| عنوان: | بلادِ اسلامیہ میں محافلِ میلاد و جلوس کا انعقاد اور اس کی شرعی حیثیت |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ارشد نعیمی قادری ککرالوی |
| پیش کش: | ناظم اسماعیلی |
ہمارے نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم روحِ ایمان ہیں، آپ کی ذاتِ اقدس سے رشتۂ محبت استوار کیے بغیر نہ تو لذتِ ایمان مل سکتی ہے اور نہ اللہِ لم یزل سے تعلقِ عبودیت قائم رہ سکتا ہے، آپ کی الفت و محبت کے چراغ فروزاں کیے بغیر جادۂ مستقیم پر گامزن نہیں ہوا جا سکتا، یہ ایک المیہ ہے کہ جہال و ضال لوگ ظاہر بینی سے کام لیتے ہوئے دین کی اصل روح اور کارفرما حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں، کچھ ظاہر پرست علما محافلِ میلاد، جلوسِ میلاد، جشنِ میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صرف اس لیے اسے ناجائز و حرام بولتے لکھتے ہیں کہ اس قسم کی تقاریب اوائل ادوارِ اسلام میں منعقد نہیں ہوئیں، یہ ان جہال کی اعلیٰ قسم کی جہالت اور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے قدیم تخالف ہے۔
حالانکہ علمائے جماہیر، مفتیانِ مشاہیر کا اس بات پر اطباق و اتفاق ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکرِ پاک، اوصافِ پاک، خصائلِ پاک کو جس جائز شکل میں بیان کیا جائے بلاشبہ جائز و درست اور لاتعداد خیر کا باعث ہے، چاہے وہ میلاد کی شکل میں ہو یا نعت و ذکر کی شکل میں یا پھر جشن و چراغاں کی شکل میں یا جلسہ و جلوس کی شکل میں، ہر طرح موجبِ رحمت، باعثِ خیر و برکت ہے۔ جہالِ زمان جہاں اور سارے امورِ خیر کو ناجائز و بدعت کے زمرے میں گردانتے ہیں، وہیں ایک یہ بھی ہے کہ مروجہ جلسہ و جلوس ناجائز و حرام ہے، اس لیے کہ یہ ماضیِ قریب کے لوگوں کی ایجاد ہے، اس کا کوئی ثبوت ماضیِ بعید کے علما و فقہا کے اقوال و افعال سے نہیں ملتا، حالانکہ بات اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر یہ جہالِ زمان اوراقِ کتب کی ورق گردانی کرتے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی کہ یہ جلسہ و جلوس جو ہم اہلِ سنن نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ پاک کی خوشی میں منعقد کرتے ہیں، یہ ابھی حال کی ایجاد نہیں بلکہ سینکڑوں سال پرانی ایجادِ پاک ہے، جیسا کہ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ پاک کی خوشی میں جو سب سے پہلے اس کرۂ ارض پر عشاقِ نبی نے جلوس نکالا وہ سرزمینِ مصر قاہرہ میں نکالا گیا، جیسا کہ محمد قاضی حنفی اسکندریہ اپنی کتاب ”أَحْسَنُ الْكَلَامِ فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِالسُّنَّةِ وَالْبِدْعَةِ مِنَ الْأَحْكَامِ“ طبع کردستان القاہرہ میں رقم طراز ہیں:
”جلوسِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے فاطمی خلفا نے مصر قاہرہ میں امام المعز لدین اللہ علیہ الرحمہ نے 362 ہجری میں ایجاد کیا۔“ [ص: 59 تا 62]
اس کے بعد شہرِ موصل میں بھی اس کا انعقاد ہوا جیسا کہ امام ابو شامہ دمشقی رضی اللہ عنہ اپنی کتاب ”الْبَاعِثُ عَلَى إِنْكَارِ الْبِدَعِ وَالْحَوَادِثِ“ میں رقم فرماتے ہیں:
”موصل شہر میں سب سے پہلے مشہور صوفی بزرگ حضرت عمر بن محمد ملا علیہ الرحمہ نے اس کا انعقاد فرمایا۔“ [ص: 28، قاہرہ مصر]
اس کے بعد سرزمینِ عراق، شہرِ اربل میں اس جلوس کا انعقاد ابو سعید کوکبری بن ابوالحسن ملقب بہ ملک مظفر اربل نے 532ھ میں قائم فرمایا۔ [ص: 62 تا 64]
اور اسی طرح امام قطب الدین الحنفی المتوفی 988 ہجری اپنی کتاب ”مَوْلِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ میں رقم طراز ہیں:
”رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پیدائش کے دن مکۂ معظمہ میں مسجدِ حرام میں تمام علاقوں کے علما و فقہا اور چاروں مذاہب کے قاضی جمع ہوتے ہیں اور اپنے کثیر احباب کے ساتھ بے شمار جھنڈے لے کر بشکلِ جلوس مولدِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوتے ہیں، ہاتھوں میں شمعیں، فانوس اور مشعلیں ہوتی ہیں، گویا وہ مشعل بردار جلوس ہوتا ہے اور راستے میں علما کا خطاب ہوتا ہے، یہ جلوس مکۂ معظمہ میں ہمارے اسلاف کی دین ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد ہوئی ہے۔“ [ص: 356]
مدینۂ منورہ میں یومِ میلاد النبی کے دن جلوس کا انعقاد
اہلِ مدینہ نے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر جو سب سے پہلا جلوس نکالا وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیاتِ مقدسہ میں نکالا، جس کا ذکر کتبِ احادیث و سیر میں مذکور جیسا کہ مسطور ہے:
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّٰهِ دَاعِ
أَيُّهَا الْمَبْعُوثُ فِينَا
جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعِ
أَنْتَ شَرَّفْتَ الْمَدِينَةَ
مَرْحَبًا يَا خَيْرَ دَاعِ
فَعَلَيْكَ اللّٰهُ صَلَّى
مَا سَعَى لِلّٰهِ سَاعِ
فَلَبِسْنَا ثَوْبَ يُمْنٍ
بَعْدَ تَلْفِيقِ الرِّقَاعِ
یہ اشعار جن کا سیاق و سباق یہی ہے کہ اے نبیِ رحمت آپ کا آنا مبارک ہو، آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں، ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آپ ہمارے یہاں تشریف لائے، ہم نے اس خوشی میں یمنی کپڑے پہنے ہیں۔
اسی طرح خَصَائِصِ كُبْرَىٰ، النِّعْمَةُ الْكُبْرَىٰ، الْبَشِيرُ النَّذِيرُ فِي مَوْلِدِ سَيِّدِ الْبَشِيرِ، مَوْلِدُ الْعَرُوسِ میں امام جلال الدین سیوطی نے، امام ابو شامہ نے ”اَلْأَحْكَامُ“ میں، ابنِ جوزی نے ”تَارِيخُ مِيلَادٍ“ میں اور امام قسطلانی نے، امام ابن حجر ہیتمی نے ”فَتَاوَىٰ كُبْرَىٰ“ اور ”قَصَائِدِ مِيلَادٍ“ میں ذکر فرمایا کہ جلوسِ مصطفیٰ کی ایجاد قرونِ ثلاثہ کے بعد بلادِ اسلامیہ میں خصوصاً حرمین طیبین میں ہوئی۔
برصغیر میں جلوس کا انعقاد
ہمارے ہند و پاک میں اس پاک کام کی ایجاد 1352 ہجری مطابق 1934 عیسوی کو ہوئی، جس کے بارے میں جناب نسیم حجازی رقم طراز ہیں:
محفلِ میلاد، ذکرِ میلاد، جلوسِ میلاد، چراغاںِ میلاد کا اہتمام کرنا بلاشبہ جائز و باعثِ برکت اور موجبِ رحمت ہے، اہلِ سنن کی واضح اکثریت اس کے عمل پر متفق ہے، کسی ہیئتِ کذائیہ کے لاحق و عارض ہونے سے اس کو بدعت سے تعبیر کرنا نری جہالت و ضلالت ہے۔ خود فقیر نے اب سے چار سال پیشتر مدینۂ منورہ میں حضور سیدی، آقائی، مولائی فرزندِ غوثِ اعظم شیخ المشائخ قطبِ مدینہ سید علوی مالکی مدنی رضی اللہ عنہ کے خلیفۂ اکبر پیکرِ زہد و ورع عالمِ شرع فرزندِ مصطفیٰ حضرت سید عبد الجلیل قادری مدنی مدظلہ العالی والنورانی جن سے مجھے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں خلافت بھی حاصل ہے، فرماتے سنا کہ انہوں نے روایت کی اپنے مرشد سے اور انہوں نے حضرت سید جلال الدین یمنی سے، انہوں نے حضرت سید عبد العزیز سے، انہوں نے حضرت سید ابنِ رفاعی سے، انہوں نے حضرت شیخ ہیتمی سے، انہوں نے حضرت شیخ بہاء الدین قادری سے، انہوں نے حضرت سید محمد بن عبد اللہ طرطوسی سے، انہوں نے حضرت سید مجتبیٰ شیرازی سے اور انہوں نے حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ سے کہ مدینۂ منورہ میں سب سے پہلے ائمۂ ثلاثہ میں امام شافعی 12 ربیع الاول کے روز مدینۂ منورہ اپنے جانثاروں کے ساتھ نعرۂ تکبیر و رسالت، حمد و صلاۃ کے ساتھ داخل ہوئے، کثرتِ ہجوم کی وجہ سے زمین تنگ نظر آئی۔ [أَحْسَنُ الْكَلَامِ فِي مَوْلِدِ خَيْرِ الْأَنَامِ]
اب جو لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ جلوسِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ادوارِ اصحابِ پاک میں نہیں نکالا گیا، تابعینِ عظام و ائمۂ کرام کے ادوار میں نہیں نکالا گیا، اس لیے یہ بدعتِ سیئہ ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نری جہالت ہے کہ جو کام صحابۂ کرام نے نہیں کیا اور اگر وہ بعد میں ایجاد ہو تو بدعت ہو جائے، ہر نیا کام بدعت نہیں ہوتا، کچھ بدعتیں اچھی بھی ہوتی ہیں، جیسا کہ ہمارے فقہائے کرام نے بدعت کی قسمیں بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بدعت دو قسم پر منحصر ہے، حسنہ اور سیئہ، جو کام خیر کے زمرے میں آئے، وہ باعثِ برکت اور اس کا کرنا ثواب ہے۔ جیسا کہ تدوینِ قرآن کی جو شکل مرورِ عصر میں موجود ہے، زمانۂ صحابہ میں نہیں تھی، کسی بھی صحابی نے اعراب والا قرآن نہیں پڑھا، بغیر اعراب کے قرآنِ پاک زمانۂ رسالت سے لے کر خیر القرون تک موجود رہا بعد میں اس پر اعراب لگائے گئے۔
اسی طرح زمانۂ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں علمِ نحو و صرف پڑھنے پڑھانے کا ماحول مفقود تھا، بعد میں موجود ہوا، مگر یہ سارے امور خیر پر دال ہیں، اس لیے بدعتِ حسنہ اور کبھی بدعتِ واجبہ کے زمرے میں ہیں۔ ان سب بین شواہد کے ہوتے ہوئے بھی کوئی ضدی، ہٹ دھرم انسان نہ مانے تو اس کو یہ حدیث دھیان میں رکھنا اور یاد کر لینا ضروری ہے جو مسند امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں موجود ہے، اللہ کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
مَا رَأٰهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ.
یعنی مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھ کر کرتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک اچھی ہوتی ہے۔ [بحوالہ مسند احمد بن حنبل، جلد اول]
بات اَجْلَىٰ مِنَ الشَّمْسِ ہو گئی کہ میلاد النبی، جلوسِ محمدی، جلسۂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر مسلمان اچھا سمجھ کر اور ثواب کی نیت کرتے ہوئے مناتا، نکالتا اور سجاتا ہے اور بحمدہٖ تعالیٰ اجر پاتا ہے، اس لیے کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ عمل کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ بول رہے ہیں کہ جب بارہ ربیع الاول آتا تو صحابۂ کرام غم میں ڈوب جاتے، اس لیے جشن نہیں مناتے، یہ بھی بالکل جھوٹ پر مبنی ہے، اس لیے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ وَمَمَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ.
یعنی اے لوگو! میرا دنیا میں رہنا تمہارے لیے خیر و برکت ہے اور میرا دنیا سے جانا بھی خیر و برکت ہے۔ [مجمع الزوائد، فصل اول]
اس حدیث نے واضح فرما دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی و وصال دونوں ہمارے لیے خیر و برکت ہیں اور خیر برکت ملنے پر غم نہیں خوشی منائی جاتی ہے، اب جو معترض ہے، وہ کوئی ایک حدیثِ مرفوع متصل باسناد مروی بصحاح یا تحریمِ اقوالِ ائمہ و فقہا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدعت ہونے پر پیش کرے، ان شاء اللہ نہیں کر سکتا۔
مَنْ لَمْ يَفْرَحْ بِمَوْلِدِ النَّبِيِّ فَلْيُعَالِجْ قَلْبَهُ فَإِنَّهُ مَرِيضٌ بِالْجَفَاءِ۔
علمائے اہلِ سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جس کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن خوشی نہ ہو، اس کا دل مردہ ہے، اس کو بہت بری بیماری ہے، اس بیماری کا علاج کرائے، اللہِ لم یزل ہم سب کو مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 16، 17، 18]
