Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

بلڈ بینک میں خون جمع کرنے کا حکم (قسط اول)

بلڈ بینک میں خون جمع کرنے کا حکم (قسط اول)
عنوان: بلڈ بینک میں خون جمع کرنے کا حکم (قسط اول)
تحریر: ناصر حسین مصباحی
پیشکش: محمد شفیع احمد عطاری رضوی

بلڈ بینک میں خون جمع کرنا اور ضرورت مندوں کو خون فراہم کرنا ایک اہم طبی امداد ہے۔ تاہم، شرعی نقطہ نظر سے یہ جاننا ضروری ہے کہ خون جمع کرنے کے کون سے طریقے جائز ہیں اور کن صورتوں میں احتیاط لازم آتی ہے۔

فقہاء کرام کے نزدیک اصل قاعدہ یہ ہے کہ انسان کا خون محترم ہے، اسے بلا ضرورت نکالنا یا اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں۔ لیکن اگر کسی مریض کی جان بچانے کے لیے خون کی ضرورت ہو تو بعض صورتوں میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔

اس مضمون کی قسط اول میں ہم بلڈ بینک کے ذریعے خون جمع کرنے کی عمومی حیثیت اور اس سے متعلق اہم شرعی ضوابط کا جائزہ لیں گے۔ ان شاء اللہ اگلی قسطوں میں مزید تفصیلات پیش کی جائیں گی۔

{alertInfo}

مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کے اکیسویں فقہی سیمینار ۱۴۳۵ھ / ۲۰۱۳ء کے اہم موضوعات میں سے ایک ”بلڈ بینک میں خون جمع کرنے کا حکم“ ہے۔ اس سے متعلق کل تیس علماے کرام و مفتیان عظام نے اپنی گراں قدر تحقیقات پیش کیں اور بیش قیمت مختصر و جامع مقالات تحریر کیے، جن کے صفحات کی مجموعی تعداد اکہتر ہے۔ اس موضوع سے متعلق سوال نامہ استاذی الکریم سراج الفقہاء حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی دام ظلہ علینا نے تیار فرمایا، جس میں خون اور اس کے اجزا کا جامع تعارف، خون کی مدت حیات، خون دینے والے کی صحت و عمر کا لحاظ، خون نکالنے کی مقدار، خون نکالنے سے پہلے اور اس کے بعد کی جانچ کے جملہ مراحل، مختلف نازک حالات میں مختلف اجزاے خون کے چڑھانے کی تفصیل، بلڈ بینک کی ضرورت و افادیت اور اس کے نہ ہونے سے مریضوں کے عظیم حرج و مشقت میں پڑنے جیسے تمام ضروری گوشوں پر بھر پور روشنی ڈالنے کے بعد یہ سوال قائم فرمایا کہ:

”مسلمانوں کا بلڈ بینک قائم کرنا اور اس میں اپنے خون جمع کرنا جائز ہے یا نہیں؟“

اس کے جواب میں علما کے درج ذیل دو موقف سامنے آئے:
”پہلا موقف“ یہ ہے کہ عمومی حاجت یا ضرورت یا اس کے غلبۂ ظن کے پیش نظر آج کے زمانے میں مسلمانوں کا بلڈ بینک قائم کرنا اور اس میں اپنے خون جمع کرنا جائز ہے۔ یہ موقف اکثر علما کا ہے۔

ان کے دلائل درج ذیل ہیں:

  1. جس طرح خون کی حرمت و نجاست قطعی ہے یوں ہی شراب کی نجاست و حرمت بھی قطعی ہے، لیکن اس کے باوجود فقہاے کرام نے سرکہ بنانے کی غرض سے شراب کا احراز و امساک جائز قرار دیا:
    البريقة شرح الطريقة للعلامة القونوي میں ہے: ”لا بأس بإمساك الخمر للتخليل“ [ص: ۱۲۷]
    فتاوی عالمگیری اور فتاوی خانیہ میں ہے:
    ”لو أمسك الخمر للتخليل جاز ولا يأثم“ [الفتاوى الهندية، ج: ۴، ص: ۱۲۰، خانية، ج: ۴، ص: ۳۷۸]
    بلکہ اس غرض کے لیے شراب بنانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
    فقیہ ابو اللیث کی عیون المسائل میں ہے: ”لا بأس أن يتخذه خمراً إذا كان يريد أن يتخذه خلاً“ [ص: ۱۷۹]
    جب سرکہ جیسی ایک جائز اور غیر ضروری چیز بنانے کی غرض سے شراب جیسی شدید الوعید واجب الاجتناب اور ناپاک و حرام شے کا احراز و امساک جائز ٹھہرا تو ایک ضرورت مند خوں کی کمی کے شکار جاں بلب مریض کی جان بچانے کے لیے خون کا جمع و احراز بدرجہ اولی جائز ہونا چاہیے، پھر جس طرح گھر میں رکھی ہوئی شراب سرکہ میں تبدیل ہو کر حلال ہو جاتی ہے یوں ہی بلڈ بینک میں جمع شدہ خون بوقت ضرورت مریض مضطر کے حق میں حلال ہو جاتا ہے۔ لہذا ضرورت مند مسلمان کی جان بچانے کے لیے بلڈ بینک میں خون جمع کرنا جائز ہونا چاہیے، لأن الأمور بمقاصدها وللوسائل حكم المقاصد۔ [مقالہ مولانا مفتی ابرار احمد اعظمی، ص: ۱، ۲]
    جواز کے قائلین میں سے بعض حضرات نے ضرورت و حاجت سے، بعض نے مشہور قاعدہ فقہیہ ”الأمور بمقاصدها“ سے اور بہت سے قلم کاروں نے سرکہ بنانے کے لیے شراب رکھنے کے جواز سے استدلال کرتے ہوئے بلڈ بینک کے جواز کو ثابت کیا ہے۔ بعض نے موچی کے لیے خنزیر کے بال اسٹاک رکھنے کے جواز کو جوازِ بینک کے لیے بطور نظیر پیش کیا ہے۔
  2. ابو داؤد شریف میں ہے: عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من احتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين كان شفاء من كل داء۔
    ترمذی شریف میں ہے: عن أنس رضي الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يحتجم في الأخدعين والكاهل، وكان يحتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين۔
    اسی میں ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم العبد الحجام، يذهب بالدم، يخف الصلب، ويجلو عن البصر، وإن خير ما تحتجمون فيه يوم سبع عشرة ويوم تسع عشرة ويوم إحدى وعشرين۔ [عمدة القاري، ج: ۲۱، ص: ۲۴۰، شرح باب أي ساعة يحتجم]
    مشکوۃ شریف میں ہے: عن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه قال: حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ليلة أسري به أنه لم يمر على ملإ من الملائكة إلا أمروه أن مُر أمّتك بالحجامة۔ رواه الترمذي وابن ماجه۔
    اس حدیث کے تحت شیخ محدث عبد الحق علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”ظاہر آں است کہ مراد بحجامت خون کشیدن است شامل فصد وغیرہ چناں کہ در حديث الشفاء في ثلاث: شرطة محجم ... معلوم شد و بعضے شراح آں را مقابل فصد داشتہ و گفتہ کہ سبب فضیلت حجامت آں است کہ حجامت خون را از نواحی جلد استخراج می کند۔ و مجموع اطباء قائل اند با آں کہ در بلاد گرم حجامت افضل است از فصد، زیرا کہ خون ایشاں رقیق است و پختہ، و بر سطح بدن می آید، و بحجامت بیروں آید نہ بفصد۔ و فصد اعماق بدن را نافع است و ببلاد باردہ مناسب و مانا کہ بہ امت عرب مراد داشتہ اند کہ در آں وقت موجود از امت ایشان بودند و یا مراد از أمتك قومك داشتہ۔ و طیبی گفتہ کہ وجہ در مبالغۂ ملائکہ در حجامت (وراے آں چہ مشہور است دروے از منافع بدنی) آں است کہ خون اصل قواے حیوانیہ است، وقتی کہ کمتر شود در بدن، سست خواہد شود قواے نفسانية کہ مانع است از مکاشفات غیبیہ“ انتہی۔ و ایں وجہ افادۂ نفع اخراج دم کند مطلقاً۔ امّا آں چہ اول گفتیم افادہ بیان نفع حجامت کند بخصوصہا، فافہم۔ [اشعة اللمعات، ج: ۳، ص: ۶۰۸، ۶۰۹]
    مذکورہ بالا اقتباسوں سے ظاہر ہے کہ بطور علاج، یوں ہی کسی نفع متوقع کے پیش نظر حجامت اور فصد جائز ہے۔ بلکہ فتاوی ہندیہ میں ہے: تستحبّ الحجامة لكل واحد۔ [ج: ۵، ص: ۳۵۵]
    نیز اسی میں ہے: الحجامة بعد نصف الشهر يوم السبت حسن نافع جداً۔ [ايضاً]
    اور ظاہر ہے کہ یہ عمل خون نکلوانے کی شکل میں ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے افادہ فرمایا کہ اس سے روحانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں، لہذا خون نکلوانے کا جواز شرعاً ثابت ہے۔
    اب رہ گئی بلڈ بینک میں محفوظ رکھنے کی بات تو یہ بھی جائز ہے، اس لیے کہ خون چڑھانے کی کچھ جائز صورتیں بھی ہیں، جیسا کہ مجلس شرعی کے ذریعہ منعقد سیمینار میں علماے کرام و مفتیان ذوی الاحترام کے اتفاق سے فیصلہ ہو چکا ہے، لہذا ان جائز صورتوں میں استعمال کے لیے خون بینک میں محفوظ رکھنا بھی جائز ہونا چاہیے۔ اس کی نظیر یہ مسئلہ ہے، کہ جلانے کے لیے اُپلے کو محفوظ رکھنا جائز ہے۔ یوں ہی بعض مشایخ کے نزدیک سرکہ بنانے کے لیے شراب اٹھانا اور محفوظ رکھنا بھی جائز ہے، جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے۔ [مقالہ مولانا نظام الدین قادری مصباحی، جمدا شاہی]
  3. تخفیف احکام کے لیے ضرورت یا حاجت کا ”فی الحال تحقق“ ضروری نہیں بلکہ ”آئندہ زمانے میں تحقق“ کا ظن غالب بھی تخفیف احکام میں شرعاً مؤثر ہے۔
    فتاوی ہندیہ میں ہے: ”ومنها المرض، المريض إذا خاف على نفسه التلف، أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع وإن خاف زيادة العلة فكذلك عندنا وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط۔ اهـ“ [الفتاوى الهندية، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار]
    ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا صورت میں نہ تو مریض کی جان چلی گئی ہے اور نہ ہی اس کا عضو تلف ہوا ہے، ہاں آئندہ زمانے میں جان جانے یا عضو تلف ہو جانے کا گمان غالب ہے، لہذا یہاں شریعت مطہرہ نے آئندہ زمانے میں پیش آنے والی ضرورت کے گمان غالب کا لحاظ کرتے ہوئے افطار کی اجازت دی۔
    شرح وقایہ میں ہے: ”أو لمرض ... أو عطش، أي إن استعمل خاف العطش، أو أبيح الماء للشرب حتى إذا وجد المسافر في جب معدّ للشرب جاز له التيمم“۔
    اس کے تحت عمدۃ الرعایہ میں ہے: ”أشار به إلى أنه ليس المبيح وجود العطش فقط، بل إذا خاف العطش إن توضأ بالماء يجوز له التيمم سواء عرض له العطش أم لا، سواء خافه على نفسه أو على رفيقه، أعم من أن يكون مخالطاً له، أو آخر ممن معه في القافلة، أو على كلبه أو کلبی رفيقه إذا كان مباح الاقتناء ككلب الصيد۔ كذا في الدر المختار“۔ [عمدة الرعاية باب التيمم، ص: ۸۸، مجلس البرکات]
    درج بالا عبارت میں صراحت ہے کہ اباحتِ تیمم کے لیے فی الحال پیاس کا وجود ضروری نہیں ہے بلکہ مستقبل میں پیاس کا خوف ہو پھر بھی ابھی سے تیمم کی اجازت ہو گی۔ یعنی پیاس جو اباحتِ تیمم کا سبب ہے، فی الحال موجود نہیں ہے، بلکہ آئندہ اس کے پیش آنے کا گمان غالب ہے، اسی مظنون پیاس کے خوف کا لحاظ کرتے ہوئے، تیمم کو جائز قرار دیا گیا۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!