Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

قوموں کے عروج و زوال کی بنیادیں قرآنِ مجید کی روشنی میں (قسط دوم)

قوموں کے عروج و زوال کی بنیادیں قرآنِ مجید کی روشنی میں (قسط دوم)
عنوان: قوموں کے عروج و زوال کی بنیادیں قرآنِ مجید کی روشنی میں (قسط دوم)
تحریر: محمد احسان شمسی
مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
پیش کش: بشیر مدنی

وہ اخلاق جن پر کسی قوم کے عروج و ارتقا اور سالمیت و بقا کا مدار ہے، ان کا شمار و احاطہ بہت مشکل ہے۔ قرآنِ کریم میں جا بجا ان اخلاق کا ذکر آیا ہے۔ ان سب کا حصر اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں، اس لیے ہم قرآنِ کریم کی ایک ایسی سورہ کا انتخاب کرتے ہیں، جو مختصر ہے، مگر ان تمام اخلاق کی جامع ہے۔ وہ ”سورۃ العصر“ کے نام سے موسوم ہے۔ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۝

زمانے کی قسم! بے شک انسان ضرور نقصان میں ہے، سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر (مشکلات میں ثابت قدم رہنے) کی نصیحت کی۔ [سورۃ العصر: 1 تا 3]

اس سورہ کے اندر چار ایسے اصول ذکر کیے گئے ہیں، جو کسی قوم کے عروج و ارتقا کے ضامن ہیں، دنیا کی جو قوم ان اصولوں پر ٹھیک ٹھیک پوری اترتی ہے، اسے زوال نہیں ہوتا اور جیسے جیسے ان سے دور ہوتی جاتی ہے، اس کا زوال ہوتا جاتا ہے۔ وہ اصول مندرجہ ذیل ہیں:

  1. ایمان
  2. عملِ صالح
  3. تواصی بالحق
  4. تواصی بالصبر

ان کی تعبیر یوں کی جا سکتی ہے:

  1. وہ نظریات جن پر قوم کی بنیاد رکھی گئی ہو یا قوم کی تنظیم ہوئی ہو، ان کا جماعت کے تمام افراد کی رگ رگ میں سمایا ہونا اور ان کی زندگی پر ان کی چھاپ کا پایا جانا از بس ضروری ہے۔
  2. ان نظریات کو بروئے کار لانے کے لیے جن جن تدبیروں اور صلاحیتوں کی ضرورت پڑے اور جس جس قسم کی اطاعت و فرمانبرداری کا مطالبہ کیا جائے، اس کے لیے قوم کے افراد ذاتی مفاد کو نظر انداز کر کے ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار رہیں۔
  3. قوم کا ہر ہر فرد قولی و عملی طور پر ان نظریات کا مبلغ ہو اور ایک دوسرے کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کو اپنی ذمہ داری تصور کرے۔
  4. قوم کے افراد عزم و استقلال کے ساتھ مصائب و مشکلات میں ثابت قدم رہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو اس کی تلقین کرتے رہیں۔

یہ چار ایسے اصول ہیں، جنہیں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جتنے بھی اخلاق ہیں، سب ان کی فرع ہیں۔ آپ غور کریں تو ان میں سے کسی نہ کسی ایک کے ضمن میں انہیں ضرور پا جائیں گے۔ اب ہم ذیل میں عروج کے ان بنیادی اصولوں پر قدرے روشنی ڈالنا چاہیں گے۔

اصلِ اول: ایمان

ایمان، علم و عقیدہ اور معرفت و محبت کے حسین امتزاج سے قلب و ذہن کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے۔ یہ خاص کیفیت قلب و ذہن میں اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب انسان اپنی خواہش، اپنی مرضی حتیٰ کہ اپنی ذات کو اس مالک و مولیٰ کی مرضی اور ارادے پر چھوڑ دیتا ہے، جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ اس درجے پر پہنچنے کے بعد انسان کا شیشۂ دل دوسرے تمام خیالات کی گرد و غبار سے پاک و صاف ہو جاتا ہے اور تمام اعمال و افعال کا محور و مرجع وہی ذات بن جاتی ہے، جس کی رضا جوئی پر اپنی شخصیت اور مرضی فنا کی ہے۔

ایمان کی اس حقیقت کو ان دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے:

قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهِ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

اے محبوب! ایمان والوں سے یہ بات کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہاری برادری، تمہارا مال جو تم نے کمایا ہے، تمہاری تجارت جس کے مندا پڑ جانے کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے رہنے کے پسندیدہ مکانات (یہ ساری چیزیں) تمہیں اللہ سے، اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو اللہ کے حکم کا انتظار کرو، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔ [سورۃ التوبہ: 24]

إِنَّ اللّٰهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

بلاشبہ اللہ نے مومنوں سے اس قیمت پر ان کی جانیں بھی خرید لی ہیں اور ان کا مال بھی کہ ان کے لیے بہشت کی جاودانی زندگی ہے، چنانچہ (وہ کسی دنیاوی مقصد پر نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں) جنگ کرتے ہیں۔ اس جنگ میں وہ مرتے بھی ہیں اور مارتے بھی ہیں۔ یہ وعدہ اللہ کے ذمے ہو چکا ہے اور توریت، انجیل اور قرآن تینوں کتابوں میں یکساں طور پر اس کا اعلان ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے، پس مومنو! تمہیں اس سودے پر خوشیاں منانی چاہئیں، کیوں کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ [سورۃ التوبہ: 111]

ایمان، جان و مال کا سودا ہوتا ہے۔ نہ جان اپنی رہ جاتی ہے، نہ مال اپنا رہتا ہے۔ مومن جان و مال اللہ کے حوالے کر کے اس کی قیمت وصول کرتا ہے۔ ان دونوں آیتوں میں زندگی کا عجیب و غریب فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ طرزِ تعبیر ہی نہایت دور رس نتائج کا حامل ہے۔ اب آپ غور کریں کہ دنیا کی کوئی قوم یہ فلسفہ اپنا لے تو ذلیل و خوار اور ہلاک و برباد کیسے ہو سکتی ہے؟ ایمان مرکزیت، اطاعت اور اتحادِ تنظیم کا مقتضی ہے۔ ایمان کے لیے ان تین بنیادی عناصر کا پایا جانا لازمی ہے۔ تنظیم کی جان وحدتِ فکر ہے، جب تک افرادِ قوم کے خیالات و عقائد اور احساسات میں اتحاد نہ ہو، سب کے اندر قائد کی اطاعت اور اس کی مرکزیت تسلیم کرنے کا یکساں جذبہ نہ ہو، اس وقت تک کوئی تنظیم صحیح معنوں میں نتیجہ خیز اور بارآور نہیں بن سکتی۔ اس لیے اہلِ ایمان کو اللہ نے حکم دیا:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

سب مل جل کر اللہ کی رسی مضبوط پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہونا۔ [سورۃ آل عمران: 103]

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک حقیقی مؤمن نہیں ہو سکتے ہیں، جب تک اپنے تمام جھگڑوں اور قضیوں میں آپ کو حاکم نہ بنائیں حتیٰ کہ ان کے دل کی ایسی حالت ہو جائے کہ جو کچھ آپ فیصلہ کر دیں، اس کے خلاف کسی طرح کی کھٹک نہ محسوس کریں اور جس طرح کسی بات کا ٹھیک تسلیم کر لینا ہوتا ہے، اسی طرح تسلیم نہ کر لیں۔ [سورۃ النساء: 65]

ماہرینِ نفسیات نے اعلیٰ قسم کی تنظیم کے لیے درج ذیل باتیں ضروری قرار دی ہیں:

  1. قوم کے افراد آپس میں اور اپنے قائد کے ساتھ دل و جان سے عاشق ہوں۔
  2. اجتماعی مقصد کو اپنا عین مقصد سمجھتے ہوں۔
  3. ایک دوسرے کی مراعات اور پاسداری کو فرضِ عین جانتے ہوں۔

جس تنظیم میں یہ تینوں باتیں پائی جائیں گی ان کے نزدیک وہ اخلاقی ماہیت کو ترقی دیے اور غلبہ دیے بغیر نہیں رہ سکتی ہے۔ دراصل یہ اصول ماہرینِ نفسیات نے صحابۂ کرام کی ایمانی زندگی سے اخذ کیے ہیں۔ جس عمدگی اور خوبی کے ساتھ یہ اصول صحابۂ کرام کی زندگی میں پائے جاتے ہیں، تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اسی لیے تو ان کا عہد، اسلام کا عہدِ زریں ہے اور خیر القرون کہلاتا ہے۔

اصلِ دوم: عملِ صالح

عروج و ارتقا کا دوسرا بنیادی اصول ”عملِ صالح“ ہے۔ ایمان کے مقتضیات کو بروئے کار لانے کے لیے سرتاپا عامل بننا نہایت ضروری ہے۔ قرآنِ کریم میں بکثرت آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ آیا ہے۔ ایمان کے ساتھ عملِ صالح کا ذکر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہم ذیل میں چند ایسے اعمالِ صالحہ کا ذکر کر دینا ضروری خیال کرتے ہیں، جن کے بغیر ایمان پختہ نہیں ہو سکتا اور ان کو اپنائے بغیر عروج و ارتقا کا تصور نہیں کیا جا سکتا:

  1. معاملات صلح و صفائی کے ساتھ درست رکھنا۔
  2. زندگی کے ہر گوشے میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں سرگرمی دکھانا۔
  3. زندگی کے نشیب و فراز میں اللہ کے علاوہ کسی اور سے نہ ڈرنا۔
  4. نماز میں خشوع و خضوع قائم رکھنا۔
  5. نکمی باتوں اور لغو حرکتوں سے الگ رہنا۔
  6. زکوٰۃ کی ادائیگی میں سرگرم رہنا۔
  7. ستروں کی حفاظت کرنا۔
  8. امانتوں اور عہدوں کا پاس و لحاظ رکھنا۔
  9. آخرت پر یقین رکھنا۔
  10. ندامت اور عزم و استقلال کے ساتھ توبہ کرنا۔
  11. زندگی میں عابدانہ شان نمایاں ہونا۔
  12. علم اور حق کی معرفت اور جہاد کے لیے سیر و سیاحت کرنا۔
  13. نیکی کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا۔
  14. حقوق و فرائض کی نگہداشت کرنا۔
  15. شدت و مصیبت کے وقت صبر و تحمل سے کام لینا۔
  16. قول و عمل میں سچا اور پکا ہونا۔
  17. رات کے آخری حصے میں اللہ کے حضور کھڑے ہونا اور مغفرت طلب کرنا۔
  18. خوشحالی و تنگدستی ہر حال میں اللہ کے لیے خرچ کرنا۔
  19. غصے کی حالت میں بے قابو نہ ہونا۔
  20. قصور معاف کر دینا۔
  21. آپس میں نرم رہنا اور دشمنوں کے مقابلے میں سخت رہنا۔
  22. اللہ کی راہ میں کسی ملامت کی پرواہ نہ کرنا اور جان تک لڑا دینا۔
  23. برائی کا مقابلہ بھلائی سے کرنا،
  24. یا برابر سرابر بدلہ لینا، حد سے آگے نہ بڑھنا۔
  25. قول اور عمل سے جھوٹی شہادت نہ دینا۔
  26. لغو باتوں سے شریفوں کی طرح گزر جانا۔
  27. بدی کا ارتکاب نہ کرنا۔
  28. بے حیائی کی باتوں سے الگ رہنا۔
  29. نیکی اور بھلائی کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا۔
  30. ناپ تول میں کمی نہ کرنا۔
  31. معاملات باہمی مشورے سے طے کرنا۔
  32. تمام معاملات میں ایمان کی روح سرایت کی ہوئی ہونا۔

یہ سارے کے سارے خصائل و عبادات قرآنِ کریم کی آیاتِ بینات سے ماخوذ ہیں۔ خوفِ طوالت نہ ہوتا تو ان آیات کو بھی ذکر کر دیا جاتا، جو ان اخلاقِ حسنہ کا سرچشمہ ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ قرآنِ حکیم نے جس حقیقت کو عملِ صالح سے تعبیر کیا ہے، اس سے محض چند ظاہری مراسم و اعمال اور چند رواجی نیکیاں مراد نہیں ہیں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ اس کا مفہوم اخلاقیت اور مادیت کے ہر شعبے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، البتہ پہلے کی حیثیت بنیادی ہے، کیوں کہ اس کے بغیر نہ صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے اور نہ عالمی تصرفات مفیدِ عام بنتے ہیں، اسی بنا پر قرآنِ حکیم میں اسی کی زیادہ تر تفصیلات ملتی ہیں۔ رہی دوسری قسم (مادیت) تو مرکز اور بنیاد کے تعین کے بعد زمانے کی مناسبت سے عقل اور تجربہ خود بخود اسے آگے بڑھاتا رہتا ہے۔ اس لیے نہ اور کسی تجربے کی ضرورت ہے اور نہ کسی بیان میں اس کو سمیٹا جا سکتا ہے۔

”وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ“ میں 'اعمالِ صالحہ' سے اخلاقی و مادی دونوں قسموں کے اعمال مراد لیے جانے کے لیے امام بیضاوی نے ”صلاح“ و ”فساد“ کی جو توضیح کی ہے، وہ استدلال کے لیے کافی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

وَالْفَسَادُ خُرُوجُ الشَّيْءِ مِنَ الِاعْتِدَالِ وَالصَّلَاحُ ضِدُّهُ وَكِلَاهُمَا يَعُمَّانِ كُلَّ ضَارٍّ وَنَافِعٍ.

فساد کی حقیقت کسی شے کا حدِ اعتدال سے نکل جانا اور صلاح اس کی ضد ہے۔ یہ دونوں بالترتیب ہر نقصان دہ اور نفع بخش چیزوں کو عام ہیں۔

عملِ صالح کے اس مفہوم کو قرآنِ کریم کی درج ذیل آیتِ کریمہ کی اس تفسیر سے بھی اخذ کیا جا سکتا ہے، جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے:

وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا

زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ۔ [سورۃ الاعراف: 56]

اس آیتِ کریمہ کی رو سے عقائدِ حقہ میں کجی، احکامِ شرعی میں اپنی اغراض کے لیے تحریف، غیر اسلامی اخلاق و عادات کو اپنانا، اسلامی تہذیب و تمدن کو چھوڑ کر غیر اسلامی تہذیب اور ملحدانہ تمدن کو اختیار کرنا، یہ سب ممنوع ہیں۔ اسی طرح چشموں کو بند کرنا، نہروں کو توڑ پھوڑ دینا، باغات کو اکھاڑ دینا، کھیتوں کو اجاڑ دینا، کارخانوں کو برباد کر دینا، تجارت و صنعت میں دھوکہ بازی کرنا، حکومتِ وقت کے خلاف بلا وجہ سازشیں رچنا، غرضیکہ ہر قسم کی تخریبی کارروائی جس سے ملک کی معاشی اور اقتصادی خوشحالی متاثر ہو یا اس کے سیاسی استحکام کو نقصان پہنچے، ممنوع ہے۔ قرآنِ کریم کی اس آیتِ کریمہ میں اخلاقیت اور مادیت دونوں سے متعلق اصلاح مراد ہے اور یہ دونوں قسمیں فساد فی الارض کے عنوان کے تحت مندرج ہیں۔ چنانچہ امام قرطبی لکھتے ہیں:

وَهُوَ أَنَّهُ سُبْحَانَهُ نَهَىٰ عَنْ كُلِّ فَسَادٍ قَلَّ أَوْ كَثُرَ فَهُوَ عَلَى الْعُمُومِ عَلَى الصَّحِيحِ مِنَ الْأَقْوَالِ، وَقَالَ الضَّحَّاكُ: مَعْنَاهُ لَا تُعَوِّرُوا الْمَاءَ الْمَعِينَ وَلَا تَقْطَعُوا الشَّجَرَ ضِرَارًا.

اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ میں ہر قلیل و کثیر فساد سے منع فرمایا ہے۔ صحیح قول کے مطابق یہاں ”فساد“ کی عمومیت ملحوظ ہے اور ضحاک نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ بہتے چشمے کو بند نہ کرو اور نقصان پہنچانے کے لیے درخت نہ کاٹو۔

مذکورہ بالا تصریحات سے دو باتیں معلوم ہوئیں:

  1. صالح کا مفہوم عام ہے، موقع کی مناسبت سے اس کا تعین ہوتا ہے۔
  2. اخلاقیت و مادیت دونوں قسموں کی اصلاح کے لیے اس کا استعمال ہوتا ہے۔

حاصلِ کلام یہ کہ قیام و بقا، عروج و ارتقا کے سلسلے میں عملِ صالح سے مراد (1) سیرت کی تشکیل اور (2) عالمی تصرفات دونوں ہیں۔ حضورِ اقدس پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے مکمل نمونۂ عمل ہے۔ آپ نے اپنے معتقدین کی سیرت کی تشکیل کے ساتھ زمانے کے مطابق عالمی تصرفات کے سلسلے میں حسبِ ذیل انتظامات کیے تھے:

  1. تعلیم پر کافی زور دیا اور اسے عام کرنے کے لیے مختلف انتظامات کیے۔
  2. مختلف علوم و فنون سیکھنے کی تاکید فرمائی، حتیٰ کہ نشانہ بازی، شہسواری، تیراکی اور تلوار چلانا اور فنونِ حرب سکھایا۔
  3. نوجوانوں کی تربیت اور ان کی حوصلہ افزائی کو بہت اہمیت دی۔
  4. معاشی تنظیم کی طرف بھی خاصی توجہ دی، اس لیے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔
  5. مردوں کے ساتھ عورتوں کی تعلیم پر بھی زور دیا۔

یوں بھی یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ چنا ہے۔ ظاہر ہے، کارخانے کا مالک کسی ناقابل شخص کو کارخانے کا انتظام سپرد نہیں کرتا اور یہ بھی پوشیدہ نہیں کہ زمین کی خلافت کتنی اہم ذمہ داری ہے اور اس کے لیے کیسی اخلاقی و مادی صلاحیتوں کی ضرورت ہے تو زمین کی حکومت و خلافت کے سلسلے میں ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ کوئی یہ کہہ کر چوں و چرا نہ کرنے لگے کہ عالمی تصرفات یا مادیت تو سیاست ہے، اس لیے یہ بھی واضح کر دینا ضروری ہے کہ سیاست اپنے حقیقی مفہوم میں دین و مذہب سے الگ اور دنیا داری نہیں۔ اسلام کے قانون کی رو سے ہر وہ شے دنیا ہے، جو حق سے روک دے اور ہر وہ شے دین ہے، جو حق پر جما دے۔

اصلِ سوم: تواصی بالحق

تیسرا بنیادی اصول آپس میں ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا ہے۔ امام عبد اللہ نسفی نے آیتِ کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہے:

وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ أَيْ بِالْأَمْرِ الثَّابِطِ لَا يَسُوغُ إِنْكَارُهُ وَهُوَ الْخَيْرُ كُلُّهُ مِنْ تَوْحِيدِ اللّٰهِ وَطَاعَتِهِ وَاتِّبَاعِ كُتُبِهِ وَرُسُلِهِ.

حق یعنی اس امرِ ثابت کی وصیت کرو کہ کسی صورت میں اس کا انکار سہل نہ ہو، اس میں ہر قسم کی خیر و فلاح داخل ہے۔ اللہ کی توحید، اس کی اطاعت، اس کے رسولوں اور کتابوں کا اتباع وغیرہ۔

قاضی بیضاوی نے عام مفہوم مراد لیا ہے:

يَعُمُّ الْأَعْيَانَ الثَّابِتَةَ وَالْأَفْعَالَ الصَّائِبَةَ وَالْأَقْوَالَ الصَّادِقَةَ.

وہ حقائق جو مسلم ہوں، وہ افعال جو درست ہوں، وہ اقوال جو روحِ صداقت سے معمور ہوں، سب اس میں داخل ہیں۔

اب آیتِ کریمہ کا مطلب ہو گا کہ لوگ دوسروں کو بھی دین و مذہب اور قومی و سماجی امور کی تلقین کرتے رہیں۔ اللہ کی اطاعت و عبادت، اس کی توحید اور رسول کی رسالت پر ایمان اور اس کے اتباع کا حکم دینے کے ساتھ، لوگوں کے ساتھ ان کی زندگی کی فلاح و بہبود سے متعلق باتوں میں بھی خیر خواہی کرتے رہیں۔ گویا جماعت کا ہر فرد دوسروں کے لیے یہ سمجھے کہ وہ ان کا ذمہ دار اور نگراں بنا دیا گیا ہے۔ ان کی نگرانی اور دیکھ بھال اس کا فرضِ منصبی ہے۔ اگر کوئی شخص دین کے خلاف یا قوم کے مفاد و مصلحت سے ہٹ کر کوئی کام کر رہا ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اسے اس کام سے باز رکھے، تاکہ اس کی وجہ سے فتنہ و فساد رونما نہ ہو۔ حضرت پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے اسی فرضِ منصبی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

”تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے، پس ہر شخص سے اس کے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال کیا جائے گا، ملک کا سربراہ اپنی رعایا کا نگہبان ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا، گھر کا سربراہ اپنے گھر والوں کا محافظ ہے، اس سے ان کے متعلق سوال کیا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق سوال ہوگا، نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے، اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا۔ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگراں ہے اور اس سے ان کے متعلق سوال ہوگا۔“

ایک بار فرمایا: ”فرض کرو کہ ایک بحری جہاز ہے، جس کے اوپر، نیچے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور سب کی ضرورت کا سامان پانی وغیرہ جہاز کے بالائی حصے پر رکھا ہوا ہے، نچلے حصے کے لوگ پانی کے لیے اوپر آتے ہیں، اگر اوپر والے جذبۂ اشتراک کے تحت پانی دے دیتے ہیں تو سب کا کام اطمینان سے چلتا رہتا ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں پیش آتا، لیکن اگر یہ اس بنا پر پانی دینے سے انکار کرتے ہیں کہ ان کے آنے سے معمولی تکلیف ہوتی ہے تو نیچے والے پانی کی فراہمی کے لیے دوسری تدبیر اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ چار و ناچار انہوں نے سوچا کہ چھوٹا سا سوراخ کر کے سمندر سے پانی حاصل کر لیا جائے، چنانچہ وہ سوراخ کرنے لگے۔ اب اگر اوپر والے نہ تو سوراخ سے روکیں اور نہ ہی پانی کا بندوبست کریں تو ظاہر ہے کہ جہاز میں سوراخ ہونے کے بعد اس میں پانی بھرے گا اور وہ ڈوب جائے گا پھر نہ سوراخ کرنے والے بچیں گے اور نہ اس سے چشم پوشی کرنے والے۔“

اس کی ایک اور مثال یوں پیش کی جا سکتی ہے کہ دیہات میں جہاں فائر بریگیڈ کا انتظام نہیں ہوتا ہے، جب وہاں کسی کے گھر آگ لگتی ہے تو بجھانے کے لیے سب اہلِ محلہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، کوئی پانی لینے دوڑ رہا ہے، کوئی کنویں سے پانی نکال رہا ہے، کوئی سامان نکال کر باہر پھینک رہا ہے، غرض مرد، عورت، بچے سب اپنی اپنی حیثیت کے مطابق سرگرمِ عمل دکھائی دیتے ہیں اور جتنی کوشش و امداد کی سکت رکھتے ہیں، اس سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں اپنے و پرائے، دوست و دشمن کا امتیاز ختم ہو جاتا ہے، ذاتی رنجشیں اور دلی کدورتیں کافور ہو جاتی ہیں، بس ان کے سامنے آگ بجھانے کا مقصد ہوتا ہے اور یہ خطرہ کہ اگر معمولی سی غفلت برتی گئی تو پل بھر میں آگ کے شعلے پورے محلے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے، جس کی بنیاد پر وہ سب بھاگ دوڑ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں، سب مصروفِ عمل رہتے ہیں اور تمام کو مصروف رکھتے ہیں۔ عروج و ارتقا اور قیام و بقا کے لیے اسی طرح کی جدوجہد کا جذبہ درکار ہے۔ جب یہ جذبہ افرادِ قوم میں ہو گا تو قوم میں کسی بھی قسم کی برائی کو پنپنے کا موقع نہ ملے گا اور معاشرہ گناہ کی آلودگیوں اور معاشرتی کمزوریوں سے پاک و صاف ہو گا، جس سے پوری قوم کو استحکام حاصل ہو گا۔

اصلِ چہارم: تواصی بالصبر

چوتھا بنیادی اصول خود بھی صبر کرنا اور دوسروں کو صبر کی تلقین کرنا ہے۔ صبر کا معنی حَبْسُ النَّفْسِ عَلَى مَا تَكْرَهُ ہے۔ تواصی بالصبر کا یہ معنی ہو گا کہ خود کو ناگواریوں کی برداشت کا عادی بنائیں اور دوسروں میں بھی اس کی برداشت کی اسپرٹ پیدا کریں۔ صبر ایک زبردست قوت کا نام ہے، جس سے اصلاح و انقلاب میں مدد ملتی ہے۔ جس قوم کے اندر یہ قوت جتنی زیادہ ہو گی اس قوم کو اتنا ہی استحکام حاصل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ ۝ الْآنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ۝

اگر تم میں بیس آدمی صبر کرنے والے نکل آئیں تو یقین کرو کہ وہ دو سو دشمنوں پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں ایسے آدمی سو ہو گئے تو سمجھ لو کہ ہزار کافروں کو مغلوب کر کے رہیں گے اور یہ اس لیے ہو گا کہ کافروں کے گروہ میں سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ اب اللہ نے تم پر بوجھ ہلکا کر دیا، اس نے جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔ اب اگر تم میں سو آدمی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو دشمنوں پر غالب رہیں گے اور ہزار ہوں گے تو دو ہزار دشمنوں کو مغلوب کر کے رہیں گے۔ [سورۃ الانفال: 65، 66]

قرآنِ کریم نے بنی اسرائیل کی کامیابی کا راز صبر میں پوشیدہ بتایا:

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا

آپ کے پروردگار کا پسندیدہ فرمان بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہو کر رہا، اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا تھا۔ [سورۃ الاعراف: 137]

قومی و جماعتی زندگی میں صبر کے مظاہر کی تین شکلیں ہیں:

  1. مطالبات و فرائض کی ادائیگی پر صبر۔
  2. مرغوبات و مفادات کے ترک پر صبر۔
  3. مشکلات و مصائب پر صبر۔

جب کوئی قوم عروج و ارتقا اور قیام و بقا کے لیے جدوجہد کرتی ہے تو نئے تقاضے اور نئے مطالبے سامنے آتے ہیں۔ پرانی چیزیں چھوڑنی اور نئی چیزیں اختیار کرنی پڑتی ہیں۔ میدان میں مخالفین بھی موجود ہوتے ہیں، جن سے ہر موڑ پر ٹکراؤ اور ہر موقف پر مخالفت ہوتی ہے۔ نئی نئی تکلیفوں اور مصیبتوں سے مقابلہ ہوتا ہے۔ غرض اس طرح زندگی کا لمحہ لمحہ صبر و تحمل اور مستقل مزاجی کا طالب ہوتا ہے۔ جو قوم جس قدر اس طلب کو پورا کرتی ہے، اسی قدر کشمکش میں کامیابی حاصل کرتی ہے۔ [ماہنامہ پیغامِ شریعت، دہلی، مئی 2017ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!