| عنوان: | قوموں کے عروج و زوال کی بنیادیں قرآنِ مجید کی روشنی میں (قسط سوم) |
|---|---|
| تحریر: |
محمد احسان شمسی
مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ |
| پیش کش: | بشیر مدنی |
سورۃ العصر کی رو سے عروج کے جو چار بنیادی اصول بتائے گئے ہیں، ان میں کمی کا پایا جانا زوال کا سبب ہوگا۔ چنانچہ وہ بھی مندرجہ ذیل چار اصول قرار پائیں گے:
- شرک و کفر
- بے عملی و بد عملی
- باطل پرستی و خود فریبی
- بے ثباتی و خود غرضی
ان کی تعبیر اس طرح کی جا سکتی ہے:
- جن اصول و نظریات پر کسی تحریک کی بنیاد ہو یا کسی قوم کی تنظیم ہوئی ہو، انہیں تسلیم کرنے کے باوجود شرک یا نفاق کی وجہ سے دل میں یقین و اذعان کی وہ کیفیت نہ پیدا ہو جو ایمان کا خاصہ اور نتیجہ ہے۔
- اصول و نظریات کو بروئے کار لانے کے لیے جن جن صلاحیتوں اور تدبیروں کی ضرورت پڑے اور جس جس قسم کی اطاعت و قربانی کا مطالبہ کیا جائے، قوم کے افراد اس کے لیے تیار نہ ہوں یا اس کے خلاف عمل کر رہے ہوں۔
- حق پرستی کے بجائے باطل پرستی کی جانب مائل ہوں اور تبلیغِ حق کی جگہ خود فریبی میں مبتلا ہوں۔
- قوم کے افراد میں استقلال اور ضبطِ نفس کا فقدان ہو، اور بے ثباتی و خود غرضی ان کی رگ و ریشے میں سرایت کر گئی ہو۔
کفر و شرک:
شرک کا مطلب اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال میں کسی کو شریک کرنا اور دین کی جن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے، ان میں سے کسی کا انکار کرنا کفر کہلاتا ہے۔ کفر و شرک کا اصل تعلق عقیدے سے ہے، نفسیاتی لحاظ سے جب عقیدے میں تزلزل پیدا ہو جائے یا کمزور پڑ جائے تو پھر زندگی کی کوئی کل درست نہیں رہ سکتی۔
ذیل میں قرآنِ کریم کی روشنی میں اجتماعی زندگی میں پیدا ہونے والے شرک و کفر کے چند اثرات بیان کیے جاتے ہیں، جن سے معلوم ہوگا کہ زوال کے بارے میں یہ دونوں کس قدر دور رس نتائج کے حامل ہیں:
- اصول و نظریات پر عزم و یقین کی وہ روح نہیں باقی رہتی جو انسان کو سرتاپا عمل بناتی ہے اور رعب و ہیبت قائم رکھتی ہے۔
- زندگی میں نظم اور مرکزیت نہیں باقی رہتی اور اطاعت و اتحاد کا جذبہ فوت ہو جاتا ہے۔
- دل کا استحکام اور اللہ پر کامل اعتماد نہیں رہ جاتا جس سے ہمت پست رہتی ہے اور رفتہ رفتہ زندگی کے عناصر، اقدام، عزم، شجاعت، ارادہ وغیرہ سب میں زوال آ جاتا ہے۔
- ظاہر و باطن میں یکسانیت نہیں رہتی ہے جب تک ذاتی اغراض و مفاد کا سوال نہ ہو، ان کے اقوال و افعال ہر طرح سے آراستہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب ایثار و قربانی کا وقت آتا ہے یا کسی ادنیٰ مفاد پر بھی ضرب پڑتی ہے تو بے نقاب ہو کر سامنے آ جاتے ہیں، ان میں برداشت کی طاقت بالکل نہیں ہوتی۔
- مقصد واضح شکل میں سامنے نہیں رہتا جس کی بنا پر جدوجہد کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور تن پروری و عیش پرستی کی ذہنیت نمودار ہو جاتی ہے۔
- محنت و مشقت کے کام نہیں ہو پاتے ہیں۔ عافیت کوشی، مصلحت پسندی، سخن پروری اور حیلہ سازی وغیرہ جیسے جراثیم زندگی میں نمودار ہو جاتے ہیں۔
- اخلاص و صداقت کی روح نکل جاتی ہے، پھر جائز و ناجائز، درست و نادرست جس طرح بھی مال ملے، اس کے حصول کی کوشش ہوتی ہے۔
- ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کی وجہ سے قوتِ ارادی مفقود ہو جاتی ہے، عزم و ہمت کے کام کے وقت ایسی روش اختیار کی جاتی ہے، جس سے انتہائی بزدلی اور کمینہ پن کا ثبوت ملتا ہے۔
- فرقہ بندی اور گروہ بندی طبیعتِ ثانیہ بن جاتی ہے، حق پرستی کی جگہ گروہ پرستی آ جاتی ہے، اچھائی و برائی کے جانچنے کے لیے اعتقاد و عمل کو معیار نہیں ٹھہرایا جاتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ ہمارے گروہ میں داخل ہے یا نہیں۔ اگر وہ داخل ہے تو خواہ اس کے اعمال کتنے ہی برے ہوں، اچھا ہے اور اگر نہیں داخل ہے تو وہ برا ہے خواہ اعمال کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں۔
- تعمیری کاموں کی طرف توجہ نہیں رہتی ہے، بس ہر گروہ دوسرے گروہ کی تحقیر و تذلیل کو دین، ایمان کی سب سے بڑی خدمت سمجھنے لگتا ہے۔
- زندگی کی کشاکش سے نبرد آزمائی اور مصائب و مشکلات کے جھیلنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے اور طرح طرح کی بے ایمانی اور بے اعتقادی کی باتوں اور حرکتوں کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
- ایثار و قربانی کے بغیر جہاں مالی منفعت کی امید ہوتی ہے، وہاں لوگ سب سے آگے نظر آتے ہیں۔
غرض دل کی روحانیت ختم ہو کر جماعتی مزاج پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے اور ہوا و ہوس کی حکمرانی چلتی ہے۔
بے عملی و بد عملی:
زوال کا دوسرا بنیادی سبب بے عملی اور بد عملی ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں: (الف) سیرت کی تشکیل اور تنظیم سے متعلق جو اخلاقی ہدایتیں ہیں، ان سے پہلو تہی کی جائے یا ان کے خلاف عمل کیا جائے۔ (ب) حالات و زمانے کے تقاضے کی مناسبت سے قیام و بقا کے لیے جس قسم کی مادی جدوجہد درکار ہے اس سے غفلت برتی جائے۔
قسمِ اول کے مندرجہ ذیل مظاہر ہیں:
- اخلاقی سطح نہایت پست ہو جاتی ہے۔ کردار کا کوئی معیار نہیں باقی رہتا ہے اور معاصی کے ارتکاب میں بے باکی ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ رفتہ رفتہ معاصی کا احساس بھی دل سے نکل جاتا ہے۔
- ترقی کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں، یاس و قنوطیت کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔ بلند پروازی اور اولوالعزمی کے سرچشمے خشک ہو جاتے ہیں، پھر عارضی اور معمولی فائدوں کو مقصدِ حیات سمجھ کر اسی کی جدوجہد میں ساری زندگی گزر جاتی ہے۔
- تقدیر اور توکل کا غلط مفہوم عام ہو جاتا ہے، جس کی بنا پر قوائے عملی مفلوج ہو جاتے ہیں، ناعاقبت اندیشی و غیر مستعدی طبیعتِ ثانیہ بن جاتی ہے اور بلا جدوجہد یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ جو کچھ تقدیر میں تھا، وہ ہوا اور آئندہ بھی وہ ہو گا جو تقدیر میں ہوگا۔ اس صورتِ حال کا اثر زندگی میں یہ نمایاں ہوتا ہے کہ اپنی ذات اور مزعومہ مذہب کے علاوہ دوسری تمام چیزوں سے کنارہ کشی میں انہیں عافیت معلوم ہوتی ہے۔
- دل سخت اور بے جان ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے عبرت پذیری اور تنبہ کی استعداد معدوم ہو جاتی ہے اور انسان اپنی تباہ شدہ حالت پر قانع اور مطمئن بن جاتا ہے، پھر اس کے بعد ترقی کی امنگوں اور جاندار تمناؤں وغیرہ کا سوال ہی نہیں باقی رہتا۔
- مال و دولت اور زندگی سے محبت بڑھ جاتی ہے، جس کے یہ اثرات زندگی پر نمودار ہوتے ہیں کہ عزم و ہمت اور ایثار و قربانی کے کام نہیں ہو پاتے ہیں۔ قومی و جماعتی مفاد نظروں سے اوجھل ہو کر صرف ذاتی اغراض و مفاد پیشِ نظر ہوتے ہیں۔ فوجی طاقت چھن جاتی ہے اور سامانِ حرب کی جگہ سامانِ تعیش لے لیتے ہیں۔ خوشامد و چاپلوسی کے جذباتِ خبیثہ زندگی میں سرایت کر جاتے ہیں۔ حقوق کے تحفظ، قیام و بقا کی جدوجہد، قومی عزت و ناموس کے جذبات دل سے نکل جاتے ہیں۔
قسمِ ثانی کے درج ذیل برے اثرات و نتائج ظاہر ہوتے ہیں:
- ذہنیتوں پر پردے پڑ جاتے ہیں، کھلی ہوئی ترقی کی راہوں کو دیکھنے کے باوجود انہیں اپنانے کی ہمت نہیں ہوتی ہے۔
- ان کے ذہن و ادراک کی ساری قوتیں بے کار ہو جاتی ہیں اور لوگ علم و حکمت کی تحصیل سے گریز کرنے لگتے ہیں۔
- مذہب کے بارے میں غلط تخیل کی وجہ سے دین اور دنیا کی تقسیم ہو جاتی ہے، دین دار اور دنیا دار دو الگ الگ طبقے بن جاتے ہیں اور یہ خیال عام ہو جاتا ہے کہ دنیا کے ساتھ دین پر عمل کرنا ناممکن ہے، حالانکہ دین ہمیشہ دنیا کے لیے آیا ہے۔ آخرت میں جو کچھ ہوگا، وہ اسی دنیا کے اثرات و نتائج ہوں گے۔ نتیجتاً مذہبی طبقے باہم دست و گریباں ہو جاتے ہیں اور ترقی کی راہیں مسدود کر بیٹھتے ہیں۔
باطل پرستی و خود فریبی:
زوال کا تیسرا بنیادی سبب باطل پرستی و خود فریبی ہے۔ انسان معنوی لحاظ سے دو جزو سے مرکب ہے: (الف) ایک وہ ہے جس کے ذریعے حیاتِ حیوانی کے قیام و بقا کی جدوجہد ہوتی ہے۔ (ب) دوسرا وہ ہے جس کے ذریعے حیاتِ انسانی کی نشو و نما کی جدوجہد ہوتی ہے۔
دوسرے جزو کا ماحصل حق اور حقیقت کا ادراک اور عملی زندگی میں اسے بروئے کار لانا ہے۔
- قوم جب باطل پرست رہتی ہے تو زیادہ تر اس کا اثر اسی دوسرے جزو پر پڑتا ہے، جس کی بنا پر بصیرتِ نفس ختم ہو جاتی ہے۔ صحیح ذوق و وجدان نہیں باقی رہتا، چنانچہ نہ حق کا صحیح ادراک ہو پاتا ہے اور نہ اس کے بروئے کار لانے کی کوشش ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایسی حالت میں بھی غور و فکر کرنے والے لوگ موجود رہتے ہیں، لیکن ان کا زیادہ تر تعلق یا تو حیاتِ حیوانی سے رہ جاتا ہے اور یا یہ کہ حیاتِ انسانی سے متعلق ان کی کوششیں بارآور نہیں ہوتیں۔
- قوم بحیثیتِ مجموعی عجائب پرست بن جاتی ہے۔ جہاں ذرا سی کوئی بات عجیب معلوم ہوئی، بس اسی کی معتقد بن گئی اور اسی کے پیچھے چل پڑی۔ ایسی حالت میں نہ سچے رہنماؤں کی قدر باقی رہتی ہے اور نہ ہی حقیقی اعمال و افعال کی، بلکہ اس کا کام ہر شعبدہ باز سامری صفت کے ہاتھوں کھیلنا اور خود فریبی میں مبتلا ہو کر ہر حق پرست کو مطعون کرنا رہ جاتا ہے۔
- علم و ہنر، ایجادات و انکشافات کے باوجود سوسائٹی کے جرائم سمجھنے والے لوگ نہیں رہ جاتے اور جو رہتے بھی ہیں، ان کی آواز لایعنی بن جاتی ہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ قوم کی حالت بالکل مسخ ہو جاتی ہے اور وہ جرائم پیشہ بن جاتی ہے۔
بے ثباتی و خود غرضی:
زوال کی چوتھی اہم بنیاد بے ثباتی و خود غرضی ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے زندگی میں جب صبر کے جذبات کمزور پڑ جاتے ہیں تو مذکورہ قسم کے جذبات ابھر آتے ہیں، جن سے ایک طرف تو وہ اخلاق تباہ ہوتے ہیں جو بقا کے لیے ضروری ہیں مثلاً عدل، ہمدردی، فیاضی، ایثار و قربانی وغیرہ اور دوسری طرف ان اوصاف پر زد پڑتی ہے جو ارتقا کے لیے لازمی ہیں مثلاً ہمت، قوتِ ارادی، عملی قابلیت، اقدامِ عمل، شوقِ تحقیقات، قوتِ استنباط، جدتِ طبع وغیرہ۔ قوم جب گراوٹ کی اس منزل پر پہنچتی ہے تو خواہش کا نام ارادہ پڑ جاتا ہے۔ انسانی ضمیر پر سپر ڈال دیتا ہے اور موروثی اخلاق و اوصاف تک محفوظ نہیں رہ پاتے ہیں۔ بے ثباتی و خود غرضی کے حسبِ ذیل اثرات برآمد ہوتے ہیں:
- قوم کے افراد عزم و مقاصد کی راہ میں مصائب و مشکلات کو جھیلنے کے بجائے شکوہ سنجی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جب ہمت و جوانمردی کے جوہر دکھانے کا وقت آتا ہے تو کوسنا اور قسمت کا ماتم کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس راہ کی معمولی سے معمولی تکلیف بھی ان کے لیے پہاڑ بن جاتی ہے۔
- ذہنی طوائف الملوکی کی وبا عام ہو جاتی ہے تو قوموں میں انتشار اور برائیوں پر اغراض کا قبضہ ہو جاتا ہے۔
- مرغوبات و مفادات میں الجھ کر ہجرت، جہاد اور نصرت (جو قیام و بقا کے لیے ضروری ہیں) سے روگردانی کی جاتی ہے اور طرح طرح سے کار براری کی کوشش ہوتی ہے۔
- ضبطِ نفس نہیں باقی رہتا۔ نظم و طاعت اور استقامت کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ کام کے ولولے نہیں پیدا ہوتے ہیں اور اگر کچھ کام شروع بھی کیا تو ثابت قدمی سے محروم رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں قوم کے جوانوں کے دلوں میں بھی یاس و حرمان کی تخم پاشی ہو جاتی ہے، ان کی قوتِ ارادی مفقود ہو جاتی ہے۔
یہ وہ بنیادی اسباب ہیں، جن پر کسی قوم کے عروج و ارتقا، قیام و بقا اور اس کے زوال و انحطاط کا دار و مدار ہے۔ جب کسی قوم کو عروج پانا ہوتا ہے تو قوم کے افراد ان اسبابِ عروج کو بروئے کار لاتے ہیں اور جب عروج یافتہ قوم کو پستی و ذلت کے گڑھے میں گر کر نابود ہونا ہوتا ہے تو اس قوم کے لوگ ان اسبابِ زوال کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔ [ماہنامہ پیغامِ شریعت، دہلی، جولائی 2017ء]
