھ سے کھنچ نہ سکے گا بلکہ ان کے گرد گھومے گا۔“ [ایضاً]

یعنی 12 لاکھ لوگ مل کر ایک شخص کو اپنی اور کھینچیں تو کیا وہ شخص ان کی اور کھنچے گا یا ان کے گرد چکر لگانے لگ جائے گا۔

اوج و حضیضِ شمس کا قاعدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اور کامل علمی رد یہ ہے کہ کسی قوت کا قوی پڑ کر ضعیف ہو جانا محتاجِ علت ہے اگرچہ اسی قدر کہ زوالِ علتِ قوت، جبکہ نصف دورے میں جاذبیتِ شمس غالب آ کر 31 لاکھ میل سے زائد زمین کو قریب کھینچ لائی تو نصفِ دوم میں اسے کس نے ضعیف کر دیا کہ زمین پھر 31 لاکھ میل سے زیادہ دور بھاگ گئی، حالانکہ قرب موجبِ قوتِ اثرِ جذب ہے تو حضیض پر لا کر جاذبیتِ شمس کا اثر اور قوی تر ہونا اور زمین کا وقتاً فوقتاً قریب تر ہوتا جانا لازم تھا نہ کہ نہایت قرب پر آ کر اس کی قوت سست پڑے اور زمین اس کے نیچے سے چھوٹ کر پھر اتنی ہی دور ہو جائے۔“ [ایضاً]

اوپر مختصراً گزر چکا کہ سال کے چھ مہینے سورج نقطۂ اوج پر اور بقیہ چھ مہینے میں نقطۂ حضیض پر ہوتا ہے، تو جب نقطۂ اوج پر سورج زمین سے غایتِ بُعد پر تھا اس درمیان سورج کی کششِ ثقل (Gravity) زمین کو 31 لاکھ میل یعنی 5,005,000 کلومیٹر قریب لے آئی جبکہ سائنس کے فارمولے کی رو سے جتنا بُعد زیادہ ہوگا اتنی ہی کشش کم ہوگی، تو ہونا تو یہ تھا کہ نقطۂ اوج میں زمین سورج کے ہاتھ سے نکل جاتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ غایتِ بُعد کے بعد دھیرے دھیرے سورج زمین کے قریب ہونے لگ جاتا ہے اور پھر حضیضِ شمس میں وہی قرب حاصل کر لیتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں جب زمین سورج سے 31 لاکھ میل یعنی 5,005,000 کلومیٹر قریب کھنچ آئی تو پھر وہی سائنس کا فارمولا کہ جب دو جسموں کے درمیان بُعد کم ہوگا تو کششِ ثقل (Gravity) زیادہ ہوگی، اب چاہیے تھا کہ زمین سورج سے جا ملتی لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس کے گرد چکر ہی لگاتی ہوئی نظر آتی ہے، یہ نری جہالت کوئی مجنوں ہی قبول کر سکتا ہے چہ جائیکہ عاقل۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان اس کم عقلی پر طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”شاید جولائی سے جنوری تک آفتاب کو راتب زیادہ ملتا ہے، قوت تیز ہوتی ہے اور جنوری سے جولائی تک بھوکا رہتا ہے، کمزور پڑ جاتا ہے۔“ [ایضاً]

پھر فرماتے ہیں: ”دو جسم اگر برابر کے ہوتے تو یہ کہنا ایک ظاہری لگتی ہوئی بات ہوتی کہ نصف دورے میں یہ غالب رہتا ہے، نصف میں وہ، نہ کہ وہ جرم کہ زمین کے 12 لاکھ امثال سے بڑا ہے اسے کھینچ کر 31 لاکھ میل سے زیادہ قریب کرے اور عین شبابِ اثرِ جذب کے وقت سست پڑ جائے اور ادھر ایک اور ادھر 12 لاکھ سے زائد پر غلبہ و مغلوبیت کا دورہ پورا نصف نصف انقسام پائے، اس پر یہ مہمل عذر پیش ہوتا ہے کہ نقطۂ حضیض پر نافریت بہت بڑھ جاتی ہے، وہ زمین کو آفتاب کے نیچے سے چھڑا کر پھر دور لے جاتی ہے۔“ [ایضاً]

آخر میں فرمایا کہ یہ اوج و حضیضِ شمس کا جھگڑا اگر دو مساوی جسموں کے درمیان ہوتا تو بات کچھ عقل کے قریب لگتی لیکن یہاں نزاع ایسے دو جسموں کے درمیاں ہے کہ جن میں تیرہ لاکھ گنا کا فرق ہے وہ عظیم جسم ایک نازک جسم کو کھینچ کر پچاس لاکھ پانچ ہزار کلومیٹر (5,005,000) قریب لے آیا اس وقت جبکہ دوری زیادہ تھی، لیکن جب دوری کم ہوئی اور کششِ ثقل (Gravity) اپنے شباب پر پہنچی تو اسی جسم کو کہ تیرہ لاکھ گنا چھوٹا ہے اپنے زور پر اس عظیم جرم سے دور بھاگ گیا اور اس کا سبب نقطۂ حضیض پر نافریت کا بڑھ جانا بتانا ایک بعید از عقل اور ناقابلِ تسلیم عذر ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جاذبیت باطل اور جس پر مدارِ گردش ہے آپ ہی باطل اور نافریت بغیر جاذبیت کے قائم نہیں رہ سکتی ہے لہٰذا اس کا پہیہ بھی یہیں دفن ہونا چاہتا ہے اور اس سے زمین کا ساکن ہونا ثابت اور ایک کلمہ گو کے لیے عزت والے رب کا کلام اس اعتقاد پر ناطق۔

خلاصۂ کلام:

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کے ان مباحث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اعلیٰ حضرت نے اپنے دور کے سائنسدانوں کو گردشِ زمین کے پہیے میں اس طرح گھمایا کہ آج تک اعلیٰ حضرت کے اس رد کا جواب نظر سے نہیں گزرا۔ آج مزید اس نظریے کی توسیع ہونے کے بعد بہت سی نئی تھیوری زمین کی گردش کے نظریے میں شامل ہو چکی ہیں، جیسے کہ ”زمین سورج سے اس لیے نہیں جا ملتی کیونکہ خلا (Space) ایک ویکیوم (Vacuum) کی طرح ہے اور ویکیوم میں ہوا ہوتی ہے جو ایک جسم کو دوسرے جسم سے جا ملنے سے حائل ہوتی ہے“ جس پر اعلیٰ حضرت نے اسی کتاب میں رد فرمایا ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حضرت کے اس کارنامے کو عام فہم اور سلیس زبان میں حل کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ہمارے وہ نوجوان جو اس طرح کے غیر اسلامی نظریے کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں، انہیں مزید غور و فکر کرنے کی سعی حاصل ہو اور اسلام کے حق و صحیح نظریے کو اپنا کر دنیا کے دامِ فریب سے خود کو نجات دے کر اخروی منازل میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

اس مقالے کے شروع میں ذکر ہوا کہ کچھ لوگوں نے اعلیٰ حضرت کے اس نظریے کو غلط ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ان کی بارگاہ میں عریضہ ہے کہ اگر وہ یہ سوچ کر اس نظریے کا انکار کر رہے ہیں کہ یہ نظریہ اعلیٰ حضرت کا ایجاد کردہ ہے تو ان کے لیے دعوتِ فکر ہے کہ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ نظریہ خود سائنسدانوں کے درمیان بھی مختلف فیہ ہے، اس کے لیے انہیں چاہیے کہ Hundred Authors Against Einstein اور Galileo Was Wrong: The Church Was Right - The Evidence from Modern Science کا بغور مطالعہ کریں تو انہیں احساس ہو جائے گا کہ تھیوری بدلنے والی چیز ہے اور اس میں زمانے کے اعتبار سے تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، لیکن جو نظریہ اسلام نے پیش کیا وہ خطا سے بری ہے۔ [ماخوذ از: سہ ماہی امجدیہ، جولائی تا ستمبر 2023ء، ص: 59 تا 63]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!