| عنوان: | موجودہ درسِ نظامی اور جدید نصاب سازی |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | اکرام رضوی |
اس وقت ہند و پاک اور دیگر ممالک میں تعلیمی اداروں کا نصاب بالعموم وزارتِ تعلیم کے تحت تیار ہوتا ہے جہاں ماہرین کی ایک ٹیم بھاری تنخواہوں اور دیگر سہولیات کے ساتھ اسی کام پر مامور ہے اور ”ہر کہ آمد عمارتے نو ساخت“ کا عمل جاری ہے۔ پچاس سال یا کچھ اور پہلے جو نصاب جاری تھا اس میں ہر فن کے اصول و مبادی درج ہوتے تھے اور ان کی تفہیم، تسہیل اور اجرا یا مشق و تمرین کا کام مدارس کے ذمے تھا اور اچھے مدرسین ذمہ داری سے یہ کام کرتے کراتے تھے۔
پھر تعلیمی اداروں میں کئی طرح کی خرابیاں در آئیں:
- اہلِ نااہل ہر طرح کے ماسٹر یا مدرس جگہ پانے لگے۔
- ملکی سیاست اور بیرونی حکومت کی مخالفت میں طلبہ کو استعمال کیا گیا۔
- داخلی حکومت بن جانے کے بعد بھی یہ عمل جاری رہا۔
- مدرسین نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے احتجاج اور اسٹرائک کا راستہ اپنایا۔
- طالبان نے بھی اپنے مطالبات منوانے کے لیے انہی کے نقشِ قدم کی پیروی کی۔
- تعلیم کے ایام میں کمی، تعطیل کے ایام میں نمایاں زیادتی ہوتی ہوئی، ہنگامی بندیوں نے اس میں اور اضافہ کیا۔
- تعلیم ثانوی درجے میں چلی گئی، اپنے جائز و ناجائز مطالبات کے لیے ہنگامہ آرائی پہلے درجے میں آ گئی، تنخواہ لینا اصل کام ٹھہرا اور پابندی سے پڑھانا ضمنی اور فروعی کام ہو گیا، کم مدت میں طلبہ کو باصلاحیت اور لائق بنانے کا تصور بہت دور چلا گیا۔
- اوقات کے تحفظ کا احساس نہ مدرسین میں رہا نہ طلبہ میں۔
- جائز و ناجائز طریقوں سے امتحان پاس کرنا کرانا اور سندیں حاصل کرنا مطمحِ نظر بن گیا، علم و فن میں کمال اور لیاقت و صلاحیت سے کوئی خاص مطلب نہ رہا إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے نصابی کتابوں میں ضرورت سے زیادہ خلافِ درجہ تسہیل یا سطحیت اور بہت ساری تمرینات اور مشقی سوالات کو بڑی فیاضی کے ساتھ جگہ دی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مثلاً ریاضی کی جو مہارت مڈل کے طالب علم کے اندر پیدا ہو جاتی تھی وہ آج انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے بعد بھی نظر نہیں آتی بلکہ زیادہ سچائی اور گہرائی کے ساتھ بات ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ عام طور سے ایم اے پاس کرنے کے بعد بھی وہ صلاحیت مفقود ہی رہتی ہے۔
نصاب میں یہ پھیلاؤ یکبارگی نہ آیا بلکہ جوں جوں حالات بگڑتے گئے نصاب پھیلتا اور آسان ہوتا چلا گیا۔ جب دیکھا گیا کہ اس سے زیادہ تسہیل اور پھیلاؤ کی گنجائش نہیں تو بعض کتابوں میں کچھ اسباق کی، مضامین کی تقدیم و تاخیر، معمولی حذف و اضافہ، ادبی کتابوں میں منتخب اقتباسات کی تبدیلی وغیرہ کا عمل ہر تین یا پانچ سال پر منظرِ عام پر آنے لگا تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ان کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو بھاری تنخواہیں صرف ان کرسیوں پر بیٹھے رہنے کے عوض دی جا رہی ہیں۔
حالات کی تبدیلی کے باعث نصاب میں تبدیلی کا اصل کام پہلی اور دوسری ٹیم نے کر دیا تھا۔ بعد میں جو ہر تین سال پر تبدیلی کا عمل ہو رہا ہے اس میں طلبہ کی ضرورت سے زیادہ اپنی ذاتی مصلحت کا دخل ہے۔ اسی کے ساتھ کچھ فرقہ پرستوں نے اپنی فکر، اپنا مزاج، اپنی غلط ذہنیت نصاب میں داخل کرنے کا ناجائز فائدہ بھی اٹھایا۔
ہند و پاک کے مدارسِ اسلامیہ کے پاس ایسا کوئی نصاب ساز عمل کبھی نہیں رہا، اس لیے عام طور سے اعترافِ ضرورت کے باوجود عمل کی منزل دور ہی رہی۔ مدارس کی مجلسیںِ انتظامیہ اکثر ایسے افراد پر مشتمل ملیں گی جو ماہرِ تعلیم نہیں بلکہ بہت سے اداروں میں سب ارکان تعلیم یافتہ بھی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انتظامی صلاحیت، تعلیمی مہارت، جذبۂ اعانت، دیانت و امانت وغیرہ کے جامع افراد کا وجود ہماری بستیوں میں عنقا ہے، جو مل جاتے ہیں انہی سے کام چل رہا ہے۔
مدرسین ہیں تو ان کے اوپر تدریس کے ساتھ تبلیغ و اصلاح، انتظام و انصرام، رابطۂ عامہ، سرمایے کی فراہمی وغیرہ کی ذمہ داریاں بھی رہتی ہیں اور اپنی خاندانی یا مقامی ذمہ داریاں ان سب پر مستزاد ہیں۔
پھر مدارس کے درمیان باہمی تنظیم بھی نہیں کہ سب ایک نصاب اور ایک انداز پر گامزن ہوں، نہ ان کے اوپر کوئی ایسی قوّتِ حاکمہ ہے جو انہیں کسی نصاب اور مقررہ مقدار کی تکمیل اور بہتر انداز میں تعلیم و تفہیم کا پابند بنا سکے، نہ کسی ادارے کا انفرادی یا چند اداروں کا اجتماعی کوئی ایسا بورڈ ہے جو نصاب پر غور و خوض اور اس میں تسہیل و تحدید کا ذمہ دار ہو۔ انفرادی طور پر کچھ کوششیں ہوئیں مگر وہ سب نامکمل ہیں۔ غور کیجیے! ساری خامیوں کو دور کرنا اور نتیجہ خیز وسائل کو بروئے کار لانا کتنا مشکل ہے؟
مدارس کے نصاب میں ترمیم سے متعلق بے شمار مضامین اور تحریریں میری نظر سے گزری ہیں لیکن تہہ تک پہنچنے والی کوئی نظر نہ آئی۔ ایسے ماحول میں عملی اقدام کی توقع ایک دلفریب خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔
-
درسِ نظامی کی بیشتر منتہی کتابیں ایسی ہیں کہ جامعہ ازہر کے نصاب میں بھی شامل ہیں مثلاً تفسیر میں کشاف، بیضاوی، مدارک، حدیث میں صحاح ستہ، فقہ میں قدوری، کنز الدقائق، ہدایہ، اصولِ فقہ میں توضیح، منطق میں تہذیب المنطق اور رسالہ شمسیہ، عقائد میں تہذیب الکلام اور شرح مقاصد وغیرہ۔ بعض کتابیں کتبِ ازہر کا بدل یا نعم البدل بھی قرار دی جا سکتی ہیں لیکن بیشتر ابتدائی کتابیں قابلِ تبدیل یا لائقِ ترمیم ہیں۔
جامعہ ازہر نے نحو و صرف اور بلاغت کے اصول و مبادی کو نئی شکل میں پیش کیا ہے اور ہر فن کے ساتھ اس فن کی تاریخ کو لازمی درس بنایا ہے۔ اسی طرح قواعدِ فن کو کئی اجزاء اور کئی سالوں پر تقسیم کر کے مکمل پڑھانے کا انتظام کیا ہے۔ تفسیر، حدیث، فقہ کی کتابیں مکمل کرنے کے لیے طلبہ کو کچھ اجزاء بطور درس اور زیادہ حصے بطور مطالعہ تفویض کیے ہیں۔ کچھ فنون کا اضافہ بھی کیا ہے مثلاً تفسیرِ احکام، اصولِ دعوت، نئے فقہی مسائل، اسلام اور اسلامیات پر نئے اعتراضات و جوابات۔ ان سب کو مطالعہ و خطاب کے طور پر مکمل کرنے کی کوشش کی ہے، امتحانی نظام کو بہت مربوط اور سخت بنایا ہے تاکہ طلبہ و اساتذہ کی محنت کا صحیح اندازہ ہو اور علوم میں زیادہ پختگی پیدا ہو۔
وہاں 6/ سال پرائمری اور 3/ سال اعدادیہ اور 3/ سال ثانویہ کا کورس سب کے لیے لازم ہوتا ہے۔ اس کے بعد کلیہ کورس شروع ہوتا ہے جو مختلف فنون کے لحاظ سے الگ الگ شعبوں میں تقسیم ہوتا ہے مثلاً کلیۃ اصول الدین، کلیۃ الشریعہ، کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا وغیرہ۔
قرآن و حدیث دیگر علوم سمجھنے اور دوسروں تک اپنی بات پہنچانے کا ذریعہ ہیں اس لیے ان دونوں پر اگر زور دیا جاتا ہے تو بالکل بجا ہے۔ تفسیر و حدیث میں اختصار کرایا جائے تو اس کے بھی فوائد ہوں گے۔ ضروری حد تک تفسیر و حدیث کی جو تعلیم ہوتی ہے اس میں بھی یہ التزام ہونا چاہیے کہ پورے قرآن کی مختصر تفسیر نظر سے گزر جائے، اسی طرح حدیث کی ایک دو جامع کتابیں مثلاً مشکوٰۃ المصابیح اور صحیح بخاری مکمل پڑھانی چاہئیں۔
مصر کا پرائمری نصاب ہندوستان میں چلنے کے لائق نہیں، خود یہاں کا نصاب بہت اچھا ہے، تاہم مصر کے ابتدائی نصاب کو سامنے رکھ کر اس پر نظرِ ثانی مفید ہوگی۔ اعدادیہ اور اس کے بعد کا نصاب درجِ ذیل امور کی پابندی کے ساتھ اپنایا جا سکتا ہے:
- اعدادیہ کا نصاب اردو زبان میں منتقل کیا جائے۔
- نحو و صرف کے تمام ضروری قواعد ایک سال میں مکمل کرا دیے جائیں تاکہ طلبہ جلد از جلد عربی عبارت کو سمجھ کر پڑھنے کے لائق ہو جائیں۔
- ان درجات میں آسان ادبی کتابوں کا حصہ زیادہ رکھا جائے تاکہ طلبہ عربی زبان سے آشنا ہو کر ثانویہ کی کتابیں مصری کورس کے مطابق بعینہ پڑھ سکیں۔
- مختصراً یہ کہا جائے کہ تین سالِ اعدادیہ کا پورا نصاب از سرِ نو تیار کرنا ہوگا۔
- اعدادیہ اور ثانویہ پڑھانے کے لیے اساتذہ کی تھوڑی ٹریننگ بھی ضروری ہوگی۔
- کلیہ کا نصاب پڑھانے کے لیے زیادہ ٹریننگ کی ضرورت ہوگی۔ بہتر یہ ہوگا کہ اولاً جامعہ ازہر یا دیگر معیاری جامعات کے اچھے اور ماہر فارغین کی خدمات حاصل کی جائیں پھر دیگر اساتذہ ان کا طریقۂ درس اپنائیں۔
- یہ بھی مناسب ہوگا کہ یہاں کے اساتذہ ادارے کے خرچ پر جامعات میں ایک ایک سال رہ کر وہاں کے نظامِ درس، طریقۂ درس، نظامِ امتحان اور دیگر اصول و ضوابط سے باقاعدہ روشناس ہوں پھر اپنے اداروں میں ان کی تنفیذ کریں۔ اور بھی چیزیں ہیں جو ابھی لکھنے کے بجائے وقتِ ضرورت بتانے کے لائق ہیں۔
مذکورہ امور کی تعمیل و تنفیذ کے لیے ایک فعال بورڈ اور بہت اچھے عملے کا باضابطہ سرگرم ہونا بنیادی امر ہے ورنہ سب خواب و خیال ہی ہو کر رہ جائے گا۔
