Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

قومی و ملی مسائل میں اہلِ سنت کا کردار

قومی و ملی مسائل میں اہلِ سنت کا کردار
عنوان: قومی و ملی مسائل میں اہلِ سنت کا کردار
تحریر: رئیس التحریر علامہ یٰسین اختر مصباحی علیہ الرحمہ
پیش کش: شمسیہ جبین

بحمدہ تبارک و تعالیٰ اہلِ سنت و جماعت مذہبی، فکری و نظریاتی طور پر امتِ اجابت کا ”سوادِ اعظم“ (بڑی جماعت اور جمہوریت) اور مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي کا مصداق ہیں۔

سوادِ اعظم ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داریاں بے پناہ اور ہمہ جہت ہیں۔ اسی طرح اہلِ سنت و جماعت ہونے کے اعزاز نے سنتِ نبوی عَلَى صَاحِبِهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ پر عمل اور جماعتی نظام و مفاد کے تحفظ کا فریضہ ہم پر عائد اور لازم کر دیا ہے۔

علما و قائدینِ سوادِ اعظم اہلِ سنت و جماعت چونکہ قوم و ملت و جماعت کی قیادت و رہنمائی کے عظیم منصب پر فائز ہیں، اس لیے فطری اور اصولی لحاظ سے ان کا بنیادی کردار یہی ہونا چاہیے کہ زندگی کے جملہ شعبوں کے لوازم اور ان کے تغیرات پر گہری نظر رکھتے ہوئے اپنی ہدایات و تعلیمات کے ذریعے امتِ مسلمہ کے مفادات و مصالح کے تحفظ اور درپیش خطرات کے دفاع میں ہمیشہ سرگرمِ عمل رہیں۔

تعلیم و تدریس، وعظ و بیان، بیعت و ارشاد، امامت و خطابت، تحریر و افتا کے ساتھ جملہ مسائلِ حیاتِ مسلم و معاشرۂ انسانی، مثلاً تجارت، ملازمت، صنعت، صحافت، سیاست وغیرہ میں مسلمانوں کی قیادت و رہنمائی اور صحیح رہبری بقدرِ صلاحیت و استطاعت ہر عالم و قائد کا وہ فریضہ ہے جس سے غفلت و چشم پوشی بے حد مضر اور سخت نقصان دہ ہے۔

اہلِ سنت کی تنظیم اور مسلم معاشرے کی صلاح و فلاح کے لیے اجتماعی قوت کا مظاہرہ بے حد ضروری ہے جو علما اور امرا کے اشتراک سے وجود پذیر ہو سکتا ہے۔ کسی بھی تنظیم کی تشکیل کے لیے:

  1. واضح اغراض و مقاصد
  2. مخلص و باشعور افراد و ارکان
  3. مناسب وسائل و ذرائع

عناصرِ ترکیبی کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے بغیر کوئی قوتِ متحدہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکتی۔

مختلف میدانوں میں سرگرمی و پیش قدمی اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان سے وابستہ سربرآوردہ تعلیم یافتہ طبقہ ہم سے قریب اور ہم آہنگ ہے، اور انہیں اپنی مطلوبہ جائز غذا فراہم ہوتی رہے۔ عوام کے درمیان اثر و نفوذ کے ساتھ خواص سے رابطۂ تعلق اور عمل سے قیادت کی گرفت اور باگ ڈور ہمارے ہاتھوں میں اسی وقت آ سکتی ہے جب ہم اپنی سرگرمی و کارکردگی کا دائرہ وسیع کر دیں اور مسلم مسائل کے حل کے لیے تدابیر کا آخری سہرا بھی ہمارے ہاتھوں میں رہے۔

مثال کے طور پر 30 ستمبر 2010ء کو لکھنؤ ہائی کورٹ بنچ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا معاملہ ہے کہ کسی مضبوط سنی تنظیم کی جانب سے اپیل دائر ہونا ضروری ہے، ورنہ سیاست و صحافت سے وابستہ حلقہ دوسری تنظیموں اور ان کے ارکان و ذمہ داران کو ہی مسلم نمائندہ سمجھ کر تاریخ میں انہی کا ذکر کرے گا اور ہمارا نام حاشیے پر بھی شاید ہی درج ہو سکے، جب کہ عوامی بیداری پیدا کرنے میں ہمارے علما و خطبا کا کردار دوسروں سے زیادہ ہے۔

تحریر و تقریر کے ذریعے عوام کی مسلسل ذہن سازی کی ضرورت ہے کہ مسلم مسائل میں دلچسپی و تعاون اسی طرح کارِ ثواب ہے جیسے دوسرے معمولاتِ اہلِ سنت میں ہے۔ بلکہ بعض اوقات ان معمولات و مراسم سے زیادہ ان میں ثواب و اجرِ آخرت ہے۔

مسلم مسائل میں دلچسپی، تعاون و حوصلہ افزائی کی طرف ہماری خصوصی توجہ ہر وقت رہنی چاہیے، کیوں کہ سوادِ اعظم اہلِ سنت و جماعت کا یہ اجتماعی فریضہ ہے۔ خانقاہِ عالیہ برکاتیہ مارہرہ شریف کی طرف سے منعقد ہونے والی فکر و تدبیر کانفرنس کا انعقاد دوسری خانقاہوں اور اداروں میں بھی ہونا چاہیے اور ”رضا اکیڈمی ممبئی“ جیسی کئی مزید سنی تنظیموں کو میدانِ عمل میں آنا چاہیے۔

اجتماعی شعور و احساس قومی و ملی سرمایہ ہے، جس کے حصول کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے اور اس کوشش میں علما و خطبا، مشائخ و ائمۂ مساجد کو متحرک و فعال رہنا چاہیے، ماحول اسی طرح بنے گا اور فضا اسی طرح سازگار و خوشگوار ہوگی۔ منصوبے بنیں گے اور ان پر عمل بھی ہوں گے، میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ علما و قائدین قوم و ملت کے مسلم نوجوانوں اور نئی نسل کے طلبہ کی ذہن سازی پر خصوصی توجہ مرکوز کریں، کیوں کہ وہ شدت سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں اجتماعی مسلم مسائل کے حل میں صرف حصہ دار نہیں بلکہ قائد کا کردار نبھانا چاہیے۔ ان کی حوصلہ افزائی مستقبل کے ایک خوشگوار انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور جلد تر ہو۔

السَّعْيُ مِنَّا وَالْإِتْمَامُ مِنَ اللّٰهِ۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!